Khatib-ur-Rahman Qadri

Khatib-ur-Rahman Qadri This is about my event videos

پاکستان زندہ باد
13/08/2026

پاکستان زندہ باد

زخمِ دل ہم کسے اب دکھائیںکون اپنا ہے جس کو رلائیںہو گئی ہے اندھیروں کی عادتکیوں بھلا پھر دیا ہم جلائیںجس نے لوٹا ہمیں ہر...
14/07/2026

زخمِ دل ہم کسے اب دکھائیں
کون اپنا ہے جس کو رلائیں

ہو گئی ہے اندھیروں کی عادت
کیوں بھلا پھر دیا ہم جلائیں

جس نے لوٹا ہمیں ہر قدم پر
آج کیوں پھر اسے آزمائیں

ہے جنہیں زندگی سے محبت
اپنا دل نہ کسی سے لگائیں

جس میں وہ ہیں بسے ایسے دل میں
شرک ہے جو کسی کو بسائیں

وہ جو اشعار ان پہ کہے ہیں
سن سکیں وہ تو ان کو سنائیں

کوششیں لاکھ کیں ہار بیٹھے
غم زمانے سے کیسے چھپائیں

میری آنکھوں میں جو جم گئے ہیں
آج کھل کے وہ آنسو بہائیں

اپنی ہستی تو ہم نے مٹا دی
نقش یادوں کے کیسے مٹائیں

جو خطیب اٹھ رہے دل میں شعلے
کیا کریں کیسے ان کو دبائیں

10/07/2026

یا امامِ مُرسلاں فریاد ھے
رحمتِ حق جاوداں فریاد ھے

07/07/2026

کربلا کا پس منظر ( مکمل خطاب ) 8 محرم الحرام 1448
24 جون 2026 جامع مسجد گلزارِ حنفیہ پسرور روڈ ڈسکہ

حُسینُ مِنی وَ اَنا مِن حُسین
17/06/2026

حُسینُ مِنی وَ اَنا مِن حُسین

دوزخ میں مانا مجھ سے گنہگار جائیں گےلیکن نکالنے بھی تو سرکار آئیں گےدوزخ تیرے نصیب پہ قرباں تجھے حضورمجھ جیسوں کے بہانے ...
12/06/2026

دوزخ میں مانا مجھ سے گنہگار جائیں گے
لیکن نکالنے بھی تو سرکار آئیں گے

دوزخ تیرے نصیب پہ قرباں تجھے حضور
مجھ جیسوں کے بہانے زیارت کرائیں گے

دوزخ کرے گی نسبتِ سرکار کی حیا
بن کے گناہ گار تو مہمان جائیں گے

دوزخ سے امتی کو وصولیں گے آقا خود
یہ دیکھ دیکھ پارسا نظریں جھکائیں گے

دوزخ میں جب حضور کا اترے گا دستِ پاک
ہاں پھر گناہ گار وہاں مسکرائیں گے

ہوں گی سزائیں جس میں وہ دوزخ تو اور ہے
اُس میں تو صرف کافر و مشرک سمائیں گے

محشر پہ ہو گا حشر بپا خود ہی روزِ حشر
سرکار بے حجاب جو جلوہ دکھائیں گے

ہو گی اعمال کی سند نیکوں کے ہاتھ میں
عاصی نگاہ ان کے کرم پر جمائیں گے

ہر شخص بخشا جائے گا ہے شرط بس یہی
دل میں جو شمعِ عشقِ محمد جلائیں گے

ہو گا کرم خطیب مگر صدقۂ بتول
کملی میں اپنی آقا تجھے بھی چھپائیں گے

ایک میں اور میرے ساتھ یہ تنہائی ھےخود سے اپنی بھی کہاں کوئی شناسائی ھےآئینہ بھی مجھے پہچان کہاں پاتا ھےزرد چہرے پہ کہاں ...
11/06/2026

ایک میں اور میرے ساتھ یہ تنہائی ھے
خود سے اپنی بھی کہاں کوئی شناسائی ھے

آئینہ بھی مجھے پہچان کہاں پاتا ھے
زرد چہرے پہ کہاں باقی وہ رعنائی ھے

دور صحرا سے یہ آواز لگاتا ھے کوئی
حالتِ زار سے لگتا ھے تو صحرائی ھے

کوئی بتلائے خدارا مری تقدیر ھے کیا
پارسائی ھے کوئی یا کوئی رسوائی ھے

کس کو ہمراز کریں اور کریں کس پہ یقیں
زندگی ہم نے تو اپنوں سے ہی ڈسوائی ھے

ضبط کی راہ تو دشوار ھی ہوتی ھے مگر
کیا ہوا آج کہ اب جان پہ بن آئی ھے

مر مٹے جس پہ اسے یاد تو ھو گا ماضی
پھر محبت نے کہانی وھی دہرائی ھے

آتشِ عشق نے تو پھونک دیا تن میرا
برق آلام نے اب روح بھی جھلسائی ھے

سختیِ موت بھی عاشق کو ڈرائے کیونکر
عشق خود موت ھے اور موت بھی گھبرائی ھے

گورکن بھی ہوں خطیب اور ہوں غسال اپنا
اپنے ہاتھوں سے یہ میت میں نے دفنائی ھے

جشنِ عیدِ غدیر مبارک ھو
03/06/2026

جشنِ عیدِ غدیر مبارک ھو

مولا نے آپ مولا کہا ھے غدیر میںنورِ ازل ہی چمکا وصیِ بشیر میںجس کا بھی میں ھوں مولا ، علیؑ اس کے مولا ہیںاعلانِ مصطفیٰ ھ...
03/06/2026

مولا نے آپ مولا کہا ھے غدیر میں
نورِ ازل ہی چمکا وصیِ بشیر میں

جس کا بھی میں ھوں مولا ، علیؑ اس کے مولا ہیں
اعلانِ مصطفیٰ ھے ، سوادِ کثیر میں

صدیق اور عمر نے مبارک علیؑ کو دی
سر خم کیے ہوئے ہیں صحابہ توقیر میں

نفسِ نبی علی ہیں تو بابِ علم علی
بوئے نبی عیاں ھے علی کی عبیر میں

مومن وہی ھے جس کو محبت علیؑ سے ھے
منافق ھے بغضِ حیدرؑ ھے جس کے خمیر میں

بدر و حنین خیبر و خندق میں ہیں علی
شبرؑ میں ہیں علیؑ تو علیؑ ھی شبیرؑ میں

ذکرِ علی ھے ذکرِ رسول اور خدا کا ذکر
خوش بخت تو خطیب ھے فضلِ قدیر میں

بجھے دلوں میں بھی ارمان تو رھے ھوں گےکبھی کبھی وہ پریشان تو رھے ھوں گےوہ دور بیٹھے ہوئے بھی ہمارے لہجے سےمیں جانتا ہوں ک...
02/06/2026

بجھے دلوں میں بھی ارمان تو رھے ھوں گے
کبھی کبھی وہ پریشان تو رھے ھوں گے

وہ دور بیٹھے ہوئے بھی ہمارے لہجے سے
میں جانتا ہوں کہ پہچان تو رھے ھوں گے

ڈھکی چھپی تو نہ تھی میری کیفیت ان سے
وہ جان بوجھ کے انجان تو رھے ھوں گے

نگاہِ عشق مہربان ھو گئی جس پر
عتاب کے اسے فرمان تو رھے ھوں گے

فصیلِ حرمتِ جاناں بنے رھے ہم تو
وہ بعد میرے پشیمان تو رھے ھوں گے

ہمارا حال ہمیں روز ہی بتاتا ہے
ضرور ہم پہ وہ قربان تو رھے ھوں گے

دلِ تباہ کی وادی سے آج گزرے تو
مجھے لگا یہاں مہمان تو رھے ھوں گے

ہماری پیٹھ میں خنجر اتارنے والے
یقین مانو کہ حیران تو رھے ھوں گے

مِلا ھے جو بھی مفادات کا پجاری مِلا
خلوصِ دل کے قدردان تو رھے ھوں گے

ہمارے ضبط کی اس عہد میں مثال کہاں
ہاں برسوں پہلے وہ انسان تو رھے ھوں گے

وہ لاکھ مانیں نا مانیں خطیبؔ اپنا ھے وجدان
ہماری یاد میں ، بے جان تو رھے ھوں گے

Address

Daska

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khatib-ur-Rahman Qadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khatib-ur-Rahman Qadri:

Shortcuts

Share

Category