Urdu stories

Urdu stories For best urdu hindi stories reels and everything about entetainment
اردو ادب اردو اسثوریز نوولس ریلس اور بہت کچھ

پاکستان بنانے میں قائد اعظم سے بھی زیادہ کردار وڈیروں اور نوابوں کا تھا ، ہوا کچھ یوں کے 1930 کی دہائی سے کانگریس اور نہ...
14/08/2026

پاکستان بنانے میں قائد اعظم سے بھی زیادہ کردار وڈیروں اور نوابوں کا تھا ، ہوا کچھ یوں کے 1930 کی دہائی سے کانگریس اور نہرو کھلے عام کہنا شروع ہوگئے تھے

" زمینداری نظام ختم ہوگا ، کسان کو زمین ملے گی "

نہرو سوشلزم سے متاثر تھے اسلیے 1936 کے کانگریس کے منشور میں شامل تھا کے لینڈ ریفارمز کی جائیں گی اور کسانوں میں زمین تقسیم ہوگی۔

1937 کے الیکشن میں مسلم لیگ بُری طرح ہارتی ہے اور پورے پنجاب سے صرف 2 سیٹیں جیت پاتی ہے ، پنجاب سے وڈیروں کی یونینسٹ پارٹی 98 نشستیں جیتنے کے بعد اپنی حکومت بناتی ہے، لیکن اب مسئلہ یہ ہوا کہ تمام وڈیرے نہرو کی لینڈ ریفارمز سے ڈرے ہوئے تھے، اسلیے 1937 میں جناح سکندر پیکٹ ہوا ، سکندر حیات خان پنجاب کے پریمیئر یعنی آج کے زمانے کا وزیراعلٰی تھے ، انھوں نے اپنے زمیندار بھائیوں سے درخواست کی کے مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں ، لیکن اکا دکا شامل ہوئے ، کیونکہ انکے لیے مسلم لیگ اور یونینسٹ پارٹی ایک ہی طرح کی بن چکی تھی ، جو لینڈ ریفارمز کو روک نہیں سکتی تھی۔

پھر کھیلا جاتا ہے 1940 میں ٹرمپ کارڈ ایک آزاد ملک کا ، یاد رہے اس سے پہلے آزاد ملک کا کوئی کانسیپٹ موجود نہیں تھا، اور جو علامہ اقبال کا 1930 کا خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہے ، وہ خطبہ پڑھیں اسمیں Dominion Status کی مانگ ہے ، خیر جیسے ہی مسلم لیگ 1940 میں قراداد لاہور منظور کرتی ہے تو پنجاب و بنگال کے نواب سوچتے ہیں کانگریس کی طرف گئے تو زمین جائے گی ، اور مسلم لیگ کی طرف ہوگئے تو زمین بچ جائے گی ۔
اس بنا پہ بہت سے لوگ یونینسٹ پارٹی سے مسلم لیگ میں شامل ہوئے ، اور بھاری رقوم فنڈ کے طور پر جمع کروائی، کیونکہ ساری جاگیر جمع پونجی جانے سے بہتر تھا ، کچھ فنڈز دے کر اسکو بچا لیا جائے ۔ کیونکہ اگر الگ ملک نہیں بنا اور کانگریس اقتدار میں آئی ، جو کے طے تھا کے وہ آئے گی تو زمینیں چھن جائیں گی ، اور ہندوستان میں دستور بننے کے بعد ہوا بھی کچھ یوں ہی ۔

اہم زمیندار ، اور انکی زمینوں کا رقبہ، اور انکا سیاسی عہدوں سے لگاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

• پنجاب

نواب آف بہاولپور= 6.75 لاکھ ایکڑ
نواب آف بہاولپور کو 1943 میں مسلم لیگ کا نائب صدر بنایا گیا۔
2022 میں نواب آف بہاولپور کی 3 لاکھ کی اراضی واپس کی گئی ، جو کے آن ریکارڈ DAWN اخبار پر موجود ہے ، یہ اتنی بڑی جگہ ہے کے پورا لاہور اس میں سما جائے ۔

سردار شوکت حیات خان = 20 ہزار ایکڑ ( اٹک )
سردار شوکت خان کے والد سکندر حیات ، پنجاب کے پریمیئر یعنی چیف منسٹر تھے اور شوکت خان خود پنجاب کے ایم ایل اے تھے۔

فیروز خان نون = 10 ہزار ایکڑ (سرگودھا )
فیروز خان نون یونینسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر اور پنجاب کے چیف منسٹر تھے ، اور پاکستان بننے کے بعد وزیراعظم بھی بنے ۔

•سندھ

بھٹو خاندان = 20 ہزار ایکڑ
اس خاندان سے 2 وزیراعظم ، وزیر خارجہ امور ، وزیر اطلاعات، وزیر توانائی ، وزیر اعلی اور گورنر سندھ نکلے ۔

تالپورخاندان ( حیدرآباد، خیرپور ، میر پور خاص 45 لاکھ ایکڑ
اس خاندان سے وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، گورنر سندھ ، وزیر جنگلات و ایکسائز ، وزیر مہاجرین و بحالی ، وزیر آبپاشی سنبھالنے والے سپوت نکلے ۔

نواب شاہ = 1 لاکھ ایکڑ
ایم این اے ، ایم پی اے ، سینیٹرز اس نسل سے نکلے ۔

پیر پگاڑا = 50 لاکھ ایکڑ
پیر پگاڑا سندھ میں مسلم لیگ کے صدر تھے ،1943 میں قائد اعظم نے کہا تھا سندھ کا دروازہ پیر پگاڑا کے بغیر نہیں کھل سکتا ۔

مشرقی بنگال

نواب سلیم اللہ خان = 37 ہزار 500 ایکڑ
نواب سلیم اللہ مسلم لیگ بنانے والے رہنماؤں میں شامل تھے ۔

نواب آف پوٹیا = 45 ہزار ایکڑ
1940 کے بعد نواب آف پوٹیا نے مسلم لیگ کو فنڈنگ شروع کردی ۔

اے کے ،فضل الحق = 5 ہزار ایکڑ
شیر بنگال، یونینسٹ پارٹی کے سینیئر ممبر ، بنگال کے وزیراعلی، وفاقی وزیر داخلہ ، گورنر آف ایسٹ پاکستان ،وفاقی وزیر خوراک و زراعت ۔

ملک خدا بخش = 1.5 لاکھ ایکڑ (ملتان )
وزیر زراعت ایوب خان کے دور میں

نواب اکبر بگٹی = 50 ہزار ایکڑ
وزیر مملکت برائے دفاع، وزیر مملکت برائے داخلہ ، گورنر آف بلوچستان ، وزیر اعلیٰ بلوچستان ،

خان آف قلات = پوری ریاست (25 لاکھ ایکڑ )
گورنر آف بلوچستان

یہ ساری زمین 1947 کے مشرقی و مغربی پاکستان کے مطابق 6.45 فیصد ملک کے رقبہ پر مشتمل تھی ، یعنی آج کا خیبرپختونخوا کا 70 فیصد رقبہ ۔

خیر یہ زمینیں بھی زیادہ تر لوگوں سے ایوب خان کے دور میں ، اور اسکے بعد بھٹو کے دور میں لینڈ ریفارمز کر کے حکومتی تحویل میں لے لی گئی تھیں۔

~ علی حیدر
urdu stories

آپ کا بچہ بلیک میل ہو رہا ہے آپ غافل ہے اگر نیچے دئے گئے طریقوں میں کوئی بھی Fact آپ کے بچے میں پایا جائے تو بچوں کے پاس...
10/08/2026

آپ کا بچہ بلیک میل ہو رہا ہے آپ غافل ہے اگر نیچے دئے گئے طریقوں میں کوئی بھی Fact آپ کے بچے میں پایا جائے تو بچوں کے پاس جاکر ضرور اُن سے پوچھے

*Child blacmaling*

سب سے پہلے دست بستہ گزارش کرونگا والدین سے بھاٸیوں سے کہ اس تحریر کو تھوڑا سا وقت نکال کر مطالعہ کریں کہ کیسے آپکا بچہ آپ کا بھاٸی *Blackmale* ہو رہا ہے

*1۔ How Blakmale your son, Brother etc.*

ایک چیز جو کہ peak پر جا رہی ہے وہ ہے بچے کا بلیک میل ہونا معاشرے میں بچے کا خوبصورت ہونا ذلت کا سبب بن رہا ہے *یہ میں درد دل سے بیان کر رہا ہوں۔۔* معاشرے میں بچہ خود دل کا صاف ہوتا ہے اور ہر کسی پر بھروسہ کرتا اُس کا بھروسہ کرنا بعد میں اُس کے لٸے درد سر بن جاتا اس میں والدین کا غافل ہونا شامل ہے

*2۔ children need attention*
خدا کے لٸے اپنے بچوں کو وقت دیں توجہ دیں بچوں اور بھاٸیوں کے ساتھ دوست بن کر رہے معاشرے کے مطعق بچوں کو آگاہی دیں اچھے اور برے انسان کی بصیرت سے بچوں کو روشناس کراٸیں *اگر آچ اپنے بچے اور بھاٸی کو وقت اور محبت نہیں دینگے تو کسی اور کو محبت دینا پڑی گی جو کہ نقصان دہ ہے۔

*3۔ Factors of Blacmaling*
وہ کونسی چیزیں ہے جو آپ کے بچوں کے لٸے آپ ک بھاٸیوں کے لٸے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔
*۱) موٹر ساٸیکل*
آپ کا بھاٸی آپ کا بچہ جب کسی غیر کے ساتھ باٸک پر بیٹھتا ہے تو یہی سے بلیک میلنگ کا process شروع ہوجاتا ہے معاشرہ جنگل میں تبدیل ہوگیا ہے بھروسے کا وقت چلا گیا ہے۔

*۲ موباٸل کی لالچ*
آپ کے بچے یا بھاٸی کے ساتھ اگر نیا موباٸل ہے اور آپ کے علاوہ کسی اور کا دیا ہوا ہے تو بچے سے پوچھے کہ بیٹا یہ موبائل کہا سے آیا ہے اور کیوں آیا کس نے لیکر دیا کیونکہ جو انسان آپ کے بچے کو خراب کرنا چاہتا ہوں سب سے پہلے وہ موبائل کا لالچ دے گا۔

*٣ بچے کے ساتھ زیادہ پیسے کا ہونا*
آپ دیکھے کہ آپ کے دئے ہوئے بغیر آپ کے بچے کے ساتھ پیسے زیادہ ہو تو بچے کو اپنے ساتھ بٹھائے انتہائی شفقت کے ساتھ بچے سے پوچھے کہ اتنے سارے پیسے کہا سے آئے کیونکہ جال بچھانے والا شخص سب سے پہلے آپ کے بچے کو پیسے کی بھرمار میں گرفتار کریگا پھر دھمکی دے گا کہ میرے پیسے واپس کر اگر نہیں کروگے تو میں آپ کے بڑوں کو بتاوُنگا یہاں پر بچہ کیسے فیصلہ لے آپ خوب جانتے ہیں بچہ تو یہی کہے گا کہ آپ میرے گھر والوں کو نہ بتائیں یہاں پر بلیک میلر اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گا اور وہ غلط کام کا demand کرے گا یہاں سے بچے کے زلالت کے دن شروع ہوجائے گے بڑا ہو کر خودکشی نہ کرے تو کیا کرے۔

*4۔ How ro train children for Blakmaler*

بلیک میلر انسان کے متعلق اپنے بچوں کو آگاہی دینا اپنے بچوں کو تیار کرنا والدین اور بڑے بھائیوں کا اولین فریضہ ہے ضروری نہیں کہ بچے کو خراب کرنے والا کوئی غیر ہو اپنا رشتہ دار مامو زاد بھائی، چچا زاد بھائی بھی ہو سکتا ہے اپنے بچے کو Good touch اور Bad touch ضرور سکھائے اپنے بچے کو کہے کہ اگر آپ کا باپ، آپ کی ماں یا آپ کا بھائی آپ سے محبت کرتا ہے، آپ کو اپنے ساتھ بٹھاتا ہے آپ کو touch کر رہا ہے تو یہ Good touch ہے اُس سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔ اگر کوئی دوسرا انسان چاہے وہ آپ کا دوست ہو، آپ کا استاد ہو، (استاد کا بھی اپنا limit ہوتا ہے) یا کوئی اور دوسرا شخص ہو اگر وہ آپ پر ہاتھ رکھ رہا ہے سِوائے سلام کے تو یہ Bad touch ہے آپ نے اُس کو ڈٹ کر یہ بتانا ہے کہ یہ جسم میرا ہے اور اس پر صرف میرا اور میرے فیملی والوں کا حق ہے اپنے بچوں کو اس طرح train کرے۔

*5۔ Depress Children*

اگر آپ کا بچہ ڈپریشن میں ہے روزانہ شوچوں میں ڈوبا ہے خاموشی اختیار کی ہے تو اُس کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مزاق کریں دوست کی طرح بچے کو treat کریں اُن سے خاموشی کی وجہ پوچھے مشکلات پوچھے بچے کو کہے کہ آپ کو پیسوں کی ضرورت تو نہیں ہے یا کسی کا قرضہ وغیرہ تو نہیں ہے اگر ہو تو میں ادا کردونگا آپ بے فکر رہے ہو سکتا ہے کہ آپ کے بچے کے ساتھ بلیک میلنگ والا process شروع ہوا ہو جتنا جلدی ہو سکے اپنے بچوں کو اِس چیز سے نکالنے کی کوشش کریں۔

*6۔ Conclusion*

ان ساری باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں سے دوستوں کی طرح نہیں رہوگے تو آپکا بچہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا
اگر بلیک میلر کی آگاہی نہیں دوگے تو آپ کا بچہ بلیک میل ہوجائے گا
اگر اپنے بچے کو وقت نہیں دوگے تو کوئی اور وقت دے گا
اپنے بچے کا محافظ بن کر اچھا والد اور اچھی ماں بننے کی کوشش کریں۔
غلطی کرنے پر کسی کے سامنے بچوں کو نہ ڈانٹے
بچے کو یہ شعور دے کہ کوئی بائک پر بٹھائے تو آپ نے نہیں بیٹھنا کوئی پیسے دے آپ نے نہیں لینے
اگر بچے کو آپ نے وقت نہ دیا محبت نہ دی وہ بلیک میل ہوگیا تو بڑا ہوکر وہ خود کشی کرے گا یا معاشرے لے لئے ناسور بن کر سامنے آئے گا اور اس میں والدین برابر کے شریک ہے۔
منقول

urdu stories

آج لاہور سے گوجرانوالہ آتے ہوئے میری نظر ایک خاتون پر پڑی جو عبایا اور ماسک پہنے الیکٹرک اسکوٹر چلا رہی تھیں۔ ان کے پیچھ...
10/08/2026

آج لاہور سے گوجرانوالہ آتے ہوئے میری نظر ایک خاتون پر پڑی جو عبایا اور ماسک پہنے الیکٹرک اسکوٹر چلا رہی تھیں۔ ان کے پیچھے ایک بچہ اسکول بیگ پہنے بیٹھا تھا، جبکہ دوسرا بچہ سامنے کھڑا اپنی ماں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا۔
جیسے ہی میں نے یہ منظر دیکھا، میرے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ بے اختیار یہ خیال آیا کہ واقعی پاکستان بدل رہا ہے۔
آج اگر ایک خاتون کو الیکٹرک اسکوٹر جیسی سہولت میسر ہو تو وہ پردے اور باوقار انداز میں اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے اور واپس لانے، گھر کا سودا سلف لانے اور روزمرہ کے کئی ضروری کام خود انجام دے سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف اس کی اپنی سہولت بڑھتی ہے بلکہ شوہر بھی زیادہ اطمینان کے ساتھ اپنی ملازمت یا کاروبار پر توجہ دے سکتا ہے۔
میری ان تمام مردوں سے گزارش ہے جو خواتین کے الیکٹرک اسکوٹر یا بائیک چلانے کی مخالفت کرتے ہیں کہ اس پہلو پر بھی غور کریں۔ اگر مناسب ماحول اور احتیاط کے ساتھ یہ سہولت فراہم کی جائے تو اس کا فائدہ پورے خاندان کو پہنچتا ہے۔
اور سلام ہے ان باپوں، بھائیوں اور شوہروں کو جنہوں نے اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یہ سہولت فراہم کی۔ یقیناً یہ ایک آسان، باوقار اور خودمختار معاشرے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔
فرخندہ نور کی وال سے
منقول


سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ہوا تھا ۔ دربار  میں ہزاروں افراد شریک تھے ، جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے ۔ سلطان ...
08/08/2026

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ہوا تھا ۔ دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے ، جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے ۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکتا ہے ؟
سب خاموش رہے ، دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ۔
سلطان نے شرط منظور کرلی ، اس شخص کو چلہ کے لیے بھیج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا ۔
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے ۔
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.... ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام ۔ میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا ، بچے بھوک سے مر رہے تھے ، اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا ۔

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے ؟ وزیر نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ہے ، لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے ۔ دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے ، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا ۔

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا کہ اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے ، اسکا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کر مرے ، اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو ؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے ، آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا ۔ اگر میری بات مانیں تو اسے معاف کر دیں ، اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے ۔ ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے ۔
بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اسکا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا ۔ اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا ۔
دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا ، کتوں سے شکار کھیلتا تھا ، اسکا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا ۔ آپکی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ہی مرنا ہے ۔

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے ۔ سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا ۔
سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو ۔
ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں ، "اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ "
"شبلی نعمانی کی کتاب سے"
منقول
Urdu stories

منقولبہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے   قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی  آج...
08/08/2026

منقول
بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے

قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی

آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں

کیوں؟

پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں

تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی

صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں:

زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے

وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے

پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں

دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں

انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے

کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے

بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے

دن کے ایک بجےسر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے

یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔

ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔

اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔

دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا

اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔

برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔

لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے
اب 2026 میں آتے ہیں۔

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں

آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں

بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ ، امریکہ، جاپان ، آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔

بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !

حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی نہیں تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں، مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ، اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے اکرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے۔ کتنے وزیر کتنے سیکرٹری ، کتنے انجینئر، کتنے ڈاکٹر، کتنے پولیس افسر، کتنے ڈی سی، کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟

کیا اس قوم کو تباہ و برباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں

کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.

جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی.

اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتا ہے.

وطن عزیز کی بقاء اور اپنی ترقی کی خاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب کے گروپس میں ضرور پھیلائیں اور اس میسج سے سبق ضرور اُٹھانا چاہیے
منقول





08/08/2026

joke in wrong time 😂

‏کراچی میں اج اک مسیحی  گھر  جلنے سے بچ گیا اج اک بے گناہ  مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جانے سے بچ گیا ۔ وجہ جانتے ہیں صرف اس...
04/08/2026

‏کراچی میں اج اک مسیحی گھر جلنے سے بچ گیا اج اک بے گناہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جانے سے بچ گیا ۔

وجہ جانتے ہیں صرف اس اک فرض شناس پولیس آفیسر کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ روک لیا گیا جس نے افسر شاہی تھانہ ڈکٹیٹر بن کر نہیں اک مسلمان بن کر عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا ۔

یہ بات پولیس ٹریننگ کا حصہ بنای جاے ۔ کچھ سال پہلے اک سری لنکن کو سر عام مار دیا گیا تھا گستاخی کا انزام لگانے پر اور پولیس والے سامنے کھڑے دیکھتے رہے تھے ۔

اس فرض شناس آفیسر نے چند احادیث اور قرانی ایت پڑھ کر مولویوں عوام کے جم غفیر کو نہ صرف کنٹرول کیا بلکہ انکا غصہ ٹھنڈا کیا ۔

تازہ تازہ واقعہ ہے کراچی بلدیہ ٹاؤن کا۔ ایک مسیحی گھرانے پر قرآن کی توہین کا الزام لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقہ بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

وہی پرانا انداز تھا جس میں مارنے کہ دھمکیاں تھیں لوگ اکٹھے ہوئے اور ان کے گھر کو آگ لگانے چل پڑے تاہم مقامی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور اس آفیسر نے لوگوں کے سامنے تقریر کی اور کہا پہلے واقعہ سن لیں اس کے بعد اپنا فیصلہ کجیے گا ۔

کسی نامعلوم شخص نے اسی علاقے کے دکانداروں کو پاکستان پوسٹ کے ذریعے ایک خط بھیجا اس میں جلے ہوئے مقدس ایات اس مسیج خاندان کے تمام افراد کی تصاویر اور نام بھی موجود تھے ۔ جس پر ہجوم مشتعل ہو کر انکے گھر جا پہنچا ۔

اس پولیس آفسر نےعوام کو سارا واقعہ بتایا پھر سورہ حجرات کی ایت کاترجمہ کیا

اے ایمان والو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص کوئی خبر لے کر آئے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہوتے رہو۔

عوام سے کہا کہ کل کو کوی بندہ کچھ غلط کر کے اپکے نام اپکی تصویر پوسٹ افس کے زریعے لوگوں تک پہنچا دے یہ سارے لوگ جو یہاں کھڑے ہیں آپکے گھر جمع ہو جائیں بغیر ویری فیکیشن کے قانون ہاتھ میں لیکر کسی کی جان لے لیں تو یہ اللہ کے کلام کی خلاف ورزی ہے ۔ اور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو روز قیامت کیا منہ دیکھائیں گے ہم نے بغیر تصدیق کے اک بے گناہ مار دیا ۔

میری گزارش ہے کہ ہمیں ویری فیکیشن کرنے دیں خط کس نے بھیجا اور اگر انہوں نے گستاخی کرنی ہوتی تو جلے ہوے مقدس اوراق کے ساتھ اپنے نام اور اپنی تصاویر اپ لوگوں تک پہنچا کر کیوں اپنی جان سے کھیلتے ۔

اب یہ سب سننے کے بعد اب اپ کی اپنی مرضی ہے ۔ اپ لوگ نعرے تو لگا رہے ہیں مگر اصل مدعا کی ویری فیکیشن نہ کی چھوٹے بچے نعرے لگا رہے ہیں انکو بھی نہی پتہ مدعا کیا ہے بس گستاخی ہو گئی یہ پتہ ہے ۔

ہمیں تحقیق کرنے دیں جس کے خلاف شکایت ہے ہمیں چھان بین کرنے دیں ہم بھی مسلمان ہیں جزبات ہمارے بھی ہیں ہم چاہتے ہیں اصل مجرم جو بھی ہو سزا اس کو ملے قانون ائین پاکستان کے مطابق ۔

اس کے بعد سارے لوگ ٹھنڈے پڑ گئے اک بڑا سانحہ ہوتے ہوتے بچ گیا ۔ معزز لوگوں نےجن میں اہل علاقہ مفتی صاحبان امام مسجد اور پولیس کے افسران نے بیٹھ کر ساری چھان بین کی ۔

مسیج عورت اور اس کے گھر والے بے قصور نکلے ۔ مگر پولیس اس مجرم کی تلاش میں ہے جس نے انکے نام لکھ کر تصاویر لکھ کر پوسٹ افس بھیجیں ۔۔۔
منقول
Urdu stories

میری عمر اس وقت40 سال ہے۔ میری عمر کے قریب ترین عمر کے لوگ اس پوسٹ کو لازمی پڑھیں اور دوسرے بھی پڑھیں۔یہ جو ہم 1973سے 19...
04/08/2026

میری عمر اس وقت40 سال ہے۔ میری عمر کے قریب ترین عمر کے لوگ اس پوسٹ کو لازمی پڑھیں اور دوسرے بھی پڑھیں۔
یہ جو ہم 1973سے 1990 کے درمیان پیدا ہونے والے لوگ ہیں، ہمارا وقت آج کل واقعی بہت عجیب سا چل رہا ہے۔
ہم لوگوں کی عمر اگرچہ چالیس پچاس کے قریب ہے مگر آئینے میں دیکھیں تو خود کو بیس سال کا دیکھتے ہیں۔
اور ہمارا دل — ہاہاہا — ہمارا دل اب بھی خود کو سولہ سال کا سمجھتا ہے! ضدی، جذباتی اور خوابوں سے بھرا ہوا۔
ہم وہ نسل ہیں جس کی جوانی ا پنی نہیں تھی۔ کبھی گھر کی ذمہ داریاں تو کبھی معاشی دباؤ، کبھی اپنی ناکام و کامیاب محبت کا بوجھ، تو کبھی حالات کی مار۔
اور اب جبکہ ذرا سکھ کا سانس لینے کا وقت آیا ہے، تو بڑھاپا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے جسے ہم ماننے کو تیار نہیں۔
ہم حیرت انگیز طور پر باہر سے مضبوط اور اندر سے تھکے ہوتے ہیں۔
ہم ایسے لوگ ہیں جو محفل میں
سب کو ہنساتے ہیں اور رات کو تنہائیوں کو گلے لگا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔
ہمارے اندر احساسات ایسے ہیں کہ جیسے زندگی کے 80 سال جی چکے ہوں۔ ہر رشتہ پرخلوص نبھایا، اپنا ہر درد دنیا سے چھپایا، اور دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی ہر خوشی کو قربان کر دیا۔
اور اب دل جب کچھ مانگتا ہے، تو دل فوراً یاد دلا دیتا ہے کہ اب؟؟؟
اب تو بہت دیر ہو چکی دوست...
ہائے... دل آج بھی خواب دیکھتا ہے...
اففف! مگر جسم اب آرام مانگتا ہے۔
نیند ہے کہ پوری نہیں ہوتی،
اور سکون ہے کہ کہیں ملتا نہیں۔
اور تھکن؟ — تھکن تو جیسے کبھی اتری ہی نہیں۔
ہم وہ نسل ہیں کہ ہم نے "اینالاگ" سے "ڈیجیٹل" کا سفر طے کیا ہے۔ خط لکھنے سے چلے اور واٹس ایپ کے دور تک آ گئے، اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس دوڑ میں سب سے زیادہ خود ہی گُم ہو گئے ہیں۔
ذمہ داریاں ایسی ہیں کہ جیسے صدیوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہو۔ اپنا گھر بھی سنبھالنا ہے، بچوں کا مستقبل بھی بنانا ہے، والدین کا سہارا بھی تو بننا ہے، اور اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے انسان کو بھی تو سہارا دینا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو وقت سے لڑتے بھی ہیں اور وقت کے سامنے جھک بھی جاتے ہیں۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ ہر بات پہ مسکرا کے کہتے ہیں کہ:
"ہم ٹھیک ہیں، الحمدللہ سب ٹھیک ہے۔"
حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری نسل ٹھیک نہیں ہے۔
ہم لوگ صرف مضبوط ہیں،
اور مضبوط لوگ اکثر اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
اگر آپ بھی اسی دور سے گزر رہے ہیں، اسی تھکن سے چور ہو کر، اسی خاموش تھکن اور ادھورے خوابوں کی چھپی ہوئی جنگ کو محسوس کر رہے ہیں، تو یقین رکھیے آپ اکیلے نہیں ہیں، میں بھی تو ہوں آپ کے ساتھ۔
کبھی صرف یہ مان لینا کہ "ہاں، میں تھک گیا ہوں"، بڑی ہمت کی بات ہوتی ہے۔
اگر میرے یہ الفاظ آپ کے دل تک پہنچے ہیں، اور آپ بھی عمر کے اس حصے میں میرے ساتھی ہیں تو آئیں...
"مل کر دکھ شیئر کرتے ہیں"
کمنٹ سیکشن میں مجھے بتائیں۔
کہتے ہیں کہ دکھ بانٹنے سے دکھ ہلکے ہوتے ہیں۔
تصویر میں ہوں۔
میری عمر اس وقت 40سال ہے۔ میری عمر کے قریب ترین عمر کے لوگ اس پوسٹ کو لازمی پڑھیں، دوسرے بھی پڑھیں۔
Wazeer Ali Betaab
Urdu stories

2016 میں سائنس دانوں نے خلا سے موصــول ہونے والے سب سے عجیب و غریب سگنلز کا پتہ لگایا۔ یہ سگنل بہت کمـــزور تھا، پھر بھی...
01/08/2026

2016 میں سائنس دانوں نے خلا سے موصــول ہونے والے سب سے عجیب و غریب سگنلز کا پتہ لگایا۔ یہ سگنل بہت کمـــزور تھا، پھر بھی اس نے اربوں سال کا سفر کیا اور امریکہ میں وشال انٹیــنا نے اسے پکڑ لیا، وہاں کے طاقت ور سپر کمپیــــوٹر نے اسے ڈی کوڈ کیا، جب ان کو ڈی کوڈ کیا، تو سائنــس دان حیران و پریشان ہوگئے وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ ان عام ریڈیو سگنلز کے بالکل "برعکس" ہیں جو انہیں ہر روز موصول ہوتے ہیں ایسا لگتا تھا کہ یہ سـگنل کسی خلائی مخلوق نے بھیجا ہے لیکن جب اس کا اسپیــــکٹرم دیکھا تو وہ اتنا قدیم تھا کہ سب کو جھٹکا لگا۔

جب اس پر تحقیـــق کی گئی تو پتا چلا کہ ہمارے سورج کے وجود سے پہلے سیارے بننے سے پہلے اور ہماری زمین بننے سے پہلے سگنل نے اپنا سفر شروع کر دیا تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نہ ختم ہونے والے اندھیرے میں سفر کررہا تھا جبکہ کہکشائیں بدلتی رہیں، ستارے پیدا ہوئے اور مرتے رہے، اور کائنات کا ارتــقاء جاری رہا، اس وقت یہ ہماری زمین کی طرف روانہ ہوا تھا۔

بعد میں پتا چلا کہ یہ کسی خلائی مخلوق یعنی ایلیـــنز کی طرف سے کوئی خفیہ پیــغام نہیں تھا بلکہ زمین کی پیــــدائش سے بھی پہلے دو نیوٹران ستارے آپس میں ٹکــرائے تھے جس سے توانائی کا ایک طاقتور سگنل پیدا ہوا اور اس سگنل نے زمین تک پہنچنے سے پہلے اربوں سال کا سفر طے کیا اور امریکہ میں وشال انٹینا نے اس کو پکڑا۔ سب سے زیادہ حیــران کن بات یہ تھی کہ جب اس سگنل نے اپنا سفر شروع کیا،، تو زمین کا وجود بھی نہیں تھا، جب زمین بن گئی، ٹھنڈا ہوگئی لاکھوں مخلوقات پیدا ہوئے اور چلے گئے اس وقت سے لیـکر 2016ء تک یہ سگنل خلا تھا۔ ہماری کائنات انتہائی وسیع ہے تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرنے والا سگنل بھی اربوں سال لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر Tehsin Ullah Khan
Urdu stories

01/08/2026

عسکری ہاؤسنگ سوسائٹی راولپنڈی میں کرنل مروت صاحب کے گھر جانا ہوا، یہ 2011 کی بات ہے. انہوں نے گھر کے کونے میں پڑے جنریٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا یہ امریکی جنریٹر ہے افغان جنگ میں فوجیوں کے سامان میں آیا تھا. پورے گھر کا لوڈ اٹھاتا ہے اور شور بالکل بھی نہیں کرتا. جنریٹر چل رہا ہو تو صرف اتنی آواز آتی ہے جیسے سی ڈی سیونٹی کا انجن چل رہا ہو. ان کے لان میں ٹینٹ بھی لگا تھا جو زلزلہ زدگان کی امداد میں آیا تھا.

افغان جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کا سامان کراچی پورٹ پر آتا تھا، ٹرکوں پر کنٹینر لاد کر افغانستان پہنچایا جاتا تھا. ان ٹرکوں نے کراچی سے خیبر تک پاکستان کی سڑکیں ادھیڑ کر رکھ دیں. دس ہزار کنٹینر غائب ہو گئے، یعنی کراچی پورٹ پر تو پہنچے افغانستان نہیں پہنچے. یہ دس ہزار کنٹینر سامان پاک فوج کے افسران کے گھروں میں پہنچا. سپریم کورٹ میں دس ہزار کنٹینر گمشدگی کا کیس بھی چلتا رہا پھر فائلوں میں دب گیا.

2005 زلزلے میں ساری دنیا سے کروڑوں ڈالر امداد آئی لیکن بالاکوٹ اور کشمیر کے متاثرین تک نہیں پہنچ سکی. امریکہ نے پچاس ملین ڈالر، جاپان نے بیس ملین ڈالر، عالمی بنک نے چالیس ملین ڈالر، ایشیائی بنک نے دس ملین ڈالر، کینیڈا نے بیس ملین ڈالر، چین نے سوا چھ ملین ڈالر، یورپی یونین نے تقریباً ساڑھے چار ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا اور بعد میں اس میں ایک سو ملین ڈالر اضافہ کیا گیا. لگ بھگ تین سو ملین ڈالر سے زیادہ امداد این ڈی ایم اے کے افسران، فوجی جرنیل اور سیاستدانوں نے آپس میں بانٹ لی.

2009 اور 2011 سیلاب میں بھی کروڑوں ڈالر کی امداد آئی، سیلاب متاثرین کو تو کچھ ملا نہیں البتہ حکمران اشرافیہ کی چاندی ہو گئی.
کرونا وائرس آیا تو این ڈی ایم اے کی پھر سے لاٹری لگ گئی. بیماروں کو تو ایک ڈسپرین کی گولی بھی نہیں ملی البتہ این ڈی ایم اے کو پھر سے کروڑوں ڈالر مل گئے. سپریم کورٹ میں کیس ہوا. میجر جنرل صاحب نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ فی کس پچیس لاکھ روپے خرچہ ہوا ہے. حساب کتاب مانگا تو ناراض ہو گئے استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے.

این ڈی ایم اے کا حال اب بھی ننگا ہے، سیلاب زلزلہ کی صورت میں کوئی تیاری نہیں، کہیں آگ لگ جائے تو فائیر برگیڈ کی گاڑیاں تک نہیں ہیں. ابھی دو دن پہلے بلوچستان میں چالیس افراد کوئلے کی کان میں دب کر مر گئے این ڈی ایم اے کے پاس زمین کھودنے کی مشینری بھی نہیں تھی.

ہمارے حکمران دعائیں کرتے ہیں، یا اللہ کوئی بڑا سیلاب آ جائے، ایسا زلزلہ آئے کم از کم ایک لاکھ لوگ مر جائیں. بس دنیا سے پیسے مانگنے کا موقع مل جائے.
قمر نقیب خان
urdu stories

Address

Karachi
75900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu stories:

Shortcuts

Share