13/03/2026
پاکستان کے کلاسیکی ٹیلی وژن دور کے مداحوں کے لیے سینئر فنکار سید عاصم بخاری کی وفات ایک گہرا دکھ لے کر آئی ہے۔ وہ اُن خاموش مگر باوقار فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کو اپنی محنت، سادگی اور قدرتی اداکاری سے زندہ رکھا۔
وہ زمانہ جب ڈرامہ صرف تفریح نہیں، تہذیب تھا
ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامے صرف کہانیاں نہیں ہوتے تھے بلکہ معاشرے کی تہذیب، زبان اور کردار کی تربیت بھی کرتے تھے۔ اس زمانے میں اداکار صرف مکالمے ادا نہیں کرتے تھے بلکہ کردار جیتے تھے۔ اسی نسل کے فنکاروں میں سید عاصم بخاری کا نام بھی احترام سے لیا جاتا تھا۔
ان کی اداکاری میں بناوٹ نہیں تھی۔ چہرے پر وقار، لہجے میں ٹھہراؤ اور کردار میں سچائی
یہی وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے انہیں ناظرین کے دلوں میں جگہ دی۔ وہ اس عہد کے اداکار تھے جب فنکار شہرت کے شور سے زیادہ فن کی حرمت کو اہمیت دیتے تھے۔
ایک خاموش مگر اہم کردار
ٹیلی وژن کی تاریخ میں کچھ نام بہت زیادہ چرچے میں رہتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنا حصہ ڈال کر چلے جاتے ہیں، مگر ان کے بغیر تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ سید عاصم بخاری بھی انہی فنکاروں میں سے تھے۔ انہوں نے ایسے کردار ادا کیے جو شاید شور سے نہیں بلکہ تاثیر سے یاد رکھے جاتے ہیں۔
یہ وہ دور تھا جب ڈرامے گھروں میں پورے خاندان کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ مکالموں میں شائستگی ہوتی تھی، کہانیوں میں سماج کی خوشبو ہوتی تھی اور اداکاری میں سچائی۔ آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس سنہری دور کو بنانے میں ایسے کئی فنکاروں کا خاموش مگر بنیادی کردار تھا۔
فن کی دنیا کا ایک اور چراغ بجھ گیا
ان کی وفات صرف ایک انسان کا بچھڑنا نہیں بلکہ اس عہد کی ایک اور یاد کا دھندلا جانا ہے جسے ہم پاکستان کے ٹیلی وژن کا سنہری زمانہ کہتے ہیں۔ ایسے فنکار چلے جائیں تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، ایک پورا ثقافتی ورثہ اداس ہو جاتا ہے۔
سید عاصم بخاری نے جو کردار ادا کیے اور جو خدمات فن کی دنیا کو دیں، وہ ہمیشہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کا حصہ رہیں گی۔ آنے والی نسلیں جب پاکستان ٹیلی وژن کے کلاسیکی دور کا ذکر کریں گی تو ان جیسے مخلص فنکاروں کو ضرور یاد کریں گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔