Mustafa Qazi

Mustafa Qazi Enjoy Entertainment party

21/09/2026

🌸 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌸

کیسے ہیں آپ سب دوست؟ ❤️
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ 🤲

🌅 نئی صبح، نئی امید، نیا پیغام 🌅

اللہ تعالیٰ آپ کی آج کی صبح کو
خوشیوں، سکون، صحت اور برکتوں سے بھر دے۔ 🤲✨

جو پریشان ہیں، اللہ ان کی پریشانی دور فرمائے،
جو بیمار ہیں، انہیں صحت عطا فرمائے،
اور جو دعاؤں کے منتظر ہیں،
اللہ ان کی ہر جائز دعا قبول فرمائے۔ ❤️

🌹 آپ سب کو صبح بخیر، خوش رہیں اور مسکراتے رہیں! 🌹

۔ 🕊️🌅

🥸🥸🤓🤓🤓
20/09/2026

🥸🥸🤓🤓🤓

ایک زمانے کی بات ہے، ایک شہر میں ایک بہت امیر تاجر رہتا تھا۔ وہ اپنی محنت، ایمانداری اور تجارت کی وجہ سے بہت دولت مند ہو...
19/09/2026

ایک زمانے کی بات ہے، ایک شہر میں ایک بہت امیر تاجر رہتا تھا۔ وہ اپنی محنت، ایمانداری اور تجارت کی وجہ سے بہت دولت مند ہو چکا تھا۔ اس کے گھر میں سونے کے زیورات، قیمتی کپڑے، نقد رقم اور دوسری بہت سی قیمتی چیزیں موجود تھیں۔

شہر کے کچھ لوگوں کو اس کی دولت کا علم تھا، اور انہی لوگوں میں تین ایسے چور بھی تھے جو کافی عرصے سے اس امیر آدمی کے گھر پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

تینوں چور ایک دوسرے کے دوست تو تھے، لیکن حقیقت میں ان میں سے کوئی بھی دوسرے پر مکمل اعتماد نہیں کرتا تھا۔ ہر ایک کے دل میں لالچ بھرا ہوا تھا اور ہر شخص موقع ملنے پر زیادہ سے زیادہ مال اپنے قبضے میں کرنا چاہتا تھا۔

ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، تینوں چور چپکے سے امیر آدمی کے گھر کے قریب پہنچے۔ انہوں نے بہت احتیاط سے گھر میں نقب لگائی اور اندر داخل ہو گئے۔

کافی تلاش کے بعد انہیں ایک کمرے میں ایک صندوق ملا۔ صندوق کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس میں نقد رقم، سونے کے زیورات اور کئی قیمتی چیزیں موجود تھیں۔

ایک چور نے خوشی سے کہا:

“آج تو ہماری قسمت بدل گئی!”

دوسرے نے جلدی سے مال ایک بڑے تھیلے میں ڈالا اور بولا:

“زیادہ خوش نہ ہو، ابھی ہمیں یہاں سے نکلنا بھی ہے۔”

تینوں نے مال اٹھایا اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر سے باہر نکل گئے۔

کافی دور جانے کے بعد وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچے۔ وہاں ایک پرانے درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ وہ اتنا دور آ چکے تھے کہ انہیں یقین تھا کہ اب کوئی انہیں آسانی سے تلاش نہیں کر سکے گا۔

لیکن سفر کی تھکن اور بھوک نے انہیں بے حال کر دیا تھا۔

پہلے چور نے کہا:

“ہمیں بہت بھوک لگی ہے۔ پہلے کچھ کھانا چاہیے، پھر سکون سے مال تقسیم کریں گے۔”

دوسرے نے جواب دیا:

“ٹھیک ہے، لیکن ہم تینوں ایک ساتھ نہیں جا سکتے۔ مال بھی یہاں ہے اور کوئی نہ کوئی اس کی حفاظت کرے۔”

آخرکار فیصلہ ہوا کہ ایک چور قریبی گاؤں جائے گا اور وہاں سے کھانا خرید کر لائے گا، جبکہ باقی دو چور جنگل میں رہ کر مال کی حفاظت کریں گے۔

تیسرا چور کھانا لینے کے لیے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔

راستے میں اس کے دل میں ایک خطرناک خیال پیدا ہوا۔

وہ سوچنے لگا:

“اگر ہم یہ سارا مال تین حصوں میں تقسیم کریں گے تو مجھے صرف ایک حصہ ملے گا۔ لیکن اگر میرے دونوں ساتھی راستے سے ہٹ جائیں تو سارا مال میرا ہو سکتا ہے۔”

وہ کچھ دیر خاموش چلتا رہا۔ پھر اس کے دل میں لالچ مزید بڑھ گیا۔

اس نے خود سے کہا:

“کیوں نہ میں ایسا کھانا خریدوں جس میں زہر ملا دوں؟ دونوں کھانا کھائیں گے اور مر جائیں گے۔ پھر سارا خزانہ میرا ہو جائے گا۔”

یہ خیال اس کے ذہن میں جڑ پکڑ گیا۔

وہ گاؤں پہنچا، کھانا خریدا اور ایک ایسی زہریلی چیز حاصل کر لی جسے کھانے میں ملا دیا جائے تو انسان کی جان جا سکتی تھی۔

اس نے ایک طرف بیٹھ کر کھانے میں زہر ملا دیا اور دل ہی دل میں خوش ہونے لگا۔

وہ سوچ رہا تھا:

“اب سارا مال میرا ہے۔ مجھے کسی کے ساتھ کچھ بانٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”

لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ جنگل میں اس کے دونوں ساتھی بھی ایک دوسرے سے سازش کر رہے تھے۔

جب وہ دونوں اکیلے رہ گئے تو ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا:

“تمہیں کیا لگتا ہے، وہ واپس آ کر ہمیں ایمانداری سے حصہ دے گا؟”

دوسرے چور نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“ایمانداری؟ ایک چور اور ایمانداری؟ مجھے تو اس پر بالکل بھروسہ نہیں۔”

پہلا چور بولا:

“اگر ہم اسے بھی راستے سے ہٹا دیں تو سارا مال صرف ہمارا ہو جائے گا۔”

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور خاموشی سے اس منصوبے پر رضامند ہو گئے۔

انہوں نے طے کیا کہ جیسے ہی تیسرا چور واپس آئے گا، وہ دونوں اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیں گے۔

کچھ دیر بعد تیسرا چور کھانا لے کر واپس آ گیا۔

وہ دور سے ہی خوش دکھائی دے رہا تھا۔

اس نے سوچا کہ اب کچھ ہی دیر میں اس کے دونوں ساتھی مر جائیں گے اور سارا مال اس کا ہو جائے گا۔

لیکن جیسے ہی وہ قریب پہنچا، دونوں چور اس پر جھپٹ پڑے۔

اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔

چند لمحوں میں انہوں نے اسے قتل کر دیا۔

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور خوش ہو کر کہا:

“اب سارا مال ہمارا ہے!”

وہ اپنے ساتھی کی لاش کے قریب پڑے کھانے کے تھیلے کو اٹھا لائے۔

انہیں ذرا بھی شک نہیں تھا کہ جس کھانے کو وہ اپنی کامیابی کی خوشی سمجھ کر کھانے والے ہیں، وہی ان کی موت کا سبب بننے والا ہے۔

وہ درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔

ایک نے کھانا کھایا اور دوسرے نے بھی۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ان کے جسم میں زہر پھیلنے لگا۔

پہلے ایک کو شدید تکلیف محسوس ہوئی۔

اس نے اپنے پیٹ کو پکڑتے ہوئے کہا:

“میرے پیٹ میں شدید درد ہو رہا ہے!”

دوسرا بھی زمین پر گر پڑا۔

اب دونوں کو اندازہ ہوا کہ کھانے میں کچھ خطرناک چیز ملی ہوئی تھی۔

ان کی نظریں اپنے مردہ ساتھی کی طرف اٹھیں۔

تب انہیں حقیقت سمجھ آئی۔

جس شخص کو انہوں نے دولت کے لیے قتل کیا تھا، وہ پہلے ہی ان دونوں کو قتل کرنے کے لیے کھانے میں زہر ملا چکا تھا۔

یعنی تینوں کے دل میں ایک ہی لالچ تھا۔

تینوں ایک دوسرے کو دھوکا دینا چاہتے تھے۔

اور آخرکار تینوں ہی اپنی سازشوں کا شکار ہو گئے۔

کچھ ہی دیر بعد جنگل میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

وہ خزانہ جس کے لیے تینوں نے چوری کی، دھوکا دیا اور ایک دوسرے کے خلاف سازش کی، وہیں پڑا رہا۔

نہ کوئی اسے لے جانے والا تھا اور نہ کوئی اسے خرچ کرنے والا۔

صبح جب کچھ لکڑہارے جنگل سے گزرے تو انہوں نے وہاں تین لاشیں دیکھیں اور قریب ہی ایک بھاری تھیلا پڑا ہوا تھا۔

انہوں نے فوراً لوگوں کو اطلاع دی۔

جب حقیقت سامنے آئی تو پورے شہر میں یہ واقعہ مشہور ہو گیا۔

لوگ کہتے تھے:

“ان تینوں کو کسی دشمن نے نہیں مارا، بلکہ ان کی اپنی لالچ نے انہیں مار ڈالا۔”

سبق

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لالچ انسان کی عقل چھین لیتا ہے۔

جو شخص دوسروں کو دھوکا دے کر فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا میں ہر عمل کا ایک انجام ہوتا ہے۔

تینوں چوروں نے دوسروں کا مال چھینا، پھر ایک دوسرے کو دھوکا دیا، اور آخرکار اپنی ہی سازشوں کا شکار ہو گئے۔

دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والا اکثر خود بھی اسی گڑھے میں جا گرتا ہے۔

اس لیے زندگی میں ہمیشہ حلال، ایمانداری اور سچائی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

کیونکہ دولت چند دن کی خوشی دے سکتی ہے، لیکن لالچ، دھوکا اور ظلم انسان سے اس کا سکون بھی چھین لیتے ہیں۔

🌿 یاد رکھیں:

“برائی کا راستہ شروع میں آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا انجام ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔”

نیکی کریں، سچ بولیں، دوسروں کا حق نہ ماریں اور لالچ سے ہمیشہ بچیں۔

18/09/2026

۔۔ چالاک خرگوش اور انجامِ بد
ایک دن ایک بھیڑیا بھوک سے بے تاب ہو کر غذا کی تلاش میں جنگل میں مارا مارا پھر رہا تھا، وہیں ایک خرگوش جھاڑیوں میں گہری نیند سو رہا تھا۔ بھیڑیے کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اسے غنیمت جانا اور آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھنے لگا۔ خرگوش نے خطرے کی بو پا کر چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی، مگر بھیڑیے نے اس کا راستہ روک کر کہا:
"کہاں جاتا ہے؟"
خرگوش پر خوف غالب آگیا اور اس نے خوشامد شروع کر دی، اپنا منہ زمین پر رگڑ کر کہنے لگا:
"میں جانتا ہوں کہ بھوک کی آگ شعلہ فشاں ہے، جس کی وجہ سے جہاں پناہ بے قرار ہیں اور غذا کے طلب گار ہیں۔ مگر مجھ جیسا چھوٹا موٹا جانور آپ کے لیے کافی نہیں، یہ تو ایک نوالے سے زیادہ نہیں۔ البتہ یہاں قریب ہی ایک لومڑی رہتی ہے، جس کا موٹاپے کی وجہ سے چلنا دوبھر ہے اور اس کا گوشت تازگی میں آب حیات سے زیادہ ہے۔ اگر جہاں پناہ وہاں تک قدم رنجہ فرمائیں، تو میں اسے کسی حیلے سے پکڑوا دوں گا تاکہ آپ کا ناشتہ معقول اور پیٹ بھر کر ہو۔ اور اگر اس پر بھی میری تسلی نہ ہو تو میں حاضر ہوں، مجھے نوش فرمائیے!"
بھیڑیا خرگوش کی چرب زبانی اور چاپلوسی پر فریفتہ ہو کر لومڑی کی سمت روانہ ہوا۔ وہ لومڑی مکاری اور دھوکے بازی میں ماہر تھی۔ خرگوش کو اس سے پرانا بیر تھا، اس لیے وہ اس موقع کو غنیمت جان کر اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خرگوش جب لومڑی کے غار کے قریب پہنچا تو بھیڑیے کو باہر کھڑا کرکے خود اندر داخل ہوا اور بڑے احترام سے لومڑی کو سلام کیا۔
لومڑی نے بھی اسی انداز میں جواب دیا اور کہا: "خوش آمدید! کہاں سے آئے ہو اور کہاں جا رہے ہو؟ آؤ بیٹھو تاکہ کچھ دیر باتیں کریں!"
خرگوش نے کہا: "مجھے ایک عرصہ دراز سے خواہش تھی کہ آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کروں، لیکن انقلابِ زمانہ کی جفا کاریوں کے باعث اب تک اس سعادت سے محروم تھا۔ اس دوران ایک بزرگ جو کرامت اور ولایت میں بے مثال ہیں، یہاں تشریف لائے ہیں اور آپ کی گوشہ نشینی کا شہرہ سن کر آپ کے دیدار کے خواہش مند ہیں۔ اگر اجازت ہو تو بہتر ہے، اور اگر دل نہ چاہے تو پھر کسی موقع پر دیکھا جائے گا۔"
لومڑی اس کی چرب زبانی کو بھانپ گئی اور دل میں سوچی کہ میں بھی ان کے ساتھ انہی کی طرح سلوک کروں اور ان کا دیا ہوا فریب انہی کے گلے کا ہار بنا دوں۔
اس نے کہا: "میں نے مسافروں کی خدمت میں کمر باندھی ہے اور اپنے گھر کا دروازہ مہمان پر کھول رکھا ہے، خصوصاً ایک بزرگ، جس کا بیان تم نے اس خوبی سے کیا ہے اور ایسے صاحبِ کمال، جس کی تعریف اس درجہ فرمائی ہے، اس کی مہمان‌داری میں کیونکر بھول سکتی ہوں؟ کیونکہ بزرگوں نے بھی کہا ہے کہ مہمان جب آتا ہے، اپنا رزق ساتھ لاتا ہے۔ لیکن مجھے توقع ہے کہ تم اتنا وقت ضرور رُکو گے کہ میں اپنے گھر کو صاف کر لوں اور قدمِ مبارک کے لیے کوئی فرش بچھا دوں۔"
خرگوش سمجھا کہ میرا جادو اس پر اثر کر گیا، اس نے جواب دیا: "مہمان بے تکلف اور درویش صفت ہے، اسے آرائشِ مکان اور فرش کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر ذرا سا بھی تکلف ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں!"
یہ کہہ کر وہ باہر آیا اور تمام ماجرا بھیڑیے کو سنایا اور ایک بار پھر اسے تازہ گوشت کی لالچ دی۔ بھیڑیا اس لالچ میں اپنے تیز کیے ہوئے دانت پِیس رہا تھا اور خرگوش اس تصور میں مگن تھا کہ جب یہ لومڑی کے کھانے میں مصروف ہوگا، تو میں موقع پا کر فرار ہو جاؤں گا۔
لیکن جہاں دیدہ لومڑی نے بہت پہلے احتیاطاً اس غار کے ایک گوشے میں گڑھا کھود رکھا تھا اور اس کے منہ پر گھاس پھوس بچھا دی تھی، جبکہ اپنے باہر نکلنے کے لیے ایک الگ راہ بنا رکھی تھی۔ اس نے جلدی سے گھاس پھوس کو درست کرکے آواز لگائی:
"اے مہمانو! جلد قدم رنجہ فرمائیے۔"
یہ کہہ کر وہ خود اس خفیہ راستے پر جا کھڑی ہوئی۔ خرگوش اور بھیڑیا دونوں جلدی سے اندر داخل ہوئے۔ جیسے ہی ان کا پاؤں گھاس پر پڑا، دونوں اس گڑھے میں جا گرے۔
بھیڑیا سمجھ گیا کہ یہ دھوکہ اسی خرگوش نے دیا ہے اور مجھے گرفتار کروایا ہے۔ غصے میں آکر اس نے خرگوش کو چیر ڈالا، خود بھی وہیں ہلاک ہو گیا اور لومڑی اپنی چالاکی سے محفوظ و مامون رہی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اصلاحی سبق آموز اور مزاحیہ کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں۔ شکریہ




What is the final answer?
18/09/2026

What is the final answer?

17/09/2026

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔
ہمدان کے لوگ ڈر کے مارے لرز رہے تھے، ہر چہرے پر خوف، اور ہر دل میں موت کا اندیشہ چھایا ہوا تھا۔
چنگیز خان نے حکم دیا کہ پورے شہر کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ میدان میں خاموشی طاری ہو گئی، جیسے وقت رک گیا ہو۔
چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:
"میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت ہوشیار، عقل مند اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔ تمہاری عقل مندی مشہور ہے، کہتے ہیں: ‘ہمہ دانی و ہیچ ندانی’ – یعنی سب کچھ جانتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہیں جانتے۔"
پھر اس نے اعلان کیا:
"میں تم سے ایک سوال کروں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دی جائے گی۔ لیکن اگر جواب غلط ہوا… تو یہ میدان تم سب کی قبریں بن جائے گا۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ یہی کرے گا!"
میدان میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ لوگ کانپنے لگے۔
چنگیز خان نے نظریں گھمائیں، پھر گرج کر پوچھا:
"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں؟ یا اپنی مرضی سے؟"
کسی کے پاس ہمت نہ تھی جواب دینے کی۔ علماء، دانشور، اور بزرگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ سوال صرف ایک دلیل نہیں تھا، بلکہ پورے شہر کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔
ہر چہرہ پریشان، ہر آنکھ سوالی بنی ہوئی تھی۔ اور تب… ہجوم سے ایک سادہ سا چرواہا آگے بڑھا۔
نہ وہ عالم تھا، نہ دانشور۔ مگر اس کی آنکھوں میں بصیرت تھی، دل میں سچائی۔
چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا:
"اگر میں جواب سنوں گا، تو تجھ سے سنوں گا!"
چرواہے نے بے خوفی سے چنگیز کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو،
نہ تم اپنی مرضی سے آئے ہو…
تمہیں تو ہمارے اعمال نے یہاں پہنچایا ہے۔
جب ہم نے عقل والوں کو نظر انداز کیا،
علم والوں کو پیچھے دھکیلا،
اور جاہلوں، خوشامدیوں، اور نالائقوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دی—
تو پھر تم جیسے ظالم کا آنا طے تھا!
تم ہماری نادانی، بے انصافی اور بصیرت سے خالی قیادت کا نتیجہ ہو!"
میدان میں گہری خاموشی چھا گئ
چنگیز خان ساکت ہو گیا۔ شاید یہ سچائی اس کے دل تک اتر گئی تھی۔
اور پھر… اس نے سب کو چھوڑ دیا۔ کسی کا خون نہ بہایا۔
ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے۔
یہ قوموں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے، قومیں خود انہیں دعوت دیتی ہیں۔

جب قومیں عقل مندوں کو نظرانداز، اہلِ علم کو خاموش، اور جاہلوں، خوشامدیوں اور نااہلوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دیں تو پھر ظالم حکمران نہیں آتے… وہ پیدا کیے جاتے ہیں۔

👀 نظر کا امتحان! 🌳🧐اس تصویر میں چھپے ہوئے چہروں کو غور سے دیکھیں اور بتائیں کہ آپ کو کتنے چہرے نظر آئے؟ 🤔👇 اپنا جواب کمن...
16/09/2026

👀 نظر کا امتحان! 🌳🧐
اس تصویر میں چھپے ہوئے چہروں کو غور سے دیکھیں اور بتائیں کہ آپ کو کتنے چہرے نظر آئے؟ 🤔

👇 اپنا جواب کمنٹس میں بتائیں!
دیکھتے ہیں کس کی نظر سب سے تیز ہے۔ 👀🔥

English:
🔍 Eye Test Challenge!
How many hidden faces can you find in this picture?
Look carefully at the branches, leaves and tree trunk.

👇 Tell me your answer in the comments!

#پزل

15/09/2026

🌿 آج کا دن بھی کچھ ایسا گزرا کہ سوچا آپ سب کے ساتھ شیئر کیے بغیر مزہ ہی نہیں آئے گا! 😄❤️

السلام علیکم دوستو! 🌸
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ اللہ پاک سب کو خوش رکھے، صحت دے اور زندگی میں سکون عطا فرمائے۔ 🤲❤️

آج صبح اٹھا تو موسم بھی کچھ الگ ہی موڈ میں تھا۔ نہ زیادہ گرمی، نہ زیادہ ٹھنڈ… بس ایسی ہوا چل رہی تھی کہ دل نے کہا، "آج گھر میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں!" 😂

میں بھی تیار ہوا اور نکل پڑا۔ راستے میں گاؤں کی وہی اپنی رونق، کہیں لوگ بیٹھے گپیں لگا رہے تھے، کہیں موٹر سائیکلیں آ جا رہی تھیں اور کہیں چائے کے ہوٹل پر حسبِ معمول دنیا کے سارے مسئلے حل ہو رہے تھے۔ 😂☕

کچھ دیر گھومنے پھرنے کے بعد سوچا کہ آج کھانا بھی باہر ہی کھایا جائے۔ ایک ہوٹل پر جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی میں نے ٹھیک سے کرسی سنبھالی ہی تھی کہ ایک دوست کا فون آ گیا:

"کہاں ہو؟"

میں نے کہا: "بس بھائی، ہوٹل پر بیٹھا ہوں۔"

کہنے لگا: "پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔"

اب آپ سب تو جانتے ہی ہیں کہ ہمارے دوستوں کے یہ پانچ منٹ کتنے لمبے ہوتے ہیں! 😂
پانچ منٹ کے بعد دوسرا دوست آ گیا، پھر تیسرا بھی آ گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اکیلا کھانا کھانے والا بندہ پوری محفل کا میزبان بن گیا۔ 🤣

پھر شروع ہوئی اصل گپ شپ۔
کسی نے پرانی بات چھیڑ دی، کسی نے کسی دوست کا قصہ سنا دیا، کوئی اپنی ہی تعریفوں میں لگا ہوا تھا اور باقی سب اس کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف تھے۔ 😂

کھانا سامنے آیا تو سب ایسے خاموش ہوئے جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کوئی بات ہی نہیں کر رہے تھے۔ 😅
لیکن دو نوالے کھانے کے بعد پھر وہی ہنسی مذاق شروع!

ایک دوست نے ایسی بات کہہ دی کہ پوری میز پر بیٹھے لوگ ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے۔ 😂❤️

سچ کہوں تو کبھی کبھی زندگی میں بڑی خوشی کے لیے کسی بڑی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک سادہ سا ہوٹل، سامنے گرم گرم کھانا، چائے کا کپ، چند پرانے دوست اور دل کھول کر ہونے والی گپ شپ… بس یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں دن کو یادگار بنا دیتی ہیں۔ ❤️☕

شام ہونے لگی تو سب دوست آہستہ آہستہ اپنے اپنے راستے چل پڑے۔ میں بھی واپس نکل آیا، لیکن راستے بھر یہی سوچتا رہا کہ زندگی میں اصل دولت شاید یہی خوبصورت لمحات اور مخلص دوست ہوتے ہیں۔ ❤️

پیسہ دوبارہ آ سکتا ہے، وقت دوبارہ نہیں آتا۔
اس لیے جہاں موقع ملے، اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھیں، ہنسیں، باتیں کریں اور خوبصورت یادیں بنائیں۔ 🌸

آج کا دن تو یوں ہی دوستوں کے نام رہا۔ ❤️
آپ بتائیں، آپ کا آج کا دن کیسا گزرا؟
کمنٹ میں ضرور بتانا، دیکھتے ہیں آج کس کس کا دن میرے جیسا دلچسپ گزرا! 😄👇

اللہ پاک آپ سب کے گھروں میں خوشیاں، محبت، صحت اور سکون ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین 🤲❤️

#دوستی

🌿 ٹارزن اور جنگل کا پراسرار قلعہ🔥 آخری معرکہ — قسط 2 🔥رات گہری ہو چکی تھی۔ پورا جنگل خاموش تھا، مگر پہاڑی کے اوپر کھڑا پ...
15/09/2026

🌿 ٹارزن اور جنگل کا پراسرار قلعہ
🔥 آخری معرکہ — قسط 2 🔥

رات گہری ہو چکی تھی۔ پورا جنگل خاموش تھا، مگر پہاڑی کے اوپر کھڑا پرانا قلعہ روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔

ٹارزن ایک بڑے درخت کی شاخ پر بیٹھا قلعے کا جائزہ لے رہا تھا۔

اسے معلوم تھا کہ اندر داخل ہونا آسان نہیں ہوگا۔

لیکن اس کے گوریلا دوست قید تھے، اور ٹارزن انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

اس نے گہری سانس لی اور درخت سے نیچے اترا۔

وہ دیوار کے قریب پہنچا، ایک لمبی بیل پکڑی اور خاموشی سے قلعے کی دیوار کے اوپر جا پہنچا۔

اندر پہنچ کر اسے ایک عجیب منظر نظر آیا۔

ایک بڑے صحن میں کئی پنجرے رکھے ہوئے تھے، اور انہی میں اس کے گوریلا دوست بھی قید تھے۔

ٹارزن نے انہیں دیکھتے ہی آہستہ سے آواز دی:

"فکر نہ کرو، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔"

گوریلوں نے ٹارزن کو دیکھ لیا اور خوشی سے آوازیں نکالنے لگے۔

لیکن اسی لمحے پیچھے سے تالیاں بجنے کی آواز آئی۔

"شاباش ٹارزن… آخرکار تم یہاں پہنچ ہی گئے۔"

ٹارزن فوراً پلٹا۔

اس کے سامنے ایک لمبا شخص کھڑا تھا، جس کے ساتھ کئی محافظ موجود تھے۔

وہ مسکرا کر بولا:

"میں جانتا تھا کہ تم اپنے دوستوں کے لیے ضرور آؤ گے۔"

ٹارزن نے غصے سے پوچھا:

"انہیں کیوں قید کیا ہے؟"

وہ شخص بولا:

"یہ جنگل بہت قیمتی ہے۔ میں یہاں ایک خفیہ خزانہ تلاش کر رہا ہوں، اور تمہارے گوریلا دوست اس جگہ کو جانتے ہیں۔"

ٹارزن نے کہا:

"جنگل کسی انسان کی ملکیت نہیں۔ یہ ان سب کا گھر ہے جو یہاں رہتے ہیں۔"

وہ شخص ہنسا۔

"اور تم مجھے روکنے آئے ہو؟"

ٹارزن نے جواب دیا:

"ہاں!"

اچانک محافظ ٹارزن کی طرف بڑھے۔

ٹارزن نے فوراً ایک طرف چھلانگ لگائی، ایک محافظ کو پیچھے ہٹایا اور دوسرے سے بچتے ہوئے صحن کے بیچ پہنچ گیا۔

قلعے میں شور مچ گیا۔

گوریلے پنجرے کے اندر سے زور زور سے آوازیں نکالنے لگے۔

ایک محافظ نے ٹارزن کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر ٹارزن نے ایک بیل پکڑی اور ہوا میں جھولتا ہوا دوسرے حصے میں جا پہنچا۔

وہ سیدھا ایک پرانے لکڑی کے پل پر اترا۔

پل زور سے ہلا۔

ٹارزن نے نیچے دیکھا تو بہت گہری کھائی تھی۔

اسی وقت دشمن نے پل کی رسی کاٹ دی۔

پل ٹوٹنے لگا!

ٹارزن نے آخری لمحے میں ایک مضبوط بیل پکڑ لی۔

وہ کھائی کے اوپر جھولتا ہوا دوسری طرف پہنچ گیا۔

اب اس کے سامنے قلعے کا کنٹرول روم تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو اسے ایک پرانی مشین نظر آئی، جس سے قلعے کے تمام دروازے اور پنجرے کھلتے تھے۔

ٹارزن فوراً مشین کی طرف بڑھا۔

لیکن دشمن کا سردار بھی وہاں پہنچ گیا۔

دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔

چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔

پھر سردار نے ٹارزن پر حملہ کر دیا۔

دونوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔

ٹارزن نے آخرکار اسے پیچھے ہٹا دیا اور مشین تک پہنچ گیا۔

اس نے پنجرے کھولنے والا لیور کھینچ دیا۔

کڑاک!

ایک ایک کرکے تمام پنجرے کھل گئے۔

گوریلے آزاد ہو گئے!

وہ زور سے دوڑتے ہوئے باہر نکلے اور اپنے دوست ٹارزن کے گرد جمع ہو گئے۔

لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

قلعے کی پرانی دیواریں ہلنے لگیں۔

لگ رہا تھا کہ قلعہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔

ٹارزن نے سب کو فوراً باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔

گوریلے تیزی سے قلعے سے باہر نکلنے لگے۔

دشمن کا سردار بھی بھاگنے کی کوشش کرنے لگا، مگر راستے میں گرنے والی لکڑی نے اس کا راستہ روک دیا۔

ٹارزن نے اسے دیکھا۔

وہ چاہتا تو اسے وہیں چھوڑ سکتا تھا، مگر ٹارزن نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

"آؤ، میں تمہیں باہر نکالتا ہوں۔"

سردار حیران ہو گیا۔

"تم مجھے بچاؤ گے؟"

ٹارزن نے کہا:

"جنگل ہمیں دشمنوں سے نفرت نہیں، بلکہ اسے بچانا سکھاتا ہے۔ لیکن اب تمہیں یہ جنگل چھوڑنا ہوگا۔"

ٹارزن نے اسے بھی باہر نکال لیا۔

چند ہی لمحوں بعد قلعے کا ایک بڑا حصہ زمین پر آ گرا۔

صبح کی پہلی روشنی جنگل پر پھیلنے لگی۔

گوریلے آزاد تھے۔

جنگل محفوظ تھا۔

اور ٹارزن اپنے دوستوں کے ساتھ ایک اونچی چٹان پر کھڑا سورج کو طلوع ہوتے دیکھ رہا تھا۔

اس کا ایک گوریلا دوست اس کے قریب آیا۔

ٹارزن مسکرایا اور بولا:

"یہ جنگل ہمارا گھر ہے… اور ہم ہمیشہ اس کی حفاظت کریں گے۔"

گوریلوں نے خوشی سے آوازیں بلند کیں۔

دور پرندے اڑ رہے تھے، درختوں کے پتے ہوا میں لہرا رہے تھے اور سورج کی روشنی پورے جنگل کو روشن کر رہی تھی۔

ٹارزن نے آخری بار پیچھے مڑ کر قلعے کی طرف دیکھا۔

پھر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جنگل کی گہرائیوں میں چل
پڑا۔

🌿 اختتام 🌿

اگر آپ کو ٹارزن کی یہ مہم پسند آئی تو کمنٹ میں ❤️ "Tarzan" لکھیں۔....
[9/9, 5:39 PM] Mustafa Qazi: 🌿 ٹارزن اور جنگل کا پراسرار قلعہ
🔥 ایک خطرناک مہم کا آغاز — قسط 1 🔥

گھنے جنگل میں صبح کا وقت تھا۔ سورج کی سنہری روشنی درختوں کی شاخوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ پرندوں کی آوازیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں اور درختوں کے درمیان ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

ٹارزن ایک اونچے درخت کی شاخ پر کھڑا دور تک جنگل کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے گوریلا دوست بھی موجود تھے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا، لیکن ٹارزن کو آج جنگل کی خاموشی کچھ عجیب محسوس ہو رہی تھی۔

اچانک دور سے ایک خوفناک آواز آئی۔

"آاااااااااااا!"

گوریلوں نے فوراً سر اٹھایا۔

ٹارزن نے درخت سے چھلانگ لگائی اور زمین پر اترتے ہی بولا:

"یہ آواز جنگل کے مشرقی حصے سے آئی ہے۔ وہاں کچھ گڑبڑ ہے!"

وہ تیزی سے درختوں کے درمیان دوڑنے لگا۔

کچھ دیر بعد جب وہ ایک کھلے میدان میں پہنچا تو وہاں کا منظر دیکھ کر رک گیا۔

زمین پر گوریلوں کے قدموں کے نشان تھے، مگر وہ عام قدموں کے نشان نہیں تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی گوریلوں کو زبردستی ایک ہی سمت لے جایا گیا ہو۔

ٹارزن نے زمین سے ایک پھٹا ہوا کپڑا اٹھایا۔

وہ اس کے ایک گوریلا دوست کا تھا۔

ٹارزن کی آنکھوں میں غصہ آ گیا۔

"میرے دوستوں کو کون لے کر گیا؟"

اچانک پیچھے جھاڑیوں میں حرکت ہوئی۔

ٹارزن نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔

لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔

صرف ایک چھوٹا سا لکڑی کا نشان درخت کے ساتھ لگا ہوا تھا، جس پر ایک عجیب سا نشان بنا ہوا تھا۔

ٹارزن نے اسے غور سے دیکھا۔

اس نشان کو دیکھتے ہی اسے برسوں پرانی ایک بات یاد آ گئی۔

جنگل کے بزرگ اسے ہمیشہ ایک پراسرار قلعے کے بارے میں بتاتے تھے۔

کہتے تھے کہ جنگل کے سب سے خطرناک حصے میں ایک پرانا پتھریلا قلعہ موجود ہے، جہاں ایسے لوگ رہتے ہیں جو جنگل کے جانوروں کو پکڑ کر اپنے قبضے میں رکھتے ہیں۔

ٹارزن نے مٹھی مضبوط کی۔

"اگر میرے دوست وہاں ہیں تو میں انہیں واپس لے کر آؤں گا۔"

وہ فوراً جنگل کے مشرقی حصے کی طرف روانہ ہو گیا۔

راستہ انتہائی خطرناک تھا۔

کبھی اسے گہری کھائیوں کے اوپر سے گزرنا پڑتا، کبھی تیز بہتے دریا کو عبور کرنا پڑتا اور کبھی گھنے درختوں کے درمیان سے راستہ بنانا پڑتا۔

اچانک اسے سامنے سے گھوڑوں کی آواز سنائی دی۔

ٹارزن ایک بڑے درخت کے پیچھے چھپ گیا۔

چند لمحوں بعد کچھ مسلح شکاری وہاں سے گزرے۔

ان کے ساتھ ایک بڑی گاڑی تھی۔

گاڑی کے اندر سے گوریلوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔

ٹارزن سمجھ گیا کہ یہی لوگ اس کے دوستوں کو لے کر جا رہے ہیں۔

وہ خاموشی سے درختوں کے اوپر چڑھ گیا اور گاڑی کا پیچھا کرنے لگا۔

کچھ فاصلے پر گاڑی ایک تنگ راستے میں داخل ہوئی۔

ٹارزن نے ایک لمبی بیل پکڑی اور جھولتا ہوا گاڑی کے اوپر جا پہنچا۔

ایک محافظ نے اوپر دیکھا۔

"کون ہے؟"

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، ٹارزن دوسری طرف کود چکا تھا۔

اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر اچانک پیچھے سے ایک شخص نے اسے دیکھ لیا۔

"ٹارزن!"

پورا گروہ فوراً چوکس ہو گیا۔

ٹارزن زمین پر کودا اور تیزی سے درختوں کے درمیان بھاگنے لگا۔

شکاری اس کے پیچھے دوڑنے لگے۔

لیکن جنگل ٹارزن کا گھر تھا۔

وہ ایک درخت پر چڑھا، پھر دوسرے درخت پر گیا اور چند لمحوں میں نظروں سے غائب ہو گیا۔

شکاری کافی دیر تک اسے تلاش کرتے رہے، مگر ٹارزن کہیں نظر نہ آیا۔

رات ہونے لگی۔

ٹارزن ایک اونچی چٹان پر بیٹھا قلعے کو دور سے دیکھ رہا تھا۔

قلعہ واقعی موجود تھا۔

بہت بڑا، پرانا اور خوفناک۔

اس کی دیواروں کے اردگرد اونچی باڑ تھی اور کئی جگہ پہرے دار موجود تھے۔

ٹارزن نے دور سے اپنے گوریلا دوستوں کی آواز سنی۔

اس کا دل بے چین ہو گیا۔

وہ آہستہ سے بولا:

"میں تمہیں یہاں زیادہ دیر نہیں رہنے دوں گا۔"

لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ قلعے کے اندر صرف اس کے دوست ہی قید نہیں تھے۔

وہاں ایک ایسا راز بھی چھپا تھا جو پورے جنگل کے مستقبل کو بدل سکتا تھا۔

ٹارزن نے قلعے کی طرف دیکھا۔

پھر ایک درخت سے دوسری شاخ کی طرف جھولا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

جاری ہے...

🔥 قسط 2 میں:
ٹارزن قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، لیکن اندر اسے ایک ایسے شخص کا سامنا ہوگا جو اسے برسوں سے تلاش کر رہا تھا۔ آخر وہ کون تھا؟ اور گوریلوں کو قید کرنے کی اصل وجہ کیا تھی؟

👇 قسط 2 کے لیے کمنٹ میں "ٹارزن" ضرور لکھیں!
] Mustafa Qazi:

کیا آپ اس تصویر میں چھپی ہوئی بلی تلاش کر سکتے ہیں؟ 🐱👀یہ اتنا آسان نہیں ہے! 😄دیکھتے ہیں آپ کی نظر کتنی تیز ہے۔بلی کہاں چ...
14/09/2026

کیا آپ اس تصویر میں چھپی ہوئی بلی تلاش کر سکتے ہیں؟ 🐱👀
یہ اتنا آسان نہیں ہے! 😄
دیکھتے ہیں آپ کی نظر کتنی تیز ہے۔
بلی کہاں چھپی ہے؟ کمنٹ میں جگہ بتائیں! 👇
#چیلنج #پہیلی

Address

Rahim Yar
Rahimyar Khan
64100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mustafa Qazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mustafa Qazi:

Shortcuts

Share