08/04/2026
ایران جو ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفار سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں :
1- اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
2- کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی
3- ادویات کی اپیل نہیں کی
4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے
5- ایک مہینے کی جنگ اور عالم کفر کی جانب سے کی گئی شب و روز اور مسلسل بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی ۔ بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں ۔
6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو ۔
7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا ۔
8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان سڑکوں پر امریکہ و اسرائیل مخالف مظاہروں میں برابر کے شریک ہیں ۔
9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے.
ابھی تک ایران کے ہارنے کے کچھ آثار نظر نہیں آ رہے نہ ہی ایرانی حکومت اور عوام جھکنے کی تیاری میں ہے ، نہ ہی اب تک وہاں پر رجیم چینج ہوا ہے کیونکہ وہاں پر کوئی امریکی غلام اور غدار نہیں ہے ۔ ایران کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے ، اور ان حملوں میں ایران کے ہسپتال ، اسکول ، یونیورسٹیاں ، دوائی بنانے والی کمپنیاں اور ثقافتی ورثے تباہ ہو رہے ہیں جو کہ جنگی جرائم میں اتے ہیں لیکن ایران کے صدر نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ ایران نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ ایران وہ ملک ہے جس پہ تقریبا پچھلے 50 سالوں سے عالمی پابندیاں عائد ہیں لیکن اس نے پچھلے 25 دنوں سے آبنائے ہرمز بند کر کے دنیا بھر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے والے ہیں امریکہ و اسرائیل یا آئی ایم ایف سے نہیں.