09/06/2026
بارش کا پانی: ضیاع نہیں، قومی اثاثہ
پاکستان کو ایک طرف پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف ہر سال مون سون کی بارشوں کے دوران لاکھوں کیوسک قیمتی پانی بغیر کسی مؤثر منصوبہ بندی کے نالوں اور دریاؤں میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں سیلاب، سڑکوں کی تباہی اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
یہ تصویر بارش کے پانی کے انتظام کے دو مختلف طریقوں کی عکاسی کرتی ہے۔ بائیں جانب دکھایا گیا غلط طریقہ بارش کے پانی کو فوری طور پر نکاسی آب کے نظام میں منتقل کرتا ہے، جس سے پانی ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ شہری انفراسٹرکچر پر بھی اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ دائیں جانب صحیح طریقہ بارش کے پانی کو فلٹریشن کے بعد زمین میں جذب کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کرنے کا مؤثر حل پیش کرتا ہے۔
اگر پاکستان میں گھروں، عمارتوں، اسکولوں اور سرکاری اداروں میں رین واٹر ہارویسٹنگ(Rain harvesting )کے نظام کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف پانی کی قلت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ، سیلابی خطرات میں کمی اور آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے محفوظ ذخائر بھی یقینی بنائے جا سکتے ہیں۔
آج بارش کے پانی کو محفوظ کرنا ایک انتخاب نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔🌲🌲🌳🌳