M.Junaid Akram

M.Junaid Akram Represent Pakistan at MUN Indonesia,
Speaker at NYA, Director MDS,
Social and Political Thinker.

The Function of Leadership is to produce a more leaders not followers that's why I want to become a leader for those who want to become a leader :)

13/02/2026

سلطنت عثمانیہ کے عظیم سلطان، عاشق رسول حضرت سلطان عبدالحمید خان رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی نعت مبارک سنہری حروف سے حجرہ مبارک کی جالیوں کے اوپر درج تھی ، جس کے تقریباً سارے اشعار سعودی حکومت نے مٹا دئیے سوائے ان چند ایک کے جو زیر نظر تصاویر میں ہے ۔

حضرت سلطان کی مکمل نعت شریف ملاحظہ فرمائیں :

يا سيدي يا رسول الله خذ بيدى
مالي سواك ولا الوي على احد

اے میرے آقا اے اللہ کے رسول میرا ہاتھ تھام لیجئے
نہ آپ کے سوا میرا کوئی ہے اور نہ ہی میں آپ کے علاوہ کسی کی طرف مائل ہوتا ہوں۔

فانت نور الھدی في كل كائناة
و انت سراً الندى يا خير معتمد

آپ ہی ساری کائنات میں نور ہدایت ہیں اور آپ ہی ساری التجاؤں کا راز ہیں اور آپ ہی کی ذات سب سے زیادہ معتمد ہے۔

وانت حقاغيات الخلق أجمعهم
وانت هادي الورى للله ذي المدد

اور آپ بے شک ساری مخلوق کی مدد کرنے والے ہیں اور آپ سب سے بہتر رہنما اور اللہ کی جانب سے سب کے ہادی ہیں۔

يا من يقوم مقام الحمد منفرداً
للواحد الفرد لم يولد ولم يلد

اے وہ ذات جن کے لیے سب سے منفرد مقام محمود مقرر ہوا ، اس یکتا ذات کے ہاں کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد۔

يا من تفجرت الانهار نابعة
من اصبعه فروى الجيش ذي العدد

اے وہ ذات کہ جن کی انگلیوں سے دریاؤں کے سے چشمے پھوٹ پڑے جن سے لشکر کے لشکر سیر ہو کر اپنی پیاس بُجھاتے تھے۔

اني اذا سامني ضيم یروعني
اقول يا سيد السادات يا سندي

جب بھی میر اظلم سے سامنا ہوا اور میں خوف زدہ ہوا تو میں یا سید السادات اور یاسندی پکارتا ہوں۔

كن لي شفيعاً الى الرحمن من زللي
وامنن علي بما لا كان في خلدى

آپ رب کی بارگاہ میں میری خطاؤں پر میری شفاعت فرمائیں
اور مجھ پر وہ احسان فرمائیں جو کہ میرے تصور سے بھی بالا ہو۔

وأنظر بعين الرضاء لي دائماً ابداً
واستر بفضلك تقصيري مدى الامد

اور آپ ہمیشہ مجھ پر نگاہ التفات رکھیں ، اور اپنے فضل و کرم سے ہمیشہ میری کوتاہیوں کی پردہ پوشی فرمائیں۔

واعطف على بعفواً منك يشملني
فانني عنك يا مولاى لم أحد.

اور مجھ پر ایسی نظر کرم فرمائیں کہ میری کوتاہیوں کو ڈھانپ لے
بے شک اے میرے آقا آپ کے سوا میرا کوئی نہیں۔

اني توسلت بالمختار أشرف من
رقى السماوات سر الواحد الأحد

بے شک میں نے ایسی مختار ہستی کا وسیلہ پکڑا ہے ، جو آسمانوں سے بھی بالا تر تشریف لے گئے اور اللہ واحد لاشریک کا راز ہیں۔

رب الجمال تعالى الله خالقه
فمثله في جميع الخلق لم اجد

حُسن کے رب نے آپ کی تخلیق کی
اور پوری کائنات میں آپ جیسا کوئی اور نہیں ہے۔

خير الخلائق المرسلين ذرى
ذخر الانام و هاديهم الي الرشد

آپ ساری مخلوق سے بہتر اور تمام رسولوں سے اعلیٰ مقام رکھتے ہیں
آپ پوری مخلوق کے ملجاء و ماوئی اور صراط مستقیم کی طرف ان کے راہنما ہیں۔

به التجئتُ لعل الله يغفر لى
هذا الذي هو في ذهني و معتقدى

انہی کے وسیلے سے میں نے التجاء کی ہے اور امید ہے کہ اللہ مجھے بخش دے گا یہی میرا عقیدہ اور ایمان ہے۔

فمدحة لم يزل دابي مدى عمري
وحبه عند رب العرش مستند

جب تک میری عمر ہے ہمیشہ ان کی تعریف ہی مرا طرز عمل ہے اور ان کی محبت ہی رب العرش کے ہاں قابل اعتماد سرمایہ ہے۔

عليه اذكى صلاة لم تنزل ابداً
مع السلام بلا حصر ولا عدد

ان پر ہمیشہ ہمیشہ بہترین درود ہو
جس کے ساتھ بے حد و شمار صلوۃ و سلام ہو۔

وعلى الآل والصحب اھل المجد قاطبة
بحر السماح واھل الجود والمدد

اور تمام آل اور اصحاب کرام پر جو بڑی فضیلت والے ہیں
اور جو سخاوت اور عفو اور مدد کا سمندر ہیں۔

✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
11/2/26ء

20/01/2026

ایک شخص نے گوہ کا شکار کیا اور اسے اپنے گھرلیجانے کے لیے چل پڑا ۔راستے میں اس نے لوگوں کوایک جگہ جمع ہوئے دیکھا تو کسی سے پوچھا: یہ لوگ کس کے گرد جمع ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس کے گرد جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے( یعنی نبی کریم ﷺ) ۔
وہ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا حضور ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہیں لاتی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے گوہ حضور ﷺکے سامنے پھینک دی ۔
تو حضور ﷺنے فرمایا: اے گوہ(کلام کر)! تو گوہ نے ایسی واضح اورفصیح عربی میں کلام کیا کہ جسے تمام لوگوں نے سمجھا۔ اس گوہ نے عرض کیا: اے دوجہانوں کے رب کے رسول! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ حضور ﷺنے اس سے پوچھا: تم کس کی عبادت کرتی ہو؟ اس نے عرض کیا: میں اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمانوں میں ہے، زمین پر جس کی حکمرانی ہے اور سمندر پر جس کا قبضہ ہے، جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: اے گوہ! میں کون ہوں؟ اس نے عرض کیا: آپ دو جہانوں کے رب کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ جس نے آپ کی تصدیق کی وہ فلاح پاگیا اور جس نے آپ کو جھٹلایا وہ ذلیل و خوار ہوگیا۔
اعرابی یہ دیکھ کر بول اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جب میں آپ کے پاس آیا تھا تو روئے زمین پر آپ سے بڑھ کر کوئی شخص مجھے ناپسند نہ تھا اور بخدا اس وقت آپ مجھے اپنی جان اور اولاد سے بھی بڑھ کر محبوب ہیں۔
حضورﷺ نے فرمایا: اس اللہ کے لئے ہی ہر تعریف ہے جس نے تجھے اس دین کی طرف ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہوگا۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ صرف نماز کے ساتھ قبول کرتا ہے اور نماز قرآن پڑھنے سے ہی قبول ہوتی ہے۔ پھر حضور ﷺ نے اسے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص سکھائیں۔
پھر وہ اعرابی حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ سے باہر نکلا اور واپس گھر کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں اسے ایک ہزار اعرابی ملے ۔ اس نے ان سے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس سے لڑنے جا رہے ہیں جو غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ۔
اس اعرابی نے ان سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: تم نے بھی نیا دین اختیار کرلیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے نیا دین اختیار نہیں کیا (بلکہ دین حق اختیار کیا ہے) پھر اس نے انہیں (گوہ سے متعلق) تمام واقعہ بیان کیا ۔
یہ سن کر ہر کوئی کہنے لگا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ انہیں ملنے کے لئے (تیزی سے) بغیر چادر کے باہر تشریف لائے۔
وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر اپنی سواریوں سے کود پڑے اور حضور نبی اکرمﷺ کو چومنے لگے اور ساتھ ساتھ کہنے لگے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سارے عرب میں صرف بنو سلیم کے ہی ایک ہزار لوگ بیک وقت ایمان لائے ۔

(دلائل النبوہ لابی نعیم ج؛ 1 ص؛ 376 ملخصاً (

❤❤❤

ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک ...
19/01/2026

ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک حتمی تاریخ یا ایک شخص کا نام لینا مشکل ہے کیونکہ یہ ہزاروں سالوں میں مختلف ادوار سے گزرا ہے۔
تاریخی حقائق کے مطابق اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. قدیم بنیادیں (ہزاروں سال پہلے)

تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ ملتان کا قلعہ "ملوئی" (Malhi) قوم نے تعمیر کیا تھا، جو سکندرِ اعظم کے حملے (326 قبل مسیح) کے وقت یہاں آباد تھی۔ اس وقت یہ مٹی کا ایک بہت بڑا ٹیلہ تھا جسے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

2. ہندو دور (کٹوچ خاندان)

بعض روایات کے مطابق، اس قلعے کی باقاعدہ مضبوط تعمیر کٹوچ خاندان کے ہندو راجاؤں نے کی تھی۔ اس دور میں یہ قلعہ اپنی بلندی اور مضبوطی کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا اور اس کے اندر مشہور "سورج مندر" (Sun Temple) بھی واقع تھا۔

3. اسلامی دور اور قلعے کی پختگی

• محمد بن قاسم (712ء): جب محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا، تو قلعے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس دور میں قلعے کی مرمت کی گئی اور اسے ایک مضبوط فوجی چھاؤنی بنایا گیا۔ اسی نسبت سے اسے آج "قاسم فورٹ" کہا جاتا ہے۔

• مغل دور: مغل بادشاہوں (خاص طور پر اکبر اور شاہجہاں) کے دور میں اس قلعے کی فصیل کو پختہ کیا گیا اور اس کے اندر شاہی عمارتیں، باغات اور مسجدیں تعمیر کی گئیں۔

4. نواب مظفر خان اور سکھ دور

• نواب مظفر خان شہید: 18ویں صدی کے آخر میں ملتان کے افغان گورنر نواب مظفر خان نے قلعے کی دیواروں کو مزید بلند اور مضبوط کیا تاکہ سکھوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

• رنجیت سنگھ: 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج نے ایک طویل محاصرے کے بعد قلعہ فتح کیا اور اس کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔

5. برطانوی دور (تباہی اور موجودہ شکل)
موجودہ دور میں ہمیں قلعے کی جو شکل نظر آتی ہے، وہ برطانوی دور کی باقیات ہیں۔

• 1848-49 کی جنگ: انگریزوں اور ملتان کے گورنر مولراج کے درمیان ہونے والی جنگ میں انگریزوں کی شدید بمباری سے قلعے کی دیواریں اور اندرونی عظیم الشان محلات (جیسے شیش محل) مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔

• جنگ کے بعد انگریزوں نے قلعے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے اسے ایک چھاؤنی میں بدل دیا اور اس کے گرد موجود فصیل کو گرا دیا تاکہ مستقبل میں کوئی بغاوت نہ ہو سکے۔

قلعے کی خاص بات
یہ قلعہ ایک مصنوعی ٹیلے پر واقع ہے جس کی اونچائی سطح سمندر سے تقریباً 710 فٹ ہے۔ کسی زمانے میں اس کے گرد دریائے راوی کی ایک شاخ بہتی تھی جو اسے ایک جزیرے کی شکل دے دیتی تھی۔

Multan Fort, also known as "Qasim Fort", is one of the oldest forts in the world. It is difficult to give a definitive date or name a person for its construction as it has gone through various periods over thousands of years.
The details of it according to historical facts are as follows:

1. Ancient Foundations (Thousands of Years Ago)

Historians believe that Multan Fort was built by the "Malhi" tribe, who inhabited the place at the time of Alexander the Great's invasion (326 BC). At that time, it was a huge mound of earth used for defensive purposes.

2. Hindu Period (Katoch Dynasty)

According to some traditions, this fort was formally fortified by the Hindu kings of the Katoch dynasty. During this period, this fort was considered impregnable due to its height and strength and the famous "Sun Temple" was also located inside it.

3. Islamic period and the fortification of the fort

• Muhammad bin Qasim (712 AD): When Muhammad bin Qasim conquered Multan, the importance of the fort increased further. During this period, the fort was renovated and made into a strong military garrison. For this reason, it is called "Qasim Fort" today.

• Mughal period: During the reign of the Mughal emperors (especially Akbar and Shah Jahan), the walls of the fort were fortified and royal buildings, gardens and mosques were built inside it.

4. Nawab Muzaffar Khan and the Sikh period

• Nawab Muzaffar Khan Shaheed: In the late 18th century, Nawab Muzaffar Khan, the Afghan governor of Multan, further raised and strengthened the walls of the fort to counter the Sikhs.

• Ranjit Singh: In 1818, Ranjit Singh's forces conquered the fort after a long siege and damaged its buildings.

5. British Era (Destruction and Present Form)
The form of the fort that we see in the present era is the remnants of the British era.

• War of 1848-49: In the war between the British and the Governor of Multan, Mulraj, the walls of the fort and the inner grand palaces (like Sheesh Mahal) were completely destroyed due to the heavy bombardment of the British.

• After the war, instead of rebuilding the fort, the British converted it into a cantonment and demolished the wall around it so that there would be no rebellion in the future.

Special feature of the fort
This fort is located on an artificial mound whose height is about 710 feet above sea level. At one time, a branch of the Ravi River flowed around it, which gave it the appearance of an island.

05/09/2025
موٹرسائیکل کے طویل ترین سفر کا عالمی ریکارڈ ارجنٹائن کے ایمیلیو اسکاٹو کا ہے. جو 17 جنوری 1985 کو گھر سے نکلا اور 2 اپری...
20/11/2024

موٹرسائیکل کے طویل ترین سفر کا عالمی ریکارڈ ارجنٹائن کے ایمیلیو اسکاٹو کا ہے. جو 17 جنوری 1985 کو گھر سے نکلا اور 2 اپریل 1995 کو واپس آیا، مجموعی طور پر 735,000 کلومیٹر کا سفر کیا اور 214 ممالک اور آزاد علاقوں کا دورہ کیا.!
ایمیلیو نے پورا سفر ہونڈا موٹرسائیکل ( گولڈ ونگ 1980 GL1100) پر کیا، جسے "بلیک شہزادی" کا نام دیا گیا ہے۔ دس سال تک "بلیک شہزادی" نے 47,000 لیٹر پٹرول، 1300 لیٹر انجن آئل، 86 ٹائر، 12 بیٹریاں اور 9 سیٹیں استعمال کیں۔! 735,000 کلومیٹر میں صرف ایک انجن کی تبدیلی کی ضرورت پڑھی۔ گھر واپسی پر ایمیلیو نے( The Longest Ride) لکھی جس میں اس نے 224 صفحات پر اپنے حیرت انگیز سفر کو بیان کیا۔

😻بھیڑیا  واحد  جانور  ھے  جو اپنے والدین کا انتہائی وفادار ھے یہ  بڑھاپے میں اپنے  والدین کی خدمت کرتا ھے۔ یہ ایک غیرت م...
08/09/2024

😻بھیڑیا واحد جانور ھے جو اپنے والدین کا انتہائی وفادار ھے یہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی خدمت کرتا ھے۔ یہ ایک غیرت مند جانور ھے اسلئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑے سے تشبیہ دیتے ھیں 😻
🌻‏ ‏" بھیڑیا" واحد ایسا جانور ھے جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی کا غلام نہیں بنتا جبکہ شیر سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ھے۔۔۔
بھیڑیا کبھی ﻣٌﺮﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ کھاتا اور یہی جنگل ‏کے بادشاہ کا طریقہ ھے اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث( والدہ، بہن) پر جھانکتا ھے یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف بھیڑیا اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔۔۔
بھیڑیا اپنی شریک حیات کا اتنا وفادار ہوتا ھے کہ اس کے علاؤہ ‏کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا۔ اسی طرح مؤنث( یعنی اس کی شریک حیات) بھیڑیا کے ساتھ اسی طرح وفاداری نبھاتی ھے۔۔۔
بھیڑیا اپنی اولاد کو پہنچانتا ھے کیونکہ ان کے ماں و باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔۔۔
جوڑے میں سے اگر کوئی ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ ‏پر کم از کم تین ماہ کھڑا بطور ماتم افسوس کرتا ھے۔۔۔
بھیڑئیے کو عربی زبان میں "ابن البار" کہا جاتا ہے، یعنی"نیک بیٹا" کیونکہ جب اس کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے شکار کرتا ھے اور ان کا پورا خیال رکھتا ھے۔۔۔
‏اس لئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑئیے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ انکا ماننا ھے کہ
"شیر جیسا خونخوار بننے سے بہتر ھے بھیڑیے جیسا نسلی ہونا"🌻

‏ایمزون کا جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے یہ جنگل دنیا کے 9 ممالک تک...
06/08/2024

‏ایمزون کا جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے یہ جنگل دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جس میں سرفہرست برازیل ہے۔اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جبکہ پاکستان کا رقبہ 7 لاکھ 95 ہزار مربع کلومیٹر ہے.اگر آپ ایمزون کے گھنے جنگلات میں ہوں اور موسلا دھار بارش شرع ہوجائے تو تقریبا 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گآ۔زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں
‏دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں
‏یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔ یہ لوگ اکیسیوں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذاررہے ہیں
‏اسکے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے
‏یہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈ میں مرجائے
‏ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائی 7ہزار کلومیٹر ہے،
‏دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں
‏ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں
‏یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں
‏یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں
‏مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں

یہ گاؤں 1300 سال سے سمندر پر تیر رہا ہے۔ یہ دنیا کی واحد تیرتی بستی ہے۔ اس برادری کے لوگوں کو ٹانکا یا ٹانکا لوگ کہا جات...
05/08/2024

یہ گاؤں 1300 سال سے سمندر پر تیر رہا ہے۔

یہ دنیا کی واحد تیرتی بستی ہے۔ اس برادری کے لوگوں کو ٹانکا یا ٹانکا لوگ کہا جاتا ہے اور ان کی تعداد 7000 ہے۔ انہیں بعض اوقات چینی اور انگریزوں نے 'سمندری خانہ بدوش' کہا تھا۔ ان کے گھر سمندر پر تیر رہے ہیں۔ یہ کشتیاں رہنے کے کمرے، کچن اور باتھ رومز سے لیس ہیں۔

شادیوں سے لے کر جنازے تک سب کچھ ان کشتیوں پر ہوتا ہے۔ تنکا قبیلے کے لوگوں کی پوری زندگی پانی اور مچھلی کے گرد گھومتی ہے۔ اس قبیلے کے لوگ زیادہ تر ماہی گیری کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

جبکہ بہت سے لوگ نمک کی صنعت میں کام کرتے ہیں کچھ موتیوں کی ماہی گیری کے لیے سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹانکا کے لوگوں نے 1300 سالوں سے زمین پر پاؤں نہیں جمائے تھے۔

ایکسپلور ایڈو پیڈیا

02/07/2024

ساغر صدیقی کہ والد نے ساغر کی پسند کو یہ کہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ہم خاندانی لوگ ھیں کسی تندور والے کی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے غصہ میں اس لڑکی کہ گھر والوں نے لڑکی کی شادی پنجاب کہ ایک ضلع حافظ آباد میں کردی تھی جو کامیاب نہ ہوئی
لیکن ساغر اپنے گھر کی تمام آسائش و آرام
چھؤڑ چھاڑ کر لاھور رہنے لگا

جب اسکی محبوبہ کو پتا چلا ساغر داتا دربار ہے۔ تو وہ داتا صاحب آ گئی کافی تلاش کہ بعد آ خر تاش کھیلتے ھوئے ایک نشئیوں کہ جھڑمٹ میں ساغر مل ہی گیا
اس نے ساغر کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور یہ بھی بتایا کہ مجھے میرے خاونذ نے ھاتھ تک نہیں لگایا اور ہماری داستان محبت سن کر مجھے طلاق دیدی ھے اب اگر تم چاہو تو مجھے اپنا لو

ساغر نے کہا
*بندہ پرور کوئی خیرات نہیں
ھم وفاؤں کا صلہ مانگتے ھیں*

غربت، ڈپریشن، ٹینشن کی وجہ سے ساغر صدیقی کے آخری چند سال نشے میں گزرے اور وہ بھیک مانگ کر گزارہ کیا کرتے تھے گلیوں میں فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے لیکن اس وقت بھی انھوں نے شاعری لکھنا نہ چھوڑی۔

میری غربت نے میرے فن کا اڑا رکھا ہے مزاق۔۔
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ *ساغر* کو خدا یاد نہیں۔

*ساغر صدیقی ۔ ۔ ۔*

کہتے ہیں کہ جب جنرل ایوب خان صاحب پاکستان کے صدر تھے تو ان دنوں جنرل ایوب خان صاحب کو بھارت میں ایک مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا جب مشاعرہ سٹارٹ ہوا تو ایک شاعر نے ایک درد بھری غزل سے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔
جب وہ شاعر شاعری کر کے فارغ ہوا تو جنرل صاحب اس شاعر کو کہتے ہیں کہ محترم جو غزل آپ نے سٹارٹ میں پڑھی بہت درد بھری غزل تھی یقینا" کسی نے خون کے آنسووں سے لکھی ہو گی اور داد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت پسند آئی ہے تو وہ شاعر بولے جناب عالی اس سے بڑی آپ کے لئے خوشخبری اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غزل کا خالق، اس کو لکھنے والا لکھاری یعنی شاعر آپ کے ملک پاکستان کا ہے، جب جنرل صاحب نے یہ بات سنی تو آپ دھنگ رہ گے اتنا بڑا ہیرہ میرے ملک کے اندر اور مجھے پتہ ہی نہیں جب آپ نے اس شاعر سے اس غزل کے لکھاری یعنی شاعر کا نام پوچھا تو اس نے کہا جناب عالی اس درد بھرے شاعر کو ساغر صدیقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
جب جنرل صاحب پاکستان واپس آئے اور ساغر صدیقی صاحب کا پتہ کیا تو کسی نے بتایا کہ جناب عالی وہ لاہور داتا صاحب کے قریب رہتے ہیں تو جنرل صاحب نے اسی وقت اپنے چند خاص آدمیوں پہ مشتمل وفد تحائف کے ساتھ لاہور بھیجا اور ان کو کہا کہ ساغر صدیقی صاحب کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میرے پاس لاو اور کہنا کہ جنرل ایوب خان صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
جب وہ بھیجا ہوا وفد لاہور پہنچا تو انہوں نے اپنا تعارف نہ کرواتے ہوئے داتا دربار کے سامنے کھڑے چند لوگوں سے شاعر ساغر صدیقی کی رہائش گاہ کے متعلق پوچھا تو ان کھڑے چند لوگوں نے طنزیہ لہجوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کہا کہ کیسی رہائش؟؟ کون سا شاعر؟؟ ارے آپ اس چرسی اور بھنگی آدمی سے کیا توقع رکھتے ہیں اور پھر کھڑے ان چند لوگوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں سامنے پڑا ہے چرسیوں اور بھنگیوں کے جھرمٹ میں، جب وہ جنرل ایوب خان صاحب کا بھیجا ہوا وفد ساغر صدیقی صاحب کے پاس گیا اور ان کو جنرل صاحب کا پیغام دیا تو ساغر صدیقی صاحب کہنے لگے جاو ان سے کہہ دو کہ ساغر کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی اسی لئے ساغر کسی سے نہیں ملتا (جب ساغر صدیقی نے یہ بات کہی تو بشمول ساغر نشے میں مست وہاں موجود ہر نشئی ایک زور دار قہقہے کے ساتھ کچھ دیر کے لئے زندگی کے دیے غموں کو بھول گیا) بہرحال بےپناہ اسرار (ترلوں) کے باوجود وہ وفد واپس چلا گیا اور سارے احوال و حالات سے جنرل صاحب کو آگاہ کیا۔
کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان صاحب پھر خود ساغر صدیقی صاحب سے ملنے کے لئے لاہور آئے اور جب ان کا سامنا ساغر صدیقی صاحب سے ہوا تو ساغر صدیقی صاحب کی حالت زار دیکھ کر جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی اک نہ رکنے والی جھڑی لگ گئ اور پھر انہوں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے غم سے چور اور نشے میں مست ساغر صدیقی سے جب مصافحہ کرنا چاہا تو ساغر صدیقی صاحب نے یہ کہتے ہوئے ان سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا
کہ

جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی،،،
اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

16/06/2024

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا’’ آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔ چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور’’ اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔
حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔اور آدم تھا، نہ آدم زاد-
وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔
ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ اللہ پر توکّل کرنے والے صابر و شاکر بندوں کو ایسے ہی بیش قیمت انعامات سے نوازا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ پاک، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ پر رحمت فرمائے، اگر وہ پانی سے چُلّو نہ بھرتیں اور اُسے رُکنے کا نہ کہتیں، تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔‘‘ آبِ زَم زَم غذا بھی ہے اور شفا بھی۔ دوا ہے اور دُعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ماں، بیٹے کے لیے بہترین غذا کا بندوبست کیا، بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے فیض یاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا۔
حضرت ہاجرہؑ اپنے صاحب زادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھیں کہ ایک روز عرب کے قبیلے، بنو جرہم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے اور حضرت ہاجرہؑ کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی۔ پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُنسان صحرا دنیا کے سب سے مقدّس و متبرّک اور عظیم شہر، مکّہ مکرّمہ میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی-
تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پَلک جھپکتے گزر گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام مکّے کی مقدّس فضائوں میں آبِ زَم زَم پی کر اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے مالک، خُوب صورت نوجوان کا رُوپ دھار چُکے تھے کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمھیں ذبح کر رہا ہوں، تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟(فرماں بردار بیٹے نے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہوئے فرمایا)،ابّا جان! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کیجیے۔اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصٰفٰت102:37) حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ اے ہاجرہؑ!آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘ممتا کے مقدّس، شیریں اور اَن مول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی۔ آنکھوں میں سُرمہ، سَر میں تیل لگایا اور خُوش بُو میں رچا بسا کر باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا۔اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی ایک تیز دھار چُھری کا بندوبست کر چُکے تھے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکّے سے باہر مِنیٰ کی جانب چل دیئے۔شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔
ںشیطان اپنی ناکامی پر بڑا پریشان تھا۔ تینوں مرتبہ کی کنکریوں نے اس کے جسم کو زخموں سے چُور کر دیا تھا، اچانک اسے ایک نئی چال سوجھی اور وہ عورت کا بھیس بدل کر بھاگم بھاگ حضرت ہاجرہؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا’’ اے اسماعیلؑ کی ماں! تمہیں علم ہے کہ ابراہیمؑ تمہارے لختِ جگر کو کہاں لے گئے ہیں؟‘‘ حضرت ہاجرہؑ نے فرمایا’’ ہاں،وہ باہر گئے ہیں، شاید کسی دوست سے ملنے گئے ہوں۔‘‘ شیطان نے اپنے سَر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’’وہ تیرے بیٹے کو ذبح کرنے وادیٔ منیٰ میں لے گئے ہیں۔‘‘حضرت ہاجرہؑ نے حیرت اور تعجّب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شفیق اور مہربان باپ اپنے چہیتے اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کردے؟‘‘اس موقعے پر بے ساختہ شیطان کے منہ سے نکلا’’وہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم پر کر رہے ہیں۔‘‘یہ سُن کر صبر و شُکر اور اطاعت و فرماں برداری کی پیکر، اللہ کی برگزیدہ بندی نے فرمایا’’ اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو ایک اسماعیلؑ کیا، اس کے حکم پر 100اسماعیلؑ قربان ہیں۔‘‘
شیطان یہاں سے نامُراد ہو کر واپس مِنیٰ کی جانب پلٹا، لیکن وہاں کا ایمان افروز منظر دیکھ کر اپنے سَر پر خاک ڈالنے اور چہرہ پیٹنے پر مجبور ہو گیا۔ وادیٔ مِنیٰ کے سیاہ پہاڑ، نیلے شفّاف آسمان پر روشن آگ برساتا سورج، فلک پر موجود تسبیح و تہلیل میں مصروف ملائکہ، اللہ کی راہ میں اپنی متاعِ عزیز کی قربانی کا محیّر العقول منظر دیکھنے میں محو تھے۔مکّے سے آنے والی گرم ہوائیں بھی مِنیٰ کی فضائوں میں موجود عبادت و اطاعت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر کی ایک عظیم داستان رقم ہوتے دیکھ رہی تھیں۔

روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو لیٹنے کی ہدایت دی،

تو حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے فرمایا’’
ابّا جان! مَیں پیشانی کے بَل لیٹتا ہوں تاکہ آپؑ کا چہرہ مجھے نظر نہ آئے اور آپؑ بھی اپنی آنکھوں پر پٹّی باندھ لیں تاکہ جب آپؑ مجھے ذبح کر رہے ہوں، تو شفقتِ پدری کے امرِ الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔‘‘صبر و استقامت کے کوہِ گراں والد نے گوشۂ جگر کے مشورے پر عمل کیا اور جب اسماعیل علیہ السّلام لیٹ گئے، تو تکمیلِ احکامِ خداوندی میں تیز دھار چُھری کو پوری قوّت کے ساتھ لختِ جگر کی گردن پر پھیر دیا۔

باپ، بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السّلام جنّت کے باغات میں پلے سفید رنگ کے خُوب صورت مینڈھے کو لے کر حاضر ہوئے۔ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے ذبح سے فار غ ہو کر آنکھوں سے پٹّی ہٹائی، تو حیرت زدہ رہ گئے۔ بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا، جب کہ اسماعیل علیہ السّلام قریب کھڑے مُسکرا رہے تھے۔

اسی اثنا میں غیب سے آواز آئی’

’اے ابراہیمؑ!
تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔
بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔(سورۃ الصٰفٰت 105:37)

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے اس بے مثال جذبۂ ایثار، اطاعت و فرماں برداری، جرأت و استقامت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر پر مُہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا..

’’اور ہم نے (اسماعیلؑ)کی عظیم قربانی پر اُن کا فدیہ دے دیا۔‘‘اللہ ربّ العزّت کو اپنے دونوں برگزیدہ اور جلیل القدر بندوں کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت، عبادت اور قربتِ الہٰی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا......

جب روضہء رسول پر حاضری دیتے ہیں تو زبان گُنگ ہوجاتی ہےضبط کا بندھن ٹوٹ جایا کرتا ہے اور پھر آنسو ہوتے ہیں اور سرکارِ دو ...
14/06/2024

جب روضہء رسول پر حاضری دیتے ہیں تو زبان گُنگ ہوجاتی ہے
ضبط کا بندھن ٹوٹ جایا کرتا ہے
اور پھر آنسو ہوتے ہیں اور سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ مطہر دھیان میں بس۔
حضرت_بلال_حبشی کا عکس پیش کرنے والے ایک امتی کی گنبدِ خضریٰ پر حاضری کا منظر
دل کی تڑپ اور آنسوؤں سے کلام

کتنی محبت سے آقا کریم علیہ وآلہ وسلم نے نظر اٹھا کر دیکھا ہو گا ۔۔۔سبحان اللہ ♥️

خدایا عشق محمدﷺ میں ایسا بھی مقام آئےکہ سانس بعد میں آئے پہلے نبیﷺ کا نام آئےمیری حیات کے لمحے بسر ھوں کچھ ایسےکبھی درود...
03/05/2024

خدایا عشق محمدﷺ میں ایسا بھی مقام آئے
کہ سانس بعد میں آئے پہلے نبیﷺ کا نام آئے

میری حیات کے لمحے بسر ھوں کچھ ایسے
کبھی درودﷺ لبوں پر ہو تو کبھی سلامﷺ آئے...
آمین ثم آمین

صَلَّی اللّٰهُ عَلَیہِ وَآلِہِ وَسَلَّم ❤️
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️

Address

Multan

Telephone

+923087317417

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Junaid Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M.Junaid Akram:

Share