Urdu stories

Urdu stories For best urdu hindi stories reels and everything about entetainment
اردو ادب اردو اسثوریز نوولس ریلس اور بہت کچھ
(1)

ایک رات پوری فیملی سوئی اور صبح سب کی بہت دیر سے آنکھ کھلی، اگلے دن ماں باپ نے لڑکی کو کھانا بنانے سے منع کر دیا!💔      ...
12/06/2026

ایک رات پوری فیملی سوئی اور صبح سب کی بہت دیر سے آنکھ کھلی، اگلے دن ماں باپ نے لڑکی کو کھانا بنانے سے منع کر دیا!💔




مریض کمر درد لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا اتنا شدید درد کیسے شروع ہوا، آیا کوئی چوٹ آئی۔؟؟مریض بولا، "میں مو...
12/06/2026

مریض کمر درد لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا اتنا شدید درد کیسے شروع ہوا، آیا کوئی چوٹ آئی۔؟؟

مریض بولا، "میں موبائل فون سروس سنٹر پر رات بھر ڈیوٹی کر کے صبح سحری وقت سے پہلے گھر پہنچا۔

بیڈ روم سے کچھ مشکوک آوازیں سنائی دیں۔ مجھے شک ہوا۔

میں بھاگ کر بیڈ روم میں گھسا۔

وہاں میری بیوی کے سوا کوئی نہیں تھا۔

میں نے تیزی سے بالکونی سے نیچے جھانکا۔ ایک آدمی کپڑے پہنتا بلڈنگ سے باہر کو بھاگا جا رہا تھا۔

میں نے تیزی سے فریج اٹھا کر نیچے اس پر دے ماری۔

یوں کمر کو درد شروع ہو گیا۔"

وہ ابھی موجود تھا کہ ایک اور مریض پہنچا۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے کسی گاڑی سے ٹکرا گیا ہو۔

ڈاکٹر نے فوراً اسے ایمرجنسی میں ڈالا اور حادثہ کی نوعیت پوچھی۔

مریض بولا، "صبح دفتر وقت سے پہلے پہنچنا تھا۔

جو نہی سحری جاگا بھاگم بھاگ الٹے سیدھے کپڑے پہنتا اپارٹمنٹ سے نکلا ہی تھا کہ جانے کہاں سے میرے اوپر ایک فریج آ گری۔"

ڈاکٹر ابھی پریشان ہو ہی رہا تھا کہ ایک اور مریض جو انتہائی بھیانک حالت میں تھا، پہنچا۔

ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا تو بولا،

"کچھ نہیں، بس فریج میں بیٹھا تھا کہ کسی نے فریج اٹھا کر بلڈنگ سے نیچے پھینک دی۔" 😂🙄
منقول


Urdu stories

10/06/2026

ہیرا منڈی کا ایک دلال تھا جو کہ "مودا ماما" کے نام سے مشہور تھا جسکا اصل نام چوھدری محمود تھا. منڈی میں آنے والی بارہ چودہ سال کی ستر فیصد لڑکیوں کی نتھ اترائی اسی سے ہوتی تھی. بڑے بڑے لوگوں کو لڑکیوں کی سپلائی دیتا ایک لڑکی کی آٹھ دس بار نتھ اترائی کروا لیتا تھا.

منڈی میں ایک لڑکی آئی اصل نام پتا نہیں کیا تھا لیکن دل بہار کے نام سے مشہور ہوئی. اس زمانے میں شریف گھرانوں کی لڑکیاں فلموں میں نہیں آتی تھیں ستر فیصد ہیروئینوں کا تعلق ہیرا منڈی سے ہوا کرتا تھا. اشرافیہ بھی عیاشی کے لیے ہیرا منڈی کا رخ کیا کرتی تھی. ایسا ہی ایک عیاش سیاستدان غلام مصطفیٰ کھر تھا، مصطفیٰ کھر کے دل بہار کے ساتھ تعلقات تھے پھر دونوں نے شادی کر لی.
مصطفیٰ کھر گورنر پنجاب بنا اور ہیرا منڈی کی دل بہار پنجاب کی خاتون اول بن کر گورنر ہاؤس پہنچ گئی. وہ دن مودا ماما کی زندگی کا خوش ترین دن تھا، اس نے دیگیں پکوائیں اور پورے شاھی محلے میں بانٹیں. ہر ایک سے کہتا "ہمارا داماد گورنر بن گیا". پھر یوں ہوا کہ غلام مصطفیٰ کھر کی بیٹی آمنہ حق ٹی وی اور گانوں کی ماڈل بن گئی.

مصطفیٰ کھر کی بیوی تہمینہ درانی نے اپنی کتاب "مینڈا سائیں" میں لکھتی ہیں "غلام مصطفیٰ کھر کی بدزبانی، گالی گلوچ، ہوس پرستی اور عورت بازی سے ان کے اپنے خاندان کی کوئی خاتون محفوظ نہیں تھی. غلام مصطفیٰ کھر نے اپنی سالی یعنی تہمینہ درانی کی چھوٹی بہن عدیلہ سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے تھے. احتجاج کرنے پر تہمینہ درانی کو ننگا کر کے مارا پیٹا تھا. پھر تہمینہ درانی نے شہباز شریف سے شادی کر لی. غلام نور ربانی کھر مصطفیٰ کھر کا بھائی ہے اور حنا ربانی کھر اس کی بیٹی ہے.

مصطفیٰ کھر اور دل بہار کی شادی زیادہ عرصہ نہیں چل سکی، طلاق ہو گئی تھی. مودا ماما نے سیاست شروع کی، 1988 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گیا. نواز شریف نے بےنظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد چلائی اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے خرید لیے. مخدوم احمد عالم انور اور رئیس شبیر احمد معمولی رقم پر فروخت ہوئے. اس سے آپ کو 2022 کی عدم اعتماد سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی. نواز شریف نے مودا ماما کو بھی خریدنے کی کوشش کی، مودا نے کہا "صاحب جی یہ پیر، مخدوم اور رئیس بک جاتے ہیں، ہم کنجر لوگ ہیں ہم وفاداریاں تبدیل نہیں کرتے."

دل بہار کی جوانی، اداکار حبیب اور نورجہاں کا گایا ہوا لازوال گانا "کہندے نے نینا، تیرے کول رہنا". دل بہار مصطفیٰ کھر کی گرل فرینڈ تو نورجہاں زولفقار بھٹو کی. نور جہاں، جنرل رانی یحییٰ خان زولفقار بھٹو سمیت ستر کی دہائی کی پوری کابینہ اٹھا کر دیکھ لیں. ایک سے بڑھ کر ایک عیاش شرابی کرپٹ حکمران آپ کو ملے گا.
منقول
Urdu stories

10/06/2026

’’ اغواء برائے تاوان کیسے ہوتے ہیں
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے مجھے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ olx پر بھی اپنی پراڈکٹ لسٹ کیا کرو وہاں سے بھی اچھا بزنس ملتا ہے.
میں نے جھٹ سے olx ڈاؤنلوڈ کی اور بیری کے شہد کا ایڈ لگا دیا
اگلے دن سلاجیت کا اور پھر اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر ایڈ لگانے شروع کر دیئے مگر کوئی رسپانس نہیں ملا، لیکن ہم نے تو سیکھا ہے کہ نتیجے پر نظر رکھے بغیر محنت کرنی ہے، سو لگے رہے.
چند دن بعد olx کی طرف سے آفر ہوئی کہ صرف 500 روپے میں 1 ہفتے کے لیئے پوسٹ کو بوسٹر لگائیں اور پتا نہیں کتنے ہزار لوگو تک آواز پہنچائیں
میں نے جھٹ سے بیری شہد کی پوسٹ کو بوسٹر لگا دیا
اگلے ہی دن 1 صاحب نے رابطہ کیا اور کہنے لگے olx پر آپ کا بیری شہد کا ایڈ دیکھا
دراصل ہماری کمپنی پاکستان سے مختلف اشیاء باہر ممالک میں ایکسپورٹ کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک ٹن کے قریب بیری شہد کا ابتدائی آرڈر ہے
کیا آپ ہمیں اتنا شہد مہیا کر سکتے ہیں؟ کیا قیمت ہو گی، کوالٹی کیسی ہو گی وغیرہ وغیرہ
بار بار کہتا سر خیال رکھیں کوالٹی میں شکایت نا ہو اور ہمیں ہر مہینے اتنا ہی شہد چاہئیے ہو گا بس سپلائی نہیں رکنی چاہیے
کافی ساری باتیں اور معاملات ڈسکس کرنے کے بعد کہنے لگے کہ ہمارے باس فوجی جنرل ہیں اور یہ انکی کمپنی ہے
ابھی وہ انگلینڈ میں ہیں کل یا پرسوں واپس آ رہے ہیں تو میں آپ کی میٹنگ ارینج کرواتا ہوں
بس آپ نے خیال رکھنا ہے کہ اکیلے آنا ہے، میں نے پوچھا کہاں آنا ہے تو کہنے لگا فیصل آباد یا بہاولپور.
ان دو شہروں میں ہمارے آفس ہیں
میرے تو دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ لو بھئ میری تو چاندی لگ گئی
فون بند ہوا تو میں حساب کتاب لگانے لگا کہ کتنے پیسے بچیں گے، سپلائی کیسے مینج ہو گی وغیرہ وغیرہ
2 گھنٹے گذرے تو ان صاحب کا پھر سے فون آ گیا پوچھنے لگے کہ کمپنی میں آپ کے ساتھ کوئی شریک تو نہیں آپ اکیلے ہی ہیں فیصلہ خود ہی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ
پھر کہنے لگے میری اپنے باس سے بات ہو گئی ہے وہ پرسوں آ رہے ہیں آپ نے پرسوں 2 بجے فیصل آباد پہنچنا ہے
پھر پوچھنے لگا کیسے آئیں گے اپنی گاڑی پر یا لوکل؟ میں نے کہا لوکل ہی آؤں گا آپ یہ بتائیں فیصل آباد میں آنا کہاں ہے؟
کہتا جب آپ فیصل آباد پہنچے تو بتا دینا ہمارا بندہ خود آپ کو لے آئے گا مگر خیال رکھیں کہ اکیلے ہی آنا.
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا
فون بند ہوا تو میں نے فوراً ڈائیو کی ایپ سے آن لائن فیصل آباد کی ٹکٹ بک کی اور اس بندے کو واٹس اپ کر کے اطلاع کر دی کہ ٹکٹ ہو گئی ہے کہتا بہت خوب بس خیال رہے کہ آپ نے اکیلے ہی آنا ہے
اب تو جیسے ہی اس نے ایسا کہا مجھے کھٹکا کہ یار یہ کیا بات ہوئی بار بار 1 ہی بات، کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں
میں نے بیگم صاحبہ کو ساری صورتحال بتائی وہ بھی کہنے لگی کہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے
چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، میں سوچنے لگا کہ اب کیا کروں، ایک طرف لمبی دیہاڑی تھی اور دوسری طرف خطرے کی گھنٹی.
فیصلہ کرنا کافی مشکل ہو رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے اس صورتحال کو کیسے مینج کروں
خیال آیا کہ استاد جی سے مشورہ کرتا ہوں، فون کیا ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو استاد جی کہنے لگے کوئی بات نہیں اب اگر فون آئے تو کہنا کہ ہم 2 سے 3 لوگ آئیں گے اپنی گاڑی پر اور اسکا ری ایکشن دیکھنا پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، میں نے کہا ٹھیک ہے دیکھتے ہیں.
کچھ ہی دیر گذری تھی کہ پھر فون آ گیا اور اس دفعہ تو مجھے اس بندے کا لہجہ بھی عجیب سا لگا، کچھ دیر بات کرنے کے بعد کہتا پھر ٹکٹ ہو گئی آپ کی، پھر اکیلے ہی آ رہے ہیں نا؟
میں نے کہا نہیں پروگرام بدل گیا ہے جی ہم 3 لوگ آئیں گے اور اپنی گاڑی سے آئیں گے
یہ سننا تھا کہ جناب کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے ایسے جیسے بوکھلا گیا ہو.
ذیشان صاحب آپ کا دماغ خراب ہے، آپ کو عقل نہیں، فلاں فلاں
میں نے کہا بھائی خیر تو ہے آپ کا تو رویہ ہی عجیب ہو گیا ہے،
مزید کچھ بات بڑھی تو غصے سے فون بند کر دیا
ایسے لگ رہا تھا جیسے جناب کا کوئی بہت بڑا پلان کینسل ہو گیا ہو
لہجے سے بوکھلاہٹ واضح تھی
خیر میں نے استاد جی کو فون کر کے ساری صورتحال بتائی تو کہتے اب تم نے کوئی رابطہ نہیں کرنا اگر وہ کرے تو میرا نمبر دے دینا میں دیکھ لوں گا.
چند دن گذرے ہوں گے کہ استاد جی کا فون آیا تو اوسان خطا ہوئے پڑے تھے سانس پھولا ہوا، میں نے کہا کیا ہوا خیر تو ہے؟
کہنے لگے ذیشان صاحب شکر کرو اللہ تمہیں اغوا ہونے سے بچا لیا میں نے کہا کیا مطلب ؟
تو کہنے لگے تمہیں جو فون آیا تھا نا وہ اغواء برائے تاوان والوں کا تھا
میں نے کہا کیا مطلب؟ تو کہنے لگے کہ مجھے کل اسی طرح سے شیخوپورہ کے مضافاتی علاقہ سے 1 مشین کی انکوائری آئی اور میں نے سوچے سمجھے بغیر کہ شیخوپورہ میں جہاں یہ بلا رہے ہیں وہاں تو کوئی بڑی انڈسٹری بھی نہیں ملنے کی حامی بھر لی اور آج صبح گاڑی پر شرقپور پہنچ گیا وہاں پہنچ کر رابطہ کیا تو واٹس اپ پر لوکیشن بھیج دی کہ اس جگہ پہنچیں ہم منتظر ہیں
کہتے میں لوکیشن فالو کرتے ہوئے جانے لگا تو محسوس ہوا کہ یہ جگہ تو بلکل ویران ہے غور کیا تو پتا چلا کہ پیچھے سے 1 گاڑی مسلسل پیچھا کرتی ہوئی آ رہی ہے
اتنے میں پکی سڑک ختم ہو کر کچا ٹریک شروع ہو چکا تھا اور دائیں بائیں مڑنے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا
کہتے اچانک دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس سے میں رابطے میں ہوں پیچھے آتی گاڑی میں تو نہیں
گاڑی کی رفتار کچھ کم کی تو پچھلی گاڑی ذرا قریب آئی میں نے نظریں اس پر جماتے ہوئے اس بندے کو فون ملایا
جیسے ہی رنگ ہوئی تو پچھلی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بندے نے فوراً فون اٹھایا اور کہنے لگا بھائی ہم انتظار میں ہیں آپ جلدی پہنچیں
استاد جی کہنے لگے میں ڈر تو پہلے ہی رہا تھا اب اور گھبرایا اور راستہ دیکھنے لگا کہ کیسے بھاگنا ہے
کہتے مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آئی تو میں نے فوراً گاڑی شیخوپورہ شہر کی طرف گھمائی اور ادھر ادھر دیکھے بغیر بس بھگاتا ہی رہا اور شیخوپورہ پہنچ کر سانس لیا
اس بندے کے بار بار فون آتے رہے میں نے تو نمبر ہی بلاک کر دیا.
میں نے پوچھا اب کہاں ہو کہتے شیخوپورہ سے نکل رہا ہوں ابھی،
وہاں سے سیدھا 1 دوست کے پاس چلا گیا تھا جب اسے سٹوری سنائی تو کہتا شکر کرو بچ گئے یہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں اور اغواء کر کے کہیں لے جاتے ہیں ۔ پھر تاوان لیتے ہیں اور شدید ٹارچر کرتے ہیں.
یوں استاد شاگرد کو اللہ نے 1 بڑے حادثے سے بچا لیا
اب تو میں نے پکا اصول بنا لیا ہے کہ جو بھی ہو جتنا بھی بڑا گاہک ہو کبھی خود چل کر نہیں جانا بلکہ اسے اپنے پاس بلانا ہے
آج سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی کی وڈیو دیکھی تو اپنا سین یاد آگیا
اس بیچارے کو بکرے دینے کے بہانے راجن پور بلایا گیا اور دل دہلا دینے والے تشدد کیئے اور بھارا تاوان لینے کے بعد چھوڑا،
محمد ذیشان‘‘
منقول
Urdu stories



‏😂🤣😂🤣ایک آدمی کی شادی ہوئی اور دلہن نے پہلے دن ہی میاں سے ایگری منٹ کرلیا کہ ایک دن برتن میں دھویا کروں گی اور ایک دن تم...
09/06/2026

‏😂🤣😂🤣
ایک آدمی کی شادی ہوئی اور دلہن نے پہلے دن ہی میاں سے ایگری منٹ کرلیا کہ ایک دن برتن میں دھویا کروں گی اور ایک دن تم
بیگم تھوڑی ٹوہر نکھرے والی تھی 😉 میاں مان گیا
بیگم تھوڑی چالاک تھی جس دن اسکی باری ہوتی تو تھوڑے سے برتن خراب کرتی اور جلدی جلدی دھو لیتی
ایک دن دونوں میں سیز فائر کی خلاف ورزی ہوگئی
مرد نے دل میں کہا
پہلے تیرے پیار کی وجہ سے میں کوئی برتن خراب نہیں کرتا تھا اب دیکھنا
جس دن بیگم کی باری تھی اس دن میاں نے کہا بریانی بناو
بیگم ادھر ادھر ہوئی تو میاں نے آگ تیز کرکے چاول نیچے لگادئیے پھر بھاگ کے دہی لے آیا کیچپ بھی لے آیا تین چار برتنوں میں سلاد بنایا دو برتن کیچپ سے خراب کردئیے
جب بیگم بریانی ٹرے میں لے کے آئی تو میاں نے تین چار پلیٹوں میں ڈال دی کہ تھوڑی ٹھنڈی ہوجائے
بریانی کھاتے کھاتے میاں نے پندرہ سولہ برتن خراب کردئیے پھر بیگم کو کہا چائے بنا کے لے آو بیگم چائے بنانے لگی تو میاں نے جلدی جلدی چینی چھپا دی
آخر فیس بکی مرد تھا عورت کو مات دینا جانتا تھا
بیگم نے دودھ میں پتی ڈال کے چولہے پہ رکھی اور میاں سے پوچھا چینی نہیں ملتی
میاں بولا دوسرے کمرے میں دیکھو
بیگم چینی دیکھنے گئی تو میاں نے جلدی جلدی گیس تیز کردی چائے ابل کر سارے برتن کے ارد گرد لگ گئی
جب چائے بن کہ آگئی تو میاں نے ایک کپ کو تین چار کپوں میں ڈال لیا بیگم نے پوچھا تو بولا جانو گرم ہے ٹھنڈی کرلوں
جب بیگم برتن اکھٹے کرکے دھونے لگی تو ایسے لگتا تھا کہ ٹوٹی کے آگے ٹرک الٹا ہے

بیگم بریانی کی کھرچن بھی اتارتی اور منہ ہی منہ میں من من کرتی بچہ جب تیری باری آئے تو سارا محلہ آکے تجھے آکے برتن دھلائے گا

بس پھر کیا تھا دوسرے دن بیگم نے اپنے میکے فون کیا کے آپ سب کی دعوت ہے
ہمارے گھر
میکے والے کوئی فیصل آبادی تھے انہوں نے دس بارہ برس قبل بیاہی ہوئی بیٹیوں کو بھی فون کرکے بلا لیا پچیس تیس بچے تھے
دس بارہ عورتیں سات آٹھ مرد کہیں بریانی پک رہی ہے
کہیں کسٹرڈ بن رہا ہے کہیں بڑے ڈونگوں میں دہی ڈالی جا رہی ہے
کہیں چائے بن رہی ہے چائے پی لی گئی برتن سائیڈ پہ کرکے نئے برتن میں پھر چائے بنائی گئی نئے کپ اتارے گئے
قصہ مختصر کہ بیگم کہ میکے والے چلے گئے مگر برتن دھونے سے پہلے میاں کو دو گلوگوز کی ڈرپس لگ چکی تھیں.......!!!!
😂😂😁😆😆😆🤭🤭🤭😂😂😂✌️✌️
Urdu stories

اس مولوی منظور اختر مینگل کی ویڈیو نظر سے گزری جس میں یہ کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والی ہماری بہنوںبیٹیوں اور بچیوں...
09/06/2026

اس مولوی منظور اختر مینگل کی ویڈیو نظر سے گزری
جس میں یہ کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والی ہماری بہنوں
بیٹیوں اور بچیوں کے بارے میں گفتگو کررہا ہے
ہاسٹلز میں رہنے والی لڑکیوں کے بارے میں ایسی واہ۔۔یات گفتگو کر رہا ہے کہ یہاں وہ الفاظ لکھنا بھی حیوانیت ہے
جو الفاظ یہ مدرسوں میں پڑھانے والا ایک استاد مسلمان بچیوں کے لیے
سامنے بخاری شریف رکھ کر
اسلام کا لبادے میں چھپ کر
خباثت بھرے قہقہوں کے ساتھ بول رہا ہے

بات یہ نہیں کہ یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے
افسوس یہ ہے کہ مسلمان بچیوں کے کردار پہ بول رہا ہے
یہ صرف ایک بچی پہ نہیں بول رہا
یہ آپ کی، میری اور اس ملک میں بسنے والے ہر مسلمان اور ہر انسان کی بیٹی کے کردار پہ بک۔۔۔۔واس کر رہا پے

اگر بخاری شریف، قرآن پاک یا تفاسیر میں یہ لکھا ہے کہ کسی مسلمان بچی کے کردار پہ ایسی لچی قسم کی گفتگو کرو وہ بھی سامنے بخاری شریف جیسی مقدس کتب رکھ کر
مدرسے میں بیٹھ کر
تو آپ اپنی عقل سے سوچیں کہ کیا لوگ دین کی طرف آئیں گے؟؟
کیا بچیاں ایسے دین کو پسند کریں گی جس دین کے ٹھیکیدار ایسی غلی۔۔۔ظ اور گھٹی۔۔۔۔ا قسم کی گفتگو کررہے ہیں؟؟؟

سب سے پہلی بات تو اس مولوی کا پیٹ دیکھا جائے
کیا اس شخص کا حلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ہے..؟؟؟
آپ سب سے پہلے آقا جان کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک پڑھیں کہ آپ کا پیٹ مبارک کیسا تھا اور پھر اس مذہبی ٹھیکیدار کا پیٹ دیکھیں اور یہ پیٹ والی بات اس لیے کی ہے کہ جب مذہبی ٹھیکیدار بن کر داڑھیوں اور پگڑیوں کا حلیہ بیان کرتے ہو تو اپنے پیٹوں پہ بھی نظر ڈالو
اس جیسے پیٹ کو آقا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت ناپسند فرمایا ہے

دوسرے نمبر پہ اس کی گفتگو سے اندازہ لگائیں کہ کیا ایسی گفتگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا صحابہ کرام نے کبھی فرمائی؟؟
جس خباثت سے یہ ہنس رہا ہے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے کھل کر ہنسے؟؟؟؟

ان ساری چیزوں کو جواب اگر اپ کو نفی میں ملے تو اس مذہبی ٹھیکیدار اور چندے خور کا دفاع کرنے کی بجائے اس کی اس غل۔۔۔یظ حرکت پہ تنقید کریں

جب حاتم طائی کی بیٹی سفانہ بنت حاتم کو گرفتار کرکے بارگاہ رسالت میں لایا گیا تو اس کے سر سے دوپٹہ غائب تھا
آقآ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ اس کے سر پہ دوپٹہ دو
صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ! یہ تو ایک کاف۔۔ر کی بیٹی ہے
تو سنیے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹی بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے کاف۔۔۔ر کی ہو یا مسلمان کی

اور ان مذہبی ٹھیکیداروں کے ایسے غلاظت سے بھرپور الفاظ اور تقریریں لوگوں کو اسلام سے جوڑ رہی ہیں یا دور کر رہی ہیں؟؟
ہاسٹلز میں رہنے والی ہر لڑکی غلط نہیں ہوتی
جتنا اسلام اور اسلام پہ ریسرچ یونیورسٹیوں میں سکھائی جاتی ہے اتنی شاید کسی مدرسے میں نہیں سکھائی جاتی
مدرسوں میں صرف کتابیں پڑھا کر چندے مانگنے پہ لگا دیا جاتا ہے اور ممبر رسول پہ بیٹھ کر فتوے بیچنے اور امت کو لڑانے میں لگا دیا جاتا ہے
جسے اس بات سے اختلاف ہو وہ مدرسوں میں جا کر دیکھ لے کہ ان لوگوں کو جب تقریریں کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے تو سوائے جذباتی جملوں اور چیخنے چلانے کے اور کچھ نہیں سیکھایا جاتا

جب کہ یونیورسٹیوں میں اسلامک ریسرچ، جدید علوم اور وہ علوم پڑھائے جاتے ہیں جن سے ایک انسان کاروبار سیکھتا ہے، ریسرچ سیکھتا ہے اور جدید دنیا میں قدم رکھ کر لوگوں کے لیے اسانیاں پیدا کرتا ہے، نئی راہیں کھولتا ہے

اور یہ 8 سال کتابیں پڑھ کر مدرسوں کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں
چمڑوں، چندوں، وظیفوں اور حلوے کے سوا ان کے پاس کوئی بھی ذریعہ امدن نہیں ہوتا
جب پیسے ضرورت پڑتے ہیں یہ لوگ اس لاشعور عوام کو صدقوں اور چندوں کے فضائل سنا کر خوب چندہ جمع کرکے گم ہوجاتے ہیں

دین اسلام کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے
خود پڑھیں، سیکھیں اور دین اسلام پہ عمل پیرا ہوکر ایک کامیاب مسلمان اور انسان بنیں
تاکہ کل آپ بھی کسی مدرسے میں بیٹھ کر کسی کی بیٹی کو بینگن کا استعمال نہ سکھا رہے ہوں

علی بٹ
Urdu stories

06/06/2026

اگر اپ 35 سال سے اوپر کے ہو چلے ہو تو میری یہ چند نصیحتیں یاد رکھنا۔
1 سب سے پہلی بات
حتی المقدور کوشش کرنا کہ تیری یہ دو چیزیں تیرے قابو میں رہیں
1 پہلی: آپکا فشار خون (بلڈ پریشر)۔
2 دوسری: اپکے خون میں شکر کا تناسب

2 دوسری بات
ان 6 چیزوں کا استعمال کم سے کم کرنا
1 پہلی: نمک
2 دوسری: چینی
3 تیسری: گوشت یا دیگر محفوظ کردہ غذائیں
4 چوتھی: سرخ گوشت
5 پانچویں: دودھ اور اس کی بائی پروڈکٹس
6 چھٹی: نشاستہ دار غذائیں
7 ساتویں: كاربونيٹیڈ گیسوں والے مشروبات

3 تیسری بات
اپنے کھانوں میں ان تین اشیاء کی کثرت کرنا
1 پہلی: سبزیاں
2 دوسری: پھل
3 تیسری: خشک میوہ جات

4 چوتھی بات
ان تین چیزوں کو بھلانے کی کوشش کرنا
1 پہلی: تیری عمر
2 دوسری: تیرا ماضی
3 تیسری: اگر تیرے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو

5 پانچویں بات
ان چار چیزوں کو، بھلے تیرا جتنا زور لگے، اپنے پاس رکھنا
1 پہلی: اپنے محبین اور دوستوں سے تعلق
2 دوسری: اپنے خاندان کا خیال
3 تیسری: مثبت سوچ
4 چوتھی: مشاکل کو اپنے گھر سے دور

6 چھٹی بات
اپنی صحت کی حفاظت کیلئے ان پانچ کا اہتمام رکھنا
1 پہلا: روزے
2 دوسرا: ہنسی مذاق اور مسکراہٹیں
3 تیسرا: مسلسل سفر و سیاحت
4 چوتھا: جسمانی ورزش
5 پانچواں: اپنا وزن کم کرنے کےلئے محنت کرنا

7 ساتویں بات
ان چار باتوں کو کبھی نظر انداز نہ کرنا
1 پہلی: پانی پینے کیلئے پیاس کا انتظار نہ کرنا
2 دوسری: نیند کیلئے جماہیوں کا انتظار نہ کرنا
3 تیسری: آرام کیلئے تھکاوٹ ہونے کا انتظار نہ کرنا
4 چوتھی: اپنے ریگولر میڈیکل ٹیسٹ کیلئے بیمار ہونے کا انتظار نہ کرنا

8 آٹھویں اور سب سے ضروری بات
1 نمبر ایک: اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ اپنا روحانی تعلق مضبوط بنا کر رکھنا، تلاوت کا اہتمام، تہجد کی کوشش اور دعاء ومناجات کی کثرت۔
2 نمبر دو: ذات باری سے استغفار اور آقا حبیبنا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی کثرت۔ان سے صحت ، فکر فاقے اورمال میں خیر ہوگی۔ اور دارین کی خوشیاں ملیں گی۔

کس مرض میں کونسا جوس پئیں؟*

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کو جوس ،تازہ پھل اور سبزیاں کھانے کا مشورہ دیتا ہے ۔ اس کی وجہ ان چیزوں کے صحت پر اچھے اثرات ہوتے ہیں ۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب ہم بیماری میں جوس پیتے ہیں تو یہ ہماری طبیعت کو اور خراب کردیتا ہے اس کی وجہ غلط جوس کا استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر پھل اور سبزی ہر بیماری میں مفیدنہیں ہوتا ۔
بیماریوں کے لحاظ سے جوس کا استعمال کریں:

تیزابیت:

تیزابیت میں انگور ، موسمی ، میٹھے ، گاجر کا جوس استعمال کریں۔

الرجی:

الرجی کی صورت میں خوبانی، انگور ،چقندراور گاجر کا جوس پئیں۔

ایکنی:

کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے انگور ، آلوچہ ، ٹماٹر ،کھیرا اور ناشپاتی کا جوس لیں۔

انیمیا:

خون کی کمی دور کرنے کے لیے ، آلوچہ ، لال انگور ، چقندر ، اسٹرابیری ، گاجر اور پالک کا جوس پئیں۔

گٹھیا:

گٹھیا کے مرض میں انناس ، کھٹے سیب ، کھٹی چیری ،لیموں ، گریپ فروٹ ،کھیرا ،چقندر ، پالک کا جوس پئیں۔

استھما:

جن لوگوں کو سانس کی تکلیف ہے۔ ان کے لیے خوبانی ،لیموں ،آڑو ، گاجر اور مولی مفید ہے۔

برونکائٹس:

سینے کے انفیکشن میں پیاز ،گاجر ،آڑو ،ٹماٹر،انناس ،لیموں کا رس فائدہ مند ہیں۔

نزلہ:

پالک، گاجر ، پیاز ، گریپ فروٹ اور انناس کا رس مفید ہے۔

شوگر:

کینو، موسمی ، گریپ فروٹ ،سلاد ،گاجر، پالک استعمال کریں۔

ڈائریا:

ڈائریا میں پپیتا ،لیموں ،انناس اور گاجر کا استعمال فائدہ مند ہے۔

ایگزیما:

جلدی بیماری ہے اس کے لیے کھیرا ، چقندر ،لال انگور اور پالک مفید ہے۔

دل کی بیماریاں:

چقندر، لال انگور ،لیموں ، کھیرا ، گاجر اور گریپ فروٹ کا استعمال کریں۔

سردرد:

انگور ، لیموں ، گاجر ، سلاد اور پالک سردرد میں مفید ہیں۔

ہائی بلڈپریشر:

ہائی بلڈپریشر میں انگور ، گاجر ، کینو اور چقندر کا جوس لیں۔

انفلوئنزا:

انفلوئنزا میں خوبانی ، پیاز ، گاجر ، کینو ، انناس اور گریپ فروٹ کا استعمال کریں۔

پیلیا:

اس میں ناشپاتی ، انگور ، گاجر ، پالک ، کھیرا اور لیموں کا استعمال کریں۔

ماہواری کی بے ترتیبی کے لیے :

ماہواری کو روٹین میں لانے کے لیے چقندر ،آلوچہ ، چیری ، پالک اور انگور کا استعمال کریں ۔

موٹاپا:

موٹاپا کم کرنے کے لیے لیموں ، کینو ، چیری ، انناس ،پپیتہ ،ٹماٹر ،چقندر ،بندگوبھی ،سلاد ،پالک اور گاجر کو اپنی غذا میں شامل کریں۔





Urdu stories

05/06/2026

میں نے یہ تحریر پڑھی ہے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے میرے ، اسقدر سفاکی، اگر یہ سچ ہے تو پھر بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دینا بہتر ہے بجائے اس کہ کے اسقدر اذیت ، اور شرم و حیا کے نام پہ اسقدر حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بنایا جائے ۔۔۔۔۔💔😭

عفت کے نام پر ذبح خانہ اور حوا کی بیٹی کی سلائی: فرعونیت، حیاتیاتی دہشت گردی اور خود ساختہ الہیاتی غضب! -

ہم اکیسویں صدی کے اس نام نہاد مہذب، ٹیکنالوجی سے لیس اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے دور میں جی رہے ہیں، مگر اسی زمین کے کچھ تاریک، بدبودار اور تعفن زدہ کونوں میں آج بھی ایک ایسی ”خونی رسم“ زندہ ہے جو درندوں کو بھی شرما دے۔

تصور کیجیے اس قیامت کا جو ایک پانچ سالہ معصوم کلی پر ٹوٹتی ہے، جسے
کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں ایک ”قصائی نما دائی“ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ بغیر کسی میڈیکل پروٹوکول کے، بغیر سن کرنے والی دوا (Anesthesia) کے، ایک زنگ آلود بلیڈ، ٹوٹے ہوئے شیشے یا تیز دھار پتھر سے اس کے جسم کے سب سے حساس، سب سے نازک اور سب سے پرائیویٹ حصے کو ”کاٹ کر، چھیل کر اور رگڑ کر“ الگ کر دیا جاتا ہے۔

اور ظلم کی یہ داستان یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بعد اس کٹی ہوئی، خون اگلتی ہوئی جگہ کو ببول کے کانٹوں یا موٹے دھاگے سے ایسے ”سی دیا جاتا ہے“ (Stitched up) جیسے کوئی پھٹی ہوئی بوری سی رہا ہو، صرف ایک ماچس کی تیلی جتنا سوراخ چھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ ”زندہ لاش“ اپنا پیشاب اور حیض کا گندا خون قطرہ قطرہ کر کے نکال سکے۔

یہ منظر کسی ہارر مووی کا نہیں، یہ وہ جہنم ہے جسے ”خواتین کا ختنه“ (Female Ge***al Mutilation - FGM) کہا جاتا ہے اور جسے صومالیہ، مصر اور سوڈان کے جاہل معاشرے ”پاکیزگی کا تمغہ“ سمجھتے ہیں۔

آج میں اپنے قلم کو نشتر بنا کر اس ناسور کو چیڑوں گا جسے ”شرم“ اور ”ثقافت“ کی چادر میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔

آج ہم دیکھیں گے کہ کس طرح مذہب کے نام پر، روایات کی آڑ میں اور مردانہ ہوس کے تحفظ کے لیے عورت کی ”بیالوجی“ کو مسخ کیا جاتا ہے اور اسے ایک ”انسان“ سے ”سیکس ڈول“ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے اس نفسیات کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جو ایک ماں کو اپنی ہی لختِ جگر کی جلاد بننے پر مجبور کرتی ہے۔

آخر کیوں؟

اس کا جواب کسی کتاب میں نہیں، بلکہ اس ”اجتماعی مردانہ خوف“ (Collective Male Insecurity) میں ہے جو صدیوں سے ان معاشروں پر مسلط ہے۔

ان جاہل قبائل کا ماننا ہے کہ عورت کی ”شہوت“ (Sexual Desire) ایک ایسا بے قابو جن ہے جسے اگر قید نہ کیا گیا تو یہ پورے معاشرے کو نگل جائے گا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ عورت کا ”کلیٹورس“ (Cl****is) جو کہ اللہ کی تخلیق کا شاہکار ہے اور جس میں 8000 سے زائد اعصابی ریشے (Nerve Endings) ہیں, ایک ”شیطانی ابھار“ ہے جو عورت کو بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے۔

لہٰذا، حل کیا نکالا گیا؟

”جڑ سے اکھاڑ دو۔“

نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ وہ عورت کے جسم سے ”لذت محسوس کرنے کی صلاحیت“ کو سرجیکلی ریموو (Surgically Remove) کر دیتے ہیں تاکہ وہ محض ایک ”بچہ پیدا کرنے والی مشین“ اور شوہر کی خدمت کرنے والی ”روبوٹ“ بن کر رہ جائے۔

یہ لوگ اپنی بچیوں کو ”Infibulate“ (سیل بند) کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس کی ”عفت“ پر تالا لگا دیا ہے۔ ان کے نزدیک پاکیزگی ”کردار“ کا نام نہیں، بلکہ ”چمڑی کی سلائی“ کا نام ہے۔

یہ ”حیاتیاتی دہشت گردی“ (Biological Terrorism) ہے۔

وہ عورت کو بتاتے ہیں کہ

”تمہارا جسم تمہارا نہیں، یہ مرد کی ملکیت ہے، اور ہم اسے تب تک سیل رکھیں گے جب تک اس کا ’مالک‘ (شوہر) آ کر اس سیل کو نہ توڑے۔“

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا میں 20 کروڑ سے زائد خواتین اس عمل سے گزر چکی ہیں۔

صومالیہ: یہاں یہ شرح 98 فیصد ہے۔ یعنی وہاں پیدا ہونے والی تقریباً ہر بچی اس عمل سے گزرتی ہے۔ وہاں جو بچی ”سلی ہوئی“ نہیں ہوتی، اسے معاشرہ ”فاحشہ“ (Gaba) کہتا ہے، اسے گالیاں دی جاتی ہیں، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا۔ یہ سماجی دباؤ (Social Stigma) اتنا شدید ہے کہ مائیں اپنی بیٹیوں کو معاشرتی بائیکاٹ سے بچانے کے لیے خود ان کی ٹانگیں پکڑ کر دائی کے آگے لٹاتی ہیں۔ وہاں اسے ”Pharaonic Circumcision“ (فرعونی ختنہ) کہا جاتا ہے، جو سب سے بدترین قسم (Type III) ہے۔

مصر: یہاں صورتحال مختلف مگر اتنی ہی بھیانک ہے۔ مصر میں تقریباً 90 فیصد خواتین کا ختنہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہاں اب قانون بن چکا ہے، لیکن ”میڈیکلائزیشن“ (Medicalization) کا ایک نیا فتنہ کھڑا ہو گیا ہے۔ لوگ دائیوں کے بجائے ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور رشوت دے کر ہسپتالوں میں یہ کام کرواتے ہیں۔ یعنی مسیحا خود قصائی بن چکے ہیں۔

میڈیکل سائنس کی رو سے دیکھیں تو یہ عمل انسانی جسم کے ساتھ کیا جانے والا بدترین مذاق ہے۔

ذرا سوچیے!

جسم کا وہ حصہ جو سب سے زیادہ حساس ہے، جہاں اعصاب کا گچھا ہے، اسے بغیر بے ہوش کیے کاٹا جا رہا ہے۔ اس بچی کا دماغ اس شدید درد کی تاب نہ لاتے ہوئے ”Neurogenic Shock“ میں چلا جاتا ہے۔ بہت سی بچیاں اسی میز پر دم توڑ دیتی ہیں۔

اور جو زندہ بچ جاتی ہیں، ان کی زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔

پیشاب کا عذاب: چونکہ راستہ سی دیا گیا ہے، پیشاب کھل کر نہیں آتا۔ وہ قطرہ قطرہ رستا ہے، جلن ہوتی ہے، اور پیشاب اندر جمع ہو کر گردوں کو تباہ کر دیتا ہے۔

حیض کا زہر: جب بچی بالغ ہوتی ہے اور ماہواری شروع ہوتی ہے، تو خون نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ وہ گندا خون رحم (Uterus) میں جمع ہوتا رہتا ہے، سڑتا ہے، اور رسولیاں (Cysts) بن جاتی ہیں۔ ہر مہینے وہ بچی درد سے تڑپتی ہے جیسے اس کے پیٹ میں خنجر چل رہے ہوں۔

فیسٹولا (Fistula): یہ وہ لعنت ہے جو اس عمل کا تحفہ ہے۔ مثانے اور اندام نہانی کے درمیان سوراخ ہو جاتا ہے۔ عورت ہر وقت پیشاب میں لت پت رہتی ہے، اس سے بدبو آتی ہے، اور اس کا شوہر—جس کی خاطر یہ سب کیا گیا تھا, اسے ”گندی“ کہہ کر گھر سے نکال دیتا ہے۔

اس پوری کہانی کا سب سے خوفناک اور لرزہ خیز باب ”شادی کی رات“ ہے۔

عام جوڑوں کے لیے یہ محبت کی رات ہوتی ہے، مگر ان ”سلی ہوئی“ لڑکیوں کے لیے یہ ”ٹارچر سیل“ کی رات ہوتی ہے۔

شوہر کے لیے دخول (Pe*******on) ناممکن ہوتا ہے کیونکہ راستہ بند ہے۔ اب یہاں دو طریقے اپنائے جاتے ہیں، اور دونوں شیطانی ہیں:

دائی کا بلاوا: شادی کی رات دائی کو بلایا جاتا ہے جو آ کر دلہن کی ٹانگیں کھولتی ہے اور اسی جگہ پر دوبارہ چاقو چلا کر سلائی کاٹتی ہے (De-infibulation)۔ خون کے فوارے چھوٹتے ہیں، اور اسی خون آلود بستر پر شوہر اپنا ”حق“ جتاتا ہے۔

شوہر کا جبر: یا پھر شوہر خود طاقت کا استعمال کرتا ہے، یا چھوٹے بلیڈ کا استعمال کر کے راستہ بناتا ہے۔

یہ ”ازدواجی تعلق“ نہیں، یہ ”Legalized Rape“ اور ”سرجیکل تشدد“ ہے۔ اس رات اس لڑکی کے ذہن میں سیکس کے لیے ہمیشہ کے لیے ”نفرت“ اور ”خوف“ بیٹھ جاتا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے شوہر سے محبت نہیں کر پاتی، وہ صرف ”برداشت“ کرتی ہے۔

سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اس جہالت کو ”دین“ کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔ یہ ملا اور یہ جاہل پیر کہتے ہیں کہ یہ ”سنت“ ہے یا ”مکرمہ“ ہے۔

میرا قلم یہاں چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ یہ ”جھوٹ“ ہے، یہ ”بہتان“ ہے!

تخلیق میں بگاڑ: قرآن واضح کہتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ”احسن تقویم“ (بہترین ساخت) پر پیدا کیا۔ اور شیطان نے چیلنج دیا تھا کہ

”میں ان سے کہوں گا تو یہ اللہ کی تخلیق کو بگاڑیں گے“ (سورۃ النساء: 119)۔

کلیٹورس کوئی رسولی نہیں ہے، کوئی بیماری نہیں ہے، یہ اللہ کی بنائی ہوئی ”نارمل اناٹومی“ ہے۔ اسے کاٹنا شیطان کی اطاعت ہے، اللہ کی نہیں۔

نبی ﷺ کا گھرانہ: تاریخ گواہ ہے، اور چیلنج ہے میرا کہ کوئی ایک صحیح روایت دکھا دو کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی چار بیٹیوں (زینبؓ، رقیہؓ، ام کلثومؓ، فاطمہؓ) میں سے کسی ایک کا بھی معاذ اللہ ختنہ کروایا ہو؟

اگر یہ ”مکرمہ“ ہوتی، تو کیا رحمت اللعالمین ﷺ اپنی بیٹیوں کو اس فضیلت سے محروم رکھتے؟

ہرگز نہیں!

جب نبی کے گھر میں یہ نہیں ہوا، تو تم کون ہوتے ہو اسے دین بنانے والے؟

ضعیف روایت کا سہارا: جو ایک آدھ حدیث (ام عطیہ والی) پیش کی جاتی ہے، وہ سند کے اعتبار سے ”ضعیف اور مضطرب“ ہے۔

دین ضعیف روایتوں پر نہیں، محکم اصولوں پر چلتا ہے۔ اور اسلام کا اصول ہے ”لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ“ (نقصان نہ دو، نقصان نہ لو)۔ جب میڈیکل سائنس نے مہر لگا دی کہ یہ عمل 100 فیصد نقصان دہ ہے، تو یہ خود بخود ”حرام“ کے درجے میں آ جاتا ہے۔

اس عمل کا اصل مقصد عورت کو ”جنسی معذور“ بنانا ہے۔ مرد چاہتا ہے کہ اسے تو بھرپور لذت ملے (کیونکہ وہاں کی عورتوں کی اندام نہانی مصنوعی طور پر تنگ کی گئی ہوتی ہے جو مرد کو زیادہ لذت دیتی ہے)، لیکن عورت صرف ایک ”مردہ لاش“ کی طرح پڑی رہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عورت کو لذت ملی تو وہ بے وفا ہو جائے گی۔ یہ مرد کی کمزوری اور عدم اعتماد کا ثبوت ہے۔ ایک مردِ مومن اپنی بیوی کی عفت کی حفاظت ”محبت“ اور ”تربیت“ سے کرتا ہے، ”سلائی مشین“ سے نہیں۔

اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے، یہ اس کا حق ہے کہ وہ حلال طریقے سے اس کی تسکین کرے۔ اس عضو کو کاٹ دینا اس پر اللہ کی نعمت کا دروازہ بند کرنے کے مترادف ہے۔

یہ مسئلہ کسی دور دراز افریقی گاؤں کا نہیں، یہ ”انسانیت کے ضمیر“ کا مسئلہ ہے۔

اے لوگو! جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہو!

یہ ثقافت نہیں، یہ ”درندگی“ ہے۔ثقافت وہ ہوتی ہے جو زندگی کو خوبصورت بنائے، وہ نہیں جو پھولوں کو مسل دے۔

اگر ہمیں کہیں بھی، کسی بھی شکل میں (چاہے وہ صومالیہ ہو، مصر ہو یا ہمارے بوہرہ کمیونٹی کے بند کمرے ہوں) اس ظلم کی بھنک پڑے، تو خاموش رہنا اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔

یہ بچیاں بول نہیں سکتیں، ان کی چیخیں ان کے گلے میں گھٹ جاتی ہیں۔ ہمیں ان کی آواز بننا ہوگا۔

علماء کو ممبروں سے چیخنا ہوگا کہ یہ حرام ہے۔
ڈاکٹروں کو قسم کھانی ہوگی کہ وہ پیسوں کے لیے یہ قصائی کا کام نہیں کریں گے۔
اور ماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ تم اپنی بیٹی کو ”پاک“ نہیں کر رہیں، تم اسے ”ذبح“ کر رہی ہو۔

عفت کا تعلق روح سے ہے، جسم کے ٹانکنوں سے نہیں۔

اس فرعونیت کو اب ختم ہونا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو روایات کی بھٹی میں جھونک دیا تھا
Bilal Shoukat azad

‏دو مراثيوں کو پھانسی ہوئی۔ آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے سارنگی سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ مراثی سے پوچھا گیا کہ ...
05/06/2026

‏دو مراثيوں کو پھانسی ہوئی۔
آخری خواہش پوچھی گئی تو
پہلے مراثی نے سارنگی سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ مراثی سے پوچھا گیا کہ کتنا وقت درکار ہو گا۔
مراثی بولا: اگر کسی تجربہ کار استاد سے سیکھیں تو بیس سے پچیس سال لگتے ہیں۔
پوچھا گیا کہ عمر کتنی ہے۔ جواب ملا، 40 سال۔
اچھا تو 65 سال کی عمر میں پھانسی چڑھو گے۔

مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، 'جو رب کو منظور'۔

اب دوسرے مراثی کی باری آئی. کہا گیا،
تم نے بھی ظاہر ہے سارنگی سیکھنی ہوگی،
"پھانسی ٹالنے کیلئے"۔
دوسرے مراثی نے کہا، ہاں! سرکار لیکن۔
اور پھر پہلے مراثی کی طرف دیکھ کر بات جاری رکھتے ہوۓ بولا،

"" 'میں نے اس سے سیکھنی ہے'۔""

"ہمیں اگر دوبارہ حکومت ملی تو ملک کی تقدیر بدل دیں گےا"

🛑آل پاکستان سیاستدان ایسوسی ایشن 🛑

😂😂😂
منقول

ایک پاکستانی کاروباری شخص جاپان گیا اور وہاں کے نظام سے متاثر ہوا، اس نے اپنے جاپانی میزبان سے پوچھا: آپ سب اتنے سمجھدار...
05/06/2026

ایک پاکستانی کاروباری شخص جاپان گیا اور وہاں کے نظام سے متاثر ہوا، اس نے اپنے جاپانی میزبان سے پوچھا: آپ سب اتنے سمجھدار کیسے ہیں اور آپ نے ایسا ملک کیسے بنایا؟

جاپانی شخص نے جواب دیا: دراصل آپ زیادہ سمجھدار ہیں۔

پاکستانی حیران ہو کر بولا: وہ کیسے؟

جاپانی نے جواب دیا: ہر 10 جاپانیوں میں سے 1 سمجھدار ہوتا ہے اور 9 اوسط سے کم درجے کے ہوتے ہیں، جبکہ آپ کے یہاں 9 سمجھدار ہوتے ہیں اور صرف 1 اوسط سے کم درجے کا ہوتا ہے۔

جاپانی شخص نے مزید کہا: ہم سمجھدار شخص کو قائدانہ عہدے پر فائز کرتے ہیں اور باقی 9 اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، جبکہ آپ اس اکیلے اوسط سے کم درجے والے کو انچارج بناتے ہیں اور 9 سمجھداروں کو اس کی ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی لئے آپ کو لگتا ہے کہ ہم سب سمجھدار ہیں۔
منقول

Urdu stories

Address

Karachi
75900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu stories:

Share