Islamabad Events

Islamabad Events All About Islamabad Events

کبھی یہ بھی دن تھے
20/03/2026

کبھی یہ بھی دن تھے

Same Place 2010 & Now
18/03/2026

Same Place 2010 & Now

پاکستانی فلم و ٹی وی کے نامور اداکار و صداکار شجاعت ہاشمی لاہور میں انتقال کرگئے۔شجاعت ہاشمی کے بیٹے شاہکار ہاشمی نے تصد...
14/03/2026

پاکستانی فلم و ٹی وی کے نامور اداکار و صداکار شجاعت ہاشمی لاہور میں انتقال کرگئے۔

شجاعت ہاشمی کے بیٹے شاہکار ہاشمی نے تصدیق کی ہے کہ والد کچھ عرصے سے علیل تھے۔

چالیس سال قبل کا اسلام آباد-آبادی اور ٹریفک نہ ہونےکے برابر---Clean & Green   40 years ago
14/03/2026

چالیس سال قبل کا اسلام آباد-آبادی اور ٹریفک نہ ہونےکے برابر---
Clean & Green 40 years ago

پاکستان کے کلاسیکی ٹیلی وژن دور کے مداحوں کے لیے سینئر فنکار سید عاصم بخاری کی وفات ایک گہرا دکھ لے کر آئی ہے۔ وہ اُن خا...
13/03/2026

پاکستان کے کلاسیکی ٹیلی وژن دور کے مداحوں کے لیے سینئر فنکار سید عاصم بخاری کی وفات ایک گہرا دکھ لے کر آئی ہے۔ وہ اُن خاموش مگر باوقار فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کو اپنی محنت، سادگی اور قدرتی اداکاری سے زندہ رکھا۔

وہ زمانہ جب ڈرامہ صرف تفریح نہیں، تہذیب تھا

ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامے صرف کہانیاں نہیں ہوتے تھے بلکہ معاشرے کی تہذیب، زبان اور کردار کی تربیت بھی کرتے تھے۔ اس زمانے میں اداکار صرف مکالمے ادا نہیں کرتے تھے بلکہ کردار جیتے تھے۔ اسی نسل کے فنکاروں میں سید عاصم بخاری کا نام بھی احترام سے لیا جاتا تھا۔

ان کی اداکاری میں بناوٹ نہیں تھی۔ چہرے پر وقار، لہجے میں ٹھہراؤ اور کردار میں سچائی
یہی وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے انہیں ناظرین کے دلوں میں جگہ دی۔ وہ اس عہد کے اداکار تھے جب فنکار شہرت کے شور سے زیادہ فن کی حرمت کو اہمیت دیتے تھے۔

ایک خاموش مگر اہم کردار

ٹیلی وژن کی تاریخ میں کچھ نام بہت زیادہ چرچے میں رہتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنا حصہ ڈال کر چلے جاتے ہیں، مگر ان کے بغیر تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ سید عاصم بخاری بھی انہی فنکاروں میں سے تھے۔ انہوں نے ایسے کردار ادا کیے جو شاید شور سے نہیں بلکہ تاثیر سے یاد رکھے جاتے ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب ڈرامے گھروں میں پورے خاندان کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ مکالموں میں شائستگی ہوتی تھی، کہانیوں میں سماج کی خوشبو ہوتی تھی اور اداکاری میں سچائی۔ آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس سنہری دور کو بنانے میں ایسے کئی فنکاروں کا خاموش مگر بنیادی کردار تھا۔

فن کی دنیا کا ایک اور چراغ بجھ گیا

ان کی وفات صرف ایک انسان کا بچھڑنا نہیں بلکہ اس عہد کی ایک اور یاد کا دھندلا جانا ہے جسے ہم پاکستان کے ٹیلی وژن کا سنہری زمانہ کہتے ہیں۔ ایسے فنکار چلے جائیں تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، ایک پورا ثقافتی ورثہ اداس ہو جاتا ہے۔

سید عاصم بخاری نے جو کردار ادا کیے اور جو خدمات فن کی دنیا کو دیں، وہ ہمیشہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کا حصہ رہیں گی۔ آنے والی نسلیں جب پاکستان ٹیلی وژن کے کلاسیکی دور کا ذکر کریں گی تو ان جیسے مخلص فنکاروں کو ضرور یاد کریں گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔

ایک تو میڈم نور جہاں ہیں ، کیا آپ دوسری خاتون کو پہچان سکتے ہیں ؟؟
13/03/2026

ایک تو میڈم نور جہاں ہیں ، کیا آپ دوسری خاتون کو پہچان سکتے ہیں ؟؟

11/03/2026

پاکستان کے کونسے شہر کے لوگ سب سے زیادہ یورپ میں رہتے ہیں !

guess the place
09/03/2026

guess the place

قائدِ تحریکِ انصاف جناب عمران خان اپنے ٹائیگرز کے ہمراہسن 1989 — اسلام آبادیہ وہ وقت تھا جب خواب جوان تھے، حوصلے بلند تھ...
07/03/2026

قائدِ تحریکِ انصاف جناب عمران خان اپنے ٹائیگرز کے ہمراہسن 1989 — اسلام آباد

یہ وہ وقت تھا جب خواب جوان تھے، حوصلے بلند تھے اور ملک کو بدلنے کا عزم دلوں میں دھڑکتا تھا۔ آج یہ تصویر صرف ایک یاد نہیں بلکہ اس جذبے کی گواہی ہے جو ایک نظریے، ایک امید اور ایک بہتر پاکستان کے لیے پیدا ہوا تھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سفر ہمیشہ چند مخلص ساتھیوں سے شروع ہوتے ہیں۔ یہی وہ ٹائیگرز تھے جن کے ساتھ کھڑے ہو کر عمران خان نے آگے چل کر ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس نے پاکستانی سیاست کا رخ بدل دیا۔

کچھ تصویریں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں…بلکہ ایک کہانی بن جاتی ہیں۔ 🇵🇰




06/03/2026

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 55، 55 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا

راولپنڈی کی پرانی یادوں میں ایک نام بڑا میٹھا سا بس گیا ہے — شکر کولا۔گرمیوں کے وہ دن یاد آتے ہیں جب یہ ہمارا سب سے پسند...
06/03/2026

راولپنڈی کی پرانی یادوں میں ایک نام بڑا میٹھا سا بس گیا ہے — شکر کولا۔
گرمیوں کے وہ دن یاد آتے ہیں جب یہ ہمارا سب سے پسندیدہ مشروب ہوا کرتا تھا۔ جیب میں چند سکے ہوتے تھے اور مری روڈ پر جا کر ٹھنڈا سا ایک گلاس شکر کولا پی لینا ہی بڑی خوشی لگتی تھی۔ کہتے ہیں اُس وقت شاید چار آنے میں ایک گلاس مل جاتا تھا، اور اسے پیتے ہی گرمی کا احساس جیسے کم ہو جاتا تھا۔

وقت گزرتا گیا، قیمتیں بڑھتی گئیں اور شہر کی رونقیں بھی بدلتی رہیں۔ بعد میں گنے کا رس اور بادام والا شربت بھی گرمیوں کی پہچان بن گئے، مگر شکر کولا کا ذائقہ کچھ اور ہی تھا۔

مری روڈ پر پٹھانوں کی ایک مشہور دکان تھی جہاں سے ملنے والا شکر کولا خاص طور پر یادگار تھا۔ وہاں ہمیشہ رش لگا رہتا تھا اور لوگ دور دور سے صرف وہی ذائقہ چکھنے آتے تھے۔

اب وہ دکان بھی نہیں رہی، کئی سال ہو گئے اسے ختم ہوئے…
مگر راولپنڈی کے پرانے لوگوں کے دلوں میں اس شکر کولا کا ذائقہ آج بھی ویسا ہی تازہ ہے جیسے کسی ٹھنڈے گلاس میں گھلی ہوئی میٹھی یاد۔

05/03/2026

آپ کے خیال میں ایک گھر چلانے کے لیے کم از کم کتنی ماہانہ امدنی ہونی چاہیے۔۔؟

Address

Islamabad
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamabad Events posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share