QARI ABID AHAD QASMI

QARI ABID AHAD QASMI official page of QARI ABID AHAD QASMI & QARI YAHYA please like & shere

HAFIZ TOUSEEF AHMAD

06/03/2026

سورہ یوسف

07/02/2026

حافظ عطاء اللہ صاحب خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت

06/02/2026

قاری خلیل صاحب
استاد شیخ ایوب برمی امام مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

04/12/2025

تلاوت کلام پاک

#تلاوت
#قرات

*عشاق مدینہ طیبہ ضرور پڑھیں**🔸 تحریری سلسلہ بعنوان تاریخِ مدینہ منورہ**▪️شفاعت کی بشارت*اس مقدس و متبرک شہر کے بے شمار ا...
23/09/2025

*عشاق مدینہ طیبہ ضرور پڑھیں*

*🔸 تحریری سلسلہ بعنوان تاریخِ مدینہ منورہ*

*▪️شفاعت کی بشارت*

اس مقدس و متبرک شہر کے بے شمار اوصاف حمیدہ اور خصائل شریفہ میں سے یہ بھی ایک انتہائی قابل رشک وصف ہے کہ رحمت کائنات، منبع فیوض و برکات، فخر کون و مکان سلطان زمین و زماں ﷺ نے اس بلدہ طیبہ میں سکونت کی ترغیب و تحریص دلائی تاکہ اس پاک سرزمین کے انوار و تجلیات سے فیض بار ہوکر محشر کے ہولناک دن میں شفیع المذنبین ﷺ کی شفاعت سے سرفراز ہو سکیں۔

☆ جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"روئے زمین پر مدینہ منورہ کے سوا کوئی ایسا خطہ نہیں جس میں مجھے دفن ہونا پسند ہو۔"

☆ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رحمتِ کائنات، فخر موجوداتﷺ کو یہ فرماتے سنا :
"جو آدمی مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اسے چاہیے کہ اس جگہ مرے وہ خوش نصیب قیامت کے دن میری شفاعت اور شہادت باسعادت سے مشرف ہو گا۔

☆ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
"مدینہ منورہ میری ہجرت گاہ اور آرام گاہ ہے اور اسی خاک پاک سے میں قیامت کے دن اٹھایا جاؤں گا۔ لہذا میری اُمت کا حق ہے کہ وہ میری ہمسائیگی اختیار کرے۔ اگر میرے پڑوس میں رہ کر گناہوں سے اجتناب کیا تو میں قیامت کے دن ان کے لیے شفیع اور گواہ بنوں گا۔"

☆ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے اور صبر و قناعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا اور شفاعت کروں گا۔"

✦ شفیع یا شہید کی توجیہ اس طرح ہوسکتی ہے کہ خطاکار کے لیے شفاعت فرمائیں گے اور نیکوکار اور ابرار کے حق میں شہادت دیں گے۔ یا جو مسلمان آپ کی حیات طیبہ میں انتقال فرماگئے تھے ان کے حق میں شہید ہوں گے اور جو آپ کی رحلت کے بعد دنیا سے رخصت ہوئے ان کے لیے شفیع ہوں گے اور ممکن ہے کہ شَفِیْعًا سے قیامت کے دن مدینہ والوں کے لیے درجات کی بلندی، حساب میں تخفیف اور محشر میں ان کی تکریم و تعظیم مثلًا عرش عظیم کے سایہ میں راحت وغیرہ کی سفارش کرنا مراد ہو۔

☆ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:
"جو آدمی مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ میں فوت ہوا قیامت کے دن اللہ تعالی اسے امن والے لوگوں میں اٹھائیں گے۔"

☆ دوسری روایت میں ہے کہ اس کی شفاعت کرنا مجھ پر لازم ہوجاتا ہے۔

☆ سرور دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے:
"قیامت کے دن میری امت میں سے جنہیں سب سے پہلے میری شفاعت کا شرف حاصل ہوگا۔ وہ مدینہ کریمہ کے خوش بخت لوگ ہوں گے۔ ان کے بعد اہل مکہ اور پھر طائف والوں کی شفاعت کی جائے گی۔"

☆ تاجدارِ مدینہ، شاہِ حرم ﷺ کی یہ تمنا اور آرزو قابل تقلید ہے کہ آپ مدینہ طیبہ میں سفر آخرت کی دعا کرتے ہیں۔ اس کی خاکِ پاک کو اپنی قبر مبارک کے لیے پسند فرماتے ہیں۔

☆ سیدنا یحیٰی بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"ایک مرتبہ جنت البقیع میں قبر کھودی جارہی تھی۔ جہاں مقصودِ کائنات ﷺ بھی تشریف فرما تھے۔ اسی اثناء میں ایک صاحب وارد ہوئے اور قبر دیکھ کر کہنے لگے۔ مومن کے لیے یہ کیسی بری جگہ ہے۔ آپ کو اس کی بات ناگوار گزری۔
آپﷺ نے فرمایا: تم نے کیسی بری بات کہی ہے (غالبًا آپ کی مراد یہ تھی کہ مومن کی قبر تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتا ہے اور تم اسے بری جگہ کہہ رہے ہو) وہ صاحب عرض کرنے لگے یا رسول اللہﷺ میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی موت اپنے گھر میں واقع ہوئی ہے، انہیں اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش کرنا چاہیے تھا،
حضور انورﷺ نے فرمایا: شہادت کے برابر تو کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ لیکن ساری روئے زمین پر کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں مجھے اپنی قبر بنانا پسند ہو سوا مدینہ کریمہ کے۔" آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔

*اللہ اللہ ! وہ دھرتی کس قدر قابل رشک اور پر شکوہ ہے جس کے ریگ زاروں کو مقصودِ کائنات ﷺ اپنا اوڑھنا بچھونا اور مسکن بنانے کے لیے مضطرب اور بے تاب رہے۔*

✦ ان جذبات کا اظہار کوئی اتفاقیہ بات نہ تھی بلکہ مدینہ منورہ کی خاک پاک کے ساتھ اُنس و محبت تو ایک فطری تقاضا تھا۔ کیونکہ رحمت دو عالمﷺ کے وجود مسعود کا خمیر اسی خاک سے بنا تھا اور آپ کا فرمان والا شان ہے:
"جس مٹی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے اس میں اس کی تدفین ہوتی ہے۔" اور آپ نے فرمایا:
"جس مٹی سے مجھے پیدا کیا گیا ہے اسی مٹی سے ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو بھی پیدا کیا گیا اور پھر اسی میں ہم دفن کیے جائیں گے۔"
رفقاء کے ساتھ ایسی جگہ دفن کیا گیا جو بے حد اشرف و اکرم ہے۔

✨ *ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ*

یہ تڑپ، شوق، عشق، جذبہ اور ولولہ ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں ہے اور ہر کسی کی یہ تمنا اور آرزو ہے کہ مدینہ منورہ میں جینا اور مرنا نصیب ہو۔
ایسے عشاق کی کمی نہیں جو اس جذبہ سے سرشار اور اس عظمت کے حصول کے لیے بے قرار ہیں۔ محض نمونہ کے طور پر کچھ سپرد قلم کیا جاتا ہے۔

☆ امام دار الهجرة امام مالک رحمہ اللہ کو خاکِ طیبہ کے ساتھ اس قدر عشق اور فریفتگی تھی کہ آپ نے تمام عمر عزیز مدینہ کریمہ میں بسر فرمائی اور شہر سے باہر کہیں بھی نہیں جاتے تھے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں مدینہ طیبہ سے نکل جاؤں اور میری موت آجائے اور میں مدینہ منورہ کی خاک پاک میں دفن ہونے سے محروم رہ جاؤں۔ صرف ایک مرتبہ فریضہ حج ادا کرنے مکّہ معظمہ تشریف لے گئے تھے۔ بالآخر کامیاب ہوئے اور آج جنت البقیع میں آسودہ خواب ہیں۔

☆ آپ کا قلب مبارک عشق رسول ﷺ سے اس قدر معمور تھا کہ ضعف، پیری اور کبر سنی کے باوجود مدینہ منورہ میں کبھی سوار ہوکر نہیں چلتے تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ جس ارض مقدس میں جسم عنبریں ﷺ آرام فرما ہو اس زمین پر سوار ہو کر چلنا گستاخی ہے۔

☆ آپ ساری عمر قضاء حاجت کے لیے مدینہ طابہ کے حرم محترم سے باہر تشریف لے جاتے رہے۔ البتہ بیماری یا کسی مجبوری کی وجہ سے بیت الخلاء استعمال کر لیتے تھے۔ آپ تین دن میں صرف ایک مرتبہ بیت الخلاء جاتے اور فرماتے کہ بار بار جانے سے مجھے شرم آتی ہے۔

*اللہ کریم اپنی رحمت سے ہمیں بھی مدینہ کریمہ میں موت نصیب فرمائے اور شفیع المذنبینﷺ کی قیامت کے دن شفاعت سے نوازے۔*

☆ رحمت کائناتﷺ نے مدینہ منورہ زادہا اللہ تنویرا کی خوبیوں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پیشین گوئی بھی فرمائی کہ بعض لوگ دنیوی فوائد اور ذاتی اغراض کی بنا پر اس شہر کی سکونت ترک کر دیں گے۔ جیسا کہ سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مخبر صادق ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"یمن فتح ہوگا اور بعض لوگ وہاں کے حالات دریافت کریں گے پھر اپنے اہل و عیال کو اور جو لوگ ان کے کہنے میں آئیں گے انہیں ساتھ لے کر وہاں چلے جائیں گے۔ حالانکہ ان کے لیے مدینہ ہی بہتر تھا اگر وہ سمجھ سے کام لیتے،
پھر جب شام فتح ہوگا تو لوگ وہاں کے خوش کن حالات سن کر اپنے اہل و عیال اور جو کوئی ان کا کہا مانے گا ساتھ لے کر وہاں منتقل ہوجائیں گے۔ حالانکہ ان کے لیے مدینہ ہی بہتر تھا اگر وہ سمجھ سے کام لیتے۔
اسی طرح جب عراق فتح ہوگا تو لوگ وہاں کے حالات سن کر اپنے اہل و عیال کے ساتھ وہاں جاکر آباد ہو جائیں گے، حالانکہ ان کے لیے مدینہ ہی بہتر تھا۔ کاش وہ اس بات کو سمجھتے۔"

☆ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

"اہلیانِ مدینہ پر ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ یہاں سے لوگ خوشحال زندگی کی تلاش میں سرسبز و شاداب مقامات پر چلے جائیں گے اور وہ اپنی مطلوبہ خوشحالی پالیں گے اور پھر اپنے اہل وعیال کو بھی ساتھ لے جائیں گے۔ حالانکہ ان کے حق میں مدینہ ہی بہتر ہے اگر وہ سمجھ سے کام لیتے۔"

☆ علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کا یہ ارشاد اسی طرح پورا ہوا اور مذکورہ شہر اسی ترتیب سے فتح ہوئے۔

☆ نیز اس حدیث سے مدینہ منورہ کی دوسرے شہروں پر فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ رسول الثقلین ﷺ کا حرم، آپ کا پڑوس، مہبط وحی اور نزول برکات کا مرکز ہے۔ یہاں دین کے دائمی اور ابدی فوائد حاصل ہوتے ہیں،
جبکہ بعض لوگ ناپائیدار اور ناقابلِ اعتبار دنیوی فوائد کی خاطر دوسرے شہر میں چلے جائیں گے۔

☆ امام منذری المتوفی لکھتے ہیں:

"جب اسلام کی نورانی شعاعیں حجاز سے دوسرے ممالک تک پھیل گئیں اور اسلامی فتوحات کے ذریعے بہت سے سرسبز و شاداب علاقے مسلمانوں کے زیرنگیں آئے تو طبعی طور پر بہت سے لوگوں نے حجاز کی خشک اور بنجر زمین کے مقابلہ میں شام و عراق وغیرہ کے ہرے بھرے اور نعمائے دنیا سے مالا مال خوشحال و شاداب علاقوں میں رہنا پسند کیا اور وہ مدینہ منورہ چھوڑ کر ان علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح وہ شیرازہ بکھرنا شروع ہوگیا جو دس سال کی جانی و مالی قربانیوں سے معرض وجود میں آیا تھا۔"

☆ رحمت کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا:

"مدینہ منورہ کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ یہ برے آدمی کو اس طرح نکال کر باہر پھینک دیتا ہے جس طرح آگ کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔"

☆ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی جو مدینہ طیبہ میں رہتا تھا۔ اسے ایک مرتبہ سخت بخار آیا جس کی وجہ سے مدینہ منورہ میں رہنے سے دل برداشتہ ہوگیا اور حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا میری بیعت توڑ دیں۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ آپ نے بیعت توڑنے سے انکار فرمایا۔ اس نے دوبارہ بلکہ سہ بارہ آکر اصرار کیا۔ مگر آپ مسلسل انکار فرماتے رہے۔ بالآخر وہ مدینہ منورہ سے بھاگ گیا۔

☆ اس پر نبی کریمﷺ نے فرمایا :

"مدینہ منورہ بھٹی کی مانند ہے۔ یہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے اور اچھے آدمی کو خالص کر دیتا ہے۔ یعنی نکھار دیتا ہے۔

☆ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور انور ﷺ نے فرمایا :

"آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مدینہ منورہ شریر اور بدکار آدمیوں کو نہ نکال دے جس طرح بھٹی لوہے کا میل نکال دیتی ہے۔"

☆ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد بیان کرتے ہیں :

"مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا دجال ہر شہر میں داخل ہوگا۔ لیکن اللہ تعالٰی کے فرشتے ان دونوں شہروں کی حفاظت کریں گے اس وقت مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس کے خوف سے ہر کافر اور منافق مدینہ سے نکل کر بھاگ جائے گا۔

علامه ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
"ہر وہ آدمی جس کا ایمان خالص نہیں ہوگا وہ مدینہ سے نکل جائے گا اور صرف مخلص مومن ہی باقی رہ جائیں گے جن پر دجال مسلط نہیں ہوسکے گا۔

☆ رحمت کائناتﷺ کا روضۀ اطہر جو اللہ تعالٰی کی بے انتہا رحمتوں اور برکتوں کا منبع ہے۔ اہلیانِ مدینہ ان برکات سے ہمہ وقت مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ تزکیه و تطہیر اس مقدس شہر کی خصوصیات میں سے ہے۔

*اللہ کریم ہم سب مسلمانوں کو اس کے فیوضات و برکات سے بہرہ یاب فرمائے اور گنبد خضرا کے ظل عاطفت میں سکونت نصیب فرمائے اور جنت البقیع میں دفن ہونا نصیب فرمائے۔
آمین
یاسر خان نقشبندی
مقیم مدینۃ المنورہ

22/09/2025

اذان حرم

22/09/2025

شیخ شریم
#شریم
#امام #کعبہ

22/09/2025

*الشیخ احمد طالب حمید*
الشیخ محمد ایوب رحمہ اللہ کے انداز میں پڑھتے ہوئے

21/09/2025

مسجد نبوی شریف کے امام شیخ قاری خلیل الرحمن کے شاگرد جناب محمد ایوب برماوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک یادگار تلاوت قاری خلیل الرحمن رحمۃ اللہ علیہ بھی ساتھ تشریف فرما ہیں

20/09/2025

تلاوة الشيخ ‎سعودالشريم
ما تيسرمن سورة النساء من صلاة التراويح لعام 1416 - 1996م

Address

Swabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QARI ABID AHAD QASMI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to QARI ABID AHAD QASMI:

Share