19/02/2026
*صحیح, بخاری شریف 1904*
باب. کوئی روزے دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں
*رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اللّٰہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہئے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہئے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی (ایک تو جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا.*