Story Behind the Face

Story Behind the Face Hi Friends!!!!! ...We at Worldwide Rishta are to help you to find your better half, Hi Friends! So friends do give us a try .

We at Worldwide Rishta are to help you to find your better half, we know how important your time is and how hard it is to take out time for leisure activities and this is where can you you give us details inbox us we will Handle all the hassle of looking and entertaining and with the information you provide us we will find your match. Like and Share so others can be helped also.v visit

میرے پاس اکثر لڑکیاں آتی ہیں تو وہ یہی کہتی ہیں  ہم  دنیا کے مہنگے برینڈز پہننے والی لڑکیاں ہیںاگر کوئی بندہ ہمارے اخراج...
18/03/2026

میرے پاس اکثر لڑکیاں آتی ہیں تو وہ یہی کہتی ہیں ہم دنیا کے مہنگے برینڈز پہننے والی لڑکیاں ہیں
اگر کوئی بندہ ہمارے اخراجات پورے نہیں کر سکتا تو شادی کیوں کرے

حال ہی میں ایک لڑکی کی خلع کی وجہ پتہ چلی تو اس کا کہنا تھا شوہر بلکل بھی رومینںٹک نہیں ہے۔
اس نے کبھی برتھ ڈے وش نہیں کی اور نا کبھی کوئی گفٹ دیا جس وجہ سے لڑکی نے خلع لے لی۔
لڑکیوں کو یہاں سمجھنے کی ضرورت ہے سب کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔اور شادی شدہ لائف میں بہت اتار چڑھاؤ آتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھوتا کریں۔

دوبئ  میں جاب کرنے والی ہر دسویں لڑکی دوسری شادی میں انٹرسٹڈ بہت سی لڑکیوں اور عورتوں کا کہنا انہی  اچھا لائف اسٹائل چاہ...
18/03/2026

دوبئ میں جاب کرنے والی ہر دسویں لڑکی دوسری شادی میں انٹرسٹڈ بہت سی لڑکیوں اور عورتوں کا کہنا انہی اچھا لائف اسٹائل چاہیے اگر وہ مردوں کے ساتھ سارا سارا دن جابز کر سکتی ہیں تو ایسے مردوں کی دوسری بیویاں کیوں نہیں بن سکتی آج میری میٹنگ دوبئی سے آنے والی دو خواتین کے ساتھ تھی دونوں سے بات کرکے یہی محسوس ہوا کے عورتیں جابز کر کے تھک جاتیں اور پھر وہ اپنی عیش کی زندگی جینے کے کے لیے امیر مردوں کا انتخاب کرتی ہیں







کل آٹھ سال بعد میری ایک پرانی دوست سے ملاقات ہوئی۔ وہ دبئی میں جاب کر رہی تھی اور زندگی کی مصروفیات میں گم تھی۔ پاکستان ...
17/03/2026

کل آٹھ سال بعد میری ایک پرانی دوست سے ملاقات ہوئی۔ وہ دبئی میں جاب کر رہی تھی اور زندگی کی مصروفیات میں گم تھی۔ پاکستان آئی تو اس نے کہا:
"سندس، میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔"
میں نے کہا، جب چاہو آ جاؤ۔
جب وہ ملی تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ایک وقت کی ماڈرن، فیشن ڈیزائنر لڑکی… آج خود کو حجاب میں ڈھال چکی تھی۔
اس نے بتایا کہ زندگی نے اسے بہت کچھ دکھایا۔ فیشن انڈسٹری سے لے کر رئیل اسٹیٹ تک، جہاں بھی گئی، اکثر لوگوں کا مقصد صرف فائدہ اٹھانا تھا۔
دس سال اس نے ایسے مردوں کے دھوکوں میں گزارے، جو شادی کا وعدہ کرتے مگر مقصد صرف اس کے جذبات اور جسم سے کھیلنا ہوتا۔
ایک شخص تو اپنی بہن کو ساتھ لا کر اس کے گھر گیا، فیملی سے ملا، اعتماد جیتا…
اور جب یقین ہو گیا تو کہنے لگا:
"شادی سے پہلے ہمیں فزیکل ہونا ضروری ہے، تاکہ پتہ چل سکے ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہ سکتے ہیں یا نہیں۔"
اس نے فوراً اسے بلاک کر دیا۔
اس کے بعد جتنے رشتے آئے، سب کی نیت تقریباً ایک جیسی تھی۔
وہ تھک گئی… رشتے دیکھنا چھوڑ دیے… دو سال ڈپریشن میں گزر گئے۔
عمرہ کیا، دین کو سمجھنے کی کوشش کی، حجاب اختیار کیا… مگر یہاں بھی آزمائشیں ختم نہ ہوئیں۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ رشتوں کو اس کا حجاب پسند نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا… وہ آج 39 سال کی ہو چکی ہے۔
اس نے روتے ہوئے کہا:
"میں صرف ایک جیون ساتھی چاہتی ہوں… کوئی ایسا جو مجھے عمر کا طعنہ نہ دے… مجھے ادھورا نہ چھوڑے… مجھے یہ احساس دلائے کہ میری بھی کوئی قدر ہے۔"
ایک شخص نے تو یہ تک کہا:
"میں تم سے نکاح کر سکتا ہوں، لیکن خفیہ۔ کوئی ذمہ داری نہیں اٹھاؤں گا۔ جب مناسب سمجھوں گا تب اپنی فیملی سے ملواؤں گا۔"
وہ اس رات ٹوٹ گئی…
روتے روتے صبح ہو گئی۔
کل جب وہ میرے سامنے بیٹھی تھی، وہ بار بار ایک ہی بات کہہ رہی تھی:
"کیا تم میرے لیے کوئی اچھا انسان ڈھونڈ سکتی ہو؟ جو مجھے استعمال نہ کرے؟"
یہ صرف میری دوست کی کہانی نہیں…
یہ ہمارے معاشرے کی بے شمار لیٹ میرج بیٹیوں کی کہانی ہے۔
خدارا، کسی کے دل کے ساتھ نہ کھیلیں۔
چاہے وہ مرد ہو یا عورت… کسی کے جذبات، اعتماد اور احساسات کو کھیل نہ بنائیں۔
کل میں نے اپنی ایک زندہ دل دوست کو زارو قطار روتے دیکھا…
اور آج رات مجھے بھی نیند نہیں آئی۔
مجھے اسے کوئی جھوٹی امید نہیں دے سکی
یہاں پر 70 فیصد مرد صرف عورت کا جسم چاہتے ہیں اس کے احساس کی کوئی قیمت نہیں ۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے یہ گوشت خوروں کو جلد پتہ چل جائیگا کہ انہوں نے کس کس کی فیلنگز کے ساتھ کھیلا ہے
اور وہ عورتیں بھی جو اچھے مردوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل جاتی ہیں۔

قانتا سندس



والدین پہلے بیٹیوں کی عمریں نکال دیتے ہیں پھر لاکھ کوشش کے بعد بھی ناکام رہتے ہیں ۔ہمیں کام کرتے ہوئے 15 سال ہوگے ہیں لی...
16/03/2026

والدین پہلے بیٹیوں کی عمریں نکال دیتے ہیں پھر لاکھ کوشش کے بعد بھی ناکام رہتے ہیں ۔
ہمیں کام کرتے ہوئے 15 سال ہوگے ہیں لیکن ایک چیز حلفاً لکھ رہی ہوں رشتہ کروانا آسان کام نہیں ہے دو لوگوں کی نہیں دو خاندانوں کی زندگی کا سوال ہے لڑکے والوں کی ڈیمانڈز آسمان پر پہنچ چکی ہوئی ہیں لڑکی ڈاکٹر ہو خوبصورت ہو نیک ہو کم عمر ہو اور ساتھ ساتھ گھر کے کام کرنے کی بھی مہارت رکھتی ہو یہ خوبیاں مل جائیں تو انہی شادی بھی کروڑوں کی کرنی کچھ مہینے پہلے ایک ڈاکٹر لڑکی کا گھر میں آیا ہوا سامان کباڑ کا کہی کر واپس کیا گیا تو لڑکی والوں نے بھی نکاح سے جواب دے دیا دن میں جتنے لوگوں سے بھی ملاقات ہو یا فون پر بات ہو لڑکے ہوں یا لڑکیاں ان کی ڈیمانڈ نکاح نہیں ایک لمبی چوڑی فہرست کی لسٹ ہے
لڑکیاں بھی یہاں MG
سے نیبچے نہیں اترتی
اب ہمارا معیار ہی ہی آئی فون۔
یا مہنگے برینڈز ہیں انسان
کی کوئی پہچان نہیں اور نا اس کے دل کی کوئی قیمت ۔
جیسے کے ابھی کچھ قومیں اپنی کاسٹ میں ہی رشتے کرنے کی پابند ہیں ان میں تین قومیں عروج پر زوال اٹھا رہی ہیں پہلے راجپوت،دوسرا جٹ ،تیسرے گجر اور ڈوگر ہیں
ان کی جتنی بھی بیٹیاں ملی ہیں خدا کی قسم دل روتا ہے کاسٹ جیسے سسٹم نے ان سے ساری خوشیاں چھین لی ہی
والدین نے بیٹیوں کو پڑھنے کے لیے یورپ فارن یونیورسٹیوں کی اجازت دے دی ہے لیکن رشتہ کاسٹ سے باہر نہیں کرنا
اور کچھ بچیاں بھی سیدھی نہیں وہ بھی پر ایسے والدین کے نام بڑے اچھے طریقے سے روشن کرتی ہیں
باقی کچھ لڑکیاں وقت کے ساتھ ساتھ ادھوری رہ جاتی ہیں میرے آس پاس بچیاں رو رہی ہیں کہ ان کے رشتے ہوں شادیاں ہوں اچھے نصیب ملے لیکن والدین اپنی ضد اور آنا پر قائم ہیں فیملی رکھ رکھاؤ
کاسٹ
گورنمنٹ جاب ہائی اسٹیٹس
اور پھر رشتے والے کو فیس دے کر اگلے دن ہی یہ کہتے ہیں کہ کوئی معجزہ ہو جائے ۔
یہاں پر ایک بات واضح کر دوں ہم دن رات کوشش کرتے ہی مگر یہاں شادی ہم نے نہیں دو لوگوں نے کرنی ہے اگر کسی کو آپ کی پرسنالٹی سمجھ نہیں آتی وہ آپ کو سوچے گا بھی نہیں
اور ہم کوشش کرسکتے ہیں معجزہ نہیں
باقی چا
چھان بین کی کوشش کرتے ہیں ایک جیسے خاندانوں کو ملوانے کی کوشش کرتے ہیں اگر آپ لوگ بھی تھوڑا سمجھوتا کریں تو بیٹیاں بوڑھی نا ہوں ۔

گلف ممالک کے اکثر مرد اور عورتیں مسیار نکاح کی طرف کیوں بڑھ چکے ہیں ؟
16/03/2026

گلف ممالک کے اکثر مرد اور عورتیں مسیار نکاح کی طرف کیوں بڑھ چکے ہیں ؟

میں وہ عورت  ہوں جس کی شادی صرف خاندان کی ایک ضد کی وجہ سے نہیں ہوئی اور اب چار کی دہائی بھی پورا کر چکی ہوں  اور میری ک...
12/03/2026

میں وہ عورت ہوں جس کی شادی صرف خاندان کی ایک ضد کی وجہ سے نہیں ہوئی اور اب چار کی دہائی بھی پورا کر چکی ہوں اور میری کہانی شاید ہزاروں بیٹیوں کی کہانی ہے۔
میرا تعلق ایک راجپوت خاندان سے ہے—ایسا خاندان جہاں نسلوں سے کاسٹ کے باہر شادی نہیں کی جاتی۔ جب میں 23 سال کی تھی اور تعلیم کے لیے امریکہ جا رہی تھی تو والد نے مجھے رخصت کرتے ہوئے صرف ایک بات کہی:
“پڑھنا تمہارا شوق ہے، جہاں چاہو پڑھ لو… لیکن شادی ہم اپنی مرضی سے ہی کریں گے۔”
میں نے مسکرا کر کہا:
“بابا آپ فکر نہ کریں، میں آپ کے فیصلے پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گی۔”
میں امریکہ چلی گئی۔ وہاں دنیا دیکھی، مختلف ثقافتیں دیکھیں، دوستیاں ہوئیں، پاکستانی لڑکوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ مگر ہر بار میرے قدم اس وعدے نے روک لیے جو میں اپنے والد سے کر کے آئی تھی۔
یوں دیکھتے ہی دیکھتے سات سال گزر گئے۔
جب پاکستان واپس آئی تو گھر والوں نے رشتے دیکھنے شروع کیے مگر کوئی بات نہ بن سکی۔ پھر دوبارہ امریکہ جانا پڑا۔ اس کے بعد ہر دو سال بعد پاکستان آتی رہی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی اچھا رشتہ ہاتھ سے نکل جاتا۔
اس دوران میرے چھوٹے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں۔ میں نے ہر خوشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کبھی موبائل فون دیا، کبھی گاڑی خرید کر دی۔ مجھے خوشی ہوتی تھی کہ میرے اپنے خوش ہیں۔
پھر ایک دن ماں دنیا سے چلی گئیں۔
گھر کی رونق جیسے ہمیشہ کے لیے کم ہو گئی۔
وقت گزرتا گیا اور ایک حقیقت دل میں چبھنے لگی… جب میں پاکستان آتی ہوں تو بہت سے لوگ مجھے ایک بیٹی نہیں بلکہ صرف ایک مشین 🏧 سمجھتے ہیں۔
کچھ دن پہلے والد کی کال آئی۔ انہوں نے کہا:
“بیٹا… اگر کوئی ہو تو اپنی پسند سے شادی کر لو۔”
یہ جملہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو رک نہیں سکے۔ میں نے ٹوٹے دل کے ساتھ جواب دیا:
“بابا… اب کون سی شادی؟ میری عمر 42 سال ہو چکی ہے۔”
میں نے آپ کو دیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔
میں نے اپنی جوانی، اپنی خواہشیں، اپنے خواب—سب کچھ قربان کر دیا۔
آج میں ایک کامیاب عورت ہوں۔ میری ماہانہ آمدنی 18,000 امریکی ڈالر ہے۔ عزت بھی ہے، مقام بھی ہے۔ مگر زندگی کا کوئی ساتھی نہیں۔
خوبصورتی وقت کے ساتھ ماند پڑ گئی… اور بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔
یہ کہانی میں اس لیے لکھ رہی ہوں کہ میرے جیسی بے شمار بیٹیاں ہیں جو ذات پات، خاندانی رسموں اور “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف میں اپنی پوری جوانی قربان کر دیتی ہیں۔
اور جب عمر گزر جاتی ہے تو انہیں کہا جاتا ہے:
“اب اپنی پسند کر لو۔”
میں اپنے والدین سے محبت کرتی ہوں۔ وہ میری جنت ہیں۔ میں کبھی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ لیکن ایک گزارش ضرور کرنا چاہتی ہوں۔
تمام والدین سے درخواست ہے:
ذات پات کے اس سخت نظام کو ختم کریں۔
اپنی بیٹیوں کی زندگیوں کو انا اور رسموں کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔
اگر انہیں کوئی پسند آئے تو اچھی طرح تحقیق کریں، مگر ان کی خوشی اور زندگی کا بھی خیال رکھیں۔
کیونکہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
اور شادی کی عمر کب گزر جاتی ہے—پتہ ہی نہیں چلتا۔
آخر میں اپنی جیسی تمام عورتوں کو میرا سلام اور گلے لگانا۔
میں جانتی ہوں تم بھی بہت کچھ سہہ رہی ہو۔
اللہ سب کو آسانیاں اور ہدایت دے۔

ہماری میٹنگ بہت سی ایسی لڑکیوں سے ہوئی جن کا کہنا ہوتا ہے ہمیں ایسا لڑکا دکھائیں جن کی ماں نا ہو ۔کتنا گھٹیان میعار ہے ی...
11/03/2026

ہماری میٹنگ بہت سی ایسی لڑکیوں سے ہوئی جن کا کہنا ہوتا ہے ہمیں ایسا لڑکا دکھائیں جن کی ماں نا ہو ۔
کتنا گھٹیان میعار ہے یہ ۔
مینے کچھ دن پہلے لڑکی کو بے باکی سے کہتے سنا مجھے ساس نہیں چاہیے کوئی ایسا رشتی بتائیں لڑکا اکیلا ہو۔
مینے کہا اگر کل آپ کے بیٹے سے کوئی یہ ڈیمانڈ کرے اس نے کہا میں خود شادی کر کے بیٹا علیحدہ کر دونگی ۔
اور پھر یہ لڑکیاں شکایات کرتیں ہیں ہمیں رشتہ نہیں مل رہا ۔

ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳۘﻮﻝؐ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺍِﻧﮩﯿﮟ ﺍۘﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻻﺉ، ﺍﯾﺴﯽﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﮔﺊ ﮐﮧ ﺻﮩﯿﺐِ ﺭﻭﻣﯽؓ ﮬﻮ ﯾﺎ ﺑﻼﻝِ ﺣﺒﺸﯽؓ ﯾﺎ ﺍﻭﯾﺲِ ﻗﺮﻧﯽؓ ﮬ...
09/03/2026

ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳۘﻮﻝؐ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺍِﻧﮩﯿﮟ ﺍۘﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻻﺉ، ﺍﯾﺴﯽﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﮔﺊ ﮐﮧ ﺻﮩﯿﺐِ ﺭﻭﻣﯽؓ ﮬﻮ ﯾﺎ ﺑﻼﻝِ ﺣﺒﺸﯽؓ ﯾﺎ ﺍﻭﯾﺲِ ﻗﺮﻧﯽؓ ﮬﻮﮞ،
ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺗﻨﮯ
multiphasic intellect
ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ

ﺟﺐ ﺑﻼﻝؓ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ
ﻭﮦ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺑﻼﻝؓ ! ﺁﺝﮐﮯ ﺩِﻥ ﮐﻮﺉ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﺒﺎﺩﮦ ﻭ ﺟۘﺒّﮧ ﻭ ﻋﻤﺎﻣﮧ ﻭ ﺩﺳﺘﺎﺭ پہن ﻟﯿﺘﮯ ﺗﻮ ﺑﻼﻝؓ
ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ! ﺗﻢ ﯾﮧ ﺑﻼﻝؓ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺭﮬﮯ ﮬﻮ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺩِﻥ ﯾﺎﺩ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﻏﻼﻡ ﮬﻮﺍ۔ ﺍﺯ ﺧۘﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﻏﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯﺭﺳۘﻮﻝؐ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮬﺪﺍﯾﺖ ﺑﺨﺸﯽ، ﮬﻤﯿﮟ ﻭﮦ ﻋِﻠﻢ ﺑﺨﺸﺎ، ﻭﮦ ﺷﻌﻮﺭ ﺑﺨﺸﺎ ﺍﻭﺭﻭﮦ ﮐﺮﻡ ﮬﻮﺍ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍۘﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮬﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍۘﺱ ﻧﮯﺗﻤﺎﻡ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﺎﺋﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﮯ ۔ ۔ ۔
ﺑﻼﻝؓ ﮐﯿﺎ ﺍﭘﻨﯽﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ؟
ﻣﮕﺮ ﺍۘﺱ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮱ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻣﯽ
ﮐﯽ ﺳﭩﯿﺞ ﺳﮯ ﺍۘﭨﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﮬﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍۘﺳﮯ ﮐﻮﺉ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟﭘﮍﺗﺎ۔ ﺍۘﺳﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﮐﺎ ﮬﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﮐﻮﺉ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ، ﺍﮬﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺉﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ۔ ﺑﻼﻝؓ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍِﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺷﻌﻮﺭ،ﯾﮧ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓِﮑﺮ ﺟﻮ ﺑﻼﻝؓ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ، ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﮮ ﻓﻠﺴﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﺘﺎﮬﮯ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻣﺤﺒﺖِ ﺭﺳۘﻮﻝؐ ﮐﮯ ﺩﻡ ﺳﮯ ﮬﮯ۔

" ﺳﮑﻨﺪﺭ " ﻧﮯ " ﺩﯾﻮ ﺟﺎﻧﺲ " ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗۘﻮ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ؟ﺍۘﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ! ﺍﮮ ﻏﻼﻡ ﺍﺑﻦ ﻏﻼﻡ ﺍﺑﻦ ﻏﻼﻡ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮱ ﺧۘﺪﺍ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ
ﺗﻮ ﺍۘﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﻼﻡ ﺍﺑﻦ ﻏﻼﻡ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮﺍ؟ﺍۘﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ! ﺗۘﻮ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﻣﯿﺮﯼ ﻏﻼﻡﮬﮯ، ﺗۘﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮬﮯ۔

ﯾﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﻗﺎ ﻭ ﺭﺳۘﻮﻝؐ ﮐﯽ ﻣﺘﺎﺑﻌﺖ ﻣﯿﮟ، ﻣﺤﺒﺖﻣﯿﮟ ﺍِﺱ ﺩﺭﺟﮧ ﺭﮬﻨﻤﺎﺉ پائ، ﺁﮔﮩﯽ ﭘﺎﺉ ﮐﮧ ﺍِﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮬﺮ ﺷﺨﺺﻓﻘﯿﮩﮧ ﺗﮭﺎ، ﮬﺮ ﺷﺨﺺ ﺻﺎﺣﺐِ ﺍِﺟﺘﮩﺎﺩ ﺗﮭﺎ، ﺻﺎﺣﺐِ ﻋﻘﻞ ﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺗﮭﺎ، ﺍِﺱﻟﯿﮱ ﺣﻀﻮﺭِ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻣﺮﺗﺒﺖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ !
" ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮬﯿﮟ ﺟِﺪﮬﺮ ﺍِﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ، ﺍِﻥ ﺳﮯﮬﺪﺍﯾﺖ ﭘﺎﻭ ﮔﮯ "
ﺍۘﻥ ﺳﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﭘﺎﻭ ﮔﮯ۔
ﯾﮧ ﺍﻗﻄﺎﺏِ ﻋﺎﻟﻢ ﮬﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ
ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍِﺗﻨﮯ ﺍﻗﻄﺎﺏ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺟِﺪﮬﺮ ﮔﯿﺎ ﺭۘﺷﺪ ﻭ ﮬﺪﺍﯾﺖﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺤﺺ ﮐﻮ ﺍۘﺳﯽ ﺭۘﺷﺪ ﻭ ﮬﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ
ﮬﻮﻧﺎ ﮬﮯ ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣۘﺠﺘﮩﺪ ﮬﻮﻧﺎ ﮬﮯ، ﻣﻔﺴّﺮ ﮬﻮﻧﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺩِﯾﻦﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻓﮩﻢ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍۘﺳﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧﺀ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﻮ
ﮔﺎ۔
ﻭﺿﺎﺣﺖِ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮱ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳۘﻮﻝؐ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻋِﻠﻢﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺻﻮﻝ ﻧﮑﺎﻻ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍۘﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﺉ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﮐﮩﺘﮯ : ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍۘﺱ ﮐﺎ ﺭﺳۘﻮﻝؐ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮬﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ " ﻧﺎ ﺁﮔﮩﯽ " ﮐﺎ ﻋﺮﻓﺎﻥ " ﺁﮔﮩﯽ " ﮐﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮬﮯ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ، ﻭﮦ ﺍۘﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮬﮯﺟﺲ ﮐﻮ ﮐﻢ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍۘﺱ ﻧﮯ ﺩﻋﻮﯼٰﺀ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺍِﺳﯽ ﻟﯿﮱﺍِﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﻟﯿﻮﻝ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ..

استادِ محترم: پروفیسر احمد رفیق اختر

, #اسلام, , , , , , , , , #علم, #ہدایت,
, , , , , , , , , , , , , ,

In 2019, a couple in Kuwait reportedly ended their marriage only minutes after the ceremony. As they exited the courthou...
04/03/2026

In 2019, a couple in Kuwait reportedly ended their marriage only minutes after the ceremony. As they exited the courthouse, the bride tripped, and the groom responded by insulting her. Offended, she turned back, returned to the judge, and asked for an immediate annulment making it one of the shortest marriages on record.

آج اسلام آباد سے ایک  ڈاکٹر لڑکی نے صرف رشتے کے لیے ہمارے آفس کا وزٹ کیا اور بتایا وہ 36 سال کی ہوگئ ہے مگر ابھی تک کوئی...
03/03/2026

آج اسلام آباد سے ایک ڈاکٹر لڑکی نے صرف رشتے کے لیے ہمارے آفس کا وزٹ کیا اور بتایا وہ 36 سال کی ہوگئ ہے مگر ابھی تک کوئی اچھا ساتھی نہیں مل سکا ۔
یہ ڈاکٹر صاحبہ انتہائی سادہ خاتون ہیں اور نمازی ہیں ان کے لیے پروفیشنل ڈگری ہولڈر نیک صفت انسان کی تلاش ہے۔و

ایک طلاق یافتہ خاتون   کی  ایک میریڈ  آدمی سے میٹنگ ہوئی جو دوسری شادی کرنا چاہتا تھا  اور اس کی پہلی بیوی تین  سال سے ب...
02/03/2026

ایک طلاق یافتہ خاتون کی ایک میریڈ آدمی سے میٹنگ ہوئی جو دوسری شادی کرنا چاہتا تھا اور اس کی پہلی بیوی تین سال سے بیمار ہے ۔ دونوں کولیفائڈ ہیں اور بزنس کلاس فیملی سے تھے دونوں کے ہی بچے بھی تھے اور دونوں نے ایک دوسرے کو خوشی سے پسند کیا اور سادگی سے نکاح کو ترجیح دی اور بہت جلد شادی کی تاریخ فائنل ہوگی۔
اور ایک مثبت پیغام مرد ہوں یو عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے ہیں
زندگی میں تلخیاں تب آتی ہیں جب لوگ اپنی ترجیحات کو دکھاوے پر قربان کر دیتے ہیں

Address

River View 114 A Near Abdul-sattar Edhi Road
Lahore
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Story Behind the Face posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Story Behind the Face:

Share