21/07/2026
ہمارے پیج پر چونکہ مختلف ایسے کبوتروں کا ذکر چل رہا ہے جو پس پردہ چلے گئے ہیں تو ان میں لاکھے کبوتر بھی شامل ہیں گو کہ انہیں پچھلی دو دہائیوں میں ننکانہ، پنڈی بھٹیاں جیسے شہروں کے نامور کھلاڑیوں نے پس پردہ سے اٹھا کر سامنے سٹیج پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی اور بہت حد تک وہ اس میں کامیاب بھی رہے جن میں ڈاکٹر عبدالغنی مرحوم، رائے شوکت استاد منشاء وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں
لاکھے کبوتروں کی رنگوں کی بنیاد پر کافی ذیلی نسلیں ہیں جن میں
امرتسری لاکھے
جالندھری لاکھے
گلوے لاکھے
گلاب سرے
رام پوری لاکھے
جونسرے لاکھے
جب بھی لاکھے کبوتروں کا ذکر ہوگا تو ساتھ استاد باؤ منیر سنیارا کا ذکر ضرور ہوگا یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی سمجھ اور عقل سے ان کبوتروں سے استاد چوہدری سخی محمد بھٹی کے ساتھ مقابلہ کیا ایسی شاندار پروازیں دیں کہ شائقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا یہ لاکھے کبوتر ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی استاد سوہنی بٹ اور ان کے کچھ شاگردوں اور عزیزوں کے پاس بھی رہے یہ بٹ فیملی ہمارے ننھیال گھر کے بالکل سامنے تھے آج بھی گھر موجود ہے مگر مکین ضرورت اور وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی جگہوں پر مقیم ہوگئے ویسے بھی آدھی صدی کا واقعہ ہے مگر اس گھر میں کبوتر اب بھی موجود ہیں یہ کبوتر گلوے لاکھے کبوتروں سے ملتے جلتے کبوتر تھے ان میں سے جونسرے لاکھے بھی نکلتے تھے ان کے بارے میں بہت سے واقعات مشہور ہوئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ انکی اگر ایک آنکھ پر ٹارچ سے روشنی ڈالی جاتی تھی تو روشنی دوسری آنکھ میں آر پار ہوجاتی اس زمانے میں ان کبوتروں کے چاہنے والے بے شمار تھے اور کئی نوسرباز ان کبوتروں کا نام لے کر اپنے لاکھے بھی فروخت کرتے رہے
کہا جاتا ہے کہ لاکھے کبوتروں کا اصل وطن نیپال اور مالدیپ ہے وہاں یہ کبوتروں گہرے براؤن جالدار کافی تعداد میں موجود ہیں ان کبوتروں سے امرتسری لاکھے کبوتر بھی وجود میں آئے جن کی کمر پر کوئی چھاپ نہیں تھا ان کی گردن سبز اور براؤن، دم براؤن اور ہلکی سیاہ، یہ کبوتر 12 سے 14 گھنٹے کی پرواز دیتے تھے اور حیرت انگیز طور پر رات اندھیرے میں گھر بیٹھنے کی صلاحیت رکھتے تھے ان کو امرتسری لاکھے بھی کہا جاتا تھا ایسا ایک کبوتر عامر ٹیپو کے بریڈنگ سیٹ اپ میں دیکھا انہوں نے اس ٹیڈی مادی لگا رکھی تھی ان کے بقول اس جوڑے کے بچے چیمپئن رہتے تھے
پھیکے لاکھے، میلی سی نوک، سفید آنکھیں، باریک گہرے سرخ پنجے، اکثر دونوں اطراف کے پر دم سے نیچے لٹکا کر رکھتے تھے انہیں آج سے تیس سال قبل گلاب سرے کہا جاتا تھا یہ اتنے دھیمے اور دوستانہ مزاج کے کبوتر تھے کہ بندوں سے ڈر خوف ان میں نام کو نہیں تھا میرے پاس ایک جوڑا تھا وہ ہماری سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آجاتے تھے ان کبوتروں کی ایک خاص بات آپ سے شیئر لازمی کرنا چاہوں گا کہ قدرت کی طرف سے ان کو موسم کی خرابی کا پتہ چل جاتا تھا ایک دن میں نے لاکھے کبوتر کو دوسرے کبوتروں کے ساتھ اڑایا یہ عام طور پر 2 بجے کے بعد ہی اترتا تھا مگر اس دن میں دیکھتا ہوں کہ یہ پر بند کرکے گچھی سی بن کر بیٹھ رہا ہے اس نے ایسا تین سے چار دفعہ کیا اور گھر بیٹھ گیا میں نے اس کو دوبارہ اڑانے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا تھوڑی ہی دیر بعد ایسا طوفان بادو باراں آیا کہ اوپر جو کبوتر تھے ان میں سے ایک دو ہی بیٹھے سب ضائع ہوگئے یہ کبوتر بچے ہلکے سلیٹی بھی نکالتے تھے
رام پوری لاکھے کبوتر سفید چاندی آنکھوں میں اچھے وجود کے کبوتر تھے یہ کبوتر آج بھی جن دوستوں کے پاس رام پوری کبوتر ہیں ان میں سے نکلتے ہیں
ہمارے لاہور میں شبیر سکیموں والوں کے پاس بھی لاکھے کبوتر تھے ان کبوتروں سے حیرت کی بات کہ ٹیڈی کبوتر بھی نکلتے تھے جن پر ایک پر بھی لاکھا نہیں ہوتا تھا
گلوے لاکھے بھی قدرت کا شاہکار خوبصورت لاکھے کبوتر تھے ان کی گردن یا منہ کا کچھ حصہ براؤن، آنکھیں براؤن، پلکیں سفید، اور باقی پورا جسم سفید انکا بچہ نکلتے وقت سرخا ہی لگتا تھا بعد میں صاف ہوکر گلوہ رہ جاتا مگر ان کی پرواز کی بات کی جائے تو ان کی ذاتی پرواز چار سے پانچ گھنٹے ہی تھی