Zafar Abbas

Directions

Zafar Abbas Thoughts | Travel | Technology | Social Awareness
Learning, Sharing & Inspiring

02/09/2026

راولپنڈی سب انسپکٹر عدنان غیور کو شہید کرنے والا ڈاکو عمر خان عرف شینا بھی پار
شینا خان کی لاش کی تصویر کمنٹ میں

بلغاریہ کے بیابان پہاڑوں میں 17 سال بعد معجزہ: اتنے عرصے سے لاپتہ شخص پیرن کی چٹانوں سے زندہ مل گیا! 🇧🇬🏔️✨بلغاریہ کے سخت...
30/08/2026

بلغاریہ کے بیابان پہاڑوں میں 17 سال بعد معجزہ: اتنے عرصے سے لاپتہ شخص پیرن کی چٹانوں سے زندہ مل گیا! 🇧🇬🏔️✨

بلغاریہ کے سخت اور دشوار گزار پیرن پہاڑوں (Pirin Mountains) سے ایک ایسا غیر معمولی معجزہ سامنے آیا ہے جس نے بقا (Survival) کے تمام اعداد و شمار کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں سے لاپتہ شخص برفانی اور سنسان وادیوں سے بالکل زندہ سلامت مل گیا ہے۔

اس معجزاتی سُروائیول کے اہم حقائق:

17 سال بعد برآمدگی: جب سترہ سال قبل یہ شخص پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا تو تمام تر تلاش کے باوجود کچھ حاصل نہ ہو سکا تھا اور کیس کو وقت کے ساتھ ٹھنڈا (Cold Case) سمجھ لیا گیا تھا۔

سخت ترین ماحول میں زندگی: شدید برف باری، سخت سنسان چٹانوں اور مکمل تنہائی کے باوجود اس شخص نے 17 سال تک خود کو زندہ رکھا جو انسانی برداشت کی نایاب مثال ہے۔

جنگلاتی عملے کی غیر متوقع دریافت: فورسٹ رینجرز نے الپائن کے بیابان اور گہرے علاقے میں دورانِ گشت اس شخص کو اتفاقاً دریافت کیا۔

امید کی نئی داستان: جس شخص کی سوگوار فیملی اتنے سالوں سے اسے مرحوم سمجھ چکی تھی، اب وہ اپنے پیارے کو زندہ دیکھ کر اس معجزے پر ششدر ہے۔


سورس (Source):
بلغاریہ فارسٹ رینجرز اینڈ یورپیئن ماؤنٹین ریسکیو رپورٹس (Bulgarian Forest Service & Alpine Search and Rescue Archives)

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 💔پمز ہسپتال میں آج ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں آگ لگنے کے باعث مع...
26/08/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 💔

پمز ہسپتال میں آج ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں آگ لگنے کے باعث معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ یہ خبر ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو غمزدہ کر دینے والی ہے۔

اللہ تعالیٰ شہید ہونے والے معصوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے والدین اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲💔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے سانحات سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔

قرآن مجید پڑھنے والوں کی عزت کیسے کی جاتی ہیں بنگلہ دیش والوں نے بتادیا سعودی عرب میں انٹرنیشنل قرآن مقابلے میں 133ممالک...
25/08/2026

قرآن مجید پڑھنے والوں کی عزت کیسے کی جاتی ہیں بنگلہ دیش والوں نے بتادیا سعودی عرب میں انٹرنیشنل قرآن مقابلے میں 133ممالک میں سے میں نمبرون پوزیشن حاصل کرنے والے حافظ نورالدین زکریا جب سعودی عرب سے بنگلہ دیش پہنچ گئے تو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے فوراً بلایا ملک کا نام روشن کرنے پر مبارک باد اور دو کروڑ ٹکا اور بنگلہ دیشی سرکاری ٹیلی ویژن میں تلاوت کیلئے سرکاری نوکری اور سرکاری گھر دے دیا اس موقع پر طارق رحمان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام آپ نے اتنے بہترین انداز میں پڑھا کہ 133ممالک میں سے نمبرون پر آکر ملک اور قوم کا سر فخر سے بلند کردیا یہ انعام آپ کیلئے بھی کم ہے اس موقع پر حافظ نور الدین کے والدین بھی موجود تھے

فرائض کی انجام دہی کا انوکھا جذبہ: وہ استاد جو 20 سال تک دریا تیر کر اسکول جاتا رہا! 🏊‍♂️📚بھارت کی ریاست کیرالہ کے ضلع م...
25/08/2026

فرائض کی انجام دہی کا انوکھا جذبہ: وہ استاد جو 20 سال تک دریا تیر کر اسکول جاتا رہا! 🏊‍♂️📚

بھارت کی ریاست کیرالہ کے ضلع ملاپورم میں ریاضی کے استاد عبدالمالک کی تدریس سے محبت کی کہانی بے حد منفرد ہے۔ 1992 میں جب انہوں نے پرائمری اسکول میں پڑھانا شروع کیا تو سڑک کے راستے 12 کلومیٹر کے سفر کے لیے تین بسیں بدلنی پڑتی تھیں جس میں روزانہ 3 گھنٹے ضائع ہو جاتے تھے۔ اس وقت کا ضیاع بچانے کے لیے انہوں نے دریائے کدلنڈی کو تیر کر عبور کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے اسکول کا فاصلہ صرف 1 کلومیٹر رہ گیا۔

وہ روزانہ اپنے خشک کپڑے، جوتے اور کھانے کا ڈبہ پلاسٹک کے تھیلے میں پیک کرتے، کمر پر ٹائر کی ٹیوب باندھتے اور ایک ہاتھ سے تھیلا اوپر اٹھا کر 10 سے 20 منٹ میں دریا عبور کرتے۔ مون سون کی تیز لہروں، چڑھتے پانی اور سانپوں کے خطرے کے باوجود ان کا یہ معمول 20 سال تک جاری رہا۔ وقت کی اس پابندی پر طلبہ نے انہیں پیار سے "ٹیوب ماسٹر" کا نام دیا۔ عبدالمالک نے ثابت کر دکھایا کہ ایک سچا استاد بچوں کے مستقبل کے لیے ہر رکاوٹ عبور کر سکتا ہے!


دی ہندو / این ڈی ٹی وی / دی انڈین ایکسپریس (The Hindu / NDTV / The Indian Express - August 2013 Human Interest Reports)

نورالعزوانی  کی شادی 2016 میں ہوئی۔ شادی کے ابتدائی دو سال میاں بیوی کو ملازمت اور حالات کی وجہ سے زیادہ تر long-distanc...
24/08/2026

نورالعزوانی کی شادی 2016 میں ہوئی۔ شادی کے ابتدائی دو سال میاں بیوی کو ملازمت اور حالات کی وجہ سے زیادہ تر long-distance marriage میں گزارنے پڑے۔ پھر 2018 میں اس کے شوہر کا ایک شدید کار حادثہ ہوا جس کے بعد وہ طویل عرصے کے لیے بستر کا محتاج ہوگیا۔ اگلے تقریباً 6 سال نورالعزوانی اس کی بنیادی نگہداشت کرنے والی بن گئی۔
اس کی روزمرہ زندگی تقریباً مکمل طور پر شوہر کی دیکھ بھال کے گرد گھومنے لگی۔ وہ اسے ناک سے معدے تک جانے والی nasogastric tube کے ذریعے خوراک دیتی، ڈائپر تبدیل کرتی، نہلاتی اور روزانہ بحالی کی مشقیں کرواتی تھی۔ نورالعزوانی نے بعد میں بتایا کہ شوہر کو کھانسی آتی تو وہ خوفزدہ ہوجاتی تھی۔ گھر والے بھی روز اس کی مدد کے لیے آتے تاکہ اسے کچھ دیر آرام مل سکے۔
2019 سے اس نے سوشل میڈیا پر اپنی caregiving journey شیئر کرنا شروع کردی۔ لوگ برسوں تک اسے ایک ایسے شوہر کی دیکھ بھال کرتے دیکھتے رہے جو خود اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرسکتا تھا، اور اسی دوران اس کے فیس بک فالوورز کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔
چھ سال بعد حالات بدل گئے۔ شوہر کی صحت بحال ہونے کے بعد دونوں کا رشتہ ختم ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2024 میں دونوں کی طلاق ہوگئی اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس کے سابق شوہر نے دوسری شادی کرلی۔ اس کہانی کا شاید سب سے غیرمعمولی حصہ نورالعزوانی کا ردعمل تھا۔ اس نے سابق شوہر کی نئی شادی کی تصویر کے ساتھ اسے مبارک باد دی اور نئی بیوی سے کہا کہ اب وہ اس کا خیال رکھے۔ جب لوگوں نے سابق شوہر اور اس کی نئی اہلیہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو نورالعزوانی نے اپنی پوسٹ ہٹا دی اور لوگوں سے انہیں ہراساں نہ کرنے کی درخواست کی۔ اس نے وضاحت کی کہ اس نے اپنی طرف سے شادی نبھانے کی پوری کوشش کی، سابق شوہر نے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، اور دونوں اپنے بچے کی پرورش کی ذمہ داری مل کر جاری رکھیں گے۔
یوں 6 سال تک ایک انسان کو کھلانے، نہلانے، صاف رکھنے اور روز بحالی کی مشقیں کروانے والی عورت کی شادی آخرکار قائم نہ رہ سکی، لیکن رشتہ ختم ہونے کے بعد بھی اس نے لوگوں سے یہی کہا کہ اس کے سابق شوہر کو برا بھلا نہ کہیں۔..

23/08/2026

یہ صرف پہاڑ سے ایک چیز نکالنے کا عمل نہیں، بلکہ انسان کی محنت اور قدرت کی ایک حیرت انگیز کہانی ہے۔

شدید خطرناک راستوں سے رسیوں کے سہارے پہاڑوں میں اتر کر شلاجیت نکالنا آسان کام نہیں۔ یہ لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر قدرت کے اس خزانے کو حاصل کرتے ہیں۔

شلاجیت ایک قدرتی معدنی مادہ ہے جس میں مختلف معدنی اجزا پائے جاتے ہیں اور اسے روایتی طور پر صحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہمارے اردگرد بکھری ہوئی ہیں، بس انہیں دیکھنے اور ان کی قدر کرنے والی نظر چاہیے۔

جڑواں، مگر پیدائش میں 87 دن کا فرق! 😲دنیا میں جڑواں بچوں کی پیدائش عموماً چند منٹ یا زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کے فرق سے...
23/08/2026

جڑواں، مگر پیدائش میں 87 دن کا فرق! 😲

دنیا میں جڑواں بچوں کی پیدائش عموماً چند منٹ یا زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کے فرق سے ہوتی ہے، لیکن آئرلینڈ میں پیدا ہونے والی ایمی اور کیٹی جونز ایلیٹ کی کہانی اس معمول سے کہیں آگے ہے۔ دونوں جڑواں بہنوں کی پیدائش کے درمیان پورے 87 دن کا فرق تھا!

ان کی والدہ ماریہ حمل کے تقریباً 24ویں ہفتے میں تھیں جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا۔ تقریباً دو دن کی مشقت کے بعد یکم جون 2012ء کو ایمی دنیا میں آگئی۔ وہ انتہائی قبل از وقت پیدا ہوئی تھی، اس کا وزن صرف تقریباً 540 گرام تھا، چنانچہ اسے فوری طور پر نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (NICU) منتقل کردیا گیا۔

لیکن یہاں اس حیرت انگیز داستان کا دوسرا باب شروع ہوا۔

ایمی کی پیدائش کے بعد رحم کے سکڑاؤ رک گئے اور اس کی جڑواں بہن کیٹی کی پیدائش نہ ہوئی۔ یوں ایک ہی حمل سے وابستہ دونوں بچیاں ایک دوسرے سے جدا ہوگئیں: ایک دنیا میں آچکی تھی اور دوسری ابھی رحم مادر میں تھی۔

ڈاکٹروں نے کیٹی کو رحم میں مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا اور ماں کو مسلسل طبی نگرانی میں رکھا۔ دوسری طرف ننھی ایمی انتہائی نگہداشت میں زندگی کی جنگ لڑتی رہی۔ حیرت انگیز طور پر حمل مزید کئی ہفتے جاری رہا۔

بالآخر 87 دن بعد، 27 اگست 2012ء کو ڈاکٹروں نے کیٹی کی پیدائش کرائی۔ اس وقت حمل تقریباً 36 ہفتوں کا ہوچکا تھا اور کیٹی کا وزن تقریباً 2.55 کلوگرام تھا یعنی اپنی بہن ایمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط حالت میں دنیا میں آئی۔

یوں ایک ہی حمل میں پیدا ہونے والی ان جڑواں بہنوں کے یومِ پیدائش میں تقریباً 3 ماہ کا فرق ہوگیا۔ یہ فرق اس قدر غیر معمولی تھا کہ اس وقت اسے جڑواں بچوں کی پیدائش کے درمیان دنیا کے طویل ترین معروف وقفوں میں سے ایک، بلکہ عالمی ریکارڈ 87 دن کے طور پر درج کیا گیا، جس نے اس سے قبل کے 84 دن کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایمی اور کیٹی حیاتیاتی طور پر جڑواں بہنیں تھیں، مگر ایک نے جون میں دنیا دیکھی اور دوسری نے اگست میں!

یہ واقعہ طب کے اس غیر معمولی پہلو کی یاد دہانی بھی ہے کہ بعض اوقات قبل از وقت پیدا ہونے والے ایک بچے کی پیدائش کے بعد بھی، مخصوص طبی حالات میں، دوسرے بچے کو رحمِ مادر میں مزید وقت دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

دو بہنیں، ایک حمل، مگر دو الگ تاریخ پیدائشیں۔ 87 دن کے فاصلے پر! 🧬👶
منقول

دیوسائی جہاں خاموش سرسبز میدان ، ٹھنڈی ہوائیں اور قدرت کے حسین رنگ دل میں اتر گئے۔
21/08/2026

دیوسائی
جہاں خاموش سرسبز میدان ، ٹھنڈی ہوائیں اور قدرت کے حسین رنگ دل میں اتر گئے۔

16/08/2026

Address

Sadar
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zafar Abbas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share