RIUJ

RIUJ RIUJ "RAWALPINDI/ISLAMABAD UNION OF JOURNALISTS "
The Union will perform by the aim of journalism and the fertility of journalist.

RIUJ "RAWALPINDI/ISLAMABAD UNION OF JOURNALISTS
Objectives,
1-The Union will perform by the aim of journalism and the fertility of journalist.

2-This union will stand by those journalists who are consistently facing barriers and hurdles in the consequences of written true statements as well as this will work about eradication coming in regular life and will make sympathetic and will make swift meeting with dominated persons in the Governments as timely journalist get justice.

3-This union will work for the fertility of journalist without making any differences of class, cost, color, Language and or human-squabble.

4-This union will organize training in all over the country regarding awareness of journalism.

5-This union will make struggle to provide "Accreditation Card" to every individual journalist.

6-This union will make efforts to manage global tours for the journalist from different cities of country within the company of politicians when politicians of the country go for the political affairs.

7-This union will make exertions to get passes for the national assembly conferences which will be given to the journalists and will call journalists from the each Province of Pakistan for the contribution in conferences.

12/08/2026

پریس ریلیز
*ڈان نیوز اسلام آباد سے بڑے پیمانے پر برطرفیوں پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کا سخت ردعمل*

اسلام آباد (پ ر)راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ڈان نیوز اسلام آباد سے آج بڑی تعداد میں صحافیوں، میڈیا ورکرز اور دیگر ملازمین کو فارغ کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا ورکرز کے معاشی و پیشہ ورانہ حقوق پر سنگین وار قرار دیا ہے۔ یونین نے واضح کیا ہے کہ اجتماعی برطرفیوں کے ذریعے مالی یا انتظامی مسائل کا بوجھ کارکنوں پر ڈالنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی قیادت نے کہا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو محض ایک عدد یا اخراجاتی بوجھ سمجھ کر ملازمتوں سے نکال دینا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت طرزِ عمل ہے۔مہنگائی، معاشی عدم استحکام اور روزگار کے محدود مواقع کے موجودہ حالات میں کسی کارکن سے اس کا ذریعۂ معاش چھیننا صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو معاشی بحران میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ڈان نیوز سمیت تمام میڈیا اداروں کی کامیابی میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برسوں کی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیاں شامل ہیں۔ کسی بھی انتظامی یا مالی بحران کا آسان حل کارکنوں کو قربانی کا بکرا بنانا نہیں ہو سکتا۔ اگر ادارے کو کسی مالی یا انتظامی مشکل کا سامنا ہے تو انتظامیہ پر لازم ہے کہ ملازمتیں ختم کرنے سے پہلے تمام ممکنہ متبادل راستے اختیار کرے اور کارکنوں کے نمائندوں کو اعتماد میں لے۔صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق عثمانی نے کہا کہ ڈان نیوز اسلام آباد سے بڑے پیمانے پر کارکنوں کی برطرفی ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صحافی یا میڈیا ورکر کو یکطرفہ فیصلے کے ذریعے بے روزگار کرنا یونین کے لیے انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اپنے ساتھیوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ہر قانونی و آئینی فورم پر بھرپور آواز اٹھائے گی۔جنرل سیکرٹری رضوان غلیزئی نے کہا کہ ڈان نیوز انتظامیہ فوری طور پر برطرفیوں کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کے معاشی قتل کو کسی بھی انتظامی یا مالی جواز کے پیچھے چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ کارکنوں کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔نائب صدور محمد فیصل اعوان اور جویریہ صدیق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں کے خاتمے کے بجائے اخراجات میں کمی کے دیگر راستے اختیار کیے جائیں اور کارکنوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس متاثرہ کارکنوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انفارمیشن سیکرٹری مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ ڈان نیوز اسلام آباد سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی برطرفی صحافتی صنعت میں بڑھتے ہوئے روزگار کے بحران کی ایک خطرناک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو صحافی اور میڈیا ورکرز برسوں ادارے کے لیے اپنی صلاحیتیں اور وقت صرف کرتے رہے، انہیں ایک ہی فیصلے کے ذریعے بے روزگار کرنا انتہائی غیر منصفانہ اقدام ہے۔میڈیا بحران کا حل میڈیا ورکرز کو بحران میں دھکیلنا نہیں ہے۔اگر انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے تو یونین مذاکرات اور قابلِ عمل متبادل حل کے لیے تیار ہے، لیکن کارکنوں کے معاشی مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اس معاملے کو ہر متعلقہ فورم پر بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔فنانس سیکٹری یاسر نذر نے کہا کہ صحافیوں کو اجتماعی طور پر فارغ کرنا صرف ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ صحافتی برادری کے معاشی تحفظ پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈان انتظامیہ فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور متاثرہ کارکنوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے۔جوائنٹ سیکرٹریز عبدالوحید جنجوعہ اور خالد ملک نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اپنے کسی بھی رکن یا میڈیا ورکر کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر برطرفیوں کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو یونین صحافتی برادری کو اعتماد میں لے کر احتجاج، قانونی چارہ جوئی اور دیگر تمام جمہوری و آئینی اقدامات پر غور کرے گی۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ڈان انتظامیہ، وزارتِ اطلاعات و نشریات اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈان نیوز اسلام آباد سے آج فارغ کیے گئے تمام صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
یونین کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ برطرفیوں کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرتے ہوئے متاثرہ کارکنوں کو بحال کیا جائے، انتظامیہ اور ورکرز کے نمائندوں کے درمیان فوری مذاکرات کرائے جائیں اور مستقبل میں کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جس سے مزید کارکن بے روزگار ہوں۔اگر فوری طور پر مؤثر ایکشن نہ لیا گیا تو راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اپنے آئینی و قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے صحافتی برادری کے ساتھ مل کر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے سمیت ہر دستیاب فورم سے رجوع کرے گی۔ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے روزگار، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جاری کردہ
مدثر الیاس کیانی
انفارمیشن سیکرٹری
0321-6866670

پریس ریلیز *چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کو جان سے مارنے کی دھمکی، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی شدید مذمت* راولپنڈی...
10/08/2026

پریس ریلیز

*چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کو جان سے مارنے کی دھمکی، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی شدید مذمت*

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے صدر طارق عثمانی نے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کو فون پر جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو دھمکیاں دینا آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے والے صحافیوں کو خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، حکومت فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔جنرل سیکرٹری رضوان غلیزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کو ملنے والی دھمکیاں انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ متعلقہ ادارے فوری کارروائی کرتے ہوئے دھمکی دینے والوں کو گرفتار کریں اور صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔نائب صدور محمد فیصل اعوان اور جویریہ صدیق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافتی اداروں اور صحافیوں کو دباؤ میں لانے کے لیے دھمکیوں کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتنان شاہد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ صحافتی برادری اس مشکل وقت میں چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کے ساتھ کھڑی ہے۔انفارمیشن سیکرٹری مدثر کیانی نے کہا کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران دھمکیاں ملنا آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ کوئی بھی شخص صحافیوں کو خوفزدہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔فنانس سیکرٹری یاسر نذر نے کہا کہ صحافیوں کو دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کے مسائل اجاگر کرنے اور عوام کی آواز حکام تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اس لیے انہیں تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔جوائنٹ سیکرٹریز راجا عبدالوحید جنجوعہ اور خالد ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافتی برادری کسی بھی قسم کی دھمکی، دباؤ یا تشدد کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے حکومت پنجاب، آئی جی پنجاب اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کو دھمکیاں دینے والے عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔تمام عہدیداران نے چیف ایڈیٹر امتنان شاہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

جاری کردہ
مدثر الیاس کیانی
انفارمیشن سیکرٹری

24/07/2026

IFJ Writes to Prime Minister on Pakistani Journalists' Rights; PFUJ Reaffirms Commitment to Continue the Struggle

PFUJ President Rana Muhammad Azeem:

Yesterday, the Pakistan Federal Union of Journalists (PFUJ) reaffirmed its commitment to stand by journalists and fight for their rights. During the International Federation of Journalists (IFJ) Congress in France, we strongly raised the issues faced by Pakistani journalists. Today, we are pleased to share that the IFJ has formally written to the Prime Minister of Pakistan and other relevant government authorities.

The letter expresses serious concern over forced layoffs in media organizations, salary cuts, delayed payment of wages, the economic exploitation of journalists, the PECA Act, and the growing restrictions on freedom of expression.

This letter demonstrates that the voices of Pakistani journalists are being heard at the international level. We once again assure you that the Pakistan Federal Union of Journalists has always stood with journalists, stands with them today, and will continue to stand with them until their rights are protected. Together, we will win this struggle.

PFUJ Secretary General Shakeel Ahmed:

Absolutely. As the President has said, the Pakistan Federal Union of Journalists has consistently fought for the rights of journalists from Khyber to Karachi. Our struggle is not limited to Pakistan; we have raised the concerns of Pakistani journalists on every important international platform.

We highlighted these issues before the International Federation of Journalists (IFJ), the global representative organization of journalists. As a result, the IFJ has written to the Prime Minister of Pakistan and other relevant authorities, expressing serious concern over forced dismissals, mass layoffs, and the non-payment of journalists' salaries.

PFUJ has continuously protested against these injustices. We also strongly opposed the PECA Act and have remained committed to defending journalists' fundamental rights. By issuing this letter, the IFJ has once again joined its voice with ours and urged the Government of Pakistan to immediately stop forced layoffs, ensure the timely payment of journalists' salaries, and safeguard the rights of media workers.

There is no doubt that this is a difficult period for journalists in Pakistan. However, the strong support extended by the IFJ is a source of encouragement and hope. We are confident that through collective efforts at both the national and international levels, we will continue to advance the cause of press freedom and protect the rights of journalists.

24/07/2026

پاکستانی صحافیوں کے حقوق پر آئی ایف جے کا وزیراعظم کو خط، پی ایف یو جے نے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

صدر پی ایف یو جے رانا محمد عظیم:

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ فرانس میں ہونے والی آئی ایف جے کانگریس میں بھی ہم نے پاکستانی صحافیوں کے مسائل بھرپور انداز میں اٹھائے تھے۔ آج ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے وزیراعظم پاکستان سمیت متعلقہ حکومتی حکام کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔

اس خط میں میڈیا اداروں میں ہونے والی جبری چھانٹیوں، تنخواہوں میں کٹوتیوں، بروقت ادائیگی نہ ہونے، صحافیوں کے معاشی استحصال، پیکا ایکٹ اور صحافیوں کی آزادیٔ اظہار پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ خط اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر بھی پاکستانی صحافیوں کی آواز سنی جا رہی ہے۔ ہم ایک بار پھر یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) آپ کے ساتھ کھڑی تھی، کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ ہم سب مل کر اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔

سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے شکیل احمد:

جی بالکل، جس طرح صدر صاحب نے کہا، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے خیبر سے کراچی تک ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہم نے ہر فورم پر پاکستانی صحافیوں کی نمائندگی کی ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، جو دنیا کے درجنوں ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے، کے فورم پر بھی ہم نے یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آئی ایف جے نے وزیراعظم پاکستان، متعلقہ وفاقی حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں کو خط لکھ کر میڈیا اداروں میں جاری جبری برطرفیوں، چھانٹیوں اور صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ ان مسائل کے خلاف پی ایف یو جے مسلسل احتجاج کرتی رہی ہے۔ پیکا ایکٹ کے خلاف بھی ہم نے بھرپور آواز اٹھائی اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ آئی ایف جے نے بھی ایک مرتبہ پھر ہماری آواز میں آواز ملاتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری برطرفیوں کو فوری طور پر روکا جائے، صحافیوں کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

بلاشبہ یہ پاکستانی صحافیوں کے لیے ایک مشکل وقت ہے، لیکن آئی ایف جے کی جانب سے آنے والی یہ مضبوط حمایت امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مقامی اور عالمی سطح پر مشترکہ جدوجہد کے ذریعے صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ
صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا وزیراعظم شہباز شریف،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین سینیٹ کو خط، میڈیا ورکرز کے ...
24/07/2026

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا وزیراعظم شہباز شریف،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین سینیٹ کو خط،

میڈیا ورکرز کے جبری برطرفیوں پر شدید تشویش کا اظہار

آئی ایف جے نے پاکستان میں صحافیوں کے روزگار کے تحفظ، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کا مطالبہ کر دیا۔

آئی ایف جے نے حکومت سے جنگ گروپ، دنیا، ، ایک نیوز، سنو نیوز اور آج نیوز ، 365 نیوز، نیوز ون سمیت دیگر اداروں میں برطرفیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

پاکستان میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور قانونی دباؤ کے خاتمے پر زور، آئی ایف جے کا خط

پیکا سمیت آزادی اظہار کو محدود کرنے والے قوانین کے خاتمے کا موثر ترامیم پر زور ،خط کا متن

میڈیا ملازمین کو نوٹس، معاوضے اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر برطرف نہ کیا جائے، آئی ایف جے

پاکستان میں الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور فری لانس میڈیا ورکرز کو بھی مکمل لیبر تحفظ دینے کا مطالبہ

آئی ایف جے نے بقایا تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور جبری برطرفیوں کے خاتمے پر زور دے دیا

میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کے لیے ناگزیر ہے، خط میں مطالبہ

صحافیوں کے خلاف قانونی و سائبر قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا۔ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ آئی ایف جے کا مطالبہ

میڈیا انڈسٹری کا بحران فوری حکومتی توجہ کا متقاضی ہے، ورنہ آزاد صحافت مزید متاثر ہوگی۔ آئی ایف جے

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے نواز اور سائبر کرائم کے قوانین کے استعمال پر بھی تشویش ہے، خط کا متن

پاکستان میں میڈیا اداروں کے موجودہ حالات پر آئی ایف جے کی جانب سے آواز اٹھانا خوش آئند ہے، رانا محمد عظیم صدر پی ایف یو جے

حکومت پاکستان کو میڈیا ہاؤسز میں جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سخت نوٹس لینا ہوگا، شکیل احمد سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے

پریس ریلیز *راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کی صحافی فیصل عباس کھر کو ہراساں کرنے اور مقدمے میں نامزد کرنے ک...
16/07/2026

پریس ریلیز

*راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کی صحافی فیصل عباس کھر کو ہراساں کرنے اور مقدمے میں نامزد کرنے کے خلاف شدید مذمت، شفاف تحقیقات کا مطالبہ*

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے پریس سیکرٹری اور اے بی این نیوز سے وابستہ صحافی فیصل عباس کھر کو گزشتہ کئی ماہ سے مبینہ طور پر مسلسل ہراساں کیے جانے اور 24 نومبر 2024 کے ایک مقدمے میں دو سال بعد نامزد کیے جانے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔صدر آر آئی یو جے طارق عثمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر دباؤ کا شکار بنانا، دھمکانا یا بے بنیاد مقدمات میں ملوث کرنا آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں اور حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔نائب صدور محمد فیصل اعوان اور جویریہ صدیق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافی فیصل عباس کھر کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ پوری صحافتی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر الزامات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے تو فوری طور پر مقدمہ خارج کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔جنرل سیکرٹری رضوان غلیزئی نے کہا کہ صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا آزادیٔ اظہار کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، آر پی او سرگودھا اور ڈی پی او میانوالی سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔فنانس سیکرٹری یاسر نذر نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات کا رجحان نہ صرف آزادیٔ صحافت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کا سدباب وقت کی اہم ضرورت ہے۔سیکرٹری اطلاعات مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ فیصل عباس کھر کو مسلسل ہراساں کیے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی صحافی کو اس کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی سزا دی جائے گی تو یہ پورے میڈیا کے لیے خطرناک روایت بن جائے گی۔ آر آئی یو جے اپنے ہر رکن اور ہر صحافی کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔جوائنٹ سیکرٹریز خالد ملک اور عبدالوحید جنجوعہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو جھوٹے مقدمات اور ہراسانی کے ذریعے خاموش کرانے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صحافیوں کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو آر آئی یو جے دیگر صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد احتجاج سمیت ہر جمہوری اور آئینی آپشن استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے حکومتِ پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، آر پی او سرگودھا، ڈی پی او میانوالی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقدمے کا فوری، شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر جائزہ لیا جائے۔ اگر تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو کہ الزامات بے بنیاد ہیں تو مقدمہ بلا تاخیر خارج کیا جائے، صحافی فیصل عباس کھر کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جاری کردہ:
مدثر الیاس کیانی
سیکرٹری اطلاعات
+92-321-6866670

اتحاد ہی صحافیوں کی طاقت، میڈیا بحران کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغازاسلامآباد (پ ر) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ...
10/07/2026

اتحاد ہی صحافیوں کی طاقت، میڈیا بحران کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغاز

اسلامآباد (پ ر) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ملک میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش سنگین بحران کے پیشِ نظر جڑواں شہروں کے سینئر، پروفیشنل اور نظریاتی صحافیوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس سلسلے کی پہلی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے مین ہال میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے صدر طارق عثمانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا ورکرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں رضوان غلزئی، مدثر الیاس کیانی، عبد الوحید جنجوعہ، خالد مالک،قیصر مرزا، فرخ نواز بھٹی، اسحاق چوہدری، مالک جنید، ابرار احمد، محمود خان،رضوان قاضی، رانا طارق، زبیر، طیّب گلفام، صدیق انظر، عامر نیازی، فیصل، بابر،عادل شاہ، مجاہد بھٹی، عائشہ ناز، صائمہ صدیق اور دیگر رہنماؤں نے یونین کا حصہ بننے والے سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا پروفیشنلز، جن میں حسن خان، مظہر طفیل، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، سہیل انجم ملک، نعیم اللہ یوسفزئی، حسنہ خٹک، محمد لطیف، لیاقت علی، نوید جاوید، سدرہ پرویز، محمد عثمان، نازیہ آصف، فراز خٹک، نوید احمد، رضوان علی شاہ، ثاقب خٹک، سید رسول بٹانی، امجد گل، حذیفہ شہسوار اور دیگر شامل تھے، کو پھولوں کے ہار پہنا کر خوش آمدید کہا۔سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا انڈسٹری اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمتوں کا عدم تحفظ اور آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیاں صحافی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صحافیوں کا اتحاد ہی ان کی اصل طاقت ہے اور یہی اتحاد انہیں ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔ شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر کے کارکن صحافیوں کے آئینی، قانونی، پیشہ ورانہ اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے لیبر قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی برطرفیوں اور واجبات کی عدم ادائیگی جیسے مسائل پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے خلاف منظم اور بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے تمام صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنی نمائندہ تنظیموں کو مضبوط کریں تاکہ آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق عثمانی نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ہمیشہ کارکن صحافیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم رہی ہے اور آئندہ بھی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، جبری برطرفیاں اور معاشی عدم استحکام انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحافی آج متحد نہ ہوئے تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آر آئی یو جے ہر مظلوم صحافی کی آواز بنے گی اور کسی بھی کارکن صحافی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔قیصر مرزا نے کہا کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی طاقت ان کے اتحاد میں ہے اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سینئر اور نوجوان صحافی ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر فورم پر صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔ سینیئر صحافی حسن خان نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنانا ہوگی اور اتحاد کے ذریعے آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے RIUJ کی اس مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہمیشہ صحافیوں کے اتحاد، آزادیٔ صحافت اور کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام صحافتی تنظیموں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط تنظیم، مستقل جدوجہد اور باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہر اس مثبت اقدام کا ساتھ دے گا جو صحافی برادری کے مفاد، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے ہو۔اس موقع پر مظہر طفیل، فرخ نواز بھٹی، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، حسنہ خٹک، عبد الوحید جنجوعہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی برادری کو متحد ہو کر اپنے حقوق، آزادیٔ صحافت اور روزگار کے تحفظ کی جنگ لڑنا ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میڈیا ورکرز کے استحصال، غیر قانونی اقدامات اور آزادیٔ اظہار پر قدغن کے خلاف ہر سطح پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگست کے پہلے ہفتے سے صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت، روزگار کے تحفظ، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کے استحصال کے خلاف منظم تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری کے وقار، اتحاد اور پیشہ ورانہ آزادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جاری کردہ:

مدثر الیاس کیانی
انفارمیشن سیکرٹری
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ)
+92-321-6866670

Address

Street # 5 G-7/2 ISLAMABAD
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 14:00

Telephone

+92512609556

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RIUJ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to RIUJ:

Shortcuts

Share

Category