Royal Rishta

Royal Rishta RISHTA CENTER

06/05/2026
لاہور: کل دن دیہاڑے رحمان گارڈن کے علاقہ میں رہائشیوں کی سیکورٹی پر مامور گارڈز ایک گھر میں گھس گئے چادر اور چار  دیواری...
03/05/2026

لاہور: کل دن دیہاڑے رحمان گارڈن کے علاقہ میں رہائشیوں کی سیکورٹی پر مامور گارڈز ایک گھر میں گھس گئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا ، معاذ نامی ایک بزرگ شہری اور انکے عزیز کو مارتے ہوئے گھر سے باہر لائے ، سڑک پر بھی تش۔دد کا نشانہ بنایا ، معصوم بچے اور بچیاں ہاتھ جوڑتے رہے مگر گارڈ نے ایک نہ سنی اور شہری کو گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے ، ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی تھی مگر چند گھنٹوں بعد ڈراپ سین یہ ہوا کہ رحمان گارڈن کے چیف صاحب کے دفتر میں سیکورٹی گارڈز نے شہری سے معافی مانگی ، باس نے گارڈز کو کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دیا اور بچوں کے سامنے تش۔دد کا نشانہ بننے والا شہری واپس اپنے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ مگر ویڈیو دیکھنے والوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ معاملہ کیا تھا ، ایسی کیا آفت آگئی تھی کہ سوسائٹی کے محافظ ایک شہری کو گھسیٹ کر اپنے دفتر لے گئے اور بعد میں باس نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی ، گارڈز کو نوکری سے نکالا گیا یا نہیں لیکن ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی کیوں نہ ہوئی ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ معاملے سے باخبر لوگ کمنٹس میں ضرور بتائیں

وڈیروں کے بیٹے گاؤں کی بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلنے لگےجب دل کرے کسی کی بھی بیٹی کو اٹھا کر لیجاتے ہیں ،سی سی ڈی کہاں ,میری...
03/05/2026

وڈیروں کے بیٹے گاؤں کی بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلنے لگے
جب دل کرے کسی کی بھی بیٹی کو اٹھا کر لیجاتے ہیں ،سی سی ڈی کہاں ,میری بچی کو زبردستی اٹھا کر لے جاتے ہیں اور میں کچھ نہیں کرسکتا
بے بس اور لاوارث سندھی باپ کی دُہائیاں, اس کا تعلق سندھ کے شہر دادو تحصیل مھڑ سے ہے کل جب اس کی بیٹی شبانہ پیپر دینے جارہی تھی تو ایک بااثر شخص فرید اپنی بہن کے ساتھ گاڑی میں آیا اور زبردستی سب کے سامنے اٹھا کر لے گیا ۔بڑی مشکل سے ایک مکان سے اس کی بیٹی کو چھڑوایا گیا فرید کے مطابق اس کا دل اس لڑکی پر آگیا ہے اور وہ اس کی بیٹی کا پیچھا آٹھویں کلاس سے کر رہا ہے ۔جب بچی اسکول جانے کے لیئے باہر نکلتی ہے تو وہ گاڑی میں پیچھے پیچھے آجاتا ہے ۔

وڈیروں کے بیٹے معصوم بیٹیوں کی عزت سےکیا غریب کی بیٹی کی کوئی عزت نہیں؟ کب تک وڈیروں کے بیٹے معصوم بیٹیوں کی عزت سے کھیلیں گے؟
اس بے بس باپ کی آواز ایوانوں تک پہنچانے میں مدد کریں ویڈیو کو آگ کی طرح پھیلا دیں 🙏

اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔ پہلا دن۔ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہ...
24/04/2026

اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں

سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔

ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان میں فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالی کرنی پڑتی ہیں۔ ڈگری ملی تو لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن پروٹوٹائپ انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا پروٹوٹائپ سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اب پاکستان اپنے کمرشل جیٹ انجن بنانے کی صلاحیت جلد حاصل کر سکتا ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔ اب بات کرتے ہیں تمہاری۔ ہاں تمہاری۔ جو یہ پوسٹ پڑھ رہی ہو۔ اسکول میں ہو، کالج میں ہو، یا یونیورسٹی میں۔ تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا: سارہ کی طرح لیب کا راستہ۔ رات دس بجے گارڈ کے طعنے سننا، مگر انجن بنا کر نکلنا۔ دوسرا: انسٹاگرام کا راستہ۔ ریل بنانا، لائک گننا، اور دس سال بعد پچھتانا کہ “کاش میں نے بھی کچھ کر لیا ہوتا”۔ سارہ تمہیں بتا رہی ہے کہ مکینیکل انجینئرنگ لڑکوں کا فیلڈ نہیں ہے۔ R&D پاکستان میں نہیں ہو سکتی یہ جھوٹ ہے۔ جیٹ انجن ہم نہیں بنا سکتے یہ بہانہ ہے۔ اس نے کر کے دکھا دیا۔ اب بال تمہارے کورٹ میں ہے۔ تمہارا باپ سائنسدان نہیں ہے؟ سارہ کا تھا۔ تم فائدہ اٹھاؤ۔ اپنے بھائی کو، والد کو، استاد کو اپنا پارٹنر بناؤ۔ ٹیم بناؤ۔ سارہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے والد مسعود لطیف قریشی اس کے کو-فاؤنڈر ہیں۔ باپ بیٹی نے مل کر دنیا ہلا دی۔ تم بھی کسی کا ہاتھ پکڑو۔ اور سب سے ضروری بات: مسئلہ ڈھونڈو۔ رونا بند کرو۔ دنیا گلوبل وارمنگ سے رو رہی تھی۔ سارہ نے انجن بیچ کر اربوں بھی کمائے اور دنیا بھی بچا لی۔ تمہارے گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہے؟ سولر پمپ بناؤ۔ لوڈ شیڈنگ ہے؟ بیٹری بناؤ۔ بے روزگاری ہے؟ ایپ بناؤ۔ بہانہ مت بناؤ۔ سارہ کے پاس ہزار بہانے تھے۔ “میں لڑکی ہوں” سب سے آسان تھا۔ اس نے استعمال نہیں کیا۔ تم بھی مت کرو۔

2026 ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے دس لاکھ لوگوں کو AI سکھائیں گے۔ مگر AI سے پہلے ایرو اسپیس ہے۔ جیٹ انجن ہے۔ ہارڈ ویئر ہے۔ اگر ہم نے سارہ جیسی دس لڑکیاں اور پیدا نہ کیں، تو کل ہم AI بھی باہر سے خریدیں گے، انجن بھی، اور جہاز بھی۔ اور ہماری بیٹیاں ایئر ہوسٹس بن کر ان جہازوں میں چائے سرو کریں گی جو ہماری ہی کسی بہن نے ایجاد کیے ہو سکتے تھے۔ فیصلہ ابھی کرو۔ یہ پوسٹ اس لڑکی کو بھیجو جو کہتی ہے “مجھ سے نہیں ہو گا”۔ اس کے ماتھے پر مارو یہ پوسٹ۔ اسے بتاؤ کہ NUST کی اس کلاس میں ساٹھ لڑکوں کے سامنے ایک سارہ کھڑی ہوئی تھی۔ آج پوری دنیا اس کے سامنے کھڑی ہے۔ تم بھی کھڑی ہو سکتی ہو۔ شرط صرف ایک ہے: کلاس کا راستہ مت پوچھو، کلاس کا راستہ بناؤ۔ اور جب انجن بن جائے تو دنیا کو بتانا مت بھولو کہ “ہاں، میں پاکستان کی بیٹی ہوں۔ اور میں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا".

منتخب

Address

Cannat Lahore
Lahore
042

Opening Hours

Monday 10:00 - 05:00
Tuesday 10:00 - 05:00
Wednesday 10:00 - 05:00
Thursday 10:00 - 05:00
Friday 10:00 - 05:00
Saturday 10:00 - 05:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Royal Rishta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share