19/01/2021
قبیلے کا سردار کھوجیوں کو ساتھ لے کر ان دو عظیم یاروں کا پیچھا کر رھا ھے_ سردار نے اعلان کیا ھے کہ جو کوئی ان دو کو پکڑ کر لائےگا اسے اعلی قسم کے سو اونٹ انعام میں دئے جائیں گے اب کھوجی چلے جا رھے تھے اور یہ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ ایک تو سیدھا چل رھا ھے اور دوسرا کبھی آگے چلتا ھے کبھی پیچھے کبھی دائیں چلتا ھے تو کبھی بائیں _
یہ بات جب ان کے سب سے بڑے دشمن قبیلے کے سردار کو کھوجی نے بتائی تو اس نے کہا تمھیں پتہ نہیں اس کے ساتھ کون ھے اس کا دائیں بائیں آگے پیچھے چلنا اس مقصد سے ہے کہ جس طرف سے بھی حملہ هو مجھ پر ہو میرا محبوب سلامت رھے _
انہی باتوں کے دوران کھوجی اچانک رک گیا اور کہا کہ ہم آگے نھیں جا سکتے کیونکہ یہاں تک دو کے قدموں کے نشان ہیں آگے ایک کے۔سمجھ سے باھر ہیں۔_ یہ الفاظ اس حقیقی دشمن قبیلے کے سردار ابو جہل کے ہیں جو تھا تو کافر فرعون امت محمد ﷺ مگر بات بہت اعلی کر گیا اس نے کہا تم جانتے ہو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ کون تھا؟
کھوجیوں نے جواب دیا کہ نہیں تو ابو جہل بولا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ ابو بکر تھا اور یہاں سے آگے راستہ نوکیلے پتھروں والا ھے _مجھے سو فیصد يقين ھے کہ صدیق نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کندھوں پر اٹھا لیا ھوگا۔۔
قربان ایسے عظیم عاشق پر ایسے ساتھی پر ایسے غمگسار پر ایسے یار پر ایسے دلدار پر ایسے امتی پر جس کی محبت و جانثاری کی گواہی دشمن دے اور دشمن بھی وہ جو سب سے بڑا دشمن ھے تو کیوں نہ ہو فدا میری جان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر۔۔۔
کروڑوں سلام ھوں صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت کو اللہ ھمیں صدیق رض کے نقش قدم پہ چلنے کی تو فیق عطا فرماۓ.۔۔