Story Behind the Face

Call Directions Website Contact the business

Story Behind the Face Hi Friends!!!!! ...We at Worldwide Rishta are to help you to find your better half, Hi Friends! So friends do give us a try .

We at Worldwide Rishta are to help you to find your better half, we know how important your time is and how hard it is to take out time for leisure activities and this is where can you you give us details inbox us we will Handle all the hassle of looking and entertaining and with the information you provide us we will find your match. Like and Share so others can be helped also.v visit

میرا تعلق پنجاب، پاکستان سے ہے۔ اس وقت میں ایک بہت بڑی ائیر لائن میں ملازمت کر رہی ہوں۔ میرا تعلق ایک مڈل کلاس خاندان سے...
04/06/2026

میرا تعلق پنجاب، پاکستان سے ہے۔ اس وقت میں ایک بہت بڑی ائیر لائن میں ملازمت کر رہی ہوں۔ میرا تعلق ایک مڈل کلاس خاندان سے تھا۔ والد صاحب کا جوتوں کا اسٹور تھا، اور میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ مجھے گھر کے حالات بدلنے تھے۔
گریجویشن کے بعد ایک عزیز نے بتایا کہ ائیر ہوسٹس کی کچھ سیٹس ہیں، اگر تم جوائن کرنا چاہو۔ میں نے ہاں کہہ دی، گھر والوں نے بھی اجازت دے دی۔
ابتدا ہی میں ایک کریو ممبر کو مجھ سے محبت ہو گئی۔ اس نے کہا کہ وہ شادی کرنا چاہتا ہے، مگر ابھی وقت لگے گا۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے لگے۔ اس وقت مجھ میں اتنی عقل نہیں تھی کہ فرق سمجھ پاتی۔ ہم جہاں جاتے، اکٹھے ہوتے، ساتھ رہتے، گھومتے پھرتے۔
وقت کے ساتھ مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ میرے ساتھ صرف وقت گزار رہا ہے۔ میں پیچھے ہٹنا چاہتی تھی۔ والدین نے میرے لیے رشتے دیکھنے شروع کیے، مگر کوئی بھی پڑھا لکھا، اچھا لڑکا ائیر ہوسٹس سے شادی کے لیے تیار نہیں تھا۔
مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میں ائیر ہوسٹس نہیں بلکہ طوائف بن گئی ہوں۔ لوگ مجھے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔ کچھ لوگ فلائٹ میں ٹپ کے ساتھ اپنا نمبر دے دیتے اور کہتے رابطہ کرو۔ تجسس میں آ کر رابطہ ہوتا بھی تو سامنے صرف حیوانیت نظر آتی۔ روح کا ساتھی کہیں نہیں ملتا تھا۔ دل مسلسل پریشان رہتا۔
اللہ نے عمرے کی سعادت عطا کی تو میں نے سب کچھ اس کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد جو بھی یقین دلاتا، وہ جھوٹ لگتا۔ جن مردوں سے بات ہوئی، وہ مجھے جاننے کے بجائے میرے جسم کو جاننے کی کوشش کرتے رہے۔
میں نے بہن بھائیوں کی شادیاں عزت سے کر دیں اور اپنی شادی کی فکر چھوڑ دی۔ پھر ایک شادی شدہ مرد کو چنا، صرف اس امید پر کہ شاید وہ مجھے عزت دے سکے۔ اس نے نکاح کیا، چھ ماہ ساتھ گزارے۔ جب میں نے بچے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے طلاق دے دی۔
اس کے بعد مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وقت کیسے گزاروں۔ کچھ عرصہ چھٹی لی، اپنی روح کو جھنجھوڑا۔ والدہ روز پوچھتیں، جاب کب شروع کرو گی؟ گھر سے دل برداشتہ ہو کر دوبارہ کام شروع کر دیا۔
وقت گزرتا گیا، جیسے مجھے نوچتا رہا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وقت مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ میں نے کبھی کوٹھیوں اور گاڑیوں کا خواب نہیں دیکھا تھا، بس ایک صاف ستھری، باعزت زندگی چاہتی تھی۔
میں نے پوری دنیا دیکھی، کئی ممالک کے ویزے ملے، سینکڑوں بار وقت گزاری کی آفرز ہوئیں۔ مگر ائیر ہوسٹس کی نوکری میرا شوق نہیں، میری مجبوری تھی۔ اس کے سوا میں کچھ اور کر بھی نہیں سکتی تھی۔
مکہ میں موجود ایک پاکستانی بزنس مین نے مجھے نکاح کی پیشکش کی۔ میں نے سوچا، مکہ میں رہتا ہے، اللہ کا بندہ ہوگا، اللہ سے ڈرتا ہوگا۔ وہ روز منتیں کرتا، روز ہاں کے لیے اکساتا رہا۔ آخرکار میں مان گئی۔
ہم ملے، لنچ کیا، اور اس نے شادی کا فیصلہ سنا دیا۔ پھر وہ مجھے اپنے فلیٹ پر لے گیا۔ میں پہلے ہی اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ اس کی باتوں میں آ گئی، اور اس نے مکہ کی حرمت کا بھی خیال نہ رکھا، نکاح کے نام پر۔
بعد میں میں نے کہا کہ ابھی نکاح کر لیتے ہیں۔ اس نے کہا، کر لیں گے۔ اور پھر اس نے مجھے بلاک کر دیا۔
مجھے نہیں معلوم کہ میں کس جرم کی سزا بھگت رہی ہوں۔ میں نے ہمیشہ شادی چاہی، بچے چاہے، اپنی ایک فیملی کا خواب دیکھا۔
اس کے بعد مجھ میں ہمت نہیں رہی کہ کوئی اور مجھے دوبارہ ڈسے۔
ہمارا معاشرہ عورت کو برا بنا دیتا ہے۔ عورت بدکار کہلاتی ہے، مگر یہ کیوں نہیں مانتا کہ بدکاری کرنے والا ایک مرد بھی ہوتا ہے؟
میں نے بہت عمرے کیے، توبہ کی، نفلی عبادتیں کیں، مگر آج یوں لگتا ہے جیسے ہم سب آزمائش میں ہیں۔
میرے پاس مرد کی حیوانیت کے لیے اب الفاظ نہیں بچے۔ بس اتنا کہوں گی:
کسی بے بس کے ساتھ کھیل کر وقتی لذت حاصل کرنے والے یہ بات یاد رکھیں—یہ ایک ایسی قیمت ہے جو ضرور ادا کرنی پڑتی ہے۔
عورت نکاح چاہتی ہے، مگر مرد اکثر کسی ایک عورت کا ساتھ نہیں دے پاتا۔ اسے ہر روز نئی عورت چاہیے ہوتی ہے۔

نوٹ ۔سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن میجورٹی ایسے ہی مردوں سے بھری ہوئی ہے ۔
ہمارا مقصد عورت اور مرد کو برا بنانا نہیں معاشرے کی اصلاح ہے ۔اللہ پاک ہر بیٹی کو محفوظ رکھے ۔
رشتے کے لیے رابطہ نا کریں ۔

قانتا سندس














لوگ صرف خوش رہنے کو محبت سمجھتے ہیں ۔
25/05/2026

لوگ صرف خوش رہنے کو محبت سمجھتے ہیں ۔

پسند کی شادی جب تک جرم سمجھیجائیگی تب تک  بچے بھاگ کر شادیاں کرتے رہیں گے ۔پسند کی شادی کے بعد  ملتا ن کچہری کے باہر اس ...
21/05/2026

پسند کی شادی جب تک جرم سمجھی
جائیگی تب تک بچے بھاگ کر شادیاں کرتے رہیں گے ۔
پسند کی شادی کے بعد ملتا ن کچہری کے باہر اس جوڑے کو پولیس والوں کی موجودگی میں گھسیٹا جارہا ہے
اور یہ اپنی عزتیں خود گلیوں میں رولتے ہیں ان کی عزت کوئی نہیں رولتا۔

میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور اس وقت  کینیڈا میں رہتی ہوں۔ میں ایک خوشحال زمیندار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، مگر میری ...
19/05/2026

میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور اس وقت کینیڈا میں رہتی ہوں۔ میں ایک خوشحال زمیندار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، مگر میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ میرے والدین بچپن ہی میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میرے چچا اور چچی نے مجھے اپنی اولاد کی طرح پالا، میری تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی، مگر کم عمری میں میں دوسروں کی باتوں میں آتی رہی۔

جب بھی چچا یا چچی مجھے ڈانٹتے، کچھ لوگ میرے کان بھرتے کہ "تم یتیم ہو، تم پر ظلم ہو رہا ہے۔" رفتہ رفتہ میرے دل میں یہ احساس بیٹھ گیا کہ شاید میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ کالج مکمل کرتے ہی میں نے ضد کی کہ مجھے کینیڈا جانا ہے۔ میرے چچا اس فیصلے سے خوش نہیں تھے، مگر میری ضد اور جذباتی دباؤ کے آگے انہوں نے ہامی بھر لی۔

کینیڈا آ کر زندگی نے بہت کچھ سکھایا۔ کچھ اچھے لوگ ملے، کچھ ایسے بھی جنہوں نے میری تنہائی اور بے سہارگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ایک شخص نے محبت کے بڑے دعوے کیے، مگر جب اپنی والدہ سے ملوایا تو انہوں نے کہا:
"میں نے اپنے گھر میں یتیم خانہ نہیں کھولا۔"

یہ جملہ میرے دل پر گہرے زخم کی طرح ثبت ہو گیا۔

بعد میں ایک اور اچھا رشتہ ملا۔ شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، مگر ایک دن اس نے غصے میں کہا:
"یہاں اپنا کمانا پڑتا ہے، کسی کا باپ یہاں کچھ چھوڑ کر نہیں گیا۔"

یہ سن کر میں نے فوراً اس رشتے سے انکار کر دیا۔

اگرچہ مجھے کینیڈا میں اچھی ملازمت مل گئی تھی، لیکن والدین کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میں اچھی آمدنی کے باوجود اپنے چچا سے ہر ماہ مالی مدد وصول کرتی رہی، مگر ان سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔

پھر آیا۔ نانی جان کی طبیعت خراب ہوئی تو میں پاکستان گئی۔ بہت عرصے بعد چچا سے ملاقات ہوئی۔ ان کے چہرے میں مجھے اپنے والد کی جھلک نظر آ رہی تھی۔

ایک دن چچا مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ شہر کے ایک خوبصورت علاقے میں ایک گھر کے سامنے گاڑی روکی۔ دروازے پر میرے والد کا نام لکھا ہوا تھا۔

چچا نے کہا:
"بیٹا، یہ گھر تمہارا ہے۔ جائیداد میں تمہارا جو حصہ بنتا تھا، میں نے اس سے تمہارے لیے یہ گھر بنوایا ہے تاکہ تم اپنی نئی زندگی خوشی سے گزار سکو۔"

میرے قدم لڑکھڑا گئے، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔

گھر واپس آئے تو چچی نے میری والدہ کے تمام زیورات میرے حوالے کر دیے۔ بعد میں اس گھر کی رجسٹری بھی میرے نام کروا دی گئی۔ وہ خود اپنے پرانے گھر میں رہتے رہے، مگر میرے لیے ہر ممکن آسائش فراہم کر دی۔

اس دن مجھے احساس ہوا کہ دنیا کی باتیں ہمیشہ سچ نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات جنہیں ہم اپنا دشمن سمجھتے ہیں، وہی حقیقت میں ہماری زندگی کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں۔

میں واپس کینیڈا آ گئی، مگر اب روزانہ اپنے چچا سے بات کرتی ہوں۔ آج میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں:

"پیدا کرنے والے سے زیادہ پالنے والا عظیم ہو سکتا ہے۔"

میرے چچا اور چچی نے مجھے محبت، تحفظ، تعلیم اور شناخت دی۔ اگر انہوں نے کبھی ڈانٹا بھی، تو وہ میری بھلائی کے لیے تھا۔

میں ان تمام بچوں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں جو والدین کی محبت سے محروم ہیں:

اگر کوئی شخص آپ کی پرورش کر رہا ہے، آپ کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہا ہے، تو اس کی ڈانٹ کو ظلم نہ سمجھیں۔ دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے محسنوں سے دور نہ ہوں۔

والدین نہ ہوں تو خاندان ہی انسان کی پہچان ہوتا ہے۔

اور اگر ہم خود کو مکمل طور پر آزاد اور بے نیاز سمجھنے لگیں، تو اس آزادی کی قیمت بھی ہمیں خود ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔

قانتا سندس

💔 "یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ حدیقہ 53 سال کی بوڑھی خاتون ہیں"سوال یہ ہے کہ آخر کس عمر کے بعد ایک عورت محبت ❤️، تعلق 🤝 ی...
18/05/2026

💔 "یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ حدیقہ 53 سال کی بوڑھی خاتون ہیں"
سوال یہ ہے کہ آخر کس عمر کے بعد ایک عورت محبت ❤️، تعلق 🤝 یا پسند کیے جانے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے؟
اور یہ قانون صرف عورت پر ہی کیوں لاگو ہوتا ہے؟ 🤔
ہمارے ہاں 60 سالہ مرد اگر 20 سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرے تو کہا جاتا ہے کہ "دل جوان ہے" 😌✨
لیکن 50 سالہ خاتون کا ذکر آتے ہی "بوڑھی خاتون" 👵 اور جھریوں پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔۔۔
ایک سوشل میڈیائی دانشگرد کی تحریر پڑھی 📱
وہ گلوکارہ و سماجی کارکن Hadiqa Kiani پر نہایت منفی تبصرہ کر رہے تھے۔
تبصرہ اتنا واہیات تھا کہ ہر جملہ پڑھنے کے بعد دانشگرد صاحب کی ذہنیت پر ماتم کرنے کا دل کر رہا تھا 😔
اصل مسئلہ ہماری سوچ کا ہے 🧠
ہم اب بھی عورت کو پروجیکٹ سمجھتے ہیں۔
پہلے اس کی عمر ناپتے ہیں ⏳، پھر چہرہ 👀، پھر جلد، پھر جسم۔۔۔
پھر "پیکنگ کھولنے" جیسے فقرے مار کر اسے ایک چیز میں بدل دیتے ہیں 📦💔
اس تحریر پر غور کیا تو پوری تحریر میں عورت کہیں نہیں ملی۔۔۔
یعنی ان جیسوں کے لیے صرف عورت کا جسم ہے، اس کی جھریاں ہیں، اس کی عمر ہے۔۔۔
اس کی "مارکیٹ ویلیو" ہے 💸
صاحب اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ سائنس نے ایسا دارو بنا لیا ہے جس سے عورت جوان لگتی ہے 🧴✨
کیا ہی دوہرا معیار ہے ہمارا۔۔۔
یعنی عورت اگر خود کو سنوارے تو وہ بھی جرم ❌
اور اگر بڑھاپا نظر آئے تو مذاق 😒
گویا عورت ہر صورت میں کٹہرے میں ہی کھڑی رہے گی ⚖️
اور اس تحریر کا سب سے گھٹیا جملہ ملاحظہ کیجیے 👇
"پیکنگ کھولئے گا تو جھریوں کے سوا کچھ نہ پائیے گا" 😑
کیا عجیب ذہنیت ہے!!!
پوری چلتی پھرتی، کام کرتی شخصیت کے لیے "پیکنگ" کا لفظ استعمال کیا 📦
اس کے تجربات 📖، دکھ 💔، کامیابیاں 🏆، ذہانت 🧠، فن 🎨، محبت ❤️ — سب غائب۔۔۔
صرف جلد باقی رہ گئی۔
عجیب بات یہ ہے کہ یہی لوگ ماں کے چہرے کی جھریوں کو محبت اور قربانی سمجھتے ہیں 🤱❤️
لیکن بیک وقت انہیں دوسری عورتوں کی "پیکنگ کھولنی" ہوتی ہے 😶
دانشگرد صاحب فرماتے ہیں کہ "ایسی عورت رومانس کے نام پر رونا دھونا کرتی ہے" 😒
سوچیے۔۔۔
ہمیں صرف وہ عورت پسند ہے جو ہر وقت ہنسے 😊، شوخ ہو 💃، دل بہلائے۔۔۔
وہ عورت کسی صورت پسند نہیں جو زندگی کے دکھ 😔، تنہائی 🌙، صدمے 💔 یا تجربات کے ساتھ آئے۔
تفریح ہی تو چاہیے۔۔۔ 🎭
دراصل ہم عورت کو انسان ماننے پر تیار ہی نہیں ہیں 🚫
ہمیں وہ ہر صورت میں خوبصورت چاہیے 🌸
جوان چاہیے ✨
ہنس مکھ چاہیے 😊
جسمانی طور پر پرفیکٹ چاہیے 💯
اور اگر اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نمایاں ہوں تو ہم اسے ناکارہ سمجھ لیتے ہیں 💔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کے بارے میں گفتگو چہرے سے شروع ہو کر جسم پر ختم ہوجاتی ہے۔۔۔
ہم "عورت" لفظ سنتے ہی اس کا جسم اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں 😶
اور پھر موصوف کی جانب سے مذہب کو درمیان میں لایا گیا 📖
کہ قرآن نے اس عمر کی عورت کے لیے حجاب میں نرمی دی ہے، اس لیے اب وہ "گیسٹ ہاؤس" نہیں بلکہ "چائے خانے" ☕ کے قابل رہ گئی ہے۔
یہ وہی ملائیت زدہ ذہنیت ہے جو مذہب کو اخلاق ✨ اور وقار 👑 کی بجائے عورت کی جسمانی حیثیت ناپنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
حالانکہ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ عمر کے ایک حصے کے بعد عورت کی سماجی، جذباتی یا انسانی حیثیت ختم ہو جاتی ہے ❌
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو ہر وقت مرد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے 👁️
اگر وہ sexually desirable نہیں رہی تو گویا اس کی اہمیت کم ہوگئی 😔
یہی سوچ خطرناک ہے ⚠️
اور ایسی سوچ والے پتھر اٹھائیں تو ہزار مل جائیں گے۔۔۔ 🪨
✍️ ادیب یوسفزئی

باپ نے جب پگڑی اپنے قدموں میں رکھ دی… تو بیٹی کی آنکھوں میں سب کچھ واضح ہو گیا یہ واپسی زندگی کی نہیں، موت کی دہلیز تھی ...
15/05/2026

باپ نے جب پگڑی اپنے قدموں میں رکھ دی… تو بیٹی کی آنکھوں میں سب کچھ واضح ہو گیا یہ واپسی زندگی کی نہیں، موت کی دہلیز تھی 😓

وہ لڑکی جو گولیوں کی بوچھاڑ سے بچ کر، کانٹوں میں الجھ کر، اپنے جسم کو زخمی کر کے تھانے تک پہنچی تھی… صرف اس لیے کہ باپ کی عزت پر کوئی آنچ نہ آئے… وہی بیٹی پھر اسی عزت کے نام پر قربان کر دی گئی۔

چہرے پر ایک عجیب ٹھہراؤ تھا، جیسے سب کچھ جانتی ہو۔ اپنے زخمی بازو اور لہو سے تر ٹانگیں دکھا کر دھیمی آواز میں بولی:
"سانس تو سب کو عزیز ہوتی ہے نا… گولیاں چلیں تو بھاگ آئی… اب دارالامان میں ہوں"

مگر عدالت میں ایک لمحہ ایسا آیا، جہاں انصاف بھی خاموش ہو گیا… اور رشتے بھی۔
باپ نے چالاکی سے پگڑی زمین پر رکھ دی—ایک ایسا بوجھ جو بیٹی کے دل پر پہاڑ بن کر گرا۔

وہ جو موت سے لڑ کر آئی تھی… ایک دم ٹوٹ گئی۔
آنکھیں بند کیں، اور باپ کے ساتھ چل پڑی۔

لبوں پر آخری سچ تھا:
"مجھے معلوم ہے وہ مجھے مار دیں گے… مگر میں اپنے باپ کی عزت بچانے جا رہی ہوں"

اور پھر وہی ہوا جس کا خوف تھا…
باپ نے دشمنوں سے ہاتھ ملا لیا۔
جو بیٹی گولیوں سے بچ نکلی تھی… وہ اپنے ہی باپ کے ہاتھوں مٹا دی گئی۔

وہ باپ کے دکھ کو کم کرنے نکلی تھی… اور خود ہمیشہ کے لیے درد بن گئی۔
مگر افسوس… باپ کو نہ احساس ہوا، نہ پچھتاوا 😭

آخر کب تک یہ جھوٹی "غیرت" بیٹیوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھاتی رہے گی؟
کب تک محبت کے رشتے، رسم و رواج کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے؟

اب بھی اگر ہم خاموش رہے… تو یہ خاموشی بھی ایک دن ہمارے دامن پر خون کے دھبے بن کر ابھرے گی۔
آواز اٹھاؤ… کیونکہ اب خاموش رہنا صرف کمزوری نہیں، جرم ہے۔

یہ ایک  درد سے بھری ملاقات تھی۔ ایک 45 سالہ خاتون، نہایت خوبصورت، باوقار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ—دیکھنے میں آج بھی کسی ہائ...
14/05/2026

یہ ایک درد سے بھری ملاقات تھی۔ ایک 45 سالہ خاتون، نہایت خوبصورت، باوقار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ—دیکھنے میں آج بھی کسی ہائی پروفائل شخصیت کا تاثر دیتی تھیں۔ ان کی اپائنٹمنٹ پہلے سے بک تھی۔

انہوں نے خود کال کر کے کہا کہ وہ آفس نہیں آ سکتیں، بہتر ہے کہیں باہر ملاقات کر لی جائے۔ ہم قریبی ایک کیفے، گلوریا جینز، میں ملے۔ ملاقات کا آغاز ہلکی گفتگو سے ہوا، مگر ان کے لہجے میں ایک عجیب سی گہرائی اور ٹھہراؤ تھا۔

باتوں باتوں میں انہوں نے کہا،
“میں ایک بہت اچھے اور باعزت خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔”

پھر میں نے ان کی عمر کا اندازہ لگایا تو وہ مسکرا دیں، جیسے یہ سوال ان کے لیے معمول بن چکا ہو۔ کہنے لگیں،
“عمر ہی تو اصل مسئلہ ہے… آپ بتائیں میں کتنی لگتی ہوں؟”

میں نے اندازہ لگایا 30 سے 35 کے درمیان، تو وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں،
“میں 45 سال کی ہو چکی ہوں۔”

پھر انہوں نے اپنی زندگی کھول کر رکھ دی۔

وہ بتانے لگیں کہ وہ اپنے زمانے کی گولڈ میڈلسٹ رہی ہیں، ایک زمانے میں حسن اور ذہانت دونوں کی مثال سمجھی جاتی تھیں۔ اکلوتی بیٹی تھیں، ناز و نعم میں پلی بڑھیں۔ رشتے بہت آئے، مگر وہ ہمیشہ یہ سوچ کر انکار کرتی رہیں کہ “کیا یہ شخص مجھے خوش رکھ سکے گا؟ کیا میرے بچے اچھے ہوں گے؟”

وہ ہمیشہ پرفیکشن کی تلاش میں رہیں… اور وقت آہستہ آہستہ گزر گیا۔

انہوں نے بھری ہوئی آواز میں کہا،
“میں نے ہمیشہ خوبصورتی کو پوجا، مگر وقت نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔”

آج ان کا اسٹیٹس بھی تھا، گھر بھی تھے، تعلیم بھی تھی… مگر زندگی میں وہ اپنا نہیں تھا جو ساتھ بیٹھ سکے، بات کر سکے، اور سہارا بن سکے۔ والد کا انتقال ہو چکا تھا، بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب ان کے جسم میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور وہ خود کو ایک ایسے موڑ پر کھڑا محسوس کرتی ہیں جہاں سب کچھ ہونے کے باوجود اندر سے خالی پن ہے۔

میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ زندگی اب بھی ختم نہیں ہوئی، نئے دروازے اب بھی کھل سکتے ہیں، اور اچھے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ میں نے انہیں مختلف پروفائلز دکھائے، مگر وہ خاموش رہیں اور بولیں،
“میں ابھی کچھ نہیں دیکھنا چاہتی… میں صرف یہ بتانے آئی ہوں کہ آپ لوگوں کو پیغام دیں کہ صرف خوبصورتی اور اسٹیٹس کافی نہیں ہوتے، ایک ساتھی ضروری ہے۔”

انہوں نے کہا،
“اگر زندگی میں ساتھ دینے والا نہ ہو تو سب کچھ بے معنی لگنے لگتا ہے۔ آج میں جس مقام پر کھڑی ہوں، وہاں صرف تنہائی ہے۔”

پھر انہوں نے ایک گہری سانس لی اور ایک آخری جملہ کہا جو دل میں اتر گیا:
“میں نے خوبصورتی کے پیچھے اپنی زندگی گزار دی… اور آج کہہ سکتی ہوں کہ وہ سب کچھ ضائع سا لگتا ہے۔”

پھر انہوں نے کچھ دوائیں اپنے بیگ سے نکالیں، خاموشی سے لیں، اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات ختم کی جیسے وہ اپنی کہی ہوئی حقیقت کو خود بھی قبول کر چکی ہوں۔

ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اجازت لی، اور وہ چلی گئیں۔

وہ ملاقات واقعی عام نہیں تھی—اس میں درد بھی تھا، سوچ بھی تھی، اور ایک خاموش سا سبق بھی۔

میں ساری رات یہی سوچتی رہی کہ شاید زندگی میں سب سے بڑی کامیابی وہ نہیں ہوتی جو دکھائی دیتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو انسان کو اندر سے مکمل کر دے۔
قانتا سندس

میری عمر 26 سال ہے۔ دو سال پہلے میری شادی ہوئی تھی اور اللہ کے فضل سے میری ایک 14 ماہ کی بیٹی ہے۔ شادی کے شروع ہی سے مسا...
14/05/2026

میری عمر 26 سال ہے۔ دو سال پہلے میری شادی ہوئی تھی اور اللہ کے فضل سے میری ایک 14 ماہ کی بیٹی ہے۔ شادی کے شروع ہی سے مسائل شروع ہو گئے تھے۔ میری اہلیہ اکثر ہر ہفتے دو یا تین دن میرے پاس رہتی تھیں اور باقی دن اپنی والدہ کے گھر گزارتی تھیں۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں وہ میرے کچھ اہم دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔

میں زیرِ تعلیم تھا اور جو کچھ کماتا تھا، اپنی اہلیہ کے حوالے کر دیتا تھا۔ روزانہ میرے پاس جتنے بھی پیسے ہوتے، چاہے ایک ہزار ہوں، دو ہزار ہوں یا پانچ سو، میں ان پر خرچ کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنی والدہ کے گھر جا کر کہتی تھیں کہ میں ان کا خیال نہیں رکھتا اور خرچہ نہیں دیتا۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو کر وہ اپنے میکے چلی جاتیں۔ ہر بار، چاہے غلطی میری نہ بھی ہوتی، میں خود جا کر انہیں مناتا، معافی مانگتا اور واپس لے آتا۔ میری والدہ، والد اور بڑے بھائی بھی کئی مرتبہ صلح کی کوشش کے لیے گئے۔ میں نے اپنی بیٹی کی خاطر ہر ممکن کوشش کی تاکہ میرا گھر آباد رہے۔

میری اہلیہ شام کے وقت ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ جب ہماری بیٹی چھوٹی تھی اور صرف ماں کا دودھ پیتی تھی، میں نے صرف اتنا کہا کہ اگر ممکن ہو تو کچھ عرصے کے لیے ٹیوشن چھوڑ دیں تاکہ بچی کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے۔ لیکن اس بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ میں عورتوں کو کام کرنے سے روکتا ہوں۔

میں ہمیشہ چاہتا تھا کہ میری اہلیہ خوش رہیں، اچھی طرح تیار ہوں اور خود کو خوش محسوس کریں۔ لیکن میری بہت سی باتوں کو الٹا مطلب دے کر بیان کیا جاتا رہا۔ رفتہ رفتہ میری ساس کو میرے خلاف کر دیا گیا اور میری بات سننے والا کوئی نہ رہا۔

آخرکار میری اہلیہ ہمیشہ کے لیے میکے چلی گئیں۔ میں کئی مرتبہ ان کے گھر گیا، منت سماجت کی، بڑوں کو ساتھ لے کر گیا، حتیٰ کہ ان کے خاندان کے افراد سے بھی درخواست کی کہ صرف میری بیٹی کی خاطر یہ رشتہ بچا لیا جائے۔ لیکن ہر بار یہی کہا گیا کہ سارا قصور میرا ہے اور اب وہ کسی صورت اپنی بیٹی کو واپس نہیں بھیجیں گے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ میری اہلیہ مجھ سے بات نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ اب ملاقات عدالت میں ہوگی۔ یہ بات میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اپنی بیٹی کی ہے۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ میری بیٹی ماں اور باپ دونوں کی محبت اور تحفظ میں پروان چڑھے۔

میں نے اپنی طرف سے گھر بچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اب میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میری بیٹی کے لیے بہترین فیصلہ فرمائے، ہمارے دلوں میں نرمی پیدا کرے اور انصاف کے ساتھ آسانی عطا کرے۔
میں اپنی بچی چھوڑنا نہیں چاہتا اور گھر بسانا چاہتا ہوں مجھے آپ لوگوں کے مشورے کی ضرورت میں ہر پل ڈپریشن میں رہنا شروع ہوگیا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے

ایک عورت نے بات کی ہے میری پانچ نندیں ہیں اور ان کے 4,4بچے میری میاں 1500روز کا کماتے ہیں مگر گرمیوں کی چھٹیوں میں  نندی...
12/05/2026

ایک عورت نے بات کی ہے میری پانچ نندیں ہیں اور ان کے 4,4بچے میری میاں 1500روز کا کماتے ہیں مگر گرمیوں کی چھٹیوں میں نندیں 3،3مہینے رہ کر جاتی ہیں اور میرے شوہر نا چاہتے ہوئے بھی قرضہ لیتے ہیں شادی شدہ بیٹیوں کو مہنگائی کے اس دور میں اپنے والدین اور بھائیوں پر رحم کرنا چاہیے

دوبئ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ لڑکے اور  فارماسسٹ لڑکی کا نکاح کروایا  آپ یقین کریں  کے مسجد میں نکاح اور ایک مختصر ولیمہ ہوا ...
11/05/2026

دوبئ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ لڑکے اور فارماسسٹ لڑکی کا نکاح کروایا آپ یقین کریں کے مسجد میں نکاح اور ایک مختصر ولیمہ ہوا نا لڑکے والوں نے بڑی گولڈ نا مہنگے تحائف دے نالڑکی کی طرف سے جہیز لیا گیا نکاح کا جوڑا بھی لڑکے نے خریدا ۔دونوں نے کہاں کے ہم شادی دین کے لیے کر رہے ہیں نا کے دنیا کے لیے ۔اگر ایسے 100جوڑے یہ ٹرینڈ سیٹ کردیں تو شادیاں آسان ہو سکتی ہیں ۔

Address

River View 114 A Near Abdul-sattar Edhi Road
Lahore
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Story Behind the Face posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Story Behind the Face:

Shortcuts

Share