07/04/2025
🌹 قضیۂ فلسطین میں علماء کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ 🌹
غزہ اس وقت تاریخ کے ایک کڑے اور ظالمانہ مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں مظلوم انسانیت، بچوں، عورتوں اور معصوم جانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں علمائے کرام کا کردار نہایت اہم، فیصلہ کن اور امت کے ضمیر کی ترجمانی کرنے والا ہونا چاہیے۔
ذیل میں فقیر عرض کرتا ہے کہ قضیۂ فلسطین اور غزہ کے صفحۂ ہستی سے مٹتے ہوئے منظرنامے میں علماء کیا کیا کردار ادا کر سکتے ہیں:
۱. امت کو بیدار کرنا
علماء کرام کا سب سے پہلا فرض ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے جگائیں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور عوام الناس میں دینی غیرت، اتحاد اور احساسِ ذمہ داری پیدا کریں۔ خطباتِ جمعہ، دروس، اجتماعات، اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیداری کی تحریک چلائی جائے۔
۲. ظلم کے خلاف علانیہ مؤقف
ظالم کا نام لے کر اس کی مذمت کرنا اور مظلوم کا کھل کر ساتھ دینا علماء کا منصبی فریضہ ہے۔ خاموشی اختیار کرنا یا صرف مبہم دعائیں کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
"أَفْضَلُ الجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ"
"سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔"
(سنن أبي داؤد: الرقم ٤٣٤٤)
یہی اصول آج کے طاغوتی نظاموں اور ظالم قوتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
٣. سیاسی و سماجی دباؤ ڈالنا
تمام علماء متفقہ طور پر جہا-د کا فتویٰ دیں اور حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ غزہ کے حق میں عملی اقدامات کریں، اقوامِ متحدہ، او آئی سی، اور دیگر عالمی اداروں پر اثر ڈالیں۔ یہ علماء ہی ہیں جن کی زبان پر قوم کان دھرتی ہے۔ پانچویں صدی ہجری میں جب صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو اس وقت کے فقہاء تسبیح پکڑ کر نہیں بیٹھے تھے بلکہ اُنہوں نے لبیک کی صدائیں لگانی شروع کر دی تھیں۔ امام ابن عقیل جیسے علماء جو بادشاہوں کے دروازوں پر جانے کو علم کی توہین سمجھتے تھے، اُن کے دروازوں پر دھکے کھاتے پھر رہے تھے کہ: اٹھو! اور اپنی فوجیں روانہ کرو۔" یہاں بعض خود کو "عالم" کہنے والے بادشاہوں کے دروازوں پر بیٹھے رہتے ہیں لیکن اُنہیں عار نہیں دلاتے حالانکہ یہ اُن کا اولین فریضہ ہے!
٤. اتحادِ امت کی کوششیں
علماء تمام فرقوں، مکاتبِ فکر، تنظیموں اور جماعتوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کریں۔ غزہ جیسے نازک موقع پر فقہی، مسلکی یا علاقائی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر "ایک اُمت" کا تصور بیدار کریں۔
٥. فنڈ ریزنگ اور ریلیف سرگرمیوں میں رہنمائی
علماء کو چاہیے کہ وہ مستند تنظیموں کے ساتھ مل کر شفاف امدادی مہمات چلائیں، اور زکوٰۃ، صدقات، قربانی کی کھالیں، فدیہ، کفارہ، وغیرہ جیسے شرعی ذرائع سے امداد فراہم کرنے میں رہنمائی کریں۔
٦. نوجوانوں کی فکری تربیت
اسرائیلی پروپیگنڈہ، اسلاموفوبیا، اور مایوسی سے نوجوان نسل کو بچانا اور انہیں فکری طور پر مضبوط بنانا آج کی اہم ضرورت ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ علم و حکمت، عقل و شعور اور جذبۂ شہادت سے نوجوانوں کو لیس کریں۔
٧. دعا اور روحانی قوت کا اہتمام
جب وسائل ختم ہو جائیں، تو مؤمن کی اصل قوت "دعا" ہے۔ علماء کو چاہیے کہ قنوت نازلہ، اجتماعی دعائیں، اور شب بیداری کے ذریعے روحانی مدد کے دروازے کھولیں۔ جیسے بدر میں صحابہ دعا کے ذریعے غلبہ پاتے تھے، ویسے ہی آج بھی دعا ایک ا-سلحہ ہے۔
آج کے علماء فقط خطیب نہیں بلکہ امت کے قائد، راہنما اور چراغ ہونے چاہئیں۔ غزہ جل رہا ہے، اور علماء اگر خاموش رہے تو تاریخ ان سے حساب لے گی۔ وہ اگر اٹھ کھڑے ہوں تو امت بیدار ہو سکتی ہے۔ مظلوموں کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرنا، یہی دین ہے، یہی غیرتِ ایمانی ہے۔
✍️ فیضان خان
۸ شوال ٦٤٤١هـ
٦ اپریل ٥٢٠٢ء