Prime Time Flower Decoration

Prime Time Flower Decoration Event planner and flower decor

الكلب المشنوق      پھانسی لگا ہوا کتاایک بادشاہ سیر وتفریح پر نکلا جاتے جاتے کہیں دور ہی نکل گیا دیکھا تو ایک گھر ہے جس ...
02/04/2024

الكلب المشنوق پھانسی لگا ہوا کتا
ایک بادشاہ سیر وتفریح پر نکلا جاتے جاتے کہیں دور ہی نکل گیا دیکھا تو ایک گھر ہے جس کا مالک سخی طبیعت کا تھااس نے بادشاہ کی خوب مہمان نوازی کی بادشاہ کی نظر جب پھانسی پر لٹکے کتے پر پڑی تو گھر کے مالک سے اس کا سبب پوچھا مگر مالک نے سبب بتانے سے انکار کردیا حالانکہ بادشاہ نے اس کو اپنا تعارف بھی کرایا بادشاہ نے دوسرے دن قاصد بھیج پھر پھانسی پر لٹکے کتے کا سبب پوچھا مگر وہ شخص پھر انکاری ہوگیا بادشاہ کو بڑا غصہ آیا تو اس نے اپنے داروغہ کو بھیجا کہ اس شخص کو گرفتار کرکے لےآؤ داروغہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کو دربار میں پیش کردیا بادشاہ نے پھر پھانسی لگے کتے کا سبب پوچھا مگر وہ پھر انکاری ہوگیا تو بادشاہ اب کو لالچ دے سبب پوچھنے کی کوشش کی تو اس شخص نے اس شرط پر کہ کچھ عرصہ بادشاہی اس کو دی جائے تو پھر سبب بتاۓ گا مگر بادشاہ نے اس ڈر سے کہ کہیں مستقل قبضہ ہی نہ کرلے انکار کردیا مگر پھر بھی بادشاہ کو سکون نہیں آیا حتی کہ پھانسی پر لٹکے کتے نے بادشاہ کی نیند تک حرام کردی آخر کار بادشاہ نے تنگ آکر اس شخص کو بلایا اور بادشاہی اس کے حوالے کردی جب وہ شخص بادشاہی کے تخت پر بیٹھا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ تمام وزراء کو جیل میں ڈال دیا اور تمام بڑے بیورو کریٹس اورسیاست دان اور ججز اور اسٹیبلشمنٹ کو جیل میں بند کردیا اور ساتھ والے تمام ملکوں سے لین دین بند کردیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا جب اسکی مدت پوری اور پرانے بادشاہ کو دوبارہ بادشاہی سونپی تو ملک میں امن امان تھا اور خزانہ بھی بھرا ہوا تھا تو اس اس نے پھانسی پر لگے کتے کا سبب بادشاہ کو بتایا کہ میں ایک آجڑی ہوں اور میرا بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا اور یہ کتا ان کی حفاظت کے لئے تھا مگر میرے ریوڑ سے روزانہ ایک بکری غائب ہوتی تھی تو جب میں نے سبب معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ کتا ہی حفاظت کرنے کی بجائے بکریوں کو خود بھی کھاتا تھا اور دوسرے کتوں کو بھی کھلاتا تھا تو میں نے اس کو بطور سزا اور عبرت کے پھانسی پر لٹکا دیا اور میرے کتے کی طرح ہی تیرے وزراء اور باقی لوگ خود بھی خزانہ لوٹتے تھے اور دوسروں کو بھی لٹاتے تھے جن کو میں نے بطور سزا جیل میں بند کردیا اور جب سے ان کو جیل میں بند ملکی خزانہ بھرگیا اورملک خوشحال ہوگیا.

اقتباس من القصہ العربیہ موضوع الکلب المشنوق

🔘 روح کا داغ 🔘 حصہ دوم🔘 سلطان شھزادی میں مسلمان ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا غلام ہوں میری نظر آپکے جسم پر نہیں بلکہ خود میر...
14/03/2024

🔘 روح کا داغ
🔘 حصہ دوم

🔘 سلطان شھزادی میں مسلمان ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا غلام ہوں میری نظر آپکے جسم پر نہیں بلکہ خود میری اپنی روح پر تھی شاید میرے جسم سے گناہ کا داغ دھل جاتا لیکن میری روح پر اس گناہ کا داغ لیکر میں اپنے نبی پاک ﷺ کے سامنے کیسے پیش ہوتا۔۔۔۔؟ مجھے یہ گوارہ نہیں تھا کیونکہ الحمد للہ میں ایک سچّا مسلمان ہوں۔

🔘 شہزادی یہ جواب سن کر اس سپاہی کی اپنے سچے مذہب اسلام کیساتھ لگاؤ، محبت اور وفاداری دیکھ کر انکے کردار سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی جیسے اسکا دل اسی اجنبی کے مذہب اور زندگی میں شامل ہونے کو بیقرار ہو۔

🔘 یہ کہہ کر سلطان نے اجازت چاہی۔۔۔۔۔
شھزادی اپنا اور اپنی فوج کا نام تو بتاتے جاؤ ہم یاد رکھیں گے۔
سلطان نے چادر سے نقاب اوڑھا تیر ترکش کندھے پر ڈالے تلوار اپنے میان میں ڈالی اور گھوڑے کی رکابیں پکڑتے ہوے بولے۔۔۔۔۔۔۔

🔘 شھزادی میرا نام ہے سلطان محمود غزنوی اور میں ہی غزنی کی عظیم الشان فوج کا سپہ سالار اعظم اور سلطان (بادشاہ) ہوں، یہ کہہ کر سلطان نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی اور سرپٹ دوڑتے ہوۓ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔

🔘 اللہ اکبر سبحان اللہ ماشاءاللہ۔

🔘 یہ تھے اللہ و رسولﷺ کے سچے وفادار ایسے تھے اسلامی سلطنت کے حکمران، اور مسلمان بادشاہ اور کامل ایمان والے آج انکے نقشِ قدمِ پاک ہم سب کیلئے راہِ نجات ہیں -

🔘 انتہائی سبق آموز لاجواب تحریر🔘 روح کا داغ 🔘 حضرت سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے کچھ سپہ سالاروں کیساتھ جنگل کے...
14/03/2024

🔘 انتہائی سبق آموز لاجواب تحریر
🔘 روح کا داغ

🔘 حضرت سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے کچھ سپہ سالاروں کیساتھ جنگل کے راستہ سے بھٹک گئے، عصر سے وقت تیزی سے سورج ڈھلنے کیطرف گزر رہا تھا سلطان جنگل میں راستہ تلاش کرنے میں سرگرداں تھے.

🔘 کہ ایک ہندو دھرم کی شہزادی پر نگاہ پڑی جو اپنی کنیز کیساتھ شاید شکار پر نکل آئی تھی اکیلی شہزادی اور اسکی کنیز اس چیز سے بے خبر دریا کے کنارے پاؤں ڈبوۓ بیٹھیں تھیں کہ انکے پیچھے ایک جنگلی ریچھ پہنچ چکا ہے۔

🔘 اس وقت تک کے سلطان کا تیر اس کے حلق سے آر پار ھوتا وہ ریچھ شہزادی کی کنیز کو ایک ہاتھ کے پنجے سے ضرب دے چکا تھا اس سے پہلے شہزادی اپنا ترکش سنبھالتی اور تیر کمان میں لگاتی شاید بہت دیر ہو جاتی۔

🔘 سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے پےدر پے تین تیر اس جنگلی درندے پر دے مارے جس سے وہ ڈھیر ہو گیا۔
شہزادی کو یہ جاننے میں مشکل نا ہوئی کہ اس مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کوئی جنگجو سپہ سالار ہی کر سکتا ھے۔

🔘 شہزادی سلطان کیطرف متوجہ ہوئی اظہار تشکر کے لۓ اپنا تعارف کرواتے ہوئی بولی میرا نام سمرتی ہے میں جے پور ریاست کے راجہ کی اکلوتی بیٹی ہوں میری جان بچانے کا شکریہ میں تمھیں اپنے پتا سے کہہ کر فوج میں کوئی اعلیٰ عہدہ دلا دوں گی ویسے تم ہماری فوج کے سپاہی لگتے نہیں ہو بتاؤ کہاں سے تعلق ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟

🔘 سمرتی شاید یہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے سامنے کوئی معمولی سپاہی نہیں ہیں بلکہ اس وقت کی سب سے طاقتور اسلامی لشکر کے سربراہِ اعلیٰ سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں، جنکے نام سے ہی ہندو راجاؤں کے حلق خشک ہو جاتے ھیں۔

🔘 سلطان نے مختصراً اپنی شناخت ظاہر نا کرتے ہوئے کہا جی کسی اور فوج کا سپاھی ہوں۔
چلئے محترمہ میں آپکو کسی محفوظ مقام پر پہنچادوں گا آپ میرے پیچھے چلتی جائیں اندھیرا بڑھتا جا رہا ہے راستہ نا ملا تو شاید اسی جنگل میں رات بسر کرنی پڑے گی، شھزادی سمرتی جان چکی تھی کہ یہ شخص لالچ اور خوف سے پاک ہے وہ سلطان کی نظروں میں حیاء دیکھ کر خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔

🔘 جنگل کی خاردار جھاڑیوں کی وجہ سے شھزادی کا پیراہن مختلف جگہ سے چھلنی ہو چکا تھا شھزادی تھکاوٹ سے چور ہو چکی تھی سلطان نے شھزادی کو ایک سخت پتھروں اور درختوں کی اوٹ کیطرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا شھزادی،

🔘 آپ ادھر آرام کر لیں رات کی تاریکی بڑھ رہی ہے اور موسم میں بھی تغیر کے آثار ہیں اندھیرے میں مزید سفر گھنے جنگل میں کرنا دشوار ہے علی الصبح نکلیں تو شاید میں آپکو کسی محفوظ مقام پر پہنچا سکوں سمرتی کے پاس سلطان پر اعتماد کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نا تھا -

🔘 سلطان نے محسوس کیا شھزادی اپنے بیش قیمت مگر قدرے باریک لباس میں جنگل کی ٹھنڈی رات شاید نا گزار سکے سلطان نے اپنی موٹی چادر شھزادی کیطرف اچھال دی اور معنیٰ خیز نظروں سے شھزادی کو دیکھا جیسے کہہ رہے ہو یہ اوڑھ لیں،

🔘 شھزادی نے بلا جھجک چادر اوڑھی اور ٹیک لگا کر درختوں کی اوٹ میں پاؤں پسار لۓ اسکی نظریں سلطان کے چہرے کی طرف جمی ہوئی تھیں جو نظریں جھکاۓ ایک قریب پڑے بڑے پتھر پر بیٹھ کر آگ جلانے کی کوشش کر رہے تھے بالآخر آگ جل گئ-

🔘 اسکی روشنی میں سلطان کا نورانی اور بھرا ھوا وجاھت والا چہرہ چمک رہا تھا سلطان نے شھزادی سے قطعہ نظر مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھنے لگے، شھزادی کو جھٹکا لگا اوہ یہ تو مسلمان لگتے ہیں۔

🔘 ایک دفعہ شھزادی کانپ گئ کہیں غزنی کے لشکر سے تو نہیں یہ تو لٹیرے ہیں گاۓ بھینس بکری سب کا مانس کھاتے ہیں یہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے،
لیکن اگلے ہی لمحے شھزادی اب تک اسکے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرنے لگی اگر یہ اتنا ہی سفاک اور ظالم ہوتا تو مجھے ریچھ سے نا بچاتا نا چاہتے ہوۓ بھی شھزادی کا دل پھر سے اطمینان و یقین سے بھر گیا۔

🔘 سلطان نماز کے بعد دعا کرتے وقت زارو قطار رونے لگے روتے روتے سلطان نے اپنے خنجر کی نوک اپنے پاؤں کے انگوٹھے پر رکھ کر اسکو دبا دیا، شھزادی دیکھتی رہی کہ یہ جوان مرد مجھ سے گفتگو میں بے تکلف نہیں ہونا چاھتا۔

🔘 علی الصبح سلطان نے شھزادی سے کہا اب ھمیں نکلنا چاھۓ کچھ دور جا کر سلطان کو ایک سفید پتھر پڑا ملا جو سلطان کے سپاہی نشانی چھوڑ گۓ تھے کہ راستہ اسی طرف ھے یہ اس زمانے کا ایک طریقہ تھا کہ جنگل میں پتھر چھوڑتے جاتے تا کہ پیچھے آنے والا راستہ جان سکے کے گزرنے والا کہاں سے انکا ساتھی گزرا ہے۔

🔘 بالآخر شھزادی اور سلطان ایک ہموار راستہ پر آ پہنچے کچھ دور ایک چھوٹے سے گاؤں کے آثار نظر آ رہے تھے سلطان نے کہا یہ آپکی ریاست کی حدود کا ہی گاؤں معلوم پڑتا ہے شھزادی ہاں دیکھتے ہیں گاؤں پہنچنے پر شھزادی نے گاؤں کے مکھیاء کو بلاوا بھیج دیا مکھیاء اپنے کچھ ساتھیوں سمیت حاضر ہوا-

🔘 شھزادی نے کہا ہمیں دو برق رفتار گھوڑے دے جائیں اور کچھ خشک اناج اس سپاھی کو دیا جاۓ شھزادی نے سلطان سے کہا اجنبی ہمیں بہت حیرت ہوئی ہے تم پر، آخر تم کس مٹی کے بنے ہو ساری رات تم اپنے خنجر سے زخم کریدتے رہے اور میری طرف کوئی توجہ نا دی تم چاہو تو ہمارے ساتھ محل چلو ہم تمھیں انعام و اکرام سے بھر دیں گے اپنی جان بچانے کے بدلہ میں۔

🔘 سلطان نے گھوڑے پر سوار ہو کر شھزادی سے کہا شھزادی صاحبہ زخم اس لئے کریدتا رہا کہ آپکا حُسن میرے ایمان کو زَد نا پہنچاۓ اور میری توجہ میرے درد کی طرف رہے آپکی طرف نا بڑھے۔
شھزادی کیا تمھیں یہ موقعہ گنوانا چاہئیے تھا ہم سے خلوت میں ملاقات کیلئے لوگ اپنی ریاستیں دستبردار کرنے کو تیار ہیں۔

مکمل واقعہ پڑھنے کے لئے اسی پوسٹ کا حصہ دوم پڑھیں۔

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن   چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں...
13/03/2024

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن
چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے
سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-

خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-

خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-

مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-

*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-

طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،

حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،

کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا

خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......

*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*

سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....

ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
میرا اشارہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی طرف ہے

خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے
ورنہ اپنی باری کا انتظار کریں 😥

تھوڑا سا سوچیۓ۔۔۔۔۔‏اخلاقیات قوموں کی تعمیر کرتی ہیںدوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ ع...
07/03/2024

تھوڑا سا سوچیۓ۔۔۔۔۔
‏اخلاقیات قوموں کی تعمیر کرتی ہیں
دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے۔
اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا- اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی "دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی"
عبدالمطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے وہ بالکل سمجھ نہیں سکا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا۔
تماشائی اس اسپورٹس مین اسپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ہار کے بھی ہیرو بن چکا تھا۔
ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا؟
فرنینڈز نے جواب دیا
"میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے۔"
صحافی نے پھر پوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا؟"
فرنینڈز نے جواب دیا
"میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی"
صحافی نے اصرار کیا" مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے؟"
فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
" اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری قوم میرے بارے میں کیا سوچتی؟"
قومیں ایسے ھی برباد نہیں ھوتیں جب ان کی اخلاقیات اور غیرت مر جاے اچھے برے کی پہنچان ختم ھو جاے تب قومیں برباد ھوتی ھے۔۔۔۔
افسوس ھوتا جب پاکستان کے نوجوانوں کو سیاسی پارٹیاں کے لیے دوسروں کو ماں بہن کے جیسے مقدس رشتوں کو گالیاں دیتے ھے ماں وہ ہستی ھے جس کا ذکر قران پاک میں بھی اے ھے ھمارا اسلام رسول معاشرہ اخلاقی اقدار تو ھم مسلمانوں کو اک عظیم قوم بتاے رھے جس کے نبی پاک رحمت اللعالمین ھے جن نے کفار کی تکلیف برادشت کر کے بھی ساری زندگی میں کسی کو بدعا نہیں دی کسی کو کچھ غلط اور برا نہیں بولا ھم سیرت طیبہ کو کیسے بھول گیے ھے۔۔۔۔💞💞💞

06/03/2024

امت کو سوئے ہوئے سو سال مکمل
3 مارچ 1924 خلافت کے خاتمہ کا دن 🙁

خلافت عثمانیہ کو پارہ پارہ کرکےترکی سمیت درج ذیل ممالک کی بنیاد رکھی گئی
١۔ سعودی عرب
٢۔ بلغاریہ
٣۔ یونان
٤۔ سربیا
٥۔ مونٹی نیگرو
٦۔ بوسینیا ھرزیگووینا
٧۔ کروشیا
٨۔ مقدونیا
٩۔ سلوانیا
١٠۔ رومانیہ
١١۔سلواکیہ
١٢۔ ھنگری
١٣۔ مولڈووا
١٤۔ یوکراٸن
١٥۔ آذر باٸیجان
١٦۔ آرمینیا
١٧۔ قبرص
١٨۔ جنوبی ساٸپرس
١٩۔ روس کے شمالی علاقہ جات
٢٠۔ پولینڈ
٢١۔ اٹلی کے شمالی ساحل
٢٢۔ البانیہ
٢٣۔ بیلاروس
٢٤۔ لتھوانیا
٢٥۔ کوسوو
٢٦۔ لٹوویہ
٢٧۔ ووجودینیہ
٢٨۔ عراقی
٢٩۔ شام
٣٠۔ اسراٸیل
٣١۔ فلسطین
٣٢۔ اردن
٣٣۔ یمن
٣٤۔ عمان
٣٥۔ متحدہ عرب امارات
٣٦۔ قطر
٣٧۔ جارجیا
٣٨۔ بحرین
٣٩۔ کویت
٤٠۔ ایران کے مغربی علاقے
٤١۔ لبنان
٤٢۔ مصر
٤٣۔ لیبیا
٤٤۔ تیونس
٤٥۔ الجیریا
٤٦۔ سوڈان
٤٧۔ اریٹریا
٤٨۔ ڈی جبوتی
٤٩۔ صومالیہ
٥٠۔کینیا کے ساحل
٥١۔ تنزانیہ کے ساحل
٥٢۔ چاڈ کے شمالی حصے
٥٣۔ ناٸیجر کا حصہ
٥٤۔ موزمبیق کے زیراثر علاقے
٥٥۔ مراکش
٥٦۔ مغربی صحارا
٥٧۔ موریطانیہ
٥٨۔ مالی
٥٩۔ سینیگال
٦٠۔ دی گیمبیا
٦١۔گنی بیساٶ
٦٢۔ گھانا
خلافت عثمانیہ کیا ہی عظیم الشان سلطنت تھی جس کو عالم کفر نے تباہ و برباد کرکے رکھ۔اور اس کی بنیادی وجہ جس پر ھر فرقہ متفق ھے أپسی اختلاف اور اپنی اور اپنے خاندان کی اجارہ داری جس کو أل یہود نے ھوا دی اورھم کو تقسیم در تقسیم کر دیا جو ھم میں فرقہ پرستی کا پرستار ھے چاھے نادانی میں ھو یا جان بوجھ کر وہ ھمارا نہیں دشمن کے فارمومولے کو تقویت دے رھا ھے ھمارا واحد ذریعہ کلام الہی کا ترجمہ پڑھیں اور اسوہ رسولﷺ جو اس الگ تاویل پیش کرتا ھے وہ ھمارا نہیں چاھے وہ بھائی ھو دوست کوئی بھی ھو وہ دشمن کی سازش کا شکار ھے معزرت کے ساتھ سچ ھمیشہ کڑوہ ھوتا ھے

06/03/2024

بلوچستان اسمبلی ممبر کی تعداد = 65

تنخواه في رکن = 125,000

خیبر پختواہ اسمبلی ممبر کی تعداد 145

تنخواه = في رکن = 150,000

سندھ اسمبلی ممبر کی تعداد = 168

تنخواه = في رکن = 175,000

پنجاب اسمبلی ممبر کی تعداد 371

تنخواه = في رکن = 250,000

قومی اسمبلی ممبر کی تعداد 342

300,000 = تنخواه

سینٹ کی تعداد = 104

تنخواه في رکن = 400,000

*125,000×65×12= 97,500,000*

150,000×145×12= 2,61,000,000*

175,000×168×12= 35,28,00,000*

250,000×371×12= 1,11,30,00,000*

300,000×342×12= 1,23,12,00,000*

400,000×104×12= 4,99,200,000*

*35,54,70,00,000 ٹوٹل صرف تنخواه

451 بیمار K/s‏

باؤس رینٹ گاڑی گھر کے بل اور ٹکٹ بیرون ملک دورے اور

رہائش

اس میں اسپیکر ڈپٹی اسپیکر وزراء وزیر اعلی گورنرز وزیر اعظم صدر کی تنخواہیں شامل نہیں ہیں ۔۔۔۔ مختلف

اجلاسوں کے اخراجات اوربونس ملا کر سالانہ خرچ

ارب کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اور اکثر یہ لوگ خود 85

ٹیکس نہیں دیتے
یہ معلومات جاننا آپ کا حق ہے۔ کیونکہ یہ سارا پیسہ آپ کا ہی ہے

معزز شہری پاکستان *

اگر اس ملک میں واقعی تبدیلی چاہتے تو پھر یہ جنگ * آپکو لڑنا ہو گی

آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس میسج کو پڑھیں اور اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو اپنی کنٹیکٹ لسٹ میں کم از کم افراد کو لازمی سینڈ کریں اور بعد میں ان کی رائے 20 لیں

تین دنوں میں پاکستان میں زیادہ تر لوگ یہ پیغام پڑھ * لیں گے ۔

پاکستان میں ہر شہری کو آواز بلند کرنا چاہئے 2020 کی اصلاحات ایکٹ

پارلیمنٹ کے ارکان کو پنشن نہیں ملنا چاہئے کیوں 1 کہ یہ نوکری نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک انتخاب ہے اور اس کے لئے ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی ہے مزید یہ کہ سیاستدان دوبارہ سے سیلیکٹ ہو کے اس پوزیشن پر آسکتے ہیں

مرکزی تنخواه کمیشن کے تحت پارلیمنٹ کے افراد 2

کی تنخواہ میں ترمیم کرنا چاہئے. ان کی تنخواہ ایک عام

مزدور کے برابر ہونی چاہیئے
في الحال وہ اپنی تنخواہ کے لئے خود ہی ووٹ ڈالتے) * ہیں اور اپنی مرضی سے من چاہا اضافہ کر لیتے ہیں

ممبران پارلمنٹ کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے 3* لیے سرکاری ہسپتال میں ہی علاج کی سہولت لینا لازم ہو جہاں عام پاکستانی شہریوں کا علاج ہوتا ہے

تمام رعایتیں جیسے مفت سفر ،راشن بجلی، پانی 4* فون بل ختم کیا جائے یا یہ ہی تمام رعایتیں پاکستان کے ہر شہری کو بھی لازمی دی جائیں

وہ نہ صرف یہ رعایت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ان کو انجوائے کرتا ہے اور وہ باقاعدہ طور پر اس میں اضافہ کرتے ہیں ۔ جوکہ سرا سر بدمعاشی اور ہے . شرمی بے غیرتی کی انتہا ہے

ایسے ممبران پارلیمنٹ جن کا ریکارڈ مجرمانہ ہو یا 5 جن کا ریکارڈ خراب ہو حال یا ماضی میں سزا یافتہ ہوں موجودہ پارلیمنٹ سے فارغ کیا جائے اور ان پر ہر لحاظ سے انتخابی عمل میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہو اور

ایسے ممبران پارلیمنٹ کی وجہ سے ہونے والے ملکی مالی

نقصان کو ان کے خاندانوں کی جائیدادوں کو بیچ کر

پورا کیا جائے۔

پارلیمنٹ ممبران کو عام پبلک پر لاگو ہونے والے تمام 6*

قوانین کی پابندیوں پر عمل لازمی ہونا چاہئے
اگر لوگوں کو گیس بجلی پانی پر سبسڈی نہیں 7* ملتی تو پارلیمنٹ کینٹین میں سبسایڈڈ فوڈ کسی ممبران پارلیمان کو نہیں ملنی چائیے

ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سیاستدانوں کے لئے بھی .8* ہونا چاہئے. اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہونا چاہئے اگر میڈیکلی ان فٹ ہو تو بھی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے پارلیمان میں خدمت کرنا ایک اعزاز ہے، لوٹ مار کے لئے منافع بخش کیریئر نہیں

11/02/2024

حلقہNA121 سےPTI کا حمایت یافتہ امیدوار وسیم قادر کا حلقے کے عوام کا مینڈیٹ کو پامال کر کے ن لیگ میں شامل ہونے پر شدید آلفاظ میں مذمت کرتے ہیں

04/10/2023

‏👈 *اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب* 👉۔
ترکی کے صدر رجب طيب اردوگان نے چند ماہ قبل ايک بہت بڑے مجمع ميں تقرير کرتے ہوئے ايک واقعہ سنايا، مجمع نے بہت غور سے اسے سنا۔۔

ميں آپ لوگوں کو تاريخ کا ايک واقعہ سنانا چاہتا ہوں، منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا، بعض حوالوں کے مطابق اس نے دو لاکھ اور بعض کے مطابق چار لاکھ انسانوں کو قتل کيا، اس نے بغداد کی ساری قديم مسجديں، مکاتب اور محل ڈھا ديئے۔۔

يہ ساری قيامتيں ہلاکو نے برپا کيں، اسی ظالم حکمراں نے جو بہت دور سے آيا تھا، ايک حکم جاری کيا کہ وہ بغداد کے سب سے بڑے عالم سے ملنا چاہتا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عالم ہلاکو سے ملنے کے ليے تيار نہيں ہوا، آخر کار کادہان نام کا ايک کم عمر نوجوان جس کی ابھی داڑھی بھی نہيں نکلی تھی اور ايک مدرسے ميں معلم تھا، ہلاکو کا سامنا کرنے کے ليے راضی ہو گيا۔
ہلاکو سے ملنے کے ليے جاتے ہوئے کادہان نے اپنے ساتھ ايک اونٹ، ايک بکرا اور ايک مرغا بھی لے ليا۔ نوجوان عالم کادہان، ہلاکو کے خيمے کے پاس پہنچا، اور ہلاکو سے ملنے اندر چلا گيا۔۔

ہلاکو نے نوجوان عالم سے پوچھا: مجھ سے ملنے اور ميرا سامنا کرنے کے ليے بغداد والوں کے پاس تمہارے سوا کوئی اور نہيں تھا؟؟

کادہان نے جواب ديا کہ اگر آپ مجھ سے بڑے سے ملنا چاہتے ہيں تو باہر ايک اونٹ موجود ہے، اگر داڑھی والا چاہتے ہيں تو باہر ايک بکرا موجود ہے، اور اگر بلند آواز والا چاہتے ہيں تو باہر ايک مرغا بھی موجود ہے، آپ جسے چاہيں بلا ليں۔۔

ہلاکو بھانپ گيا کہ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہيں ہے۔۔

تب ہلاکو نے اس سے پوچھا، يہ بتاؤ کہ ميرے يہاں آنے کی وجہ کيا ہے؟

نوجوان نے اسے بہت گہرا جواب ديا۔۔

اس نے کہا: ہمارے اعمال اور ہمارے گناہ تمہيں يہاں لائے ہيں، ہم نے اللّٰہ کی نعمتوں کی قدر نہيں کی، اس کی نافرمانيوں ميں آگے بڑھتے گئے۔۔
دنيا، مال و دولت اور زمين و جائيداد ہمارے دلوں ميں رچ بس گئے، اس ليے اللہ نے آپ کو ہمارے پاس اپنا عذاب بنا کر بھيجا ہے تاکہ اس نے ہميں جو نعمتيں دی تھيں وہ ہم سے واپس لے لے۔۔
يہ جواب سن کر ہلاکو نے دوسرا بڑا عجيب سوال کر ديا۔۔

مجھے کون يہاں سے نکال سکتا ہے؟

نوجوان نے جواب ديا: جب ہم نعمتوں کی قدر جان ليں گے، ان کا شکر ادا کرنے لگيں گے، اور آپس کے اختلافات ختم کر ليں گے، تو اس وقت پھر آپ يہاں ہرگز نہيں رہ سکيں گے۔۔

(«تبصرہ:»)
اس وقت مسلمانوں ميں ايک بڑی بيماری يہ پھيلی ہوئی ہے کہ دوسری اقوام پر آنے والی قدرتی آفتوں کو تو وہ پورے يقين کے ساتھ اللہ کا عذاب قرار ديتے ہيں ليکن اپنی حالت کی بے انتہا خرابی کو بھی احتساب کی نگاہ سے نہيں ديکھتے ہيں۔۔
حالانکہ ہماری تاريخ ميں ايسی بہت سی حکايتيں ہيں جو خود احتسابی کا احساس ابھارتی ہيں۔۔
رجب طيب اردگان ترک قوم کو ايک نئی اٹھان کے ليے تيار کر رہے ہيں، وہ اس طرح کی حکايتوں کی اہميت کو بخوبی سمجھتے ہيں۔۔
پاکستان کے مسلمانوں کے ليے بھی اس واقعہ ميں بڑا سبق ہے۔۔
اللہ کے تنبيہی عذابوں کو دوسروں کے يہاں نہيں بلکہ خود اپنے يہاں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ غفلت اور بے عملی کے پردے اور زيادہ دبيز ہو جائيں گے، اور صبحِ اميد اور دور ہوجائے گئی

15/09/2023

Address

Gulberg Lahore
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prime Time Flower Decoration posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category