05/06/2026
میں نے یہ تحریر پڑھی ہے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے میرے ، اسقدر سفاکی، اگر یہ سچ ہے تو پھر بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دینا بہتر ہے بجائے اس کہ کے اسقدر اذیت ، اور شرم و حیا کے نام پہ اسقدر حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بنایا جائے ۔۔۔۔۔💔😭
عفت کے نام پر ذبح خانہ اور حوا کی بیٹی کی سلائی: فرعونیت، حیاتیاتی دہشت گردی اور خود ساختہ الہیاتی غضب! -
ہم اکیسویں صدی کے اس نام نہاد مہذب، ٹیکنالوجی سے لیس اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے دور میں جی رہے ہیں، مگر اسی زمین کے کچھ تاریک، بدبودار اور تعفن زدہ کونوں میں آج بھی ایک ایسی ”خونی رسم“ زندہ ہے جو درندوں کو بھی شرما دے۔
تصور کیجیے اس قیامت کا جو ایک پانچ سالہ معصوم کلی پر ٹوٹتی ہے، جسے
کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں ایک ”قصائی نما دائی“ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ بغیر کسی میڈیکل پروٹوکول کے، بغیر سن کرنے والی دوا (Anesthesia) کے، ایک زنگ آلود بلیڈ، ٹوٹے ہوئے شیشے یا تیز دھار پتھر سے اس کے جسم کے سب سے حساس، سب سے نازک اور سب سے پرائیویٹ حصے کو ”کاٹ کر، چھیل کر اور رگڑ کر“ الگ کر دیا جاتا ہے۔
اور ظلم کی یہ داستان یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بعد اس کٹی ہوئی، خون اگلتی ہوئی جگہ کو ببول کے کانٹوں یا موٹے دھاگے سے ایسے ”سی دیا جاتا ہے“ (Stitched up) جیسے کوئی پھٹی ہوئی بوری سی رہا ہو، صرف ایک ماچس کی تیلی جتنا سوراخ چھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ ”زندہ لاش“ اپنا پیشاب اور حیض کا گندا خون قطرہ قطرہ کر کے نکال سکے۔
یہ منظر کسی ہارر مووی کا نہیں، یہ وہ جہنم ہے جسے ”خواتین کا ختنه“ (Female Ge***al Mutilation - FGM) کہا جاتا ہے اور جسے صومالیہ، مصر اور سوڈان کے جاہل معاشرے ”پاکیزگی کا تمغہ“ سمجھتے ہیں۔
آج میں اپنے قلم کو نشتر بنا کر اس ناسور کو چیڑوں گا جسے ”شرم“ اور ”ثقافت“ کی چادر میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔
آج ہم دیکھیں گے کہ کس طرح مذہب کے نام پر، روایات کی آڑ میں اور مردانہ ہوس کے تحفظ کے لیے عورت کی ”بیالوجی“ کو مسخ کیا جاتا ہے اور اسے ایک ”انسان“ سے ”سیکس ڈول“ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
سب سے پہلے اس نفسیات کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جو ایک ماں کو اپنی ہی لختِ جگر کی جلاد بننے پر مجبور کرتی ہے۔
آخر کیوں؟
اس کا جواب کسی کتاب میں نہیں، بلکہ اس ”اجتماعی مردانہ خوف“ (Collective Male Insecurity) میں ہے جو صدیوں سے ان معاشروں پر مسلط ہے۔
ان جاہل قبائل کا ماننا ہے کہ عورت کی ”شہوت“ (Sexual Desire) ایک ایسا بے قابو جن ہے جسے اگر قید نہ کیا گیا تو یہ پورے معاشرے کو نگل جائے گا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ عورت کا ”کلیٹورس“ (Cl****is) جو کہ اللہ کی تخلیق کا شاہکار ہے اور جس میں 8000 سے زائد اعصابی ریشے (Nerve Endings) ہیں, ایک ”شیطانی ابھار“ ہے جو عورت کو بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے۔
لہٰذا، حل کیا نکالا گیا؟
”جڑ سے اکھاڑ دو۔“
نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ وہ عورت کے جسم سے ”لذت محسوس کرنے کی صلاحیت“ کو سرجیکلی ریموو (Surgically Remove) کر دیتے ہیں تاکہ وہ محض ایک ”بچہ پیدا کرنے والی مشین“ اور شوہر کی خدمت کرنے والی ”روبوٹ“ بن کر رہ جائے۔
یہ لوگ اپنی بچیوں کو ”Infibulate“ (سیل بند) کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس کی ”عفت“ پر تالا لگا دیا ہے۔ ان کے نزدیک پاکیزگی ”کردار“ کا نام نہیں، بلکہ ”چمڑی کی سلائی“ کا نام ہے۔
یہ ”حیاتیاتی دہشت گردی“ (Biological Terrorism) ہے۔
وہ عورت کو بتاتے ہیں کہ
”تمہارا جسم تمہارا نہیں، یہ مرد کی ملکیت ہے، اور ہم اسے تب تک سیل رکھیں گے جب تک اس کا ’مالک‘ (شوہر) آ کر اس سیل کو نہ توڑے۔“
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا میں 20 کروڑ سے زائد خواتین اس عمل سے گزر چکی ہیں۔
صومالیہ: یہاں یہ شرح 98 فیصد ہے۔ یعنی وہاں پیدا ہونے والی تقریباً ہر بچی اس عمل سے گزرتی ہے۔ وہاں جو بچی ”سلی ہوئی“ نہیں ہوتی، اسے معاشرہ ”فاحشہ“ (Gaba) کہتا ہے، اسے گالیاں دی جاتی ہیں، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا۔ یہ سماجی دباؤ (Social Stigma) اتنا شدید ہے کہ مائیں اپنی بیٹیوں کو معاشرتی بائیکاٹ سے بچانے کے لیے خود ان کی ٹانگیں پکڑ کر دائی کے آگے لٹاتی ہیں۔ وہاں اسے ”Pharaonic Circumcision“ (فرعونی ختنہ) کہا جاتا ہے، جو سب سے بدترین قسم (Type III) ہے۔
مصر: یہاں صورتحال مختلف مگر اتنی ہی بھیانک ہے۔ مصر میں تقریباً 90 فیصد خواتین کا ختنہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہاں اب قانون بن چکا ہے، لیکن ”میڈیکلائزیشن“ (Medicalization) کا ایک نیا فتنہ کھڑا ہو گیا ہے۔ لوگ دائیوں کے بجائے ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور رشوت دے کر ہسپتالوں میں یہ کام کرواتے ہیں۔ یعنی مسیحا خود قصائی بن چکے ہیں۔
میڈیکل سائنس کی رو سے دیکھیں تو یہ عمل انسانی جسم کے ساتھ کیا جانے والا بدترین مذاق ہے۔
ذرا سوچیے!
جسم کا وہ حصہ جو سب سے زیادہ حساس ہے، جہاں اعصاب کا گچھا ہے، اسے بغیر بے ہوش کیے کاٹا جا رہا ہے۔ اس بچی کا دماغ اس شدید درد کی تاب نہ لاتے ہوئے ”Neurogenic Shock“ میں چلا جاتا ہے۔ بہت سی بچیاں اسی میز پر دم توڑ دیتی ہیں۔
اور جو زندہ بچ جاتی ہیں، ان کی زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔
پیشاب کا عذاب: چونکہ راستہ سی دیا گیا ہے، پیشاب کھل کر نہیں آتا۔ وہ قطرہ قطرہ رستا ہے، جلن ہوتی ہے، اور پیشاب اندر جمع ہو کر گردوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
حیض کا زہر: جب بچی بالغ ہوتی ہے اور ماہواری شروع ہوتی ہے، تو خون نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ وہ گندا خون رحم (Uterus) میں جمع ہوتا رہتا ہے، سڑتا ہے، اور رسولیاں (Cysts) بن جاتی ہیں۔ ہر مہینے وہ بچی درد سے تڑپتی ہے جیسے اس کے پیٹ میں خنجر چل رہے ہوں۔
فیسٹولا (Fistula): یہ وہ لعنت ہے جو اس عمل کا تحفہ ہے۔ مثانے اور اندام نہانی کے درمیان سوراخ ہو جاتا ہے۔ عورت ہر وقت پیشاب میں لت پت رہتی ہے، اس سے بدبو آتی ہے، اور اس کا شوہر—جس کی خاطر یہ سب کیا گیا تھا, اسے ”گندی“ کہہ کر گھر سے نکال دیتا ہے۔
اس پوری کہانی کا سب سے خوفناک اور لرزہ خیز باب ”شادی کی رات“ ہے۔
عام جوڑوں کے لیے یہ محبت کی رات ہوتی ہے، مگر ان ”سلی ہوئی“ لڑکیوں کے لیے یہ ”ٹارچر سیل“ کی رات ہوتی ہے۔
شوہر کے لیے دخول (Pe*******on) ناممکن ہوتا ہے کیونکہ راستہ بند ہے۔ اب یہاں دو طریقے اپنائے جاتے ہیں، اور دونوں شیطانی ہیں:
دائی کا بلاوا: شادی کی رات دائی کو بلایا جاتا ہے جو آ کر دلہن کی ٹانگیں کھولتی ہے اور اسی جگہ پر دوبارہ چاقو چلا کر سلائی کاٹتی ہے (De-infibulation)۔ خون کے فوارے چھوٹتے ہیں، اور اسی خون آلود بستر پر شوہر اپنا ”حق“ جتاتا ہے۔
شوہر کا جبر: یا پھر شوہر خود طاقت کا استعمال کرتا ہے، یا چھوٹے بلیڈ کا استعمال کر کے راستہ بناتا ہے۔
یہ ”ازدواجی تعلق“ نہیں، یہ ”Legalized Rape“ اور ”سرجیکل تشدد“ ہے۔ اس رات اس لڑکی کے ذہن میں سیکس کے لیے ہمیشہ کے لیے ”نفرت“ اور ”خوف“ بیٹھ جاتا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے شوہر سے محبت نہیں کر پاتی، وہ صرف ”برداشت“ کرتی ہے۔
سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اس جہالت کو ”دین“ کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔ یہ ملا اور یہ جاہل پیر کہتے ہیں کہ یہ ”سنت“ ہے یا ”مکرمہ“ ہے۔
میرا قلم یہاں چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ یہ ”جھوٹ“ ہے، یہ ”بہتان“ ہے!
تخلیق میں بگاڑ: قرآن واضح کہتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ”احسن تقویم“ (بہترین ساخت) پر پیدا کیا۔ اور شیطان نے چیلنج دیا تھا کہ
”میں ان سے کہوں گا تو یہ اللہ کی تخلیق کو بگاڑیں گے“ (سورۃ النساء: 119)۔
کلیٹورس کوئی رسولی نہیں ہے، کوئی بیماری نہیں ہے، یہ اللہ کی بنائی ہوئی ”نارمل اناٹومی“ ہے۔ اسے کاٹنا شیطان کی اطاعت ہے، اللہ کی نہیں۔
نبی ﷺ کا گھرانہ: تاریخ گواہ ہے، اور چیلنج ہے میرا کہ کوئی ایک صحیح روایت دکھا دو کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی چار بیٹیوں (زینبؓ، رقیہؓ، ام کلثومؓ، فاطمہؓ) میں سے کسی ایک کا بھی معاذ اللہ ختنہ کروایا ہو؟
اگر یہ ”مکرمہ“ ہوتی، تو کیا رحمت اللعالمین ﷺ اپنی بیٹیوں کو اس فضیلت سے محروم رکھتے؟
ہرگز نہیں!
جب نبی کے گھر میں یہ نہیں ہوا، تو تم کون ہوتے ہو اسے دین بنانے والے؟
ضعیف روایت کا سہارا: جو ایک آدھ حدیث (ام عطیہ والی) پیش کی جاتی ہے، وہ سند کے اعتبار سے ”ضعیف اور مضطرب“ ہے۔
دین ضعیف روایتوں پر نہیں، محکم اصولوں پر چلتا ہے۔ اور اسلام کا اصول ہے ”لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ“ (نقصان نہ دو، نقصان نہ لو)۔ جب میڈیکل سائنس نے مہر لگا دی کہ یہ عمل 100 فیصد نقصان دہ ہے، تو یہ خود بخود ”حرام“ کے درجے میں آ جاتا ہے۔
اس عمل کا اصل مقصد عورت کو ”جنسی معذور“ بنانا ہے۔ مرد چاہتا ہے کہ اسے تو بھرپور لذت ملے (کیونکہ وہاں کی عورتوں کی اندام نہانی مصنوعی طور پر تنگ کی گئی ہوتی ہے جو مرد کو زیادہ لذت دیتی ہے)، لیکن عورت صرف ایک ”مردہ لاش“ کی طرح پڑی رہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عورت کو لذت ملی تو وہ بے وفا ہو جائے گی۔ یہ مرد کی کمزوری اور عدم اعتماد کا ثبوت ہے۔ ایک مردِ مومن اپنی بیوی کی عفت کی حفاظت ”محبت“ اور ”تربیت“ سے کرتا ہے، ”سلائی مشین“ سے نہیں۔
اللہ نے عورت کے جسم میں شہوت رکھی ہے، یہ اس کا حق ہے کہ وہ حلال طریقے سے اس کی تسکین کرے۔ اس عضو کو کاٹ دینا اس پر اللہ کی نعمت کا دروازہ بند کرنے کے مترادف ہے۔
یہ مسئلہ کسی دور دراز افریقی گاؤں کا نہیں، یہ ”انسانیت کے ضمیر“ کا مسئلہ ہے۔
اے لوگو! جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہو!
یہ ثقافت نہیں، یہ ”درندگی“ ہے۔ثقافت وہ ہوتی ہے جو زندگی کو خوبصورت بنائے، وہ نہیں جو پھولوں کو مسل دے۔
اگر ہمیں کہیں بھی، کسی بھی شکل میں (چاہے وہ صومالیہ ہو، مصر ہو یا ہمارے بوہرہ کمیونٹی کے بند کمرے ہوں) اس ظلم کی بھنک پڑے، تو خاموش رہنا اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔
یہ بچیاں بول نہیں سکتیں، ان کی چیخیں ان کے گلے میں گھٹ جاتی ہیں۔ ہمیں ان کی آواز بننا ہوگا۔
علماء کو ممبروں سے چیخنا ہوگا کہ یہ حرام ہے۔
ڈاکٹروں کو قسم کھانی ہوگی کہ وہ پیسوں کے لیے یہ قصائی کا کام نہیں کریں گے۔
اور ماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ تم اپنی بیٹی کو ”پاک“ نہیں کر رہیں، تم اسے ”ذبح“ کر رہی ہو۔
عفت کا تعلق روح سے ہے، جسم کے ٹانکنوں سے نہیں۔
اس فرعونیت کو اب ختم ہونا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو روایات کی بھٹی میں جھونک دیا تھا
Bilal Shoukat azad