Mustafa Qazi

Mustafa Qazi Enjoy Entertainment party

28/02/2026

*ایک ملنگ درویش بارش کے پانی میں عشق و مستی سے لبریز چلا جارہا تھا کہ اُس درویش نے ایک مٹھائی فروش کو دِیکھا جو ایک کڑھائی میں گرما گرم دودھ اُبال رہا تھا تُو موسم کی مُناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کررہا تھا ملنگ کچھ لمحوں کیلئے وہاں رُک گیا شائد بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر تھا۔*

ملنگ حلوائی کی بھٹی کو بڑے غور سے دیکھنے لَگا ملنگ کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکن ملنگ کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کیا ہُوتے ۔ ملنگ چند لمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعد چَلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دِل حَلوائی سے رَہا نہ گیا اور ایک پیالہ گرما گرم دودھ اور چند جلیبیاں ملنگ کو پیش کردِیں ملنگ نے گرما گَرم جلیبیاں گَرما گرم دودھ کیساتھ نُوش کی اور پھر ہاتھوں کو اُوپر کی جانب اُٹھا کر حَلوائی کو دُعا دیتا ہُوا آگے چَلدِیا۔

ملنگ کا پیٹ بھر چُکا تھا دُنیا کے غموں سے بے پروا وہ پھر اِک نئے جُوش سے بارش کے گدلے پانی کے چھینٹے اُڑاتا چلا جارہا تھا وہ اِس بات سے بے خبر تھا کہ ایک نوجوان نو بیاہتا جُوڑا بھی بارِش کے پانی سے بَچتا بچاتا اُسکے پیچھے چَلا آ رھا ہے یکبارگی اُس ملنگ نے بارش کے گَدلے پانی میں اِس زور سے لات رَسید کی کہ پانی اُڑتا ہُوا سیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کَپڑوں کو بِھگو گیا اُس نازنین کا قیمتی لِباس کیچڑ سے لَت پَت ہُوگیا تھا

اُسکے ساتھی نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہُوئی۔
لِہذا وہ آستین چَڑھا کر آگے بَڑھا اور اُس ملنگ کو گریبان سے پَکڑ کر کہنے لگا کیا اندھا ہے تُجھے نظر نہیں آتا تیری حَرکت کی وجہ سے میری مِحبوبہ کے کَپڑے گیلے ہوچُکے ہیں اور کیچڑ سے بھر چُکے ہیں۔

ملنگ ہکا بَکا سا کھڑا تھا جبکہ اُس نوجوان کو مَجذوب کا خاموش رِہنا گِراں گُزر رہا تھا۔ عورت نے آگے بڑھ کر نوجوان کے ہاتھوں سے ملنگ کو چھڑوانا بھی چاہا لیکن نوجوان کی آنکھوں سے نِکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کر وہ بھی دوبارہ پیچھے کھسکنے پر مجبور ہو گئی ۔

راہ چلتے راہ گیر بھی بے حِسی سے یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے لیکن نوجوان کے غُصے کو دیکھ کر کِسی میں ہِمت نہ ہُوئی کہ اُسے رُوک پاتے اور بلاآخر طاقت کے نشے سے چُور اُس نوجوان نے ایک زور دار تھپڑ ملنگ کے چہرے پر جَڑ دِیا بوڑھا ملنگ تھپڑ کے تاب نہ لاسکا اور لڑکھڑاتا ہُوا کیچڑ میں جا پڑا نوجوان نے جب ملنگ کو نیچے گِرتا دِیکھا تُو مُسکراتے ہُوئے وہاں سے چَل دیا۔

بوڑھے ملنگ نے آسمان کی جانب نِگاہ اُتھائی اور اُس کے لَب سے نِکلا واہ میرے مالک کبھی گَرما گَرم دودھ جلیبیوں کیساتھ اور کبھی گَرما گَرم تھپڑ، مگر جِس میں تُو راضی مجھے بھی وہی پسند ہے، یہ کہتا ہُوا وہ ایک بار پھر اپنے راستے پر چَل دِیا۔

دوسری جانب وہ نوجوان جُوڑا جوانی کی مَستی سے سرشار اپنی منزل کی طرف گامزن تھا تھوڑی ہی دور چَلنے کے بعد وہ ایک مکان کے سامنے پُہنچ کر رُک گئے وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نِکال کر اپنی محبوبہ سے ہنسی مذاق کرتے ہُوئے بالا خَانے کی سیڑھیاں طے کر رہا تھا۔
بارش کے سبب سیڑھیوں پر پھلسن ہو گئی تھی اچانک اُس نوجوان کا پاؤں رَپٹ گیا اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گِرنے لَگا۔ عورت زور زور سے شور مچا کر لوگوں کو اپنے مِحبوب کی جانب متوجہ کرنے لگی جسکی وجہ سے کافی لوگ فوراً مدد کے واسطے نوجوان کی جانب لَپکے لیکن دیر ہو چُکی تھی نوجوان کا سَر پھٹ چُکا تھا اور بُہت ذیادہ خُون بِہہ جانے کی وجہ سے اُس کڑیل نوجوان کی موت واقع ہو چُکی

کُچھ لوگوں نے دور سے آتے ملنگ کو دِیکھا تُو آپس میں چہ میگویئاں ہُونے لگیں کہ ضرور اِس ملنگ نے تھپڑ کھا کر نوجوان کیلئے بَددُعا کی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کا صرف سیڑھیوں سے گِر کر مرجانا بڑے اَچھنبے کی بات لگتی ہے۔

چند منچلے نوجوانوں نے یہ بات سُن کر ملنگ کو گھیر لیا ایک نوجوان کہنے لگا کہ آپ کیسے اللہ والے ہیں جو صِرف ایک تھپڑ کی وجہ سے نوجوان کیلئے بَددُعا کر بیٹھے یہ اللہ والوں کی روِش ہَر گز نہیں کہ ذرا سی تکیلف پر بھی صبر نہ کر سکیں۔

وہ ملنگ کہنے لگا خُدا کی قسم میں نے اِس نوجوان کیلئے ہرگِز بَددُعا نہیں کی !

تبھی مجمے میں سے کوئی پُکارا اگر آپ نے بَددُعا نہیں کی تُو ایسا کڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گِر کر کیسے ہلاک ہو گیا ؟

تب اُس ملنگ نے حاضرین سے ایک انوکھا سوال کیا کہ کوئی اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ موجود ہے؟ ایک نوجوان نے آگے بَڑھ کر کہا ، ہاں میں اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ ہُوں

ملنگ نے اَگلا سوال کیا ،میرے قدموں سے جو کیچڑ اُچھلی تھی کیا اُس نے اِس نوجوان کے کپڑوں کو داغدار کیا تھا ؟

وہی نوجوان بُولا نہیں ،، لیکن عورت کے کَپڑے ضرور خَراب ہُوئے تھے

ملنگ نے نوجوان کے بازو کو تھامتے ہُوئے پوچھا، پھر اِس نوجوان نے مجھے کیوں مارا ؟

نوجوان کہنے لگا، کیوں کہ وہ نوجوان اِس عورت کا محبوب تھا اور اُس سے یہ برداشت نہیں ہُوا کہ کوئی اُسکے مِحبوب کے کپڑوں کو گَندہ کرے اسلئے اپنے محبوب کی جانب سے اُس نوجوان نے آپکو مارا۔

نوجوان کی بات سُن کر ملنگ نے ایک نعرۂ مستانہ بُلند کیا اور یہ کہتا ہُوا وہاں سے رُخصت ہُوگیا پس خُدا کی قسم میں نے بَددُعا ہرگز نہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جو مجھ سے مُحبت رکھتا ہے اور وہ اِتنا طاقتور ہے کہ دُنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُسکے جبروت سے گھبراتا ہے اور پس اس ذات حق کو یہ بات ناپسند گزری کہ کوئی اس کے محبوب (بندے) کو راہ چلتے یوں تھپڑ مارے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔

─────••●◎●••─────

والسّلام

یہ واقعہ اٹلی کے ایک شہر روم میں پیش آیاآیا… جہاں لوگ آج بھی اُس گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے نظریں جھکا لیتے ہیں۔ اگر آپ ...
20/02/2026

یہ واقعہ اٹلی کے ایک شہر روم میں پیش آیا
آیا…
جہاں لوگ آج بھی اُس گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے نظریں جھکا لیتے ہیں۔ اگر آپ کمزور دل ہیں تو یہ سچی کہانی آخر تک نہ پڑھیں… کیونکہ جادو ہمیشہ کہانیوں میں نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ سانس لیتا ہے…”
یہ بات تقریباً بیس سال پہلے کی ہے۔ یورپ کے ایک پُرانے اور تاریخی شہر کے مضافات میں ایک تین منزلہ پتھروں کا بنا گھر تھا۔ اُس گھر کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، اور باہر سے دیکھنے پر وہ کسی عام عمارت جیسا ہی لگتا تھا۔ لیکن مقامی لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔ وجہ کوئی واضح نہیں بتاتا تھا، بس اتنا کہتے تھے کہ “وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”
اُس گھر میں ایک خاندان رہنے آیا تھا۔ شوہر، بیوی اور اُن کی دس سالہ بیٹی۔ شوہر ایک انجینئر تھا اور بیوی مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ سب کچھ عام تھا، جب تک کہ انہوں نے گھر کی تیسری منزل کا دروازہ نہ کھولا۔
گھر خریدتے وقت ایجنٹ نے بتایا تھا کہ اوپر والا فلور اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے کافی عرصے سے بند ہے۔ لیکن نئی جگہ پر آ کر انسان تجسس میں آ ہی جاتا ہے۔
ایک شام، جب بارش ہو رہی تھی اور آسمان پر بادل گرج رہے تھے، شوہر نے اوپر جا کر دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ دروازہ پرانا تھا، لکڑی کا، اور اس پر لوہے کا زنگ آلود ہینڈل لگا تھا۔ جیسے ہی اس نے زور لگا کر دروازہ کھولا، ایک تیز اور عجیب سی بُو باہر نکلی۔ نہ وہ سڑاند تھی، نہ عام نمی کی بو… بلکہ کچھ جلا ہوا، کچھ کڑوا۔
کمرہ اندھیرا تھا۔ صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس سے بجلی کی چمک اندر آتی تو چند لمحوں کے لیے کمرہ روشن ہو جاتا۔
فرش پر گرد جمی ہوئی تھی۔ لیکن درمیان میں ایک جگہ ایسی تھی جہاں گرد کم تھی… جیسے وہاں کچھ رکھا گیا ہو۔
اسی جگہ ایک پرانا لکڑی کا صندوق پڑا تھا۔
شوہر نے تجسس میں صندوق کھولا۔
اندر پرانے کپڑوں کے نیچے ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی چیز تھی۔ جب اس نے اسے کھولا تو اندر ایک گڑیا نکلی۔ لیکن وہ عام گڑیا نہیں تھی۔ اس کے چہرے پر سیاہ دھاگوں سے عجیب نشان بنے ہوئے تھے۔ آنکھوں کی جگہ کالے بٹن لگے تھے، اور سینے پر سرخ دھاگے سے ایک نشان بنا تھا… جیسے کوئی خاص علامت ہو۔
شوہر نے اسے مذاق سمجھ کر نیچے لا کر بیوی کو دکھایا۔ بیوی نے فوراً کہا، “اسے واپس رکھ دو۔ مجھے اچھا احساس نہیں ہو رہا۔”
لیکن شوہر ہنس دیا۔ “یہ صرف ایک پرانی گڑیا ہے۔”
اُس رات پہلی بار عجیب واقعہ پیش آیا۔
رات کے تقریباً تین بجے بیٹی چیخ کر اٹھی۔ وہ کانپ رہی تھی۔ اُس نے کہا کہ اُس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی عورت اُس کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی ہے۔ لمبے سیاہ بال، سفید چہرہ، اور آنکھیں بالکل خالی۔
والدین نے اسے تسلی دی۔ کہا کہ یہ نیا گھر ہے، اس لیے ڈر لگ رہا ہے۔
لیکن اگلی رات پھر وہی وقت… تین بجے۔
اس بار بیٹی نے کہا کہ وہ عورت خواب میں نہیں تھی۔ وہ جاگ رہی تھی… اور دروازہ خود بخود آہستہ آہستہ کھلا تھا۔
باپ نے غصے میں آ کر پورے گھر کی تلاشی لی۔ سب دروازے بند تھے۔ کھڑکیاں بھی ٹھیک تھیں۔
چند دن گزرے۔ گھر میں چیزیں اپنی جگہ سے ہلنے لگیں۔ باورچی خانے کے برتن رات کو گر جاتے۔ سیڑھیوں پر قدموں کی آواز آتی، جیسے کوئی اوپر جا رہا ہو۔ لیکن جب دیکھتے تو کوئی نہیں ہوتا۔
ایک دن بیوی نے محسوس کیا کہ گڑیا جو انہوں نے ڈرائنگ روم کی شیلف پر رکھی تھی، اب وہاں نہیں ہے۔
وہ تیسری منزل پر گئی۔
دروازہ بند تھا۔ لیکن اندر سے ہلکی ہلکی سرگوشیوں کی آواز آ رہی تھی۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اُس نے ہمت کر کے دروازہ کھولا۔
کمرے کے درمیان وہی گڑیا رکھی تھی۔ لیکن اب وہ سیدھی کھڑی تھی، جیسے کسی نے اسے ترتیب سے رکھا ہو۔ اُس کے اردگرد فرش پر چاک سے دائرہ بنا ہوا تھا۔ اور دائرے کے اندر کچھ الفاظ لکھے تھے… جو مقامی زبان میں نہیں تھے۔
بیوی گھبرا کر نیچے آئی۔ شوہر نے جا کر دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ دائرہ، نہ الفاظ۔ صرف گرد آلود فرش… اور گڑیا صندوق کے اندر۔
اب شوہر کو بھی شک ہونے لگا۔
انہوں نے مقامی لائبریری جا کر اُس گھر کی تاریخ معلوم کرنے کی کوشش کی۔ پتہ چلا کہ کئی سال پہلے وہاں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس پر کالا جادو کرنے کا الزام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ گڑیا کے ذریعے لوگوں پر اثر ڈالتی تھی۔ اچانک ایک رات وہ مر گئی۔ لیکن اُس کی لاش کئی دن بعد ملی، اور کمرے کی دیواروں پر عجیب نشانات بنے ہوئے تھے۔
یہ سن کر شوہر کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
اسی رات سب سے خوفناک واقعہ ہوا۔
گھر کی ساری بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ اندھیرا مکمل تھا۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ بیٹی کے کمرے سے دوبارہ چیخ کی آواز آئی۔
جب والدین دوڑ کر پہنچے، بیٹی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اُس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں۔
دروازہ آہستہ آہستہ بند ہو رہا تھا… جیسے کسی نے اندر سے دھکا دیا ہو۔
اور فرش پر وہی گڑیا پڑی تھی۔
اس بار گڑیا کے سینے پر لگا سرخ دھاگہ کھل چکا تھا۔ اور اُس کے کپڑے پر نمی تھی… جیسے وہ بارش میں بھیگی ہو۔
اگلے دن انہوں نے ایک مقامی پادری اور ایک روحانی ماہر کو بلایا۔ اُس نے گھر کا معائنہ کیا۔ تیسری منزل پر جا کر وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ پھر اُس نے کہا، “یہ جگہ خالی نہیں ہے۔ یہاں کچھ بند کیا گیا تھا… اور آپ نے اسے چھیڑ دیا ہے۔”
اُس نے بتایا کہ گڑیا جادوئی عمل کا حصہ ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کسی کی روح یا منفی طاقت کو اس کے ذریعے باندھا گیا ہو۔
ماہر نے مخصوص دعائیں پڑھیں۔ کمرے میں عجیب سا دباؤ محسوس ہوا۔ جیسے ہوا بھاری ہو گئی ہو۔ گڑیا کو ایک لوہے کے ڈبے میں بند کیا گیا اور شہر سے باہر لے جا کر جلایا گیا۔
جب گڑیا آگ میں ڈالی گئی تو شعلہ غیر معمولی طور پر اونچا اٹھا۔ اور کچھ لمحوں کے لیے ایسا لگا جیسے آگ کے اندر کوئی سایہ تڑپ رہا ہو۔
اس کے بعد گھر میں سب کچھ معمول پر آ گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
چند سال بعد وہ خاندان وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ نیا خریدار آیا۔ اُس نے گھر کی مرمت شروع کی۔
تیسری منزل کی دیوار توڑتے وقت اندر سے ایک چھوٹا سا خفیہ خانہ ملا۔
اور اُس کے اندر… ایک اور گڑیا رکھی تھی۔
اسی نشان کے ساتھ۔
یہ واقعہ مقامی اخبار میں بھی شائع ہوا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد خبر ہٹا دی گئی۔
آج بھی اُس شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ جادو صرف کہانی نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں دفن کر دی جاتی ہیں… لیکن اگر انہیں چھیڑا جائے، تو وہ دوبارہ سانس لینے لگتی ہیں۔
اگر آپ کو یہ سچا اور پراسرار واقعہ چونکا گیا… تو اسے شیئر کریں۔ کیونکہ کچھ کہانیاں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں… بلکہ خبردار کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔

"ارے، یہ تو عامر بن طفیل الدوسی ہیں، یہ یہاں کیسے؟!" انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔پھر ایک ساتھی کو کہا:...
16/02/2026

"ارے، یہ تو عامر بن طفیل الدوسی ہیں، یہ یہاں کیسے؟!" انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔

پھر ایک ساتھی کو کہا:
"فوراً جاؤ اور امیر محترم کو اطلاع کرو!"

جب یہ اطلاع امیرِ لشکر حضرت خالد بن ولید ؓ کو ملی تو آپ فوراً وہاں پہنچے۔ آپ نے جب عامر بن طفیل الدوسی ؓ کو دیکھا تو پوچھا:
"اے عامر! تم یہاں کیسے، اور یہ کیا معاملہ ہے؟"

انھوں نے بتایا:
"جب میں آپ کا خط لے کر حضرت امین الامۃ کے پاس جا رہا تھا تو یہاں تک پہنچتے پہنچتے سخت موسم اور پیاس کی شدت سے میرا برا حال ہوچکا تھا۔ جب اس سرائے کے پاس کچھ بکریاں وغیرہ چرتی ہوئی نظر آئی تو میں نے سوچا ان کے چرواہے سے کچھ دودھ خرید کر پیتا ہوں۔ میں جب اس چرواہے کے پاس پہنچا تو دیکھا یہ بیٹھا شراب پی رہا ہے۔ میں نے اسے کہا "اوہ خدا کے دشمن، تم شراب پی رہے ہو؟ حالانکہ یہ حرام ہے۔"

تو اس شخص نے کہا:
"میں شراب نہیں پی رہا، اگر تمھیں شک ہے تو خود اس برتن میں جھانک کر دیکھ لو، بلکہ سونگھ کر چیک کرلو کہ یہ شراب نہیں ایک خاص قسم کا پانی ہے۔"

"اے امیر، جب میں برتن سونگھنے کے لیے بیٹھا اور اس پر جھکا تو اس نے اپنی بغل میں چھپائی ہوئی لاٹھی میرے سر میں دے ماری جس کی وجہ سے میرا سر پھٹ گیا۔ جب میں ایک طرف کو ہوا تو اس نے مجھے دبوچ لیا اور باندھ دیا۔"

اے امیر، جب اس نے مجھے جکڑ دیا تو کہنے لگا:
"مجھے لگتا ہے تو بھی محمد بن عبداللہ (ﷺ) کا آدمی ہے۔ اب تجھے میں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ میرا آقا، جو علاقے کے حاکم کے پاس گیا ہوا ہے، واپس نہیں آ جاتا۔"

"پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تمھارا آقا کون ہے؟
اس نے بتایا میرا آقا قدح بن واثلہ ہے۔"

"حضرت، میں تین دن سے اس کی قید میں ہوں۔ جب بھی یہ شراب پیتا ہے مجھے سامنے بٹھا لیتا ہے۔ پینے کے بعد جو گند برتن میں بچ جاتا ہے وہ مجھ پر پھینکتا ہے۔"

حضرت خالد بن ولید ؓ نے جب یہ حال سنا تو بہت طیش آیا۔ آپ نے تلوار کا دستہ اس چرواہے کو مارا کہ وہ وہیں بے ہوش ہوکر گر پڑا پھر مرگیا۔ مسلمانوں نے اس کے جانوروں کو اپنے قبضے میں لیا اور عامر بن طفیل الدوسی ؓ کو قید سے آزاد کروا لیا۔ پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان سے دریافت کیا:
"میرا وہ خط کہاں ہے؟"

عامر بن طفیل نے کہا:
"وہ میری پگڑی کی تہہ میں ہے۔ اب تک اس بارے میں کسی کو نہیں پتا۔"

آپ نے فرمایا:
"اسے لیکر فوراً روانہ ہو جاؤ اور حضرت امین الامۃ تک پہنچاؤ۔ دیکھو! اب ہوشیاری سے جانا۔"

یہ سن کر عامر بن طفیل الدوسی ؓ نے اپنی سواری تیار کی اور فوراً شام روانہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

"ارکہ" ایک ایسا علاقہ تھا جو عراق سے شام جانے والے مسافروں کے لیے خطرناک مقام مشہور تھا۔ یہ گھنے جنگلات میں گھرا ہوا علاقہ تھا۔ یہاں پر رومی شہنشاہ کی طرف سے ایک جنگجو شخص حکمران تھا جو مسافروں سے اچھا خاصا ٹیکس وصول کرتا تھا۔

جب حضرت خالد بن ولید ؓ کا لشکر یہاں پہنچا تو علاقے کے باشندے خوف زدہ ہوکر قلعہ میں چھپ ہوگئے۔ ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جسے روم کے بڑے صاحب علم اور دانشمندوں میں گنا جاتا تھا۔ یہ بڑا صاحبِ علم شخص تھا۔ اس نے وہ کتابیں بھی پڑھ رکھی تھی جن میں شورشوں، فتنوں کا ذکر اور ان کی علامتیں بیان کی گئی تھیں۔ ایک دن اس نے چُھپ چھپا کر مسلمانوں کے لشکر کا جائزہ لیا اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو بھی دیکھا۔ یہ واپس آیا تو اپنی قوم کو پکار پکار کر کہنے لگا:

"اے میری قوم، مجھے اپنے دین کی قسم وہ وقت آچکا ہے۔"

لوگوں نے دیکھا اس کا چہرہ فق ہوگیا تھا۔ پوچھا:
"کیا ہوا؟ کیسا وقت آچکا ہے؟ آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟"

اس شخص کو حکیم شمعان کہا جاتا تھا۔ یہ کہنے لگا:
"لوگو.... میں نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ عراق کی طرف سے جو لشکر سب سے پہلے یہاں آئے گا، اس کا عَلم (جنگی نشان) سیاہ اور اس لشکر کا سپہ سالار لمبا چوڑا، صحت مند اور چوڑے شانوں والا ہوگا۔ اس سپہ سالار کا چہرہ بڑے رعب اور دبدبے والا ہوگا مگر اس کے چہرے پر چیچک کے نشان ہوں گے۔ یہی لشکر ہوگا جو رومیوں کو مار بھگائے گا اور اسی سپہ سالار کے ہاتھوں شام کی سرزمین فتح ہوگی..... کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا کہ یہ وہی لشکر ہے جس میں یہ تمام علامات موجود ہیں؟"

لوگوں نے جب حکیم شمعان کی یہ باتیں سنی اور اسلامی لشکر کا بغور جائزہ لیا تو حکیم کی باتیں انھیں درست لگیں۔ پھر ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا اور سیدھے حاکم کے دربار میں جا پہنچے۔ حاکم نے ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو ایک شخص آگے بڑھ کر بطورِ ترجمان کہنے لگا:

"اے سردار، تمھیں معلوم ہے کہ حکیم شمعان کس قدر علم والا اور دانشمند انسان ہے، اور جناب کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ بغیر کسی دلیل و ثبوت کے کوئی بات نہیں کہتا۔ جو کچھ اس نے ہمیں اس لشکر کے متعلق بتایا ہے اس کا ہم نے بچشمِ خود مشاہدہ کرلیا ہے۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ ہم مسلمانوں سے صلح کرلیں تاکہ ہم اپنے مال و جان، اہل و عیال کو محفوظ کرلیں۔"

حاکم نے تمام باتیں سننے کے بعد کہا:
"آپ سب لوگوں کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اس معاملے میں آگاہی دی۔ میں آج رات سب معاملات پر غور و فکر کروں گا تاکہ کوئی صحیح فیصلہ کرسکوں۔"

حاکم ایک سمجھدار انسان تھا۔ وہ تمام باتوں پر غور کرتا رہا۔ اس نے سمجھ لیا کہ اگر میں رعایا کے خلاف کام کرتا ہوں تو یہ سب مل کر مجھے یہ گرفتار کرلیں گے اور مسلمانوں کے حوالے کردیں گے۔ اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ رومی سپہ سالار روبیس کو فلس طین کے میدان میں مسلمانوں کے چھوٹے سے لشکر نے کیسی عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ رومی مسلمانوں سے کافی ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ تمام رات وہ ان سب باتوں پر غور و فکر کرتا رہا۔ صبح لوگوں کو بلا کر پوچھا:
"بتاؤ، اب تمھارا کیا ارادہ ہے؟"

لوگوں نے کہا:
"ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ صلح ہو جائے، اسی میں ہماری بہتری ہے۔"

کہنے لگا:
"ٹھیک ہے۔ چونکہ میں بھی تمھارے جیسا ہی انسان ہوں، میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ جو رائے میرے علاقے کے لوگ طے کریں گے وہی میں کروں گا۔"

چنانچہ علاقے کے بڑے بزرگ اور چند سردار اکٹھے ہوکر حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس آئے اور مصالحت کے لیے بات چیت کی۔ آپ نے ان لوگوں کی بڑی قدر افزائی کی اور نہایت خندہ پیشانی سے پیش آئے تاکہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ لیکن جب محسوس ہوا کہ یہ لوگ لڑنا بھی نہیں چاہتے اور مسلمان بھی نہیں ہونا چاہتے تو آپ نے ان پر سالانہ جزیہ مقرر کرکے صلح کرلی اور باقاعدہ لکھ کر بھی دے دیا۔ سالانہ جزیہ کی جو رقم طے ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ دو ہزار چاندی اور ایک ہزار سونے کے درہم یہ لوگ مسلمانوں کے حکمران کو دیں گے۔

جب ان سے معاہدہ ہوگیا تو قریبی علاقوں "تدمر" اور "سخنہ" کے لوگوں نے بھی اپنے حاکموں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ تدمر کے حاکم نے کہا:

"اگرچہ ہمارے قلعے بہت مضبوط ہیں، کوئی بھی لشکر ان کو فتح نہیں کرسکتا مگر جو ہمارے کھیت اور باغات ہیں وہ قلعے سے باہر ہیں، اس لیے ہم بھی ان سے صلح کرلیتے ہیں۔ ویسے بھی سنا ہے یہ لوگ معاہدے کی پاسداری کرنے والے ہیں۔ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اس لیے بہتر یہی ہے صلح کا معاہدہ کرلیا جائے۔ ہاں اگر ہماری قوم جنگ میں ان سے جیت جاتی ہے تو ہم بھی معاہدہ توڑ دیں گے، اگر یہ جیت گئے تو ہم محفوظ رہیں گے۔"

چنانچہ جب مسلمانوں کا لشکر ان کے علاقے میں پہنچا تو انھوں نے حضرت خالد بن ولید ؓ کا شاندار استقبال کیا اور دعوت کا اہتمام کیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور قلیل سی رقم (شرعی جزیہ) مقرر کرکے بدلے میں صلح نامہ لکھ دیا۔ یہ معاہدہ کرنے کے بعد آپ نے اس علاقے سے لشکر کے جانوروں کے لیے چارہ وغیرہ خریدا اور آگے سفر شروع کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عامر بن طفیل الدوسی ؓ جب حضرت امین الامۃ ؓ کی خدمت میں پہنچے تو حضرت خالد بن ولید ؓ کا خط ان کے حوالے کیا۔ آپ خط پڑھ کر مسکرائے۔ پھر فرمایا:
"میں خالد بن ولید ؓ اور خلیفہ رسول ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم کو بخوشی قبول کرتا ہوں۔"

پھر آپ نے وہاں موجود تمام لشکر کو اس بات کی اطلاع دی کہ اب ہم سب لوگوں کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید ؓ ہوں گے۔ یہ خلیفۃ الرسول ، امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حکم ہے۔

اس خط کے ملنے سے پہلے حضرت امین الامۃ ؓ ایک لشکر حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ کی سرکردگی میں بصرہ کی طرف روانہ کرچکے تھے۔ اس لشکر میں کم و بیش چار ہزار مسلمان سپاہی تھے اور یہ لشکر بصرہ شہر کے سامنے خیمہ زن ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بصرہ بارہ ہزار آبادی پر مشتمل شہر تھا۔ عرب یہاں اور یہاں کے لوگ عرب اور یمن سمیت دیگر علاقوں میں تجارت کی غرض سے آیا جایا کرے تھے۔ یہ گنجان آباد شہر تھا۔ یہاں کے حاکم کا نام "روماس" تھا جو شہنشاہ کے نزدیک بھی بڑے رتبے کا مالک تھا۔ یہ شخص آسمانی کتب کا عالم و فاضل تھا اور جسمانی لحاظ سے بھی بڑا مضبوط انسان تھا۔ بہت سے لوگ صرف اس کا مضبوط جسم دیکھنے کے لیے دور دور سے آیا کرتے تھے۔ ایک خاص وقت اور موسم میں اس کے لیے لوہے کی بڑی کرسی لگائی جاتی تھی جس پر یہ بیٹھ جاتا اور لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوکر اس کا جسم بھی دیکھتے اور اس کی حکمت و دانائی پر مشتمل باتیں بھی سنتے۔ یہی دن تھے، یہ اپنی محفل جمائے بیٹھا تھا کہ شہر میں مسلمانوں کے لشکر کی آمد کی خبر پھیل گئی۔ ہر طرف شور مچ گیا۔ جب اسے صورت حال بتائی گئی تو یہ اسی وقت اٹھا اور اکیلا ہی یہ دیکھنے چل پڑا کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ لوگ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اس نے شہر سے باہر نکل کے لشکر کے قریب پہنچ کر آواز دی:

"اے عرب لوگو، تمھارے سردار کدھر ہیں میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں اسی شہر کا حکمران روماس ہوں۔"

یہ سن کر لوگوں نے حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ کو اطلاع دی تو وہ اس کے پاس تشریف لائے۔ اس نے پوچھا:
"آپ کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟!"

حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ نے فرمایا:
"ہم اس نبی کریم ﷺ کے امتی اور صحابی ہیں جن کا ذکر تمھاری کتابوں میں بھی آیا ہے۔"

اس نے سوال کیا:
"حضرت محمد ﷺ نے دنیا میں کیا کام کیا؟"

آپ نے اس کے جواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی پر مختصر اور جامع تبصرہ فرمایا۔

یہ سن کر وہ بولا:
"ان کے بعد تمھارا حکمران کون ہے؟!"

آپ نے فرمایا:
"عبداللہ عتیق بن ابی قحافہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے جانشین بنے ہیں۔"

روماس نے کہا:
"مجھے معلوم ہے عن قریب تم لوگ شام و فارس پر قابض ہو جاؤ گے، کیوں کہ ہماری کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں یہی کہتا ہوں کہ آپ لوگ جیسے آئے ہیں ایسے ہی آرام سے واپس چلے جائیں، ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔ ویسے بھی آج کل میرے شہر میں خوب لوگ جمع ہیں اور تم ان کے مقابلے میں بہت ہی کم ہو۔ اس لیے بہتر یہی ہے تم لوگ واپس چلے جاؤ۔"

حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ نے فرمایا:
"ہماری تین شرائط ہیں۔ ان میں سے کسی ایک بات پر متفق ہو جاؤ تو کوئی صورت نکل سکتی ہے، ورنہ ہم واپس جانے والے نہیں۔"

اس نے کہا:
"اگر تمہاری جگہ ابوبکر ؓ ہوتے وہ میرے ساتھ کبھی نہ لڑتے۔ کیوں کہ وہ میرے دوست ہیں۔"

حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ نے کہا:
"جب معاملہ دینی احکام کے نفاذ کا ہو تو ابوبکر اس معاملے اپنے کسی عزیز کو بھی نہیں بخشتے۔ کیوں کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے پابند ہیں۔"

"اچھا؟.... تو چلو اپنے مطالبات بتاؤ!" روماس نے کہا۔

آپ نے جواب دیا:
"نمبر ایک:
آپ لوگ اسلام قبول کرکے اللہ تعالیٰ کے بندے بن جاؤ اور آپ ﷺ کے احکامات کی تابعداری کرو۔
نمبر دو:
اگر اسلام قبول نہیں کرنا تو پھر جزیہ دو۔
نمبر تین:
اگر یہ بھی منظور نہیں تو جنگ کے لیے میدان میں آؤ اور مقابلہ کرو۔"

روماس نے کہا:
"مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ حق پر ہیں، میں آپ لوگوں کے ساتھ بالکل نہ لڑتا، مگر میری قوم میرے پاس جمع ہے، میں ان سے مشورہ کرلوں کہ وہ کیا کہتے ہیں!"

آپ نے فرمایا:
"ٹھیک ہے جائیں مگر ذرا جلدی جواب لائیں۔ اور ہاں! ہمارے مطالبات یہی رہیں گے، ان کے علاوہ کچھ قبول نہیں۔"

روماس اپنی قوم کے پاس پہنچا اور ان کو جمع کیا۔ پھر بولا:

"اے میری قوم، جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ ہماری کتابوں میں درج ہے، ایک وقت آئے گا عرب ہماری زمینوں پر ہمارے مال و دولت پر قابض ہو جائیں گے۔ اب وہ وقت آگیا ہے۔ تمھارے پاس روبیس کے برابر طاقت ور لشکر نہیں ہے جس کو ان عربوں نے فلس طین میں شکست دے دی ہے۔ ان کے چھوٹے سے لشکر نے ہمارے کتنے ہی بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ مجھے یہ بھی اطلاع مل چکی ہے کہ ان کا ایک اہم کمانڈر خالد بن ولید ؓ اپنے لشکر کو عراق سے لے کر اسی طرح بڑھتا چلا آرہا ہے۔ اور یہ بھی اطلاع ہے کہ ارکہ، تدمر اور سخنہ والوں نے اس سے صلح کرلی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ہم بھی جزیہ دینا منظور کرکے ان سے اپنی جان چھڑا لیں۔ کیا کہتے ہو آپ لوگ؟"

یہ سن کر سب کے سب رومی مشتعل ہوگئے اور روماس کو ہی جان سے مارنے کے درپے ہوگئے۔ قریب تھا کہ وہ اس پر حملہ کردیتے کہ اچانک اس نے پینترا بدل کر کہا:

"بس بس! میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تمھارے اندر اپنے دین اور قوم کے لیے کتنی غیرت و حمیت باقی ہے۔ ورنہ ان مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے سب سے پہلے نکلنے والا شخص میں خود ہوں۔"

یہ سن کر رومی جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔

حضرت شرحبیل بن حسنہ ؓ نے جب یہ رومیوں کو لڑنے پر آمادہ پایا تو آپ نے بھی مسلمانوں کو صف بندی کرنے کا حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی
(قسط نمبر 14)

: پراسرار مکان کا راز**رات کے دو بج رہے تھے اور پورا شہر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ زبیر اپنے دوستوں، وقاص اور ندیم کے سات...
16/02/2026

: پراسرار مکان کا راز**
رات کے دو بج رہے تھے اور پورا شہر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ زبیر اپنے دوستوں، وقاص اور ندیم کے ساتھ شہر کے ایک مشہور پرانے مکان کے باہر کھڑا تھا۔ یہ مکان کئی سالوں سے خالی پڑا تھا اور مشہور تھا کہ یہاں عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ جو بھی یہاں رات گزارتا ہے، وہ یا تو واپس نہیں آتا یا پھر پاگل ہو جاتا ہے۔

وقاص نے کانپتی آواز میں کہا، "کیا تم لوگ واقعی اندر جانا چاہتے ہو؟ مجھے تو یہ جگہ دیکھ کر ہی خوف محسوس ہو رہا ہے۔" ندیم نے ہنستے ہوئے کہا، "ڈرپوک مت بنو، یہ سب صرف کہانیاں ہیں۔ ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔" زبیر نے بھی ہنستے ہوئے کہا، "ہاں یار، آج پتہ چل جائے گا کہ ان کہانیوں میں کتنی سچائی ہے۔"

تینوں دوستوں نے ہمت کر کے مکان کا زنگ آلود دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئے۔ اندر کا منظر انتہائی خوفناک تھا۔ پرانے فرنیچر پر گرد کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی، دیواروں پر عجیب و غریب نشانات تھے اور ہوا میں ایک عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی۔

زبیر نے ٹارچ کی روشنی آگے کرتے ہوئے کہا، "چلو آگے بڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا راز چھپا ہے۔" وہ تینوں آہستہ آہستہ مکان کے اندرونی حصے کی طرف بڑھنے لگے۔ اچانک، وقاص کو لگا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے۔ وہ فوراً پیچھے مڑا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔

وقاص نے گھبرا کر کہا، "مجھے لگتا ہے کہ ہمیں یہاں سے واپس جانا چاہیے۔" زبیر نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا، "یہ صرف تمہارا وہم ہے۔ آگے بڑھو، کچھ نہیں ہوگا۔" ندیم نے بھی وقاص کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، "تم واقعی بہت ڈرپوک ہو۔"

چلتے چلتے وہ ایک بڑے ہال میں پہنچے جہاں ایک پرانی میز کے اوپر ایک چراغ رکھا ہوا تھا۔ ندیم نے مذاق کرتے ہوئے چراغ کو اٹھایا اور کہا، "شاید یہ کوئی جادوئی چراغ ہو۔" لیکن جیسے ہی اس نے چراغ کو اٹھایا، ایک زوردار چیخ کی آواز سنائی دی اور چراغ خود بخود اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا۔

تینوں خوفزدہ ہو کر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔ زبیر نے کانپتی آواز میں کہا، "یہ آواز کہاں سے آئی تھی؟" ندیم نے بھی پریشانی کے عالم میں کہا، "مجھے نہیں معلوم، لیکن ہمیں جلدی یہاں سے نکلنا ہوگا۔"

وہ تیزی سے واپس مڑنے لگے لیکن اچانک دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ وقاص نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں کھلا۔ ندیم نے گھبرا کر کہا، "ہم پھنس گئے ہیں!" زبیر نے کہا، "پریشان مت ہو، ہمیں کوئی اور راستہ تلاش کرنا ہوگا۔"

وہ تینوں مکان کے دوسرے حصے کی طرف بڑھنے لگے۔ چلتے چلتے انہیں ایک سیڑھی نظر آئی جو تہہ خانے کی طرف جا رہی تھی۔ زبیر نے کہا، "شاید نیچے سے کوئی راستہ مل جائے۔ چلو دیکھتے ہیں۔" وقاص نے ڈرتے ہوئے کہا، "کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ اچھا خیال ہے؟" زبیر نے کہا، "ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔"

وہ تینوں سیڑھیوں سے نیچے اترے۔ تہہ خانے کا منظر اور بھی خوفناک تھا۔ دیواروں پر خون جیسے نشانات تھے اور فرش پر جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں۔ وقاص نے گھبرا کر کہا، "یہ جگہ تو واقعی خوفناک ہے۔" زبیر نے کہا، "چلو جلدی کرو، ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔"

چلتے چلتے انہیں تہہ خانے کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا دروازہ نظر آیا۔ ندیم نے کہا، "شاید یہ دروازہ باہر نکلنے کا راستہ ہو۔" زبیر نے دروازہ کھولا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ دروازے کے پیچھے ایک خفیہ کمرہ تھا جس میں قدیم کتابیں اور عجیب و غریب اشیاء رکھی ہوئی تھیں۔

ندیم نے ایک کتاب اٹھا کر دیکھی تو اس پر ایک پراسرار زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ زبیر نے کہا، "یہ کتاب شاید کسی جادوگر کی ہے۔" وقاص نے گھبرا کر کہا، "ہمیں ان چیزوں کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ چلو جلدی یہاں سے نکلتے ہیں۔"

لیکن جیسے ہی وہ دروازے سے باہر نکلنے لگے، اچانک ایک زوردار آواز آئی اور پورا تہہ خانہ لرزنے لگا۔ زبیر نے چیخ کر کہا، "بھاگو!" تینوں دوست تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ اس بار دروازہ کھل گیا اور وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔

باہر نکل کر انہوں نے سکون کا سانس لیا۔ وقاص نے کہا، "میں نے کہا تھا کہ ہمیں اندر نہیں جانا چاہیے تھا۔" ندیم نے بھی خوفزدہ لہجے میں کہا، "یہ واقعی ایک خوفناک تجربہ تھا۔" زبیر نے کہا، "ہم خوش قسمت ہیں کہ زندہ واپس آ گئے۔"

اس رات کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ دوبارہ کبھی ایسی جگہوں پر جانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ لیکن ان کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال باقی رہا کہ وہ پراسرار مکان اور اس کا تہہ خانہ کس کے زیرِ اثر تھا اور وہاں کیا راز چھپے ہوئے تھے۔

: پراسرار جن  کی خوفناک کہانی**گاؤں کے کنارے ایک گھنا جنگل تھا، جہاں دن کے وقت بھی سایوں کا راج رہتا تھا۔ مقامی لوگوں ک...
15/02/2026

: پراسرار جن کی خوفناک کہانی**
گاؤں کے کنارے ایک گھنا جنگل تھا، جہاں دن کے وقت بھی سایوں کا راج رہتا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس جنگل میں ایک پراسرار جن بابا رہتا تھا جو کئی سالوں سے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ جو بھی رات کے وقت اُس جنگل کے قریب گیا، وہ کبھی واپس نہیں آیا۔

ایک دن علی اور اس کے دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز سے پردہ اٹھائیں گے۔ علی ایک بہادر نوجوان تھا جو ہر چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے تین دوست، وقاص، زبیر، اور سلمان بھی شامل تھے۔ وہ سبھی اپنی مہم جوئی کی خواہش کے باعث جانے کے لیے بے چین تھے۔

رات کے وقت جب پورے گاؤں میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، وہ چاروں دوست ٹارچ اور چند ضروری چیزیں لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔ جنگل میں داخل ہوتے ہی سرد ہوا کے جھونکے ان کے جسموں میں سنسنی پھیلانے لگے۔ ہر طرف اندھیرا تھا اور درختوں کی سرسراہٹ خوفناک محسوس ہو رہی تھی۔

چلتے چلتے انہیں ایک پرانا درخت نظر آیا جس کے نیچے مٹی کی ایک چھوٹی سی قبر جیسی چیز بنی ہوئی تھی۔ زبیر نے تجسس کے مارے وہاں جا کر دیکھنا چاہا لیکن علی نے اسے روک دیا۔ “یہ جگہ عجیب لگ رہی ہے، یہاں کچھ گڑبڑ ہے، ہمیں احتیاط سے آگے بڑھنا چاہیے۔” علی نے دھیمی آواز میں کہا۔

وہ آگے بڑھے تو اچانک انہیں کسی کے ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز اتنی خوفناک تھی کہ سب کے دل دہل گئے۔ وقاص نے گھبرا کر پوچھا، “یہ کس کی آواز ہے؟”

“پتہ نہیں، لیکن ہمیں یہاں سے جلدی نکلنا چاہیے،” سلمان نے پریشانی سے کہا۔

ابھی وہ بات ہی کر رہے تھے کہ اچانک سامنے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ایک لمبے قد کا بوڑھا شخص تھا جس کی آنکھیں سرخ انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں اور چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ “تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟” اُس شخص نے گونجتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

علی نے ہمت جمع کر کے جواب دیا، “ہم صرف جنگل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ کیا آپ جن بابا ہیں؟”

بوڑھے شخص نے قہقہہ لگایا اور کہا، “ہاں، مجھے لوگ جن بابا کے نام سے جانتے ہیں۔ جو بھی میری اجازت کے بغیر یہاں آتا ہے، وہ بچ کر نہیں جاتا۔”

یہ سن کر زبیر کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔ علی نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اور کہا، “ہم یہاں کسی کو نقصان پہنچانے نہیں آئے، ہمیں صرف سچائی جاننی تھی۔ اگر ہم نے آپ کی جگہ میں مداخلت کی ہے تو ہمیں معاف کر دیں۔”

جن بابا نے غور سے علی کو دیکھا اور پھر کہا، “تم لوگ بہادر ہو، ورنہ کوئی عام انسان یہاں آنے کی ہمت نہیں کرتا۔ میں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں کہ اگر تم اس جنگل کے دوسرے کنارے تک پہنچ گئے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا، ورنہ تم سب ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جاؤ گے۔”

علی اور اس کے دوستوں کے لیے یہ چیلنج قبول کرنا واحد راستہ تھا۔ انہوں نے دل میں دعا کرتے ہوئے آگے بڑھنا شروع کیا۔ راستہ نہایت خطرناک اور پرپیچ تھا۔ ہر طرف اندھیرا اور پراسرار آوازیں ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔

چند قدم چلنے کے بعد انہیں ایک بڑا درخت نظر آیا جس کے نیچے ایک عجیب و غریب شکل کی مورت رکھی ہوئی تھی۔ زبیر نے خوف سے کہا، “ہم یہاں سے واپس چلتے ہیں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔”

علی نے مضبوط لہجے میں کہا، “نہیں، اگر ہم نے اب ہار مان لی تو ہم کبھی یہاں سے نہیں نکل پائیں گے۔ ہمیں حوصلہ رکھنا ہوگا۔”

وہ آگے بڑھتے گئے۔ راستے میں انہیں ایک جھیل ملی جس کا پانی سیاہ تھا اور اس سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ انہیں وہ جھیل پار کرنی تھی لیکن کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اچانک علی کو خیال آیا کہ وہ ایک درخت کی ٹہنی کا استعمال کر کے جھیل کو پار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے درخت کی ایک مضبوط ٹہنی کاٹی اور اس کے سہارے جھیل کو پار کیا۔

جب وہ جھیل کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو جن بابا دوبارہ نمودار ہوا۔ اس بار اس کے چہرے پر حیرانی تھی۔ “تم لوگوں نے میرا چیلنج پورا کر لیا، لیکن ایک آخری شرط باقی ہے۔ اگر تم اس چراغ کو جلانے میں کامیاب ہو گئے تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔”

علی نے چراغ کو دیکھا تو اس پر عجیب سے نقوش بنے ہوئے تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عام چراغ نہیں ہے۔ اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور پھر اللہ کا نام لے کر چراغ جلانے کی کوشش کی۔ جیسے ہی علی نے چراغ جلایا، ایک تیز روشنی پھیلی اور جن بابا کی شکل بدلنے لگی۔ وہ ایک بوڑھے شخص سے ایک دھوئیں کے بادل میں تبدیل ہو کر غائب ہو گیا۔

“تم نے اپنی بہادری سے خود کو بچا لیا، اب یہ جنگل تمہارے لیے محفوظ ہے،” ایک پراسرار آواز گونجی اور پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔

علی اور اس کے دوستوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور پھر تیزی سے جنگل سے باہر نکل آئے۔ گاؤں پہنچ کر انہوں نے یہ کہانی سب کو سنائی، لیکن کسی کو یقین نہیں آیا۔

تب سے وہ جنگل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا اور جن بابا کی کہانی صرف ایک افسانہ بن کر رہ گئی۔ لیکن علی اور اس کے دوست جانتے تھے کہ انہوں نے حقیقت میں ایک خوفناک تجربہ کیا تھا جو ہمیشہ ان کے دل و دماغ پر نقش رہے گا

"مجھے یہ لوگ رومیوں کے جاسوس لگتے ہیں۔"حضرت خالد بن سعید نے ساتھیوں سے کہا۔"شاید اِن لوگوں نے ابھی تک ہمیں دیکھا نہیں ور...
14/02/2026

"مجھے یہ لوگ رومیوں کے جاسوس لگتے ہیں۔"
حضرت خالد بن سعید نے ساتھیوں سے کہا۔
"شاید اِن لوگوں نے ابھی تک ہمیں دیکھا نہیں ورنہ یہاں نہ ٹھہرتے۔"

پھر آپ نے ساتھیوں سے پوچھا:
"ان تک پہنچنے کی کیا ترتیب ہونی چاہیے؟"

پھر کچھ سوچ کر خود ہی بولے:
"آپ لوگ میرے واپس آنے تک یہیں ٹھہرنا۔"

پھر آپ نے اعلان کیا:
"جو میرے ساتھ آنا چاہتا ہے وہ ایسے ہی کرے جیسے میں کرتا ہوں۔"

یہ کہہ کر آپ نے تلوار حمائل کی اور ان لوگوں کی نظروں سے بچتے ہوئے پیدل اوپر پہاڑ پر چڑھنے لگے۔ یہ دیکھ کر دس لوگ اور آپ کے ساتھ چل دیے۔

چوٹی پر پہنچ کر آپ نے دیکھا وہ ابھی تک ہماری آمد سے غافل ہیں۔ پھر اونچی آواز میں اپنے ساتھ آنے والے لوگوں سے کہا:
"پکڑ لو اِنھیں۔ خبردار کوئی بھی بھاگنے نہ پائے۔"

یہ سن کر آپ کے ساتھی ان پر جھپٹے۔ اجنبیوں میں سے ان کے مقابلے کی کوشش کرتے ہوئے دو مارے گئے اور چار گرفتار کرلیے گئے۔

آپ نے ان سے پوچھا:
تم کون ہو اور یہاں کس مقصد کے لیے چھپے ہوئے تھے؟"

وہ کہنے لگے:
"ہم تو عربوں کے خوف سے یہاں آکر چھپے تھے۔ جب سارے لوگ اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوگئے تو ہم نے اسی جگہ کو محفوظ سمجھ کر یہاں ٹھکانہ لگا دیا۔ ہم یہیں قریبی علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ اب آپ لوگوں نے ہمیں یہاں پہنچ کر گرفتار کرلیا ہے۔"

حضرت خالد بن سعید نے پوچھا:
"بتاؤ کہ رومیوں کا لشکر جو شکست کھا کر بھاگا تھا وہ کہاں تک پہنچا ہوگا اس وقت؟"

انھوں نے بتایا:
"رومی اس وقت اجنادین کے مقام پر بہت بڑا لشکر جمع کرچکے ہیں۔ جو بھاگے تھے وہ بھی اور جو نئے سپاہی آئے ہیں وہ بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان کا ایک سردار ہمارے گاؤں میں اپنے سپاہیوں کو لیکر آیا تھا، اس نے وہاں سے سارے جانور اور کھانے پینے کا سامان لوٹ مار کرکے ایک جگہ جمع کیا ہے تاکہ لشکر کی ضروریات پوری کرے۔ وہ خوف زدہ بھی لگ رہا تھا کہ کہیں عربوں کو اس کی آمد کا پتا نہ چل جائے۔"

یہ سن کر حضرت خالد بن سعید نے کہا:
"وہ مال تو ہمارے لیے مال غنیمت بنے گا ان شاء اللّٰه ۔"

پھر پوچھا:
"اچھا اب یہ بتاؤ وہ کس رستے سے جائیں گے؟"

انھوں نے بتایا:
"اسی رستے سے گزریں گے۔ کیوں کہ کشادہ راستہ یہی ہے۔ البتہ وہ جمع شدہ مال انھوں نے بنی سیف کے ٹیلے کے پاس چھپایا ہوا ہے۔"

اس کے بعد حضرت خالد بن سعید نے ان سے پوچھا:
"اسلام کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے ؟"

انھوں نے کہا:
"ہم تو صرف صلیب والے دین کو ہی جانتے ہیں اور کسی کو نہیں۔ ویسے بھی ہم زراعت پیشہ لوگ ہیں، ہمیں مار کر آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔"

حضرت خالد بن سعید کے ایک ساتھی نے کہا:
"ان کو اس شرط پر چھوڑا جائے کہ یہ ہمیں ان رومیوں تک پہنچا دیں جو سامان لوٹ کر جا رہے ہیں۔"

وہ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے۔ چنانچہ یہ پہاڑ سے نیچے اترے تو جو باقی مسلمان سپاہی آس پاس خفیہ جگہ پر چھپے تھے وہ بھی نکل آئے۔ یوں یہ سب لوگ جمع ہوکر ان چاروں کی رہنمائی میں اس ٹیلے کی طرف چلے جہاں رومیوں نے مال چھپایا ہوا تھا۔

یہ تین سو افراد پر مشتمل دستہ بڑی تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ جب قریب پہنچے تو ایک محفوظ جگہ سے یہ جائزہ لیا کہ ٹیلے کے اس پار کیا صورت حال ہے؟

ٹیلے کی دوسری جانب رومیوں کا ایک دستہ موجود تھا اور وہ لوٹ کھسوٹ کا مال بھی سامنے ہی ڈھیر کیا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جو ان کا سامان یہاں تک کھینچ کر لائے تھے اور اب وہ سواریوں پر لاد رہے تھے۔ یہ رومی اور ان کے غلام تعداد میں کم و بیش چھ سو تھے۔

حضرت خالد بن سعید نے اپنے ساتھیوں کو مختصر سا خطاب کیا جس میں ان کے جذبات کو پروان چڑھایا۔ پھر آپ نے کہا:
"اب میں حملہ کرتا ہوں۔"

یہ کہہ کر آپ تیزی سے رومیوں کے سردار کی طرف لپکے۔ کیوں کہ کسی بھی لشکر کا اگر سردار یا علمبردار مارا جائے تو باقی لشکر میدان میں بہت کم ٹھہرتا ہے۔ پھر آپ نے چونکہ اپنے بیٹے کا بدلہ بھی لینا تھا تو اس لیے اہم ٹارگٹ کو چُنا۔

جیسے ہی آپ دشمن کی طرف بڑھے، باقی مسلمان بھی نعرے بلند کرتے ہوئے آپ کے ساتھ ہو لیے۔ رومی اس حملے سے قطعاً بے خبر تھے۔ جب یوں اچانک مسلمان حملہ آوار ہوئے تو وہ بدحواس ہوگئے۔ رومی جن کسانوں اور غلاموں کو اپنے ساتھ سواریوں پر سامان لادنے کے لیے لائے تھے وہ تو صورت حال دیکھتے ہی فوراً سے پہلے تتر بتر ہوگئے۔ باقی رومی سپاہی جلدی جلدی اپنا اسلحہ سنبھال کر مقابلہ کرنے لگے۔

خالد بن سعید نے رومی افسر کے قریب پہنچ کر اسے اس زور سے ڈانٹا کہ وہ خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹا۔ آپ نے موقع ضائع نہیں کیا اور اسے ایسا نیزہ مارا کہ وہ ستون کی طرح دھڑام سے نیچے گرا اور تڑپنے لگا۔ آپ نے کہا:
"اب میں نے سعید کا بدلہ لے لیا ہے۔"

رومی کمانڈر کے گرتے ہی باقی سپاہی بھاگ کھڑے ہوئے اور میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ الحمدللہ ۔ اس لڑائی میں کم از کم ہر مسلمان سپاہی نے ایک دو رومی کو ضرور موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

جب بچے کچھے رومی سپاہی بھاگ گئے تو مسلمانوں نے مالِ غنیمت جمع کیا اور اپنے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے۔ واپسی سے پہلے حضرت خالد بن سعید نے ان چاروں نصرانیوں کو وعدے کے مطابق چھوڑ دیا تھا۔

جب آپ کا دستہ کامیاب کاروائی کے بعد مال غنیمت سمیت حضرت عمرو بن العاص ؓ کی خدمت میں پہنچا تو آپ بے حد خوش ہوئے۔ آپ نے اسی وقت دو خط لکھے۔ ان میں کاروائی کی تفصیلی روداد درج کی اور ابو عامر الدوسی کے ہاتھ ایک امین الامۃ ؓ کے پاس اور ایک خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کردیا۔

ابو عامر الدوسی جب یہ خط لیکر مدینہ منورہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے خط پڑھا تو بے حد خوش ہوئے۔ پھر وہ خط مسلمانوں کو پڑھ کر سنایا گیا۔ فتح کی روداد سن کر مدینہ منورہ مسلمانوں کے نعروں اور تکبیروں سے گونج اٹھا۔

پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کی طرف کیا صورت حال ہے ؟

ابو عامر الدوسی نے جواب دیا وہ ابھی تک شام کی سرحدوں پر خیمہ زن ہیں۔ چونکہ ہرقل نے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے اجنادین کے مقام پر بہت بڑا لشکر جمع کرلیا ہے، اس لیے مسلمان قدرے تشویش میں مبتلا دکھتے ہیں۔

آپ یہ سن کر کچھ دیر سوچ و بچار کرتے رہے۔ پھر آپ نے کچھ اہم افراد کو بلا کر مشورہ کیا۔ مشورے کے بعد آپ نے اس شخص کے نام خط لکھا جو جنگوں کے مزاج سے خوب آشنا اور رومیوں کا تسلی بخش علاج کرنا جانتا تھا۔ چونکہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ ذرا نرم طبیعت کے تھے اس لیے رومیوں کا علاج خالد بن ولید ؓ جیسا شخص ہی کرسکتا تھا۔ آپ نے فوراً ان کے نام خط لکھا کہ " میں نے تمھیں اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا ہے، لہذا جلد از جلد رومیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ملکِ شام پہنچو۔"

یہ خط نجم بن مفرح الکتانی کو دے کر عراق روانہ کیا گیا۔ کئی دن کا سفر طے کرکے جب یہ اپنی اونٹنی پر سوار حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس پہنچے تو اس وقت آپ جنگی کاروائی میں مصروف تھے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے جب خلیفہ رسول ﷺ کا حکم نامہ سنا تو جاری کاروائی میں ملنے والی واضح فتح کو مؤخر کرکے فوراً شام روانہ ہونے کی تیاری شروع کردی۔

جب آپ اپنے لشکر کو لیکر شام کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح ؓ کے نام خط لکھا کہ مجھے دربار خلافت سے یہ پیغام ملا ہے، لہذا جب تک میں نہ پہنچوں آپ اسی جگہ پر ٹھہرے رہیں۔

یہ خط ایک بہادر مسلمان سپاہی عامر بن طفیل ؓ کو دیا اور کہا کہ تیزی کے ساتھ جائیں اور یہ خط حضرت امین الامۃ تک پہنچائیں۔ چنانچہ وہ اسی وقت روانہ ہوگئے۔

آپ اپنے لشکر کو لیکر رات کے وقت عین التمر کے راستے سے شام کی طرف چلے۔ رستے میں جب آپ سماوہ نامی مقام پر پہنچے تو آپ نے لشکریوں کو مخاطب کرکے فرمایا:
"اب آگے جس علاقے میں سفر ہوگا وہاں پانی نہیں ہے۔ خصوصاً جانوروں کے لیے سخت مشکل پیش آئے گی۔ کئی دن کی مسافت ہے، آپ لوگ مجھے مشورہ دیں کہ کیا کیا جائے؟"

حضرت رافع بن عمیرہ الطائی نے کہا:
"اے امیر, اگر آپ میرے مشورے پر عمل کریں تو ان شاء اللّٰه ضرور فائدہ ہوگا۔"

آپ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے، جیسے آپ مناسب سمجھیں ایسے کریں۔"

رافع بن عمیرہ الطائی نے تیس اونٹوں کو سات دن تک پیاسا رکھا۔ جب وہ شدید پیاسے ہوگئے تو ان کو پانی پلایا۔ پھر ان سب اونٹوں کے منہ باندھ دیے اور گھوڑوں کو خالی رکھ کر سفر شروع کردیا۔

ترتیب یہ تھی کہ جب سفر کرتے کرتے کئی میل دور ایک خاص مقام پر پہنچتے تو ان تیس میں سے دس اونٹوں کو ذبح کرلیتے۔ ان کے پیٹ سے نکلنے والا پانی مشکیزوں میں بھر لیا جاتا۔ جب ٹھنڈا ہوجاتا تو پانی گھوڑوں کو پلا دیتے اور گوشت خود کھا لیتے۔ تین جگہ پر پڑاؤ کرکے یہی طریقہ اپنایا۔ یہاں تک کہ تیس کے تیس اونٹ ذبح کرلیے گئے۔

اب آگے پھر سفر شروع ہوا۔ دو منزلیں تو بغیر پانی کے طے کرلیں مگر آگے کا سفر دشوار ہوگیا۔ آپ نے رافع بن عمیرہ الطائی کو طلب کیا۔ یہ آشوب چشم میں مبتلا ہوگئے تھے۔ آپ نے ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے؟

انھوں نے کہا:
"ذرا ہمت سے کام لیا جائے۔ جب لشکر قراقر اور سویٰ نامی مقام پر پہنچ جائے تو مجھے بتا دیں۔"

چنانچہ حکم ہوا کہ کوشش کرکے ذرا تیزی دکھائی جائے اور مطلوبہ مقام تک کسی نہ کسی طرح پہنچا جائے۔

لشکر تیزی سے چلا مگر پیاس کی شدت سے جانور اور لوگ جاں بلب ہوچکے تھے۔ کچھ پیچھے رہ گئے اور کچھ مطلوبہ علاقے تک پہنچ گئے۔

وہاں پہنچنے کے بعد آپ نے رافع بن عمیرہ الطائی کو اطلاع بھجوائی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ وہ آئے اور اپنی پگڑی کے شملے سے آنکھ کھولی، پھر وہ ارد گرد مختلف جگہوں پر چکر لگانے لگے۔ کچھ لوگ ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ آخر ایک جگہ ان کو پیلو کا درخت نظر آیا۔ جیسے ہی ان کی نظر اس پر پڑی انھوں بلند آواز میں تکبیر کا نعرہ مارا۔ ان کے جواب میں مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ پھر انھوں نے کہا یہ جگہ کھودی جائے۔ چنانچہ مسلمانوں نے ہمت کرکے اس جگہ کھدائی شروع کردی۔ کچھ گہرائی کے بعد نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ نکل آیا۔ سب نے خدا کا شکر ادا کیا اور لشکر کو وہیں پر پڑاؤ ڈالنے کا حکم ہوا۔

وہاں موجود لوگوں نے خود بھی پانی پیا اور جانوروں کو بھی سیراب کیا۔ پھر مشکیزوں میں پانی بھر کر ان لوگوں کے لیے لے گئے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ جب ان کو بھی پانی میسر آیا تو انھیں قوت ملی اور ان کی جان میں جان آئی۔ پھر وہ تیزی سے آگے بڑھ کر لشکر میں شامل ہو گئے۔

یہاں کچھ آرام کے بعد لشکر نے تیزی سے کوچ کیا۔ یہاں تک کہ "ارکہ" نامی علاقے تک پہنچنے میں صرف ایک دن کی مسافت رہ گئی۔ جاتے جاتے ایک سرائے (مسافروں کے ٹھرنے کی جگہ) نظر آئی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے سوچا کہ یہاں جو بکریاں وغیرہ چر رہی ہیں تو ان کے چرواہے سے ملا جائے اور اس سے لوگوں کی معلومات لی جائیں۔ چنانچہ جب چرواہے کی تلاش میں کچھ حضرات اندر گئے تو دیکھا وہ شراب پی رہا ہے اور اس کے سامنے ایک عربی شخص بیٹھا ہے جو رسیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ جب یہ لوگ اس کے قریب پہنچے اور اس جکڑے ہوئے عربی شخص کو دیکھا تو مارے حیرت کے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔

(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی
(قسط نمبر 13)

Address

Rahim Yar
Rahimyar Khan
64100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mustafa Qazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mustafa Qazi:

Share