City Marriage Bureau Bahawalpur

City Marriage Bureau Bahawalpur Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from City Marriage Bureau Bahawalpur, Wedding planning service, Bahawalpur.

ہمارے ہاں آرائیں جٹ راجپوت مغل شیخ سید اردو پنجابی سرائیکی سنی بریلوی شیعہ دیوبند ڈاکٹر انجینئر پروفیسر گورنمنٹ جاب کاروباری فیکٹری اونر بیرون ملک سیٹلڈ خوبصورت اچھے رشتے موجود ہیں۔ تصویر اور تفصیل واٹس ایپ کریں، شکریہ 🥰
❤️Whatsapp 👉 +923070707101❤️

31/05/2026

بہاولپور سے MBBS ڈاکٹر بیٹی
کے لئے فوری رشتہ درکار ہے
0307 0707101 WhatsApp

10/05/2026

*لڑکی جٹ آرمی کیپٹن BSN*
کے لئے صرف جٹ فیملی سے ڈاکٹر انجینر یا ابراڈ جٹ لڑکے کا رشتہ فورا درکار ہے
0307 0707101 Whatsapp

05/05/2026
اگر آپ کو موقع ملے تو کیا آپ  رشتہ کرنے کے لیے طلاق یافتہ بیٹی کو ترجیح دیں گے یا بیوہ  کو؟ ❤️
05/05/2026

اگر آپ کو موقع ملے تو کیا آپ رشتہ کرنے کے لیے طلاق یافتہ بیٹی کو ترجیح دیں گے یا بیوہ کو؟ ❤️

Click:👇https://maps.app.goo.gl/54xKZxFBh4yWcDAWAغریب لڑکی اور کمشنر کی کرسی1۔تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر، 14 سال کی ...
01/05/2026

Click:👇
https://maps.app.goo.gl/54xKZxFBh4yWcDAWA
غریب لڑکی اور کمشنر کی کرسی
1۔تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر، 14 سال کی *نور بانو*۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔

نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: "بڑی ہو کر کیا بنو گی؟"
نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: "باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔"
پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ "غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے بیٹا۔"

*2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی*
میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔

جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں *CSS* کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔

دوست کہتیں: "نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔"
نور جواب دیتی: "غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔"

*3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی*
CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔

گاؤں والے طعنے مارتے: "اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔"
رشتہ دار کہتے: "عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔"

ماں روتی: "بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔"
نور ماں کے پاؤں دباتی: "امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے 'دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی'۔ بس تھوڑا صبر۔"

*4. چوتھی بار اور تاریخ*
چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔

رزلٹ آیا۔ *نور بانو - CSS 2025 - پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔*

جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: *"یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے آئی ہوں۔"*

*5. کمشنر نور بانو*
آج *کمشنر نور بانو* لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔

پہلا حکم کیا جاری کیا؟ *"تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔"*

جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔
"بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔"

استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔
نور نے کہا: "باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں
Click:👇
https://maps.app.goo.gl/54xKZxFBh4yWcDAWA

1. کراچی کا کچرا کنڈی اور 9 سالہ شاہدلیاری، کراچی۔ 9 سالہ شاہد۔ قد اتنا چھوٹا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے بھی اینٹ...
26/04/2026

1. کراچی کا کچرا کنڈی اور 9 سالہ شاہد
لیاری، کراچی۔ 9 سالہ شاہد۔ قد اتنا چھوٹا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے بھی اینٹ پر کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ باپ نشے کی حالت میں مر چکا تھا، ماں لوگوں کے گھروں میں برتن دھوتی تھی۔
گھر میں بس ایک ہی خواب تھا: 17 سالہ بڑی بہن سدرہ ڈاکٹر بنے۔ سدرہ نے بارہویں جماعت میں پوزیشن لی تھی۔ دماغ کمپیوٹر جیسا، مگر فیس کے پیسے نہیں تھے۔
صبح 5 بجے شاہد بوری لے کر نکلتا تھا۔ کچرا کنڈیاں، گلیاں، دکانیں۔ پلاسٹک، لوہا، ردی چنتا تھا۔ شام کو کباڑی کو بیچ کر 80 سے 100 روپے ملتے تھے۔
2. باجی کی کتابیں اور بھائی کی بوری
سدرہ کا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا۔ سالانہ فیس 2 لاکھ روپے۔ ماں رو پڑی: "بیٹی، مجھے معاف کر دینا، ہم غریب ہیں۔"
شاہد نے ماں کی گود میں سر رکھا: "امی، آپ نہ روئیں۔ باجی ڈاکٹر بنے گی، میں ہوں نا!"
اگلے دن سے شاہد نے دو شفٹیں لگا لیں۔ صبح 4 سے 8 بجے تک کچرا، پھر اسکول۔ پھر شام 4 سے رات 10 بجے تک دوبارہ کچرا چننا۔ رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھ کر خود بھی پڑھتا تھا۔
سدرہ روتی تھی: "بھائی، تم پڑھو، میں کام کر لوں گی۔"
شاہد ہنس کر کہتا: "باجی، دو دماغ خراب کرنے سے بہتر ہے ایک ڈاکٹر پکا بن جائے۔ آپ بس پڑھیں۔"
3. سردی، طعنے اور ضدی بھائی
سردی کی رات تھی۔ شاہد کو 104 بخار تھا، پھر بھی بوری اٹھا کر نکل گیا۔ کباڑی نے کہا: "مر جاؤ گے پاگل!"
شاہد نے جواب دیا: "چاچا، جب میری باجی کے ہاتھ میں اسٹیٹھوسکوپ ہوگا تب ہی میرا بخار اترے گا۔"
محلے والے طعنے دیتے تھے: "کچرا چننے والا، بہن کو ڈاکٹر بنائے گا؟ خواب دیکھنا چھوڑ دو!"
شاہد کچھ نہ کہتا۔ بس ہر شام سدرہ کی فیس کے پیسے گنتا اور شکر ادا کرتا۔
4. آٹھ سال بعد، سول اسپتال
8 سال گزر گئے۔ شاہد اب 17 سال کا ہو چکا تھا۔ خود میٹرک میں پوزیشن لی، مگر کالج نہیں گیا۔ "باجی کا فائنل ایئر ہے۔"
نتیجہ آیا۔ سدرہ نے MBBS میں ٹاپ کیا۔ پورے کراچی میں نام ہو گیا۔ اخبار میں تصویر چھپی: "کچرا چننے والے کی بہن ڈاکٹر بن گئی۔"
سول اسپتال میں پہلی نوکری ملی۔ پہلی تنخواہ 85 ہزار روپے۔ سدرہ نے وہ لفافہ شاہد کے ہاتھ پر رکھا اور زار و قطار رونے لگی۔
"یہ تمہاری کچرے کی کمائی ہے، بھائی! میرے ہاتھ میں جو اسٹیٹھوسکوپ ہے، اس کی ڈوری تمہاری بوری سے بندھی ہے۔"
5. آج
آج ڈاکٹر سدرہ لیاری میں "شاہد کلینک" چلاتی ہے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
اور شاہد؟ اس نے کچرا چننا نہیں چھوڑا، مگر اب اس کی اپنی کباڑ کی دکان ہے۔ 20 بچے اس کے پاس کام کرتے ہیں، مگر ایک شرط ہے: "دن میں 2 گھنٹے میری دکان پر پڑھو گے، فیس میں دوں گا۔"
دیوار پر ایک فریم لگا ہے۔ ایک طرف سدرہ کی ڈگری، دوسری طرف شاہد کی پھٹی ہوئی بوری۔
نیچے لکھا ہے:
"کچرے سے کامیابی تک کا سفر — اگر محبت ہو تو منزل ضرور ملتی ہے۔"
شاہد کہتا ہے: "لوگ کہتے ہیں میں نے بہن کو ڈاکٹر بنایا، مگر سچ یہ ہے کہ باجی کے خواب نے مجھے

انسان بنایا۔"
منقول

لودھراں میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ رونما ہوا جو ہمیں ایک نئی روشنی میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جس میں ایک نوجوان لڑکی س...
19/04/2026

لودھراں میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ رونما ہوا جو ہمیں ایک نئی روشنی میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جس میں ایک نوجوان لڑکی سدرا کی شادی کے دن اس کے قریبی رشتہ دار مدثر نے اسے قتل کر دیا۔ مدثر سدرا کے خاندان کے ساتھ گھر میں رہتا تھا اور اس کے والد اسے اپنے بیٹے کی طرح عزیز جانتے تھے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

With Veer Agro Multan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
17/04/2026

With Veer Agro Multan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

Address

Bahawalpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when City Marriage Bureau Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share