02/02/2025
کراچی: سالانہ میلادِ مصطفےﷺ و حق باھو کانفرنس
زیرِ اہتمام: اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین
زیرِ صدارت و خصوصی دعا: حضرت سلطان محمد علی صاحب
گفتگو کے اہم نکات:
-پاک کی نسبت بھی پاک کر دیتی ہے۔ قدمِ حضرت ابراہیم(ع) کے لمس سے پتھر باعثِ برکت بنتا ہے۔ لمسِ داؤد(ع) سے لوہا موم کی طرح ٹپکنے لگتا ہے۔ لمسِ یوسف(ع) کی برکت والے کُرتے سے حضرت یعقوب(ع) کی بینائی واپس آ جاتی ہے۔ اسی طرح سبز گنبد کی جالی امام الانبیاء نبی کریم(ﷺ) سے منسوب ہونے سے باعث برکت بن جاتی ہے۔
- لمسِ موسیٰ(ع) کے باعث عصا کو برکت عطا ہوئی جس نے تین کام سرانجام دیئے۔: فرعون کی فریب کاریوں کو نگل گیا(الاعراف، آیت 117) ، پتھر پہ مارنے سے پانی کے بارہ چشمے پھوٹ پڑے(البقرہ، 60)، دریا بارہ ٹکڑوں میں بٹ گیا(الشعراء، 63)۔
- لمسِ عیسیٰ(ع) کے سبب مٹی سے بنی مورت پرندے کی مانند اڑنے لگی(آل عمران، 49)۔لمسِ عیسیٰ(ع) سے مادر ذات اندھا بینا ہو جاتا، برص کے مریضوں کو شفا عطا ہوتی، مردے زندہ ہو جاتے۔
- انسان کو جب ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے سجدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
" اے ابلیس! تجھے کس نے اس (ہستی) کو سجدہ کرنے سے روکا ہے جسے میں نے خود اپنے دستِ (کرم) سے بنایا ہے"(سورہ ص، 75)
یعنی انسان کا امتیاز یہ بیان فرمایا کہ اسے قدرتِ خداوندی کے ہاتھوں کا لمس نصیب ہے۔انبیاء کے لمس سے چیزوں کو شان عطا ہوتی ہے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ قدرتِ خداوندی کے ہاتھوں سے نسبت پانے والے انسان کی فضیلت اور شرف کس قدر بلند ہے۔
مولانا رومی فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ(ع) کا عصا بظاہر لکڑی ہے لیکن جب وہ منہ کھولتا تو بڑے بڑے سانپ نگل جاتا۔ اسی طرح آدمی بظاہر مٹی ہے لیکن اگر اسے کسی موسیٰ کا دستِ شفقت مل جائے تو کُل عالم اس کے سامنے ایک لقمے کی حیثیت رکھتاہے۔
- حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق(رض) کے پاس حضور اکرمﷺ کا ایک عالیشان جبہ تھا جو حضرت عائشہ (رض) نے وصال کے وقت آپ کو دیا ۔ لوگ پانی کے پیالے لیکر حضرت اسماء کے پاس آتے کہ اس میں حضور اکرمﷺ کے جبہ مبارک کا پلو بھگو دیں جو گھر میں بیمار شخص کو پلایا جائے تاکہ اسے شفا نصیب ہو۔ (صحیح مسلم اور مسند امام احمد)
ایک مرتبہ حضرت حنظلہ(رض) کے والد نے نبی اکرمﷺ سے ان کیلئے دعائے خیر فرمانے کی عرض کی۔ نبی اکرمﷺ نے بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور فرمایا اللہ تمہیں برکت دے ۔ اس کے بعد ان کی خدمت میں کوئی ورم آلود چہرے والے انسان آ جاتا یا ورم زدہ تھنوں والا جانور آ جاتا تو حضرت حنظلہ حضور اکرمﷺ کی دعا کے صدقے سے اپنا لعاب اس انسان کے چہرے پہ ملتے یا جانور کے تھنوں پہ ملتے اور وہ ورم دور ہو جاتا۔( امام احمد و امام طبرانی)
چنانچہ اولیائے کرام کے لمس اور دعا سے ملنے والی شفا کا عقیدہ دراصل اصحابہ کرام (رض) کے عقیدہ کا ہی تسلسل ہے۔ اصلاحی جماعت کی دعوت ہے کہ اولیائے کاملین کی تعلیمات سے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کیا جائے۔