30/09/2026
دل کی دنیا پھر سے کیوں ویران ہے
آج بھی آنکھوں میں اک طوفان ہے
درد کی شدت کبھی کم ہو نہیں
دل مگر پھر بھی ابھی حیران ہے
رات جتنی بھی گھنی ہو اے مسافر
دور کہیں صبح کا امکان ہے
ٹوٹ کر بھی آدمی جیتا رہے
زندگی شاید اسی کا نام ہے
غم کو لفظوں میں سمیٹوں کس طرح
خامشی خود ایک لمبی داستان ہے
آج مشکل ہے تو کل آسان ہو
وقت کے ہاتھوں میں آخر جان ہے
اے دلِ ناداں، ذرا ٹھہرا بھی کر
زندگی اب بھی تری پہچان ہے