M.Junaid Akram

M.Junaid Akram Represent Pakistan at MUN Indonesia,
Speaker at NYA, Director MDS,
Social and Political Thinker.

The Function of Leadership is to produce a more leaders not followers that's why I want to become a leader for those who want to become a leader :)

13/02/2026

سلطنت عثمانیہ کے عظیم سلطان، عاشق رسول حضرت سلطان عبدالحمید خان رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی نعت مبارک سنہری حروف سے حجرہ مبارک کی جالیوں کے اوپر درج تھی ، جس کے تقریباً سارے اشعار سعودی حکومت نے مٹا دئیے سوائے ان چند ایک کے جو زیر نظر تصاویر میں ہے ۔

حضرت سلطان کی مکمل نعت شریف ملاحظہ فرمائیں :

يا سيدي يا رسول الله خذ بيدى
مالي سواك ولا الوي على احد

اے میرے آقا اے اللہ کے رسول میرا ہاتھ تھام لیجئے
نہ آپ کے سوا میرا کوئی ہے اور نہ ہی میں آپ کے علاوہ کسی کی طرف مائل ہوتا ہوں۔

فانت نور الھدی في كل كائناة
و انت سراً الندى يا خير معتمد

آپ ہی ساری کائنات میں نور ہدایت ہیں اور آپ ہی ساری التجاؤں کا راز ہیں اور آپ ہی کی ذات سب سے زیادہ معتمد ہے۔

وانت حقاغيات الخلق أجمعهم
وانت هادي الورى للله ذي المدد

اور آپ بے شک ساری مخلوق کی مدد کرنے والے ہیں اور آپ سب سے بہتر رہنما اور اللہ کی جانب سے سب کے ہادی ہیں۔

يا من يقوم مقام الحمد منفرداً
للواحد الفرد لم يولد ولم يلد

اے وہ ذات جن کے لیے سب سے منفرد مقام محمود مقرر ہوا ، اس یکتا ذات کے ہاں کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد۔

يا من تفجرت الانهار نابعة
من اصبعه فروى الجيش ذي العدد

اے وہ ذات کہ جن کی انگلیوں سے دریاؤں کے سے چشمے پھوٹ پڑے جن سے لشکر کے لشکر سیر ہو کر اپنی پیاس بُجھاتے تھے۔

اني اذا سامني ضيم یروعني
اقول يا سيد السادات يا سندي

جب بھی میر اظلم سے سامنا ہوا اور میں خوف زدہ ہوا تو میں یا سید السادات اور یاسندی پکارتا ہوں۔

كن لي شفيعاً الى الرحمن من زللي
وامنن علي بما لا كان في خلدى

آپ رب کی بارگاہ میں میری خطاؤں پر میری شفاعت فرمائیں
اور مجھ پر وہ احسان فرمائیں جو کہ میرے تصور سے بھی بالا ہو۔

وأنظر بعين الرضاء لي دائماً ابداً
واستر بفضلك تقصيري مدى الامد

اور آپ ہمیشہ مجھ پر نگاہ التفات رکھیں ، اور اپنے فضل و کرم سے ہمیشہ میری کوتاہیوں کی پردہ پوشی فرمائیں۔

واعطف على بعفواً منك يشملني
فانني عنك يا مولاى لم أحد.

اور مجھ پر ایسی نظر کرم فرمائیں کہ میری کوتاہیوں کو ڈھانپ لے
بے شک اے میرے آقا آپ کے سوا میرا کوئی نہیں۔

اني توسلت بالمختار أشرف من
رقى السماوات سر الواحد الأحد

بے شک میں نے ایسی مختار ہستی کا وسیلہ پکڑا ہے ، جو آسمانوں سے بھی بالا تر تشریف لے گئے اور اللہ واحد لاشریک کا راز ہیں۔

رب الجمال تعالى الله خالقه
فمثله في جميع الخلق لم اجد

حُسن کے رب نے آپ کی تخلیق کی
اور پوری کائنات میں آپ جیسا کوئی اور نہیں ہے۔

خير الخلائق المرسلين ذرى
ذخر الانام و هاديهم الي الرشد

آپ ساری مخلوق سے بہتر اور تمام رسولوں سے اعلیٰ مقام رکھتے ہیں
آپ پوری مخلوق کے ملجاء و ماوئی اور صراط مستقیم کی طرف ان کے راہنما ہیں۔

به التجئتُ لعل الله يغفر لى
هذا الذي هو في ذهني و معتقدى

انہی کے وسیلے سے میں نے التجاء کی ہے اور امید ہے کہ اللہ مجھے بخش دے گا یہی میرا عقیدہ اور ایمان ہے۔

فمدحة لم يزل دابي مدى عمري
وحبه عند رب العرش مستند

جب تک میری عمر ہے ہمیشہ ان کی تعریف ہی مرا طرز عمل ہے اور ان کی محبت ہی رب العرش کے ہاں قابل اعتماد سرمایہ ہے۔

عليه اذكى صلاة لم تنزل ابداً
مع السلام بلا حصر ولا عدد

ان پر ہمیشہ ہمیشہ بہترین درود ہو
جس کے ساتھ بے حد و شمار صلوۃ و سلام ہو۔

وعلى الآل والصحب اھل المجد قاطبة
بحر السماح واھل الجود والمدد

اور تمام آل اور اصحاب کرام پر جو بڑی فضیلت والے ہیں
اور جو سخاوت اور عفو اور مدد کا سمندر ہیں۔

✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
11/2/26ء

20/01/2026

ایک شخص نے گوہ کا شکار کیا اور اسے اپنے گھرلیجانے کے لیے چل پڑا ۔راستے میں اس نے لوگوں کوایک جگہ جمع ہوئے دیکھا تو کسی سے پوچھا: یہ لوگ کس کے گرد جمع ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس کے گرد جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے( یعنی نبی کریم ﷺ) ۔
وہ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا حضور ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہیں لاتی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے گوہ حضور ﷺکے سامنے پھینک دی ۔
تو حضور ﷺنے فرمایا: اے گوہ(کلام کر)! تو گوہ نے ایسی واضح اورفصیح عربی میں کلام کیا کہ جسے تمام لوگوں نے سمجھا۔ اس گوہ نے عرض کیا: اے دوجہانوں کے رب کے رسول! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ حضور ﷺنے اس سے پوچھا: تم کس کی عبادت کرتی ہو؟ اس نے عرض کیا: میں اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمانوں میں ہے، زمین پر جس کی حکمرانی ہے اور سمندر پر جس کا قبضہ ہے، جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: اے گوہ! میں کون ہوں؟ اس نے عرض کیا: آپ دو جہانوں کے رب کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ جس نے آپ کی تصدیق کی وہ فلاح پاگیا اور جس نے آپ کو جھٹلایا وہ ذلیل و خوار ہوگیا۔
اعرابی یہ دیکھ کر بول اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جب میں آپ کے پاس آیا تھا تو روئے زمین پر آپ سے بڑھ کر کوئی شخص مجھے ناپسند نہ تھا اور بخدا اس وقت آپ مجھے اپنی جان اور اولاد سے بھی بڑھ کر محبوب ہیں۔
حضورﷺ نے فرمایا: اس اللہ کے لئے ہی ہر تعریف ہے جس نے تجھے اس دین کی طرف ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہوگا۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ صرف نماز کے ساتھ قبول کرتا ہے اور نماز قرآن پڑھنے سے ہی قبول ہوتی ہے۔ پھر حضور ﷺ نے اسے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص سکھائیں۔
پھر وہ اعرابی حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ سے باہر نکلا اور واپس گھر کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں اسے ایک ہزار اعرابی ملے ۔ اس نے ان سے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس سے لڑنے جا رہے ہیں جو غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ۔
اس اعرابی نے ان سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: تم نے بھی نیا دین اختیار کرلیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے نیا دین اختیار نہیں کیا (بلکہ دین حق اختیار کیا ہے) پھر اس نے انہیں (گوہ سے متعلق) تمام واقعہ بیان کیا ۔
یہ سن کر ہر کوئی کہنے لگا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ انہیں ملنے کے لئے (تیزی سے) بغیر چادر کے باہر تشریف لائے۔
وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر اپنی سواریوں سے کود پڑے اور حضور نبی اکرمﷺ کو چومنے لگے اور ساتھ ساتھ کہنے لگے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سارے عرب میں صرف بنو سلیم کے ہی ایک ہزار لوگ بیک وقت ایمان لائے ۔

(دلائل النبوہ لابی نعیم ج؛ 1 ص؛ 376 ملخصاً (

❤❤❤

ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک ...
19/01/2026

ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک حتمی تاریخ یا ایک شخص کا نام لینا مشکل ہے کیونکہ یہ ہزاروں سالوں میں مختلف ادوار سے گزرا ہے۔
تاریخی حقائق کے مطابق اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. قدیم بنیادیں (ہزاروں سال پہلے)

تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ ملتان کا قلعہ "ملوئی" (Malhi) قوم نے تعمیر کیا تھا، جو سکندرِ اعظم کے حملے (326 قبل مسیح) کے وقت یہاں آباد تھی۔ اس وقت یہ مٹی کا ایک بہت بڑا ٹیلہ تھا جسے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

2. ہندو دور (کٹوچ خاندان)

بعض روایات کے مطابق، اس قلعے کی باقاعدہ مضبوط تعمیر کٹوچ خاندان کے ہندو راجاؤں نے کی تھی۔ اس دور میں یہ قلعہ اپنی بلندی اور مضبوطی کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا اور اس کے اندر مشہور "سورج مندر" (Sun Temple) بھی واقع تھا۔

3. اسلامی دور اور قلعے کی پختگی

• محمد بن قاسم (712ء): جب محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا، تو قلعے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس دور میں قلعے کی مرمت کی گئی اور اسے ایک مضبوط فوجی چھاؤنی بنایا گیا۔ اسی نسبت سے اسے آج "قاسم فورٹ" کہا جاتا ہے۔

• مغل دور: مغل بادشاہوں (خاص طور پر اکبر اور شاہجہاں) کے دور میں اس قلعے کی فصیل کو پختہ کیا گیا اور اس کے اندر شاہی عمارتیں، باغات اور مسجدیں تعمیر کی گئیں۔

4. نواب مظفر خان اور سکھ دور

• نواب مظفر خان شہید: 18ویں صدی کے آخر میں ملتان کے افغان گورنر نواب مظفر خان نے قلعے کی دیواروں کو مزید بلند اور مضبوط کیا تاکہ سکھوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

• رنجیت سنگھ: 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج نے ایک طویل محاصرے کے بعد قلعہ فتح کیا اور اس کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔

5. برطانوی دور (تباہی اور موجودہ شکل)
موجودہ دور میں ہمیں قلعے کی جو شکل نظر آتی ہے، وہ برطانوی دور کی باقیات ہیں۔

• 1848-49 کی جنگ: انگریزوں اور ملتان کے گورنر مولراج کے درمیان ہونے والی جنگ میں انگریزوں کی شدید بمباری سے قلعے کی دیواریں اور اندرونی عظیم الشان محلات (جیسے شیش محل) مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔

• جنگ کے بعد انگریزوں نے قلعے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے اسے ایک چھاؤنی میں بدل دیا اور اس کے گرد موجود فصیل کو گرا دیا تاکہ مستقبل میں کوئی بغاوت نہ ہو سکے۔

قلعے کی خاص بات
یہ قلعہ ایک مصنوعی ٹیلے پر واقع ہے جس کی اونچائی سطح سمندر سے تقریباً 710 فٹ ہے۔ کسی زمانے میں اس کے گرد دریائے راوی کی ایک شاخ بہتی تھی جو اسے ایک جزیرے کی شکل دے دیتی تھی۔

Multan Fort, also known as "Qasim Fort", is one of the oldest forts in the world. It is difficult to give a definitive date or name a person for its construction as it has gone through various periods over thousands of years.
The details of it according to historical facts are as follows:

1. Ancient Foundations (Thousands of Years Ago)

Historians believe that Multan Fort was built by the "Malhi" tribe, who inhabited the place at the time of Alexander the Great's invasion (326 BC). At that time, it was a huge mound of earth used for defensive purposes.

2. Hindu Period (Katoch Dynasty)

According to some traditions, this fort was formally fortified by the Hindu kings of the Katoch dynasty. During this period, this fort was considered impregnable due to its height and strength and the famous "Sun Temple" was also located inside it.

3. Islamic period and the fortification of the fort

• Muhammad bin Qasim (712 AD): When Muhammad bin Qasim conquered Multan, the importance of the fort increased further. During this period, the fort was renovated and made into a strong military garrison. For this reason, it is called "Qasim Fort" today.

• Mughal period: During the reign of the Mughal emperors (especially Akbar and Shah Jahan), the walls of the fort were fortified and royal buildings, gardens and mosques were built inside it.

4. Nawab Muzaffar Khan and the Sikh period

• Nawab Muzaffar Khan Shaheed: In the late 18th century, Nawab Muzaffar Khan, the Afghan governor of Multan, further raised and strengthened the walls of the fort to counter the Sikhs.

• Ranjit Singh: In 1818, Ranjit Singh's forces conquered the fort after a long siege and damaged its buildings.

5. British Era (Destruction and Present Form)
The form of the fort that we see in the present era is the remnants of the British era.

• War of 1848-49: In the war between the British and the Governor of Multan, Mulraj, the walls of the fort and the inner grand palaces (like Sheesh Mahal) were completely destroyed due to the heavy bombardment of the British.

• After the war, instead of rebuilding the fort, the British converted it into a cantonment and demolished the wall around it so that there would be no rebellion in the future.

Special feature of the fort
This fort is located on an artificial mound whose height is about 710 feet above sea level. At one time, a branch of the Ravi River flowed around it, which gave it the appearance of an island.

Address

Multan

Telephone

+923087317417

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Junaid Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M.Junaid Akram:

Shortcuts

Share