09/06/2026
مسافروں کا کہنا تھا کہ پرواز کے اس انتہائی نازک مرحلے میں چند بہادر افراد اور فضائی عملے کی بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے حادثے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی افراد میں پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنی جرات، تحمل اور پیشہ ورانہ تربیت سے نہ صرف متعدد مسافروں کو تحفظ کا احساس دلایا بلکہ پاکستان کا مثبت اور ذمہ دارانہ تشخص بھی اجاگر کیا۔
5 جون 2026 کو فرنٹیئر ائیرلائن کی فلائٹ 2407 لاس ویگاس سے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئی۔ پرواز میں دو سو سے زائد مسافر سوار تھے کہ ٹیک آف کے چند ہی منٹ بعد ایک مسافر نے اچانک پرتشدد رویہ اختیار کر لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ بار بار کاک پٹ کی طرف بڑھنے اور جہاز کے مختلف حصوں میں بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ اسے روکنے والے فضائی عملے پر بھی حملہ آور ہو رہا تھا۔
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہوگئی جب خدشہ پیدا ہوا کہ وہ ایمرجنسی دروازوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ جہاز کے کپتان نے مسافروں سے تعاون کی اپیل کی، جس کے بعد کئی مسافروں نے عملے کے ساتھ مل کر اس شخص کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔
اس دوران زاہد یعقوب عامر نے خطرات کے باوجود آگے بڑھ کر اہم کردار ادا کیا اور دیگر مسافروں کو بھی پرسکون رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ دستیاب ویڈیوز میں انہیں مسافروں سے گھبرانے سے منع کرتے اور اگر کوئی ڈاکٹر موجود ہو تو مدد کے لیے آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
فضائی عملے نے بھی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ایک ایئر ہوسٹس، جو امریکی بحریہ کی سابق اہلکار بتائی جاتی ہیں، حملوں کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں اور صورتحال کو سنبھالنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ہنگامی حالات کے پیش نظر جہاز کو اپنی منزل تک پہنچنے سے تقریباً دو گھنٹے قبل رینو تاہو ایئرپورٹ پر اتارا گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مذکورہ مسافر کو حراست میں لے لیا۔
کپتان شان اور کوپائلٹ ٹکر نے کاک پٹ کو محفوظ رکھتے ہوئے پرواز کا مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور کامیاب ہنگامی لینڈنگ کو یقینی بنایا۔ بعد ازاں جہاز تقریباً اڑھائی گھنٹے کی تاخیر کے بعد دوبارہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔
واقعے کے بعد فرنٹیئر ائیرلائن نے مسافروں سے معذرت کی اور کھانے کے اخراجات کے لیے 25 ڈالر کا کریڈٹ فراہم کیا۔
بلاشبہ، سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر کا یہ اقدام ہمت، ذمہ داری اور انسان دوستی کی ایک قابلِ تقلید مثال ہے، جس پر وہ داد و تحسین کے مستحق ہ