Village Marquee

Village Marquee Village Marquee can provide you marquee for all occasion. wedding parties and corporate event
(2)

07/02/2024
مايوس نئيں ہونا بس جو بھی ہو
03/02/2024

مايوس نئيں ہونا بس جو بھی ہو

14/01/2024

‏کسی گاؤں کا سربراہ فوت ہو گیا تو اسکی چونکہ اولاد نہیں تھی، فیصلہ ہوا کہ کل سویرے جو اس گاؤں کی حدود میں اجنبی داخل ہوگا وہی اس گاؤں کا مکھیا، چوہدری، وڈیرہ قرار پائیگا۔

اتفاق سے ایک ظالم ڈاکو کسی علاقہ غیر سے بھاگتے بھاگتے اس گاؤں کی حدود میں داخل ہو گیا۔ اور لوگوں نے اس کو کاندھوں پر اٹھا لیا کہ ہمیں ہمارا سردار مل گیا۔ ڈاکو کو کیا چاہیے تھا، جس مال و اسباب کو وہ لوٹنے جاتا تھا، یہاں اس کو گھر میں لا کر دیتے تھے گاؤں کے لوگ۔ اناج، سونا، چاندی سب اس نے لوگوں سے ہتھیانا شروع کر دیا۔

وقت گذرا، گاؤں کے سادے اور کمزور لوگ اس ڈاکو کو اپنی کمائی، اناج دیتے رہے اور خوشی سے زندگی گزارتے رہے کہ انکا سردار، ان کا رکھوالا ان کے سروں پر باقی ہے۔

پھر یوں ہوا کہ اس گاؤں سے دنیا گھومنے نکلا ایک جوان برسوں بعد واپس اس گاؤں آ گیا اور وہ دنیا دیکھ کر آیا تھا۔ واپس گاؤں آ کر اس نے دیکھا کہ پرانا سردار مر چکا ہے اور یہ کوئی اجنبی سردار بنا بیٹھا۔ ہے۔ چند دن گزار کر اس کو یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ نیا سردار کوئی بہت ظالم و جابر شخص ہے۔ جو بظاہر تو گاؤں والوں سے ہمدردی کرتا ہے، مگر دراصل گاؤں والوں کی دولت اکٹھی کر کے کہیں چھپا رہا ہے۔

اس جوان نے یہ باتیں گاؤں کے بڑے بوڑھوں سے گاؤں کی چوپال میں جا کر کرنا شروع کر دیں۔ بڑے بوڑھے، سیانے بہت پریشان ہوئے۔ وہ سیدھا گاؤں کے سردار کے پاس گئے اور اس جوان کی باتیں بتائیں۔ اب وہ سردار جو دراصل ایک ظالم ڈاکو تھا، نے ان سیانوں کو سمجھایا کہ یہ جوان جھوٹ کہتا ہے، اس کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ سیانے سردار کی بات مان کر واپس گھروں کو چلے گئے۔

اگلے روز گاؤں کے دو سیانے کھیتوں میں مردہ پائے گئے۔ یہ دو وہ سیانے تھے، جنہوں نے سردار کے سامنے خاصی دیر بحث کی تھی۔ گاؤں کی چوپال لگی، اور سیانوں کی میٹنگ ہوئی۔ سب نے دو سیانوں کی موت پر افسوس کیا۔ اور ایک اور سیانے نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کو سردار نے مروایا ہے۔ باقی سیانے اس کا منہ تکتے رہے۔ ایک اور سیانے کو کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔

اس سے اگلے روز وہ سیانا بھی غائب ہو گیا، جس نے سردار پر دو سیانوں کی موت کا الزام لگایا تھا۔ خدا جانے اس کو زمین کھا گئی یا آسمان۔ اس گاؤں میں ایسا واقعی کبھی نہیں ہوا تھا۔ لوگ مرتے تھے تو زمین میں دفن کیے جاتے تھے۔ آسمان پر غائب ہونے والی بات انکی سمجھ سے باہر تھی۔

گاؤں کی چوپال میں سیانوں کی میٹنگ میں یہ بات ڈسکس ہوئی۔ پہلی بات تو سب سیانوں کو یہ سمجھ آئی کہ سردار کو انکی ہر بات پہنچ جاتی ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ سیانوں کی موت کے پیچھے کوئی نہ کوئی راز ضرور ہے۔

ادھر، اس جوان پر زندگی تنگ ہو چکی تھی، جس نے سردار پر ظالم و جابر ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے خاندان کی فصلیں کسی گلابی سنڈی کے حملے میں تباہ ہو گئیں۔ پانی والے کنوئیں میں اس کی بھینس گر گئی۔ اب وہ جوان چوپال کے سیانوں کو بتاتا تھا کہ اس پر یہ ظلم سردار کروا رہا ہے۔ تو سیانے اپنی بغلیں جھانکنے لگتے تھے۔ کیونکہ وہ پہلے تین سیانوں کا انجام دیکھ چکے تھے۔

بالاخر ایک روز سیانے اس جوان کی شکایتوں سے تنگ آ کر ایک اور میٹنگ کرنے لگے۔ سب سیانوں نے اپنے پرکھوں اور اپنی روایات کے تذکرے نکالے اور اس مصیبت کا حل سوچنے پر لگا دیے۔ سب جان چکے تھے کہ ان کی جانیں، گھر بار، مال مویشی، اور اولادیں خطرے میں ہیں۔ اور سب کو پتہ تھا کہ وہ جو بھی بول رہے ہیں، وہ انکے سردار تک پہنچ رہا ہے۔

بالاخر ایک سیانے کی آنکھیں چمکیں، وہ ہاتھ اٹھا کر بولا، ایک تجویز ہے بھائیو۔ ۔ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
وہ کیا؟؟؟ باقی سب سیانے چلائے، جلد بتاؤ، ہم اس مصیبت سے نکلنا چاہتے ہیں۔
وہ سیانا ہاتھ گرا کر سرگوشی میں بولنے لگا، دیکھو، ہم یہ کرتے ہیں کہ ان جوان کو کہتے ہیں کہ اس پر جنات کا سایہ ہے، جس کی وجہ سے اسکی فصلیں تباہ ہو گئی اور بھینس کنویں میں گر گئی۔ اس طرح ہم سردار کی عتاب سے بھی بچ جائیں گے اور اس جوان کی شکایتوں کا جواب بھی دے سکیں گے۔

سب نے اس تجویز کو پسند کیا اور اس پر عمل شروع ہو گیا۔

اب ظالم سردار نے اس جوان پر مزید ظلم شروع کر دیا۔ مگر چوپال کا ماحول کچھ اور ہوتا تھا۔ اب وہاں یہ تذکرہ نہیں ہوتا تھا کہ سردار ظالم ہے ، یا سردار نے کچھ غلط کیا ہے۔ ۔

اب ہر شام وہاں اس طرح کی باتیں ہوتی تھیں۔

تم نے سنا، وہ جوان کی ایک اور گائے جنات نے کھا لی۔ اس کی ہڈیاں جوان کے کھیت میں بکھیر دیں۔

ہاں میں نے دیکھا، اس جوان کو چند سائے گھسیٹ کر اس کے کھیت سے نکال رہے تھے۔ وہ سائے جنات کی شکل کے تھے۔

کل کے دن جنات نے کچھ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنات نے اس جوان کو معاف کر دیا ہے۔

نہیں، شائد معافی نہیں ملی، آج اس جوان کے گھر پر جنات نے خون کے چھینٹے مارے ، ساری دیواریں لال و لال کر دیں۔

میں بتا دوں، یہ جوان یا تو جنات سے معافی مانگ لے، یا پھر دوبارہ دنیا کی سیاحت پر نکل جائے۔ ورنہ اس گاؤں پر بہت بڑا عذاب آنے والا ہے۔

چوپال کے اس ماحول کی خبر سردار تک پہنچی، تو گاؤں والوں کے لیے سب "امن" ہو گیا۔ ۔ اس طرح چوپال والوں نے اپنی حکمت، سیانے پن، اور بہادری سے اپنے گاؤں کا امن، عزت، اور شان بچا لی۔ اور ہنسی خوشی رہنے لگے۔

ایک روسی کہانی کا بامحاورہ ترجہ ۔
پاکستان کے حالات سے اس کا تعلق اتفاقیہ تصور کیا جائے

Beshak
14/01/2024

Beshak

Who is agree with that ———-
13/01/2024

Who is agree with that ———-

Appreciation Post:I am Pakistani. Recently I applied for my pasport I made the application on PAK ID and paid the fees. ...
10/01/2024

Appreciation Post:

I am Pakistani. Recently I applied for my pasport I made the application on PAK ID and paid the fees.

In 3 weeks later I got notification from and In 10 days I received my pasport

There were no issues or questions back and forth.

Thanks to pasport online system. It’s a blessing for Pakistanis.

Address

Dhudra
Gujrat
74500

Telephone

+923225938020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Village Marquee posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share