Urdu stories

Urdu stories For best urdu hindi stories reels and everything about entetainment
اردو ادب اردو اسثوریز نوولس ریلس اور بہت کچھ

14/05/2026

“میں چھ سال بعد اچانک گھر لوٹا تھا… ماں باپ کو سرپرائز دینے کے لیے 😍 مگر دروازے پر قدم رکھتے ہی رک گئے 💔۔”

میں نے گاڑی کا انجن بند کیا… مگر ہاتھ ابھی بھی اسٹیئرنگ پر جکڑے ہوئے تھے۔

سامنے وہی گھر تھا…
سفید دیواریں… سرخ چھت…
وہی برآمدہ… جو میں نے ابو کے لیے بنایا تھا تاکہ وہ شام کو سکون سے بیٹھ سکیں۔

لیکن سکون… کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔

آنگن میں ابو جھاڑو لگا رہے تھے۔

دھوپ تیز تھی…
قمیض پسینے سے بھیگی ہوئی…
کمر جھکی ہوئی… جیسے عمر نہیں، حالات نے توڑ دیا ہو۔

میں نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا…

“یہ میرے ابو نہیں ہو سکتے…”

مگر وہی تھے۔

وہی ہاتھ… جنہوں نے مجھے بچپن میں اٹھا کر آم توڑنے دیے تھے…
آج وہی ہاتھ… مٹی سمیٹ رہے تھے۔

اور برآمدے میں؟

میری بھابھی نادیہ… اور اس کی ماں…
ہاتھوں میں کولڈ ڈرنک کے گلاس… انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں… چہرے پر وہ سکون… جو میں نے اپنے ماں باپ کے لیے خریدا تھا۔

میں نے دروازہ نہیں کھولا۔

میں نے خود کو روکا۔

کیونکہ کبھی کبھی… سچ کو سمجھنے کے لیے اندر جانا نہیں… باہر سے دیکھنا پڑتا ہے۔

اسی لمحے… امی نظر آئیں۔

ایک بڑے ٹب میں کپڑے اٹھائے ہوئے…
آہستہ آہستہ چلتی ہوئی…

میرے دل میں کچھ ٹوٹا۔

میں نے وہ واشنگ مشین خریدی تھی…
تاکہ ان کے ہاتھ کبھی نہ چھلیں۔

اور آج… وہی ہاتھ پھر کپڑے رگڑ رہے تھے۔

پیچھے سے نادیہ کی آواز آئی،

“امی جی، میرے کپڑے الگ دھونا… پچھلی بار خراب کر دیے تھے…”

امی نے بس سر ہلایا۔

کوئی جواب نہیں۔

کوئی شکوہ نہیں۔

بس ایک عادت… جو شاید وقت کے ساتھ بن جاتی ہے۔ برداشت کرنے کی۔

میرے اندر غصہ آیا۔

مگر وہ چیخنے والا غصہ نہیں تھا…

وہ خاموش غصہ تھا۔

ٹھنڈا۔

خطرناک۔

وہ والا… جو فیصلہ کرتا ہے، ردعمل نہیں دیتا۔

ابو پانی کا گلاس لے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔

ہاتھ کانپ رہے تھے۔

پہلا قدم رکھا…
گلاس تھوڑا سا جھکا… پانی گر گیا۔

“دیکھ کے نہیں چل سکتے؟!” نادیہ کی ماں چیخی۔

اور اگلے ہی لمحے… اس نے گلاس ابو کے ہاتھ سے چھین کر زمین پر دے مارا۔

کانچ ٹوٹ گیا۔

خاموشی بھی۔

میں نے پہلی بار دروازہ کھولا۔

آہستہ سے۔

کسی نے نہیں دیکھا۔

ابو جھک کر ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اٹھا رہے تھے۔

اور میں… دروازے کے سائے میں کھڑا… سب دیکھ رہا تھا۔

پھر میری نظر اس عورت کے ہاتھ پر گئی۔

ایک بھاری سونے کی انگوٹھی۔

وہی انگوٹھی… جو میں نے ایک ہفتہ پہلے تصویر میں دیکھی تھی۔

جب نادیہ نے مجھے فون کیا تھا…

“بھائی، امی ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں… تھوڑے پیسے اور بھیج دیں…”

میں نے بھیجے تھے۔

بغیر سوال کیے۔

کیونکہ میں بیٹا تھا۔

اور بیٹے سوال نہیں کرتے… بس دیتے ہیں۔

اسی لمحے… سب سمجھ آ گیا۔

یہ گھر… اب ان کا نہیں رہا تھا۔

یہ صرف دیواریں تھیں… جن کے اندر میرے ماں باپ قیدی بن چکے تھے۔

میں آگے بڑھا۔

فرش پر میرے قدموں کی آواز گونجی۔

سب نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

امی کے ہاتھ سے ٹب گر گیا۔

“بیٹا…؟”

ان کی آواز میں خوشی نہیں تھی…

ڈر تھا۔

میں نے کچھ نہیں کہا۔

بس سیدھا جا کر ابو کے ہاتھ سے ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑے لیے… اور ایک طرف رکھ دیے۔

پھر میں نے نادیہ کی ماں کی طرف دیکھا۔

“یہ گھر کس کا ہے؟”

وہ ہنس پڑی،
“سب کا ہے… خاندان ہے نا…”

میں نے سر ہلایا۔

“غلط۔”

“یہ گھر… زمین… سب کچھ… میرے نام پر ہے۔ اور میں نے یہ سب اپنے ماں باپ کے لیے خریدا تھا… کسی اور کے لیے نہیں۔”

نادیہ بولی،
“بھائی آپ غلط سمجھ رہے ہیں”

میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔

“میں چھ سال سے دور تھا… اندھا نہیں تھا۔”

پھر میں نے ابو کی طرف دیکھا۔

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔

میں نے نرم لہجے میں کہا،

“ابو… اب جھکنا بند کریں۔”

وہ خاموش رہے۔

میں نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

“آپ دونوں… ابھی کے ابھی اس گھر سے نکل جائیں۔”

نادیہ کی ماں ہنسنے لگی،
“تم ہمیں نکالو گے؟”

میں نے موبائل نکالا… اور ایک نمبر ڈائل کیا۔

“جی، پولیس اسٹیشن؟”

اس کی ہنسی رک گئی۔

پانچ منٹ۔

صرف پانچ منٹ میں… ان کی آوازیں بدل گئیں۔

“ہم تو خدمت کر رہے تھے…”
“غلط فہمی ہو گئی…”

میں نے کچھ نہیں سنا۔

بس دروازہ کھولا… اور ایک طرف ہو گیا۔

وہ دونوں نکل گئیں۔

خاموشی چھا گئی۔

امی رو رہی تھیں۔

ابو کرسی پر بیٹھ گئے۔

میں ان کے سامنے بیٹھ گیا۔

کچھ دیر کوئی کچھ نہیں بولا۔

پھر ابو نے آہستہ سے کہا،

“بیٹا… تمہیں نہیں بتانا چاہتے تھے… تم بہت محنت کر رہے تھے…”

میں نے ان کا ہاتھ پکڑا۔

“ابو… محنت آپ کے سکون کے لیے تھی… آپ کی خاموشی کے لیے نہیں۔”

اسی شام…

میں نے برآمدے میں دو کرسیاں رکھیں۔

امی کو بٹھایا۔

ابو کو بٹھایا۔

اور پہلی بار… وہ دونوں ایسے بیٹھے جیسے واقعی یہ گھر ان کا ہو۔

سورج ڈوب رہا تھا۔

ہوا ہلکی تھی۔

امی نے آہستہ سے کہا،

“بیٹا… اب سکون ہے…”

میں نے مسکرا کر کہا،

“اب اصل میں گھر آیا ہوں، امی۔”

کبھی کبھی سب سے بڑا سرپرائز واپسی نہیں ہوتا…
ان لوگوں کو ان کی عزت واپس دینا ہوتا ہے…
جنہوں نے تمہیں جینا سکھایا تھا۔

انتخاب

Urdu stories

12/05/2026

بنگال اور سریلنکا سے تھوڑا نمک منگوا کے پاکستانی عوام کو کھلاو اتنے بی ضمیر اور بے غیرت بن چکے ہیں ہم

08/05/2026

محرم رشتے جنسی درندے کیونکر بنتے ہیں؟

کیا آج کی بچیاں اپنے محرم رشتوں سے بھی محفوظ نہیں؟
ماحول یا معاشرے میں یہ بگاڑ کیونکر پیدا ہو رہا ہے؟
بچیاں جائیں تو کہاں جائیں؟


ان سوالات کے پیدا ہونے کی وجہ کے پیچھے کچھ وجوہات و واقعات ہیں جن کا ذکر آگے ہوگا. ہم سب اپنے تئیں ایک اسلامی معاشرے کے باسی ہیں جہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے. ہمارے نام مسلمانوں والے اور کام بھی کسی حد تک مسلمانوں والے ہیں. باقی بھول چوک اللہ معاف کرنے والا ہے.

میری یہ سوچ تب تک تھی جب تک میری والدہ نے محلے کی مسجد کی انتظامیہ کی اجازت سے اپنے محلے کی عورتوں کو نماز و سورتیں سکھانے اور بچیوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کا آغاز نہیں کیا تھا. عورتوں کی آمد شروع ہوئی اور والدہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دل کے پھپھولے پھوٹنے لگے. ان کے گھروں کی ایسی بھیانک کہانیاں سننے کو ملیں کہ والدہ سکتے میں آ جاتیں،

اور تمام دن پریشان اور غمزدہ رہتیں. کئی عورتوں کے مطابق ان کے شوہر انھیں کئی بار طلاق دے چکے ہیں، مگر جانے نہیں دیتے. وہ خود بھی اتنی ہمت جتا نہیں پاتیں کہ اپنے بچے اور گھر بار چھوڑ کر بے آسرا ہو جائیں. نتیجتا خاموشی سے حرام کاری کی زندگی بسر کر رہی ہیں. کچھ کے مطابق وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہی ہیں اور کبھی ان کی بچی کسی کزن کے "ہتھے" چڑھ گئی یا کبھی چچا تایا ان سے "چھیڑ چھاڑ" کرتے ہیں، اور شوہر کو اپنے بھائی پر پورا "بھروسہ" ہے، تو اسے بتانے کی ہمت نہیں، اور ان کی سردیاں گرمیاں راتوں کو بچیوں کی چوکیداری میں گزرتی ہیں، جبکہ کچھ کے مطابق بچیوں کا باپ ہی گندی نظر رکھتا ہے.

سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس راستے پر کیوں جا رہا ہے؟ اور اس صورتحال سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

مفہوم حدیث ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو. اور میڈیا اس وقت ہمارے گھروں کی حیا ختم کر کے بیٹیوں اور باپوں، بہنوں اور بھائیوں، چچاؤں اور بھتیجیوں، ماموؤں اور بھانجیوں کو ایک ساتھ بٹھا کر اخلاق باختہ ڈرامے اور فلمیں دکھانے میں کامیاب ہو چکا ہے. کچھ عرصہ قبل جسٹس سعید الزمان صدیقی کے ایک بیان پر کافی لے دے ہوئی، اور مذاق اڑایا گیا کہ باپ اور بیٹی کا ایک کمرے میں تنہا بیٹھنا اسلامی اعتبار سے درست نہیں، جبکہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے. میں یہ نہیں کہتی کہ ہمارے معاشرے کا ہر باپ جنسی درندہ ہوتا ہے۔

مگر اس سچائی سے بھی انکار نہیں کہ جب کچھ ذہنی و جنسی بیمار مردوں پر شہوت کا غلبہ ہوتا ہے، تب وہ باپ بھائی، چچا یا ماموں نہیں رہتے، اورشیطان کے وار سے بلعم باعور جیسے بڑے بڑے عابد نہیں بچ سکے تو ہم کیا ہیں؟ میری خالہ کے گھر ایک غریب دائی صدقہ لینے آتی ہے. ایک بار میری موجودگی میں وہ آئی، اور باتوں باتوں میں خالہ کو کوڈ ورڈز میں کہنے لگی کہ اس ماہ میں نے تین کیس "خراب" کیے، جن میں سے ایک باپ، دوسرا بھائی اور تیسرا ایک چچا کا تھا.

یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے نو بالغ لڑکوں یا گھر کے مردوں میں ہیجان سب سے پہلے اپنے گھر کی مستورات کے نامناسب لباس دیکھ کر پیدا ہوتا ہے. مائیں، بیٹیاں اور بہنیں گہرے گلے، آدھی آستینوں، اور چھوٹے چاکوں والی قمیضوں کے ساتھ چست پاجامے پہن کر بنا دوپٹے کے گھر میں پھریں گی تو شیطان کو اپنا وار کرنے کا بھر پور موقع ملے گا. اسی لیے اسلام نے عورت کو سینہ چھپانے اور اوڑھنی ڈالنے کا حکم دیا ہے.گھر کا ماحول ماں پاکیزہ بنائے گی تو اولاد حیا دار ہوگی. حیا اپنے ساتھ انوار و برکات لازما لاتی ہے ورنہ جو تربیت میڈیا ہمارے گھروں کی کر چکا ہے، اس کے یہی ثمرات اور نتائج دیکھنے کو ملیں گے. ایسے معاشرے میں جہاں شادی کی عمر 28، 30 سال ہو، وہاں 14 سال کا ایک نو عمر لڑکا گھر کی عورتوں کے حلیوں سے حظ کشید کرکے مشترکہ خاندانی نظام کا "فائدہ" کیونکر نہ اٹھائے گا.

اس تحریر میں طبقہ اشرافیہ کی بات نہیں ہو رہی کیونکہ ان کے ہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. یہاں موضوع بحث لوئر یا مڈل کلاس دنیا دار گھر ہیں جن میں پرائیویسی کا تصور نہیں، وہاں ایسے واقعات رونما ہوجا تے ہیں اور "ڈھانپ" دیے جاتے ہیں، کیونکہ زنان خانہ اور مردان خانہ اب ہمارے نزدیک آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا ہے، اور ایک یا دو کمروں میں رہائش پذیر خاندان پرائیویسی کے مفہوم سے بھی واقف نہیں. جدیدیت کی دوڑ میں حیا سے غفلت برت کر جو نتائج سامنے آ رہے ہیں، ان کا سدباب نہ کیا گیا تو حالات مزید بھیانک ہوتے جائیں گے.

اس سلسلے میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں:
بچیاں اور مائیں ساتر لباس استعمال کریں. فیشن کریں مگر ستر ڈھانپنے کے اہتمام کے ساتھ. فیشن صرف ہاف سلیوز، گہرے گلوں یا چست پاجاموں کا نام نہیں.

حرمت مصاہرت کے مسائل بچیوں، بچوں اور باپوں کو ازبر ہونے چاہییں. بچیاں بلوغت کے بعد والد کو نہ دبائیں نہ ہی کوئی اور جسمانی خدمت کریں یا لپٹیں. جسمانی خدمت بیٹے یا مائیں کریں اور اگر اشد ضرورت یا مجبوری ہو تو اس بارے میں گنجائش کی تفصیلات و مسائل کے لیے مفتیان کرام سے رجوع کریں.

بیٹیاں باپ کے ساتھ بیٹھ کر اکیلے یا سب کے ساتھ ٹی وی دیکھنے سے پرہیز کریں. اور مائیں بھی اپنے چودہ پندرہ سال کے بیٹوں سے جسمانی کنکشن یعنی گلے لگانے یا ساتھ لٹانے سے پرہیز کریں.

باپ بیٹیوں کے کمرے میں دروازہ کھٹکھٹا کر آئیں یا دور سے کھنکھارتے ہوئے آئیں، تاکہ بچیاں اپنا لباس درست کر لیں. یہی صورت ایک یا دو کمروں کے گھر میں رہائش پذیر ہو کر بھی اختیار کی جا سکتی ہے.

باپ بچیوں کو سوتے سے مت جگائیں، اور یہ ذمہ داری والدہ سر انجام دے، کیونکہ سوتے میں لباس بےترتیب ہو سکتا ہے.

بھائیوں یا محرم رشتوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں ہاتھ مارنا، پیار میں گلے لگنا یا سلام کے لیے ہاتھ ملانا صرف ڈراموں فلموں کی حد تک ہی رہنے دیں. ایک اسلامی معاشرے کے مکینوں کے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں. مگر اب یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بہنوئیوں یا کزنز سے ہاتھ ملانا اور شادی بیاہ میں ان کے یا محرم رشتوں کے ساتھ ناچناگانا معیوب نہیں سمجھا جاتا، تبھی شیطان اپنے داؤ پیچ آزما لیتا ہے.

لاڈ میں چچاؤں کے گلے جھول جانا، ماموؤں سے بغل گیر ہونا، باپ بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر انڈین ڈرامے دیکھنا جن کی کہانی ہی ناجائز معاشقوں سے شروع ہو کر ناجائز بچوں کے جنم سے آگے بڑھتی ہے، اور حمل و زچگی کے مناظر عام سی بات ہیں، ان سب سے بچیں.

بچیوں کو سکھائیں کہ وہ خود کو جتنا ڈھانپ کر رکھیں گی اور ریزرو رہیں گی، اتنا ہی ان کے ایمان، قلب و چہرے کے نور میں اضافہ ہوگا اور کسی کو ان سے "چھیڑ چھاڑ" کی بھی جرات نہ ہوگی.

یاد رہے کہ یہ سب اقدامات حرف آخر نہیں، بلکہ احتیاطی تدابیر ہیں، جنہیں اپنانے کے باوجود اگر کوئی محرم رشتہ جنسی درندہ بن جائے تو اس کا علاج سنگساری یا بندوق کی ایک گولی ہے تاکہ بقیہ درندوں کی حیوانیت کو لگام دی جا سکے.
منقول
Urdu stories

بوڑھی راہباؤں کے پیشاب سے بنی دوا، جس سے سینکڑوں بانجھ افراد نے اولاد پائیکہا جاتا ہے کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال میں دنیا بھ...
07/05/2026

بوڑھی راہباؤں کے پیشاب سے بنی دوا، جس سے سینکڑوں بانجھ افراد نے اولاد پائی

کہا جاتا ہے کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال میں دنیا بھر میں لاکھوں گودیں اٹلی کی بوڑھی راہباؤں کے باعث ہری ہو چکی ہیں، ان کی دعا سے، ان کے پیشاب سے بننے والی دوا سے۔

دعا تو راہبائیں کرتی ہی ہیں لیکن دوا کی کہانی کیا ہے، جاننے کے لیے چلتے ہیں 1940 کی دہائی میں۔

ان برسوں میں اطالوی سائنس دان پایرو ڈونینی نے یہ دریافت کیا کہ مختصر طور پر ’ایل ایچ‘ اور ’ایف ایس ایچ‘ کہلانے والے دو ہارمون خواتین کی بیضہ دانی یا اووری سے انڈوں کو نکلنے اور یوں ان کے حاملہ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔

سنہ 1940 کی دہائی میں انھوں نے ان ہی دو ہارمونز کے لیے سینکڑوں خواتین کے پیشاب کی جانچ کی اور جانا کہ یہ ایسی خواتین میں زیادہ تھے جن کی ماہواری رُک چکی تھی۔

ماہواری رکنے یا مینوپاز کے بعد، جب بیضہ دانی انڈے پیدا کرنا بند کر دیتی ہے، تو ایل ایچ اور ایف ایس ایچ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ جسم ان کی پیداوار کو متحرک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے ڈونینی نے یہ طے کیا کہ ایسی خواتین سے ان ہارمونز کا حصول کہ جن کی ماہواری رک چکی ہو، بانجھ خواتین کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔

اس تولیدی حقیقت کا پتا کیسے چلا؟
ڈونینی نے پیشاب کے کچھ ایسے نمونوں سے ہارمونز الگ کر کے بنائی ترکیب کو ’پرگونال‘ کا نام دیا۔ اطالوی زبان میں اس کا مطلب ہے ’گوناڈز میں سے‘ (گوناڈز بیضہ دانی اور خصیے ہیں)۔

ڈونینی کے پاس دوا کا نسخہ تو تھا اور انھیں یقین بھی تھا کہ پرگونال حمل میں مددگار ہو گی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اسے بڑی مقدار میں تیار کہاں کیا جائے اور ہارمونز الگ کرنے کے لیے درکار پیشاب کی اتنی زیادہ مقدار کہاں سے حاصل کی جائے۔ اسی الجھن میں کم و بیش دس سال گزر گئے۔

اولیور سٹیلے کی تحقیق ہے کہ ایک دہائی بعد بانجھ پن پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے ڈونینی کے کام کے بارے میں سنا۔

سنہ 1996 میں شائع ہونے والی کتاب ’اے ٹیل آف ٹو ہارمونز‘ کے مطابق اس دریافت کا پتا دیتا ان کا مقالہ اس پیشرفت تک گمنامی ہی میں تھا۔

سٹیلے نے لکھا ہے کہ ’ڈونینی سے جنیوا میں کام کرنے والے میڈیکل کے طالب علم برونو لونن فیلڈ نے رابطہ کیا جو حمل کو متحرک کرنے کے لیے انسانی ہارمونز کے استعمال پر تحقیق کر رہے تھے۔ آسٹریا کے ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے لونن فیلڈ، ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی آبادی بہت کم ہونے کے بعد ان میں شرح پیدائش بڑھانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

’لونن فیلڈ نے کلینیکل ٹرائل کے لیے کافی مقدار میں دوا تیار کرنے کے لیے دواساز کمپنی سیرونو کے ایگزیکٹوز کے سامنے اپنا کیس پیش کیا لیکن اس دوا کے لیے مینوپاز والی خواتین سے ہزاروں گیلن پیشاب کی ضرورت تھی۔ نوجوان لونن فیلڈ دوا کے لیے لابی کرنے سیرونو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ملے۔‘
لونن فیلڈ نے بعد میں اسرائیلی اخبار ہارٹز کو بتایا کہ ’میں ان کے سامنے ایک بچہ ہی تو تھا۔ میں نے اس دریافت کے بارے میں بات کرنے کے بعد بورڈ آف ڈائریکٹرز سے درخواست کی کہ وہ روزانہ اپنا پیشاب جمع کرنے پر راضی مینوپاز والی چار سوخواتین کی تلاش میں مدد کریں۔ میں نے اپنی بات ختم کی، سب نے شائستگی سے تالیاں بجائیں اور پھر بورڈ کے چیئرمین کھڑے ہوئے اور کہا کہ بہت اچھا، لیکن ہم دوا کی فیکٹری ہیں، نہ کہ پیشاب کی فیکٹری۔ میں روتے ہوئے باہر بھاگا۔‘

تاہم سیرونوکے ایک ایگزیکٹو نے انھیں اطالوی اشرافیہ اور پوپ پیوس کے بھتیجے گیولیو پیسیلی سے متعارف کرایا۔ پیسلی سیرونو بورڈ کے رکن بھی تھے۔ پیسیلی نے لونن فیلڈ کے کام میں دلچسپی لی اور بہت سی ملاقاتوں کے بعد، لونن فیلڈ کے ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بات کرنے پہنچے۔

’پیسیلی نے بالکل وہی تقریر کی جو میں نے 10 دن پہلےکی تھی لیکن آخر میں انھوں نے ایک جملے کا اضافہ کیا: میرے چچا پوپ پیوس نے ہماری مدد کرتے ہوئے اولڈ ایج ہومز میں راہباؤں کو اس مقدس مقصد کے لیے روزانہ پیشاب جمع کرنے کے لیے کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یقیناً اس جملے نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو فوری طور پر پیسے اور وسائل کے ساتھ ہمارے تحقیقی منصوبے کی مدد کے لیے قائل کیا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ ویٹیکن کے پاس سیرونو کے 25 فیصد حصص ہیں۔‘

دس راہبائیں، دس دن ،ایک علاج
جلد ہی ٹینکر ٹرک اٹلی بھر میں کیتھولک ریٹائرمنٹ ہومز سے سیکڑوں راہباؤں کا پیشاب روم میں سیرونو کے ہیڈ کوارٹر لے جانے لگے۔ ایک علاج کے لیے کافی پیشاب پیدا کرنے میں تقریباً دس راہباؤں کو دس دن لگتے۔

سنہ 1962 میں تل ابیب میں پرگونال کے علاج سے ایک خاتون نے ایک بچی کو جنم دیا۔ پرگونل کی خوراک پٹھوں میں ٹیکے کے ذریعہ دی جاتی۔ یہ اس علاج سے پیدا ہونے والا پہلا بچہ تھا۔ دو سال کے اندر اندر، پرگونال کےعلاج سے مزید 20 حمل ٹھہرے۔

یکم اکتوبر 1964 کو نیویارک ٹائمز کی خبر تھی کہ پرگونال کی امریکی تقسیم کار لیبارٹریز نے ایک انتباہ جاری کیا ہے کہ پرگونل صرف تحقیقی استعمال کے لیے ہے۔ اسی خبر میں تھا کہ کوئینز اور سویڈن میں دوا کے استعمال کے بعد چار چار بچوں کی پیدائش ہوئی۔

ستر کی دہائی کے آغاز سے امریکی خواتین بھی باقاعدگی سے یہ دوا استعمال کرنے لگیں۔

ٹائمز ہی کی ایک اور خبر کے مطابق کچھ ہی عرصے میں امریکہ میں سالانہ تقریباً دو لاکھ خواتین حمل کی دوا لے رہی تھیں۔ ان میں سے تقریباً 9,000 ایسی تھیں جن کا علاج پرگونال سے ہو رہا تھا، جس پر ڈاکٹروں کی فیس اور کلینک کے اخراجات سمیت تقریباً 10,000 ڈالر خرچ ہوتے تھے۔مردوں کے لیے دوا کی منظوری
ٹائمز ہی کی 21 جنوری 1982 کی خبر تھی کہ بانجھ خواتین کی مدد کے لیے 10 سال سے استعمال ہونے والی ہارمونل دوا پرگونال کو گذشتہ روز فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے زرخیزی کے مسائل والے مردوں کے استعمال کے لیے بھی منظور کر لیا ہے۔

'اس حالت میں مبتلا مردوں میں پٹیوٹری غدود یا گلینڈ کے دو ضروری ہارمونز، ایل ایچ یا ایف ایس ایچ، یا دونوں میں سے کسی ایک کے اخراج میں ناکامی سے سپرم کی پیداوار رک جاتی ہے۔‘

’فارماسیوٹیکل ریسرچ فار سیرونو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رسل ڈبلیو پیلہم کا اندازہ ہے کہ 10,000 سے 50,000 مرد اس دوا کے علاج کے امیدوار ہیں۔‘

اخبار نے لکھا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ہیومن ڈویلپمینٹ کے سینیئر تحقیق کار ڈاکٹر رچرڈ شیرنس نے 12 سال تک مردوں پر پرگونل کے اثرات کا مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ مریضوں میں چھ سے نو ماہ کے اندر اس کا اثر ہوتا ہے جبکہ کچھ کو کئی سال تک علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

’اٹھارہ دیگر ممالک پہلے ہی مردوں کے لیے پرگونل کے استعمال کی منظوری دے چکے ہیں اور اسے کم از کم سات مزید ممالک میں مرد استعمال کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر پیلہم کے مطابق مردوں کے علاج سے زیادہ تعداد میں بچوں کی پیدائش کا واقعہ نہیں ہوا اور نہ ہی مضر اثرات سامنے آئے۔

سنہ 1980 کی دہائی کے وسط تک مانگ اتنی بڑھ گئی کہ سیرونو کو دوا کی کافی مقدار بنانے کے لیے ایک دن میں 30،000 لیٹر پیشاب کی ضرورت پڑتی
ایک بار میں کئی بچے
پرگونال نے ایک وقت میں ایک سے زیادہ بچوں کی پیدائش کے لیے بھی شہرت پائی۔

مئی 1985 میں کیلیفورنیا میں ایک جوڑے کے ہاں سات بچے پیدا ہوئے تو انھوں نے فرٹیلٹی کلینک کے خلاف یہ کہہ کر مقدمہ دائر کر دیا کہ انھوں نے دوا کے استعمال کو صحیح مانیٹر نہیں کیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق بچوں کے والد سیموئیل فرسٹاسی نے کہا کہ ’ہم کوئی ریکارڈ بنانے نہیں نکلے تھے۔‘

پھر تحقیق اور دوا کا استعمال بہتر ہونے سے ایک سے زیادہ پیدائشوں میں کمی آتی گئی۔

ٹائمز سے بات کرتے ہوئے سیرونو لیبارٹریز کے صدر ڈاکٹر جیرالڈ ای سٹائلز کا کہنا تھا کہ ’پرگونال لینے والی خواتین میں سے 80 فیصد کے ہاں ایک ایک بچہ پیدا ہوا اور 15 فیصد کے ہاں جڑواں بچے۔‘

سنہ 1991 میں اسی جوڑے کے ہاں اسی دوا کی مدد سے جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ پیدائش کا اعلان ان کے وکیل براؤن گرین نے کیا۔

گرین وہی وکیل ہیں جنھوں نے سات بچوں کی پیدائش پر اس جوڑے کا 2.7 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ لڑا اور جیتا تھا تاہم سنہ 1990 میں جولائی میں تصفیہ کے اعلان کے فوراً بعد یہ معلوم ہوا کہ پیٹی فرسٹاسی نے دوبارہ حاملہ ہونے کے لیے پرگونال کا استعمال کیا۔

چھ سال پہلے قبل از وقت پیدا ہونے والے چار لڑکوں اور تین لڑکیوں میں صرف تین بچے ہی زندہ بچ سکے تھے اور ہر ایک کو طبی اور نشوونما کے مسائل کا سامنا تھا۔

لیکن گرین نے جڑواں بچوں کے بارے میں بتایا کہ ’وہ صحت مند ہیں۔ انھوں نے لڑکے کا نام بھی میرے نام پر رکھا ہے، جو اعزاز کی بات ہے۔‘

دوا کی ضرورت کے مقابلے میں پیشاب کی مقدار کے ناکافی ہونے پر کمپنی نے لیبارٹری میں ہارمونز بنانا شروع کر دیے۔ اس کے نتیجے میں تیار ہونے والا علاج، گونال-ایف کے نام سے پہلی بار 1995 میں منظور کیا گیا۔

سیرونو کو مرک نے سنہ 2007 میں خرید لیا۔ یہ آج بھی اس دوا کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہے تاہم چونکہ ہارمونز اب لیبارٹری میں تیار کر لیے جاتے ہیں اس لیے دوا بنانے کے لیے بوڑھی راہباؤں کے پیشاب کی ضرورت نہیں رہی۔copy

Urdu stories

ایک شریف آدمی کے بدمعاش بننے کی تازہ ترین سچی مثال : شریف آدمی پر جب ظلم کی انتہا کردی جائے اور اسکی برداشت کی حد ختم ہو...
05/05/2026

ایک شریف آدمی کے بدمعاش بننے کی تازہ ترین سچی مثال : شریف آدمی پر جب ظلم کی انتہا کردی جائے اور اسکی برداشت کی حد ختم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے ؟ چکوال میں 3 روز قبل 55 سالہ شخص کے ہاتھوں اپنے سابق داماد کے ق۔ت۔ل کا واقعہ ۔۔۔ تفصیلات پڑھ کر ضرور بتائیے گا کہ یہ شخص کتنا قصور وار ہے ؟ حامد اشرف نامی 55 سالہ شہری چکوال کے محلہ فاروقی کا رہائشی ہے ، محلے ہی نہیں علاقہ بھر میں خوش اخلاق ملنسار اور ہر کسی کے دکھ سکھ میں شریک ہونے والا حامد اشرف الیکٹرونکس کا ماہر ہے اور بطور الیکٹریشن اس نے اب تک رزق حلال کمایا ہے چند سال پہلے حامد اشرف نے اپنی بیٹی کی شادی ایک شریف اور معقول نظر آنے والے نوجوان سے کردی کچھ سال تو ٹھیک گزرے لیکن پھر بابر نامی اس نوجوان کے پول کھلنے لگے وہ بیوی یعنی حامد اشرف کی بیٹی کو بلاوجہ مارتا گا۔لیاں دیتا اب اسکے ایک اور خاتون کے ساتھ مراسم بھی سامنے آگئے احتجاج پر وہ اور دلیر ہو گیا،لڑکی نے پولیس کو درخواست دی مگر پولیس گھریلو اور میاں بیوی کا جھگڑا قرار دے کر سوئی رہی ۔ بیٹی نے کئی بار گھر چھوڑا والد کے پاس آئی انہیں سب حال حقیقت سے آگاہ کیا مگر باپ نے بیٹی کو گھر بسانے کو کہا اور دوسری جانب داماد کو بھی سمجھایا وہ ہاں میں ہاں ملاتا مگر اسکے لچھن وہی رہے ۔ 2023 میں ایک روز بابر نے اپنی بیوی فون پر بات کرتے ہوئےجھگڑا کیا اور 3 بار طلاق دیدی ۔ ان دنوں خاتون اپنے شوہر کے ساتھ ہر بات ریکارڈ کر لیتی تھی تاکہ کسی پریشانی میں اسکے پاس کوئی ثبوت ہو ۔۔۔ طلاق ملنے کے بعد لڑکی اپنے باپ کے گھر آکر بیٹھ گئی حامد اشرف نے اللہ کی رضا اور اپنا نصیب سمجھ کر بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھانے بھی گئے اورسابق داماد کے خلاف کاروائی کی درخواست دی مگر ایک کمزور شخص کی درخواستوں پر بھلا کیا ہوتا ہے ۔ چند ہفتے گزرے تو بابر انکے گھر آدھمکا اور بیوی کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ کیا لیکن حامد اشرف نے اسے گھر سے نکال دیا کہ میری بیٹی کو طلاق دے چکے ہو خبردار اب اسکا نام زبان پر لائے تو ۔۔۔ اب داماد بدمعاشی پر اتر آیا اس نے سنگین نتائج کی دھم۔کیاں دیں پھر چند روز بعد کسی مولوی کا فتویٰ لے آیا لیکن حامد اشرف نے اپنی بیٹی کو ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا اور اگلے روز عدالت جاکر تنسیخ نکاح کی دستاویز حاصل کرنے کے لیے درخواست دے دی ۔ انکے پاس تمام ثبوت موجود تھے لڑکی نے بھی بیان دیا اور اسے خلع کی ڈگری مل گئی ۔ مگر اب سابق داماد حامد اشرف سے دشمنی پر اتر آیا ۔ وہ بار بار حامد اشرف کو دھم۔کیاں دیتا رہا کہ تم لوگوں کو جان سے ماردونگا ، کہیں منہ دکھانے لائق نہ چھوڑونگا ۔ اپنی اور گھر والوں کی زندگی کو لاحق خطرہ سامنے پاکر حامد اشرف ایک بار پھر تھانے گئے اور بابر کے خلاف درخواست دی مگر پولیس نے بابر کو پٹہ نہیں ڈالا وہ آزاد گھومتا رہا ۔ اس غنڈہ ٹائپ شخص نے جو کہا اس پر عمل کرنے کے لیے 3 روز قبل 2 ساتھیوں کے ہمراہ مسل۔ح ہو کر حامد اشرف کے گھر گھسا ۔ انکی بیٹی کو تھپڑ مارے اور اسل۔حہ کی نوک پر لاکھوں روپے مالیت کے زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہونے لگا اسی وقت حامد اشرف نے ہمت کی اور بابر سے پستو۔ل چھین لیا اچانک مزاحمت پر بابر اور اسکے ساتھی بھاگ نکلے حامد اشرف وہی پستو۔ل لیے انکے پیچھے آئے اور گلی میں فائیر۔نگ کردی ، فا۔ئیرنگ کی زد میں آکر انکا سابق داماد بابر شدید زخمی ہوا اور کچھ دیر میں موقع پر دم توڑ گیا ، اہل علاقہ نے 15 پر کال چلا دی مگر حامد صاحب اپنے گھر آئے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا دیگر اہل خانہ کو تسلی دی اور پستو۔ل سمیت تھانے پہنچ گئے اور خود گرفتاری دے دی ۔۔۔۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حامد اشرف اس واقعہ میں کتنا قصور وار ہے آخر اسکے پاس اور کیا چارہ تھا ۔ کیا وہ ظلم سہتا رہتا ۔ برداشت کرتا رہتا تھانے کچہری کے دھکے اور انصاف کا انتظار کرتا رہتا ۔ اگر پولیس اسکی پہلی درخواست پر بابر کے خلاف کارروائی کرتی اور حامد اشرف کو اس کے شر سے بچا لیتی تو نہ صرف بابر کو بلکہ حامد اشرف کو بھی یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔۔۔۔ اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں ؟ اپنی رائے کمنٹس میں دیں

copy from
فرض کرو ہم تارے ہوتے

Urdu stories

05/05/2026

پیرس کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں ماتیلد لوازیل رہتی تھی۔
وہ خوبصورت تھی — اتنی خوبصورت کہ جب وہ گلی سے گزرتی تھی تو لوگ مڑ کر دیکھتے تھے۔ اس کے بال گھنے اور سیاہ تھے، آنکھیں بڑی اور چمکدار — اور ہونٹوں پر ہمیشہ ایک ایسی مسکراہٹ جو دل میں اتر جاتی تھی۔
لیکن قسمت نے اسے امیر گھر میں نہیں جنما تھا۔
اس کے شوہر مسیو لوازیل سرکاری دفتر میں ایک معمولی ملازم تھے — نیک انسان، محنتی، وفادار — لیکن ان کی تنخواہ بس اتنی تھی کہ گھر چلتا رہے۔ نہ عیش تھا، نہ ٹھاٹ۔
ماتیلد اس زندگی سے خوش نہیں تھی۔
جب وہ دستر خوان پر سادہ کھانا دیکھتی تو دل میں تصویریں آتیں — چمکتے ہوئے دسترخوان، چاندی کے برتن، موم بتیوں کی روشنی میں چمکتے ہوئے کرسٹل کے گلاس۔
جب وہ اپنے پرانے پردے دیکھتی تو آنکھوں میں امیر گھروں کے ریشمی پردے آ جاتے۔
جب وہ آئینے میں خود کو دیکھتی تو سوچتی —
"میں اس سے بہتر زندگی کی حقدار تھی۔"
وہ ایک پرانی سہیلی سے ملتی تھی — مادام فورستیہ — جو پیسے والی تھی، خوبصورت زیور پہنتی تھی، بڑے بڑے پارٹیوں میں جاتی تھی۔ لیکن ماتیلد ان سے ملنے کے بعد اور بھی اداس ہو جاتی — کیونکہ وہ دیکھتی کہ جو زندگی اسے ملنی چاہیے تھی، وہ کسی اور کے حصے میں آئی۔
یوں دن گزرتے تھے — خوابوں میں امیری، حقیقت میں سادگی۔
ایک شام مسیو لوازیل گھر آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا — سفید، صاف، سرکاری مہر لگی ہوئی۔
ان کے چہرے پر خوشی تھی۔
"ماتیلد! دیکھو — وزارتِ تعلیم کی طرف سے سالانہ پارٹی کا دعوت نامہ ہے! پورے پیرس کے بڑے لوگ آئیں گے — وزیر، جج، ڈاکٹر، سب! اور ہمیں بھی بلایا گیا ہے!"
وہ سمجھ رہے تھے کہ ماتیلد خوش ہو گی۔
لیکن ماتیلد نے وہ کاغذ ہاتھ میں لیا — اور چہرہ اتر گیا۔
"اس پارٹی میں کیا پہنوں گی؟ میرے پاس کوئی ڈھنگ کا کپڑا نہیں۔ تم مجھے بے عزت کرانا چاہتے ہو؟"
مسیو لوازیل نے تھوڑا سوچا — پھر آہستہ سے بولے:
"کتنے پیسے چاہئیں؟"
"چار سو فرانک۔"
چار سو فرانک — جو مسیو لوازیل نے مہینوں سے گرمیوں میں شکار کے سفر کے لیے بچائے تھے۔ وہ خواب جو انہوں نے خود اپنے لیے دیکھا تھا — آج انہوں نے خاموشی سے اسے ماتیلد کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
"جاؤ — اچھا لباس بنوا لو۔"
ماتیلد نے لباس بنوایا — خوبصورت، نیلے رنگ کا، پیرس کے بہترین درزی سے۔
لیکن جب پارٹی کی رات قریب آئی — ماتیلد آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو پھر سے چہرہ اتر گیا۔
لباس تھا۔
لیکن زیور نہیں تھا۔
"میرے گلے میں کچھ نہیں ہوگا — میں بھکارن لگوں گی ان امیروں کے درمیان۔"
مسیو لوازیل نے سوچا — پھر کہا:
"اپنی سہیلی مادام فورستیہ سے مانگ لو — وہ تو تمہاری پرانی دوست ہیں، انکار نہیں کریں گی۔
اگلے دن ماتیلد مادام فورستیہ کے گھر گئی۔
مادام فورستیہ نے اسے گلے لگایا، خوش آمدید کہا — اور پھر اپنا زیور کا بکسہ کھول کر سامنے رکھ دیا۔
"جو چاہو لے جاؤ۔"
ماتیلد نے ہار دیکھے، بالیاں دیکھیں، کنگن دیکھے —
اور پھر اس کی نظر ایک ہار پر ٹکی۔
ہیروں کا ہار۔
سفید ہیرے — چھوٹے چھوٹے، چمکدار، روشنی میں جگمگاتے ہوئے — سونے کی زنجیر میں پروئے ہوئے۔
ماتیلد کا دل دھڑکا۔
"یہ — کیا میں یہ لے جا سکتی ہوں؟"
مادام فورستیہ نے مسکرا کر کہا:
"بالکل — میری سہیلی ہو۔"
ماتیلد نے وہ ہار گلے میں پہنا اور آئینے میں دیکھا —
اسے لگا جیسے وہ واقعی وہ عورت بن گئی ہے جو وہ بننا چاہتی تھی۔
پارٹی شاندار تھی۔
وزارتِ تعلیم کی بڑی عمارت روشنیوں سے نہائی ہوئی تھی۔ فانوس چھتوں سے لٹکے تھے، موسیقی فضا میں تھی، عورتیں خوبصورت لباسوں میں تھیں، مرد سوٹوں میں تھے — پیرس کے سب سے اہم لوگ ایک جگہ جمع تھے۔
اور ان سب میں —
ماتیلد سب سے خوبصورت تھی۔
وہ جہاں سے گزرتی، نظریں اس پر ٹھہر جاتیں۔ مرد اس سے ڈانس مانگتے، عورتیں اس کا لباس دیکھتیں، اس کا ہار دیکھتیں۔
خود وزیر صاحب نے کہا:
"مادام، آج آپ سب سے حسین ہیں۔"
ماتیلد نے وہ رات جی بھر کر جی۔
وہ ناچی، ہنسی، باتیں کیں۔ مسیو لوازیل ایک طرف بیٹھے اونگھتے رہے — لیکن ماتیلد کے لیے وقت اڑتا رہا۔
رات کے چار بجے جب وہ واپس آئے — ماتیلد کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔
مسیو لوازیل نے اس کے کندھوں پر پرانا کوٹ ڈالا۔
دونوں سیڑھیاں اتر کر باہر آئے۔
سردی تھی، سڑک سنسان تھی۔
ماتیلد نے گلے پر ہاتھ رکھا —
ہار نہیں تھا۔
وہ گھبرا گئی۔
"یہ — یہ کہاں گیا؟"
دونوں نے کوٹ دیکھا، لباس دیکھا، بیگ دیکھا — ہار نہیں تھا۔
وہ واپس دوڑے — سڑکیں چھانیں، گاڑی تلاش کی، وزارت کی عمارت گئے — کہیں نہیں ملا۔
ہار غائب تھا۔
مادام فورستیہ کو کیا کہتے؟
ماتیلد نے ایک خط لکھا — "ہار کا کلاسپ ٹوٹ گیا، مرمت کے لیے بھیج رہی ہیں۔"
اور پھر دونوں میاں بیوی ویسا ہی ہار ڈھونڈنے نکلے۔
پیرس کی ہر دکان چھانی — آخرکار ایک دکان پر ملا۔
ہیروں کا ویسا ہی ہار — بالکل وہی —
قیمت: چھتیس ہزار فرانک۔
چھتیس ہزار فرانک۔
مسیو لوازیل کے باپ نے انہیں اٹھارہ ہزار وراثت میں چھوڑے تھے — باقی انہوں نے قرض لیا۔ کسی سے پانچ سو، کسی سے ہزار، کسی سے دو ہزار — ہر جگہ سے مانگا، گڑگڑایا۔
ہار خریدا — مادام فورستیہ کو دیا۔
مادام فورستیہ نے بکسہ کھول کر دیکھا بھی نہیں — بس کہا:
"شکریہ — آئندہ پہلے بتایا کرو جب مرمت کے لیے بھیجو۔"
اور ماتیلد نے سانس لی —
لیکن اب شروع ہوئی اصل زندگی۔
قرض اتارنے کے لیے انہوں نے فلیٹ چھوڑا — ایک تنگ، اندھیرا کمرہ لیا۔
نوکرانی کو جانے دیا۔
مسیو لوازیل نے دفتر کے بعد رات کو دوسری نوکری کی — حساب کتاب لکھتے تھے دوسروں کے لیے — آنکھیں جلتی تھیں، پیٹھ دردتی تھی۔
ماتیلد نے خود ہاتھوں سے کام کیا — پانی بھرا، برتن مانجھے، کوڑا اٹھایا، بازار سے سامان لائی — سستا سامان، گھاٹے میں مول کر کے۔
وہ نازک ہاتھ جن میں ایک شام ہیروں کا ہار چمکا تھا — اب پانی اور صابن سے کھردرے ہو گئے۔
وہ خوبصورت چہرہ جس پر پیرس کے وزیر نے تعریف کی تھی — اب تھکاوٹ اور محنت کی لکیریں کھینچ گئی تھیں۔
دس سال۔
دس سال لگے قرض اتارنے میں۔
ایک اتوار کی صبح، ماتیلد پیرس کے ایک پارک میں ٹہل رہی تھی۔
دور سے ایک عورت آتی دکھی — خوبصورت لباس، جوان چہرہ، ہاتھ میں چھوٹا بچہ۔
ماتیلد نے غور سے دیکھا —
یہ تو مادام فورستیہ تھیں۔
ماتیلد کا دل دھڑکا — وہ گزر جانا چاہتی تھی — لیکن مادام فورستیہ نے دیکھ لیا۔
"معاف کریں — آپ کون ہیں؟"
انہوں نے ماتیلد کو پہچانا نہیں تھا۔
ماتیلد رکی —
"میں ماتیلد ہوں — ماتیلد لوازیل۔ آپ کی پرانی سہیلی۔"
مادام فورستیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
"ماتیلد؟ یہ تم ہو؟ اتنی بدل گئی ہو؟"
"ہاں — زندگی نے بدل دیا۔"
مادام فورستیہ نے پوچھا:
"کیا ہوا تھا؟ کیوں اتنے سال نظر نہیں آئیں؟"
ماتیلد مسکرائی — وہ تھکی ہوئی، بوجھل مسکراہٹ جو صرف وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے بہت کچھ جھیلا ہو —
"تمہارا ہار کھو گیا تھا۔ میں نے نیا خریدا اور دیا۔ ویسا ہی — ہیروں کا۔ چھتیس ہزار فرانک کا۔ دس سال لگے قرض اتارنے میں — لیکن ہم نے اتار دیا۔"
مادام فورستیہ رک گئیں۔
ان کا چہرہ سفید ہو گیا۔
"ماتیلد — وہ ہار —"
وہ آہستہ سے بولیں —
"وہ ہار نقلی تھا۔
اصلی ہیرے نہیں تھے۔
اس کی قیمت — پانچ سو فرانک سے زیادہ نہیں تھی۔"

The Necklace, Guy de Maupassant

منقول

ہ عورت جسکا بھری پنجائیت کے سامنے ریپ کیا گیا ۔ درندگی یہاں ختم نہی ہوتی بلکہ برہنہ حالت میں اسے گھسیٹتے رہے ۔ اسکو مارن...
05/05/2026

ہ عورت جسکا بھری پنجائیت کے سامنے ریپ کیا گیا ۔ درندگی یہاں ختم نہی ہوتی بلکہ برہنہ حالت میں اسے گھسیٹتے رہے ۔ اسکو مارنا چاہتے تھے مگر وہ دنیا کی تمام مظلوم عورتوں کی اواز بن گی ۔۔

‏اور پھر ایسی طاقتور عورت بنی مشرف جیسا ڈیکٹیٹر بھی اس سے خوف کھاتا تھا ۔ سیاست دان جاگیردار مقامی وڈیرے سب اس سے دور بھاگتے تھے ۔۔

‏جون 2002 کی ایک جلتی ہوئی دوپہر تھی۔

‏ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کا ایک چھوٹا سا گاؤں میر والا اپنی گلیوں میں دھوپ سمیٹے خاموش پڑا تھا اور اس خاموشی میں ایک ایسا ظلم ہوا جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

‏مختار مائی کے بارہ سالہ بھائی شکور پر الزام لگایا گیا کہ اس کا تعلق مستوئی قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ ہے اور یہ الزام بھی اس طاقتور قبیلے نے گھڑا تھا جس کے ہاتھ میں اس دیہات کی زمین بھی تھی اور ضمیر بھی۔

‏جرگہ بیٹھایا گیا

‏وہی جرگہ جسے گاؤں والے انصاف کا نام دیتے ہیں
‏مستوئی قبیلے کے سرداروں نے فیصلہ سنایا کہ مختار مائی کو معافی مانگنے کے لیے بلایا جائے اور جب وہ آئیں تو انہیں ایک کمرے میں گھسیٹ کر چار مردوں نے اجتماعی زیادتی کی جبکہ دس افراد باہر کھڑے رہے
‏اور یہ سب ہوتا رہا
‏اور کوئی نہ روکا
‏اس کے بعد انہیں برہنہ حالت میں گاؤں کی گلیوں میں پریڈ کرایا گیا۔

‏سوچیں ایک لمحے کے لیے
‏ایک عورت جس نے کچھ نہیں کیا تھا
‏جس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس گھر میں پیدا ہوئی
‏اسے اس طرح توڑا گیا
‏اس طرح ذلیل کیا گیا۔

‏کہ معاشرہ چاہتا تھا وہ گھر جائے اور خاموشی سے مر جائے۔رواج یہی کہتا تھا کہ ایسی عورت کو خودکشی کر لینی چاہیے ۔

‏لیکن مختار مائی نے یہ نہیں کیا
‏انہوں نے پولیس رپورٹ درج کرائی
‏عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا
‏اور پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ظلم ہوا ہے
‏یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غریب ان پڑھ عورت نے پورے نظام کو للکارا۔

‏یکم ستمبر 2002 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے چھ ملزمان کو موت کی سزا سنائی ۔لگا شاید انصاف ہوگا۔

‏لیکن پھر وہی ہوا جو اس ملک میں طاقتوروں کے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے۔

‏2005 میں لاہور ہائی کورٹ نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر پانچ ملزمان کو بری کر دیا اور چھٹے کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا
‏اور پھر اس سے بھی بڑا ظلم ہوا

‏اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے مختار مائی کو ملک سے باہر جانے سے روکا کیونکہ وہ پاکستان کی بدنامی نہیں چاہتے تھے ۔

‏یعنی سچ کو دبانا ضروری تھا
‏عزت اس ملک کی بچانی تھی
‏اس عورت کی نہیں جو مٹی میں رولی گئی تھی
‏وزیر کا پیغام آیا کہ مختار مائی ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیں ورنہ سپریم کورٹ میں فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوگا
‏یہ ہے ہمارا نظام
‏یہ ہے ہماری انصاف کی حقیقت
‏لیکن مختار مائی نے ہار نہیں مانی۔

‏انہوں نے حکومت سے ملنے والے معاوضے کو اپنے گاؤں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول بنانے پر لگا دیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ تعلیم ہی اس ظلم کا علاج ہے ۔

‏وہ عورت جو خود کبھی اسکول نہیں گئی
‏اس نے دوسروں کے لیے اسکول کھولے
‏وہ عورت جسے توڑا گیا تھا۔اس نے دوسروں کو جوڑنا شروع کر دیا۔

‏مختار مائی نے خود کہا کہ ان کی کہانی نے گاؤں کی دوسری عورتوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت دی ۔

‏آج ضلع مظفرگڑھ کی اس بیٹی کو دنیا جانتی ہے
‏گلیمر میگزین نے انہیں سال کی بہترین خاتون کا اعزاز دیا
‏اقوام متحدہ نے انہیں بلایا
‏امریکہ نے انہیں سنا
‏لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے
‏کہ میر والا کی ایک عام عورت نے ثابت کر دیا
‏کہ اگر ارادہ ہو تو ایک اکیلا انسان پورے نظام کو آئینہ دکھا سکتا ہے
‏مختار مائی صرف ایک واقعے کا نام نہیں۔

‏وہ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خاموش کر دی گئی
‏وہ ہر اس انسان کی امید ہیں جسے لگتا ہے کہ اکیلا لڑنا بے کار ہے۔

‏اور وہ ہر اس سوال کا جواب ہیں جو ہم سے پوچھتا ہے کہ کیا ظلم کے سامنے سر جھکانا ضروری ہے
‏نہیں
‏بالکل نہیں
‏مختار مائی نے بھی نہیں جھکایا



منقول
Urdu stories

Address

Address
Karachi
75900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu stories:

Share