Honey Naeem Foundation & Production

Honey Naeem Foundation & Production Honey Naeem Foundation is a place where you can show your talent and reach this to millions of people.Come and Join us for Great Success.

07/11/2024

ہمارے معاملات ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے مگر اطمینان رکھیں جس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں وہ بڑا رحیم اور کریم ہے۔ ❤️

31/10/2024

بے عیب تو صرف اللہ کی ذات ہے لیکن فی زمانہ انسانوں میں’’ بے عیب ‘‘شخص کو تلاش کرنا ایک مشکل امر ہے ۔ہرانسان میں کوئی نہ کوئی خامی ضرورپائی جاتی ہے ۔بحیثیت مسلمان ہمیں دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کا حکم دیا گیا ہے ۔قرآن پاک میں واضح ارشاد ہوتا ہے کہ’’اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘۔(سورہ الحجرت -آیات 12)
حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،’’اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے یا قریب قریب فساد کے حالات پیدا کر دوگے۔‘‘(ابوداؤد )
ایک اور حدیث مبارک میں ہے کہ ’’جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہم حاصل شدہ تمام تر سہولیات کومنفی مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں لگے ہیں ۔سوشل میڈیا پر تو ہم نے ایک وطیرہ بنالیا ہے ہم معمولی معمولی بات پر ’’وڈیوز ‘‘بناکر انہیں وائرل کر دیتے ہیں ۔اس حوالے سے ہم اخلاقی اقدار کو ہی فراموش کر دیتے ہیں ۔دوسروں کی خامیوں کی تشہیر بھی گویا ہم کارثواب سمجھ کر کر رہے ہیں ۔افسوسناک امر یہ ہے ہم دوسروں کی زندگیوں کا ’’ننگ‘‘اتارنے میں تمام حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں ۔لیکن اگر کوئی دوسرا جوابی کارروائی کرنے کی سعی کرے تو ہم اسے’ ’اخلاق اقدار کی پاسداری ‘‘کا درس دینے لگتے ہیں ۔ہماری موجودہ سوچ و فکر نے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے ۔ہماری اس غیر ذمہ دارانہ روش کی بدولت پاکستان کا امیج بری طرح مسخ ہورہا ہے ۔ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستان میں ظلم و زیادتی ،اجتماعی آبروریزی اور لوٹ مار کے سوا کچھ اور مثبت کام نہیں ہوتے ۔دنیا کو ہم باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہم انتہائی ظالم ، وحشی اور بدکار قوم ہیں ۔ہم لوگوں میں انسانیت نام کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ۔ہماری سوچ و فکر سے مساجد، مدارس ، تعلیمی ادارے ، دفاتر ، تھانے ،کچہریاں ،ہسپتال تک محفوظ نہیں ۔ تواتر کے ساتھ ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ جہاں مقدس محرم رشتے بھی محفوظ نہیں رہے ۔جنسی بے راہروی عام ہو چکی ، گھروں سے باہر نکلنے والی ہماری بہو، بیٹیاں تک محفوظ نہیں رہیں ۔حتیٰ کہ گھروں کے اندربھی چادر اور چاردیواری کی پامالی کے واقعات زبان زد عام ہیں ۔گزشتہ دنوں تواتر کے ساتھ باریش ملا حضرات کی بیسیوں ویڈیوز وائرل کی گئی ہے کہ جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے
کہ ہم شائد دنیا میں صرف برائی کرنے کیلئے آئے ہیں ۔ہماری حرکات سے کوئی بچہ محفوظ نہیں ہے ۔ بچوں کودینی تعلیم دینے کی بجائے کئی معزز ان سے ’’بداخلاقی ‘‘ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ہماری یہ روش ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے ایک اور المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم بسااوقات بری تصاویر کی پوسٹ لگا کر اس پر تنقید اور لوگوں کی آراء لینے لگتے ہیں ۔اس کا مقصد بھی بظاہر ایک برائی کی نشاندہی ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اپنے اس عمل سے بھی برائی کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں ۔حضرت علی ؓکا قول ہے کہ ’’کسی کے گھر جاؤ تو اندھے بن کے رہواور باہر نکلو تو گونگے بن کر نکلو ‘‘۔اس فرمان عالی شان کا مقصد بھی ’’پردہ پوشی‘‘اور دوسروں کی عزت کی محافظت ہی ہے۔کہ انسان کسی کے ہاں مہمان بنے تو وہاں جو کچھ دیکھے اسے باہر آکر کسی دوسرے سے بیان نہ کرے ۔عظیم ہیں وہ لوگ جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں ۔یوں بھی عیب گوئی اور عیب جوئی ایک بڑا گناہ ہے ۔اس طرح لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ حضرت انسؓ حضور اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐنے فرمایا :’’کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔ ‘‘اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ انسان ہر وہ بات جو اپنے لیے اچھی یا بُری خیال کرے وہی دوسروں کیلئے بھی ویسی ہی خیال کرے ۔ظاہر ہے کہ ہر انسان اپنے عیب دوسروں سے چھپاتا ہے اور اس بات کا متمنی رہتا ہے کہ اس کے دوست احباب اس کی خامیاں یا عیب غیروں کے آگے بیان نہ کریں ۔ایک بات طے ہے کہ انسان اگر کسی بھی بندے کے عیبوں سے آگاہی حاصل کر لے تو اس کے لیے ایک بڑا امتحان شروع ہو جاتا ہے ۔اب یہ حضرت انسان کا ظرف ہے کہ وہ کس حد تک کسی دوست کا پردہ رکھتا ہے ۔فی زمانہ پردہ رکھنا یا پردہ ڈالنا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے ۔لوگ اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔بلکہ برائی کی تشہیربھی ازراہ ِمذاق کی جاتی ہے ،دوستوں کا مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ہمارا طرز زندگی ہماری تعلیم وتربیت کا عکاس ہوتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے میں موجود برائیوں اور لوگوں کے عیبوں کی تشہیر کی عادت ترک کردیں ۔جب ہم لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے پر دھیان دیں گے تو یقیناً روز محشر ربّ کائنات بھی انسان کی لغرشوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی کریں گے ۔حال ہی میں معروف گلوکارہ و ماڈل رابی پیرزادہ نے بھی شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ کر اپنی بقیہ زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گذارنے کا عزم کیا تو ہر طرف سے اس کے اس فیصلے کو سراہا گیا ۔
رابی پیرزادہ نے اسلامی خطاطی ،مصوری کے ساتھ ساتھ عبایہ و دیگر ملبوسات وغیر ہ کی فروخت کا سلسلہ چلا رکھا ہے ۔وہ اب تک 10سپاروں کی خطاطی مکمل کرنے کی سعادت حاصل کرچکی ہیں ،جو لائق تحسین بات ہے ۔زمانہ بدل رہا ہے آج کے دور میں بہت سے لوگ اپنی سابق زندگی کو ترک کرکے اپنی بقیہ زندگی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گذارنا چاہتے ہیں ۔اور سچے دل سے توبہ کر لی ہے تو ہمیں ایسے لوگوں کی سابقہ زندگی کی سبھی خرابیاں فراموش کر دینا چاہئے ۔کیونکہ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کو اللہ بھی معاف کر دیتا ہے ۔یاد رکھیں !ٓ ہمارے اعمال ہمیں جنت کا حقدار قرار دینے میں معاون و مددگار ہو ں ۔یہی زندگی کی حقیقت اور بعد از موت ابدی زندگی کا پیغام ہے جس پرہمیں دھیان دینا ہوگا ۔

30/10/2024

اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے گندے شیطانی اعمال ہیں تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ (المائدہ ۹۰)

05/10/2024

میرے تمام عظیم اساتذہ کرام کو میرا عاجزانہ سلام❤
آج اللہ نے جو بھی مقام دیا ہے سب ان اساتذہ کی وجہ سے ہے۔۔۔
My Father Mr. Naeem Khalid (Late) , My Mother Ms. Rukhsana Naeem, Failure , Hurdles, Difficulties and ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Qasim Ali Shah Tahir Saim Shaykh Atif Ahmed Ahmad Naveed Ul Hassan Rashid Saeed Ali Abbas Mohammad Waseem Haseeb Khan Saima Subtain Nadia Khurram Usama Akhtar Adv Rana Adeel Mumtaz Shahid Mukhtar Chishti Awais Rauf Umer Shaheen Mohsin Nawaz Hamid Saeed Mohsin Raza Arslan Calligrapher Tanseer Ahmad Ali Ahmad Awan Nafees Ahmad Mohsin Hashmi Naveed Iqbal Mohsin Khadam Asghar Zaidi Danish Niaz Malik Akhtar Akhtar Khan Akhtar Farooqi Irfan Ullah Marwat ناہید کوثر ناہید کوثر Waqar Saeed Khattak Nadeem Nazar Bashair Naeem Rizwan Akram Rahat Mustafa Mehtab Hameed Aiysha Abdul Ghani Uzair Amjad Khalid Mehmood Ahmad Khalid Mehmood Eqra Gohar EJ Hafiz Shokat Yasir Arafat Sahibzada Mian Huzaifa Ashraf-Asmi Shehzad Sulehri وسیم قریشی شفیق شفیق

17/08/2024
26/07/2024

اسلام علیکم!
سب سے پہلے جمعہ مبارک، اللہ کریم ہم سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائیں۔
مجھے روزانہ کافی میسیجز آتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو وکالت کی ڈگری کرنا چاہتے ہیں لیکن لیٹ یعنی لاء ایڈمیشن ٹیسٹ پاس نہیں ہو پاتا۔
تو سوچا کہ ایسے تمام لوگوں کو الگ الگ جواب دینے کی بجائے مشترکہ طور پر ایک جواب لکھ دوں۔
لاء ایڈمیشن ٹیسٹ تین پورشنز پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلا حصہ معروضی سوالات، دوسرا حصہ مضمون اور تیسرا حصہ پرسنل سٹیٹمنٹ پر مشتمل ہے۔
معروضی سوالات کے کل نمبر 75 ہیں جبکہ مضمون کے 15 نمبر اور پرسنل سٹیٹمنٹ کے 10 نمبر ہیں۔ کل ملا کر 100 نمبر بنتے ہیں۔ جن میں سے 50 نمبر حاصل کر لیں تو آپ پاس ہو جاتے ہیں۔
اب شروع کرتے ہیں کہ کس طرح آپ لیٹ ٹیسٹ میں گارنٹی کے ساتھ پاسنگ نمبر لے سکتے ہیں۔
1- سب سے پہلے جو معروضی سوالات آپ کو آتے ہیں ان کو حل کریں۔ جن پر شک ہے انکو فی الحال رہنے دیں۔
2- پرسنل سٹیٹمنٹ اور مضمون میں سے پہلے مضمون لکھیں۔ مضمون لکھتے وقت لفظوں کی تعداد کا خیال رکھیں اور ضروری نہیں کہ مضمون انگریزی میں ہی ہو آپ اردو میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
3- مضمون لکھتے وقت حاشیہ لگائیں اور کٹ مارکر کا استعمال کریں۔
4-لکھائی خوبصورت ترین ہونی چاہیئے۔ اور املا کی غلطیاں کم سے کم ہوں۔
5- پرسنل سٹیٹمنٹ شروع کریں، اس میں بہت اچھے نمبر آسکتے ہیں کیونکہ پرسنل سٹیٹمنٹ کا جواب ہر کسی کا مختلف ہوتا ہے۔
6- پرسنل سٹیٹمنٹ میں زیادہ سے زیادہ بات کو بیان کریں۔ جو موضوع ہے اس پر جتنی بات اور اپنی جتنی رائے دے سکتے ہیں لازمی دیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ پرسنل سٹیٹمنٹ میں جتنی کہانیاں لکھ سکتے ہیں خوبصورت لکھائی اور اچھے پین مارکر کا استعمال کرتے ہوئے لکھتے جائیں۔
7- اب مضمون اور سٹیٹمنٹ کے آخر میں ڈبل لائن حاشیہ لگا دیں، اس سے صفحہ کی پریزینٹیشن اچھی ہوگی۔
8-اب معروضی سوالات کی طرف واپس آئیں اور جو سوالات رہ گئے ہوں ان کو حل کریں۔ وقت کا خیال لازمی رکھیں۔

اس طرح آپ انشااللہ با آسانی مضمون میں سے 15 میں سے 8 نمبر بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔ پرسنل سٹیٹمنٹ میں بھی آپ میرے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق لکھیں گے تو 10 میں سے 7 نمبر کم از کم لازمی لے لیں گے۔ اور معروضی سوالات میں سے بھی زیادہ نمبر نہ لیں تو کم سے کم 75 میں سے 35 نمبر تو لے ہی لیں گے۔ یوں کل ملا کر یہ بنیں گے 50 نمبر۔ یعنی کہ پاسنگ نمبر۔
مبارک ہو، آپ لاء ائڈمیشن ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں♥️ اپنی سلپ ڈاؤن لوڈ کریں اور ابھی کسی بھی لاء کالج میں داخلہ لیں اور اپنے خواب کو تکمیل تک پہنچائیں۔
لاء ٹیسٹ کے بارے میں کسی بھی معلومات کیلئے فی سبیل اللہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ اور میری گارنٹی ہے انشااللہ بفضل خدا آپ جس ٹیسٹ کو ایٹم بم سمجھ رہے ہیں وہ آپ با آسانی پاس کریں گے۔

طالب دعا: محمد نوید خالد (ایڈووکیٹ)

16/07/2024

فجر سے لے کر عصر تک، کچھ گھنٹوں کی جنگ تھی، مختصر ترین ۔۔ لیکن خون مظلوم کا اثر ایسا کہ "مختصر سا وقت پورے زمانے پر غالب ہے"

صدیاں حسین (ع) کی ہیں زمانہ حسین (ع) کا💔🚩

10/06/2024

Stay Alert Please…

08/04/2024

کالج لائف تک پہنچنا ہر نوجوان لڑکا لڑکی کی خواہش ہوتی ہے. یہ ایک سحر کی طرح ہوتی ہے جو ہم پر طاری ہو کر ہمیں حقیقت سے بے خبر کر دیتی ہے.

کلاس کوریڈورز میں فرش پر چوکڑی مار کر بے تکلفی سے بیٹھ جانا اور یسو پنجو کی محفل سجانا، کنٹین پر ساتھیوں کے ساتھ موسم کی ہر رت کا مزہ لینا، ٹیچر کو دلائل سے امپریس کر کے سارا دن فخر سے گھومنا اور ساتھی دوستوں کا متاثر ہونا خود کو کالج کے ہیرو سمجھنا، بے تکلفیاں، خوش گپیاں، شرارتیں اور کالج کے در و دیوار میں گونجتے قہقہے، سب ایک دن خواب بن کر یادوں کے صحرا میں دفن ہو جائیں گے اور پاس آؤٹ ہونے کے بعد جب آپ آخری بار مڑ کر کالج کے گیٹ کو کراس کر کے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو اپنا آپ اور باقی جونیرز وہیں ہنستے مسکراتے اور گھومتے نظر آئیں گے پھر آہیں ہوں گی، سسکیاں ہوں گی اور آپ بوجھل دل سے گھر کو لوٹ آئیں گے.

اگلا دن بہت الگ ہو گا طویل بوجھل جیسے تپتی دھوپ کا پہلا جھٹکا لگے. پھر اپنی شناخت کی جدو جہد ہو گی۔۔ اچھی یونیورسٹی کی تلاش، پھر آپکا چہرہ بھی بدل جائے گا جو کالج میں تھا ویسا نہیں رہے گا.

عملی زندگی کی حقیقت، چہرے کی معصوم لالی چھین لے گی اور چہرے پر مستقبل کے تفکر ڈیرے ڈال لیں گے. جدوجہد ہو گی کوشش ہو گی.

کالج کی اٹھکیلیاں سب بھول جائیں گی چہرے پر سنجیدگی ہو گی۔ جب عرصہ بعد آپ کالج واپس آؤ گے تو بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ کر دیوانہ وار اپنا آپ تلاش کرنےکی کوشش کرو گے کالج کے حسین کوریڈورز پر تنہا کھڑے ہو کر گم شدہ لمحوں کو بے قراری سے آوازیں دو گے لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے پھر کینٹین کا رخ کرو گے کہ شاید وہاں کچھ مل جائے لیکن ناکام لوٹو گے وہاں تم اور تمہارے ساتھی نہیں ہوں گے لیکن وہاں بیٹھے انسانوں میں تمہیں کردار اپنے ہی نظر آئیں گے اور تم ان میں اپنا آپ محسوس کرو گے.

تمہارے فیورٹ پروفیسر تمہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم کتنے بدل چکے ہو تمہارے چہرے پر زندگی کی تلخیوں کی دھول کے نشان دیکھ کر کہیں گے یار تم میچور ہو چکے ہو.... وقت تمہاری سوچ تمہارا چہرہ تک بدل دے گا کبھی یادوں کو یاد کر کے رو دو گے تو کبھی روتے روتے ہنس پڑو گے.

وہ نازنین بھی تمہاری طرح وقت کی بھینٹ چڑھ جائے گی جس کے ساتھ کالج جنت لگتا تھا۔۔ گردش وقت اسے بھی بدل دے گی. وہ بھی تمہاری طرح یادوں سے لڑتے زندگی جینے کے بہانے ڈھونڈے گی وہ کہاں ہو گی، تم کہاں ہو گے، کچھ خبر نہ ہو گی، وقت تم دونوں سے بہت کچھ چھین لے گا. جب کبھی بارش ہو گی تو کالج کا آنگن اور اس کی ہنسی کی یاد تمہاری جان نکال لے گی.

جب سردیوں میں دھند راج کرے گی تمہیں تمہارے دوست گرم چادر میں لپٹے کالج کے خوبصورت گراونڈ میں مسکراتے نظر آئیں گے. جب کبھی عمدہ سموسے کھانے لگو گے تو ایک دم دوستوں کی چھینا جھپٹی اور سوس کے لیے کنٹین پر ہنگامہ کرتی آواز سنائی دے گی تم کھاتے کھاتے رک جاؤ گے اور رو دو گے لیکن وقت پھر سوچ کو دھکا دے گا تم آگے بڑھ جاو گے.

سنو یہ تمہاری کہانی نہیں پنجاب کالج کے آنگن میں نہ جانے کتنی کہانیاں دفن ہیں اور سسکیاں لے رہی ہیں۔ کچھ ادھوری کچھ مکمل. پھر تم اس راستے سے کترا کر گزرو گے جو کالج کو جاتا ہو گا تم سوچو گے بار بار یادوں کی اذیت کیوں سہنی پھر تم زمانہ کی گرد میں کھو کر کہیں ایک ان کہی ایک کہانی بن جاؤ گے 😕

20/03/2024

One Person One Call♥️
صلہ رحمی کا مطلب کسی ایسے قریبی رشتہ دار کے ساتھ بھی احسان والا معاملہ کرنا ہے جس نے آپ کو دکھ پہنچایا ہو۔

آئیے اس عید پر کم ازکم ایک ایک ایسے فرد کو سرپرائز کال کرنے کی مہم چلاتے ہیں جو آپ سے کافی عرصہ سے ناراض ہے۔

یہ کال بنا یہ سوچے کرتے ہیں کہ کون حق پر ہے اور کون جھوٹا ۔

بس فون اٹھائیں اور اللہ کی رضا کے لئے کال ملائیں۔ سچے دل سے اس سے عاجزی سے بات کریں چاہے آگے سےاس کا رویہ کیسا ہی کیوں نہ ہو۔

ابتدا اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں جیسے ماں، باپ، ، میاں بیوی، بہن بھائی، قریبی عزیز وں، دوستوں اور اہل علاقہ میں ناراض فرد سے کریں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کے اس دوتین منٹ کے عمل سے کوئی ٹوٹا ہوا دل جڑ جائے۔

ہوسکتا ہے اس دوتین منٹ کی کال سے آپ مالک کے پسندیدہ بندے بن جائیں۔

Copied

Address

Zafarwali

Telephone

03486661494

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Honey Naeem Foundation & Production posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Honey Naeem Foundation & Production:

Shortcuts

Share

Category