07/05/2025
دنیا میں امن، بھائی چارہ اور انصاف ہی وہ اصول ہیں جن پر ترقی یافتہ قومیں اپنی بنیاد رکھتی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات اکثر کشیدہ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان نے ہر موقع پر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ چاہے وہ مسئلہ کشمیر ہو، لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں ہوں، یا کسی اور قسم کی دشمنی — ہمارا ملک ہمیشہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ بھارت کی طرف سے اکثر اوقات الزام تراشی، بے بنیاد پروپیگنڈا، اور جارحانہ رویے نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ آج بھی برصغیر کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کشمیری عوام ستر سال سے زیادہ عرصے سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، جنہیں بھارت کی ریاستی طاقت سے دبایا جا رہا ہے۔ پاکستان کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل ہے کہ وہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کریں۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور ہم اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ہماری اولین ترجیح ہمیشہ امن ہی رہے گی۔
آخر میں، ہم اپنے تمام پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اتحاد، یکجہتی اور قومی وقار کو برقرار رکھیں۔ دشمن کی ہر سازش کا جواب ہم دانشمندی، حوصلے اور مضبوط ارادے سے دیں گے۔
پاکستان زندہ باد